متفرقات

صرف کمیونیکیشن کے آلات نہیں۔ آپکی مانیٹرنگ بھی

انٹرنیٹ ۔۔سمارٹ فون ۔۔ مشین لرننگ ۔۔ مصنوئی ذہانت ۔۔ سوشل میڈیا ایپس
 اوپر عنوان کے طور پر لکھے ہوئے تمام ہی الفاظ بذات خود مکمل تکنیکی اصطلاحات ہیں اور ان میں سے ہر ایک کو موضوع بنا کر باقاعدہ طویل تحقیقی مقالے اور بہت سے مضامین لکھے جاسکتے ہیں البتہ آج کے اس اظہاریے میں کوشش کی جائے گی کہ اختصار کے ساتھ ان کے باہمی ربط اور اس کے ہماری روز مرہ زندگی میں اثرات پر عام فہم بات کی جائے ۔ یہ بات تو اب ہم سب ہی جانتے ہیں کہ انٹرنیٹ کم و بیش گزشتہ پچیس برس سے پاکستان میں استعمال ہورہا ہے اور اب ہماری ملکی آبادی کا تقریباً دو تہائی طبقہ تیز رفتار انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے کے قابل ہے جبکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس کے فروغ کا تیز ترین ذریعہ سمارٹ موبائل فون بن چکا ہے۔
جیسا کہ آپ کے علم میں ہوگا کہ انٹرنیٹ ایک ایسا عالمی مربوط نظام ہے جس میں دنیا کے طول وعرض میں موجود کمپیوٹرز اورسمارٹ فونز سے لے کر خلا میں موجود سیٹلائیٹس اورسپیس سٹیشنز تک سب ہی باہم منسلک ہیں اور اس عالمی ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک کی مدد سے مربوط یہ نظام اربوں انسانوں کو کمپیوٹرز اورسمارٹ فونز کے ذریعے ہمہ وقت ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہے ۔عمومی طور پر اس عظیم نیٹ ورک کا مقصد مستقل اور مسلسل طور پر معلومات کی ترسیل اور فراہمی کو ممکن بنانا ہے ۔ انٹرنیٹ نظام کو آسانی سے سمجھنے کے لئے عام زندگی میں سڑکوں کے جال کی مثال دی جاسکتی ہے یعنی کس طرح ہمارے گھروں کے باہر موجود سڑک ہمیں نہ صرف اپنے شہرمیں کسی بھی مقام تک جانے کے لیے راستہ فراہم کرتی ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو بذریعہ سڑک ایک شہرسے دوسرے شہر یا کسی دوسرے ملک بھی سفر کرسکتے ہیں اور ایسا اس لئے ممکن ہوتا ہے کہ باہمی طور پر ہمہ وقت منسلک یہ روڈ نیٹ ورک ہمیں دوسرے مقامات تک جانے کے لیے راستہ اور رسائی فراہم کرتا ہے۔
اس تمہید کے بعد ہم بات کرتے ہیں سمارٹ فون کی۔ عین ممکن ہے کہ اس وقت آپ یہ مضمون اپنے سمارٹ فون یا کمپیوٹر کی سکرین پر ہی پڑھ رہے ہوں ۔ آپ کا سمارٹ فون دراصل کمپیوٹرہی کی ایک چھوٹی مگر جدیدقسم ہے اور کیونکہ یہ مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کی صلاحیتوں کاحامل ایک ایسا کمپیوٹر ہے جوعام طور پر ہر وقت ہمارے ساتھ ہی موجود رہتا ہے اس لئے ہماراسمارٹ فون ہمارے استعمال کے معمولات اور ترجیحات سے بہت جلد مانوس اور ہم آہنگ ہوجاتا ہے بالکل کسی ایسے قریب ترین دوست، دفتری یا گھریلو شریک کار یا پھر شریک زندگی کی طرح ہماری عادات، مزاج، رویوں، ترجیحات اور ضروریات سے آگاہ اور ہم آہنگ ہوتا چلا جاتاہے اور آپ کے بارے میں یہ سب کچھ جاننے اور سمجھنے کے لیے جس تکنیکی صلاحیت کو بروئے کار لایا جاتاہے اس کو عرف عام میں مشین لرننگ کہا جاتا ہے۔
انٹرنیٹ اور سمارٹ ڈیوائسز کے اس عالمگیر نظام کے قیام اور اس کو مسلسل چلانے کے ساتھ ساتھ اس نظام میں جو مسلسل وسعت درکار ہوتی ہے اس کے لئے بہت بڑا سرمایہ درکار ہوتا ہے اوروہ تمام کاروباری ادارے اور حکومتیں جو اس عالمگیر نظام میں سٹیک ہولڈر ہیں وہ اپنی اپنی ترجیحات کے تحت اس نظام میں نہ صرف بھاری سرمایہ کاری کرتے ہیں بلکہ نت نئے طریقوں سے بہت بڑے پیمانے پر منفعت بخش تجارتی سرگرمیاں بھی کرتے ہیں۔ 
اس پیچیدہ نظام میں ایک طرف عظیم الشان ٹیکنالوجی انفرا سٹرکچر پر مبنی نیٹ ورک ہے تو اس کی دوسری جانب ریسیونگ اینڈ پر عام صارف ہے۔ انٹرنیٹ پر قائم اور متحرک کمپنیوں کی نیٹ ور تھ ا ور تجارتی حجم کا اگر محتاط اندازہ لگایا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کی دس سب سے بڑی کمپنیاں یا تو خالص ٹیکنالوجی ہی کی کمپنیاں ہیں یا پھر ان کی تجارت کا بڑا انحصار انٹرنیٹ صارفین پرہی رہتا ہے اس حساب سے انٹرنیٹ بلا مبالغہ اس دور میں زر و دولت کی ترسیل اور تجارت کابھی سب سے بڑا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں ہر وقت سوئی سے لے کر ہوائی جہاز تک کی خرید وفروخت جاری ہے۔
روائتی طور پر ایک عام صارف اپنے گھریلو استعمال کی اشیائے ضرورت کی خریداری عموماًاپنے گھر یا دفتر کی قریبی دکانوں سے کرتا ہے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اکثر دکاندار اپنے مستقل گاہکوں کو باقاعدہ پہچانتے بھی ہیں اور یہ جان پہچان جہاں ایک طرف گاہک کے لیے باعث اطمینان ہوتی ہے تودوسری جانب سمجھدار دکاندار بھی اس شناسائی کو اپنے کاروبار کے فروغ کے لیے ہمہ وقت استعمال کرتا ہے اور گاہک کی پسند اور ضروریات سے ہم آہنگ اشیاء کی بروقت دستیابی کو یقینی بنا کر اپنے گاہک کے اعتماد کو برقرار رکھ کر اپنے کاروبار کے تسلسل اور ترقی کو یقینی بنانا پسند کرتا ہے ۔ گاہک کو بہتر انداز سے جاننے اور اس کے مزاج کے مطابق اشیاء اور خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کاعین یہی فلسفہ انٹرنیٹ کے ذریعے خرید و فروخت کرنے والوں کی بھی کلیدی اساس سمجھی جاتی ہے جس کے لئے آپ کا سمارٹ فون عام طور پر آپ کی مبہم اجازت سے آپ کی ترجیحات، ضروریات اورعادات پر مبنی انتہائی اہم اور منافع بخش معلومات اکٹھی کرتا رہتا ہے اور پس منظر میں مستقل بنیادوں پر یہ معلومات ان کمپنیز اور کارپوریشنز کے پاس اکھٹی ہوتی رہتی ہیں اور ان کے ڈیٹا بیس یعنی معلومات کے خزانے میں ہر صارف کی ترجیحات و عادات پر مبنی معلومات کی باقاعدہ پروفائلنگ ہوتی رہتی ہے جو بوقت ضرورت مذکورہ کمپنی کے لیے ای کامرس ڈیٹا کے طور پر استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ اکثر پس منظر ہی میں رہتے ہوئے ایسے اداروں کو فروخت اور فراہم کی جاتی ہے جو اس کی مدد سے اپنے تجارتی مقاصد کو فروغ دیتے ہیں۔
آئی فون اور دیگر ایپل ڈیوائسز استعمال کرنے والے صارفین سری نام کی سروس سے آگاہ ہیں جو صارف کی جانب سے اپنی آواز میں بول کر دی جانے والی ہدایات پر عمل کرتا ہے ۔۔ عین اسی طرز پر اینڈرائیڈ سمارٹ فونز میں گوگل اسسٹنٹ نام کی سروس کام کرتی ہے جبکہ دیگر اوربھی کئی بڑے پلیٹ فارمز جیسے کہ ایمیزان الیکزا بھی ایک وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی وائس ایکٹیویٹڈ سروس سمجھی جاتی ہے۔
یاد رہے جب ہم ہیلو سری یا پھر اوکے گوگل جیسے پہلے سے طے شدہ الفاظ استعمال کرتے ہیں تو ہماری مطلوبہ سمارٹ ڈیوائس ہمہ تن گوش ہوکر ہماری دی گئی اگلی ہدایات پر عملدرآمدکے لیے مستعد ہوجاتی ہے ۔ یہاں جو نکتہ زیر نظر ہے وہ یہ ہے کہ مذکورہ سمارٹ فون / ڈیوائسزدراصل ہر وقت ہی ہمہ تن گوش رہتی ہیں جس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ طے شدہ الفاظ کوسن کر ہی مطلوبہ ردعمل دینے کی پوزیشن میں آتی ہیں۔
مذکورہ سروسز جہاں ایک جانب جدت کی علامت اور انسان اور کمپیوٹر کے درمیان بہتر اور مؤثررابطہ کاری کی زندہ مثال سمجھی جاتی ہیں تو دوسری جانب یہی سروسز اپنے کام کے طریقہ کار کے باعث اپنی پرائیویسی کے بارے میں حساس صارفین کے لیے بڑے خدشات کا سبب بھی بن رہی ہیں۔ یہ ساری صورتحال اس حوالے سے گھمبیر اور متنازع بن رہی ہے کیونکہ وائس ایکٹیویٹڈ ڈیوائسزہر وقت ہی اپنے قریب آوازوں کو سن کر ان کا تجزیہ کررہی ہوتی ہیں کیونکہ ان کو صارفین کی جانب سے ان کی اپنی آواز میں اپنے لئے دی جانے والی ہدایات کو سن کر ان پر فوری ردعمل دینا ہوتاہے۔ اکثر لوگوں کو یہ بات بھی معلوم ہے کہ سمارٹ فون میں جب کوئی ایپ انسٹال کی جارہی ہوتی ہے تو وہ باقائدہ صارف سے فون کے مایئک اور کیمرے وغیرہ تک رسائی کی اجازت بھی طلب کرتی ہے ۔
اوپر بیان کی گئی معلومات اکٹھی کرنے کے طریقہ کار کو بہتر انداز سے سمجھنے کے لیے راقم کے ذاتی تجربے اور مشاہدے میں آنے والی ایک مثال پر نظر ڈالتے ہیں۔ ایک روز راقم کواپنے کندھے میں کچھ درد محسوس ہوا تو ہم نے کوئی پین کلر کریم استعمال کے ارادے سے گھر میں موجوددوائوں کو دیکھا اور اس میں مطلوبہ دوا  نہ ملنے پر گھر والوں سے پوچھا کہ اگر ان میں سے کسی نے ڈیپ ہیٹ نامی کریم استعمال کرکے کہیں رکھ دی ہے تو بتا دیں ۔ کچھ دیرتلاش کے بعد ہمیں مطلوبہ کریم کی ٹیوب مل گئی اور ہم دوا لگا کر اطمینان سے سو گئے ۔ صبح اٹھنے کے بعد جب معمول کے مطابق اپنے فون کو چیک کیا تو دیکھا کہ ہمارے فیس بک کی ٹائم لائن پر سامنے ہی کسی دوا بنانے والی کمپنی کی ڈیپ ہیٹ کریم کا اشتہار نظر آرہا تھا ۔ اس اشتہار کو دیکھتے ہی اچانک دماغ کی بتی جل اٹھی اور سارا معاملہ سمجھ میں آگیا کہ گزشتہ رات ڈیپ ہیٹ کریم کی تلاش میں جو گھر کے کمرے میں گفتگو ہوئی اس کو میز پر رکھا ہوا ہمارا فون بھی سن رہا تھا اور اس کے پس منظرمیں مصنوعی ذہانت کے فعال نظام کے تحت ہماری آوازوں کا باقاعدہ تجزیہ کیا گیا اور ہمیں پہلی فرصت میں فیس بک کے ذریعے مطلوبہ دوا کا اشتہار فراہم کردیا گیا۔
مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ سے مزین یہ مربوط نظام جہاں ایک جانب صارفین کے لیے سہولت اور آسانیاں فراہم کررہا ہے تو دوسری جانب یہ سوال بھی شدت سے سر اٹھا رہا ہے کہ ہماری روز مرہ کی تقریباً تمام ہی گفتگو ناصرف ہماری لاعلمی میں اور بنا اجازت مسلسل ریکارڈ ہورہی ہے بلکہ انجانے عالمگیر نظام ان کا تجزیہ کررہے ہیں اور ہم سمیت تمام ہی صارفین کی مکمل پروفائلنگ کی جارہی ہے اور یہ بات بہت سے لوگوں میں باعث تشویش سمجھی جارہی ہے ۔ اسی حوالے سے کچھ دن قبل نیٹ فلکس پر The Social Dilemma نام کی ایک دلچسپ معلوماتی ڈاکیومینٹری دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں بڑی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی آراء پر مبنی ایک مفصل بیان سامنے آیا۔ قارئین اگر چاہیں تو نیٹ فلکس، یوٹیوب یا کسی اور انٹرنیٹ پلیٹ فارم پر دستیاب اس ڈاکیومینٹری کو دیکھ کر اس عنوان پر مزید معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ ||


مضمون نگار مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔
 [email protected]

یہ تحریر 286مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP