ہمارے غازی وشہداء

صبح کا تارہ کیپٹن ضرغام شہید

مملکتِ خداداد پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لئے بنی ہے۔ ہماری تابندہ تاریخ گواہ ہے کہ متحد، پُرعزم، باہمت اور ناقابلِ تسخیر پاکستانی قوم نے مادرِ وطن کی حفاظت اور تعمیر و ترقی کے لئے ہمیشہ بے مثال خدمات سرانجام دی ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستانی قوم بالخصوص افواجِ پاکستان کی قربانیاں بے مثال اور بے انتہا ہیں۔ اس طویل اندھیری رات میں ہم نے جس عزم اورجذبے سے اُمید کی شمعیں جلائے رکھی ہیں، اُس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ الحمدﷲ اب اندھیرے چھٹ گئے ہیں اور صبحِ روشن طلوع ہونے کو ہے ۔ کیپٹن ضرغام شہید اُسی صبح کا تارہ بن کر آسمانِ شہادت پر پوری آب و تاب کے ساتھ اُبھرا ہے کہ جو ہماری قوم کا مقدر ہے۔



بلاشبہ کیپٹن ضرغام فرید قریشی اسم بامسمیٰ تھے۔ ضرغام کے معنی شیر اور فرید کے معنی منفرد کے ہیں۔ پاک فوج کے اس بہادر اور نڈر افسرنے       جرأت و ہمت اور فرض شناسی کی جو داستان رقم کی ہے وہ اس کی بہادری اور انفرادیت کا واضح ثبوت ہے۔

کیپٹن ضرغام 14 جنوری 1993ء کو شاہینوں کے شہر سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ ان کو لڑکپن سے ہی پاک فوج سے والہانہ محبت تھی اور دفاعِ وطن کا  بے حد شوق تھا۔ اُن کے انٹرمیڈیٹ کالج مصحف بیس، سرگودھا سے کامیاب ہونے کے بعد 2012 میں 129 پی ایم اے لانگ کورس میں شمولیت سے گویا اُنہیںاپنے خواب کی تعبیر مل گئی۔ انہوںنے اپریل 2014ء میں توپخانہ کہ جس کا ماٹو 'عزت و اقبال' ہے ،کی مایہ ناز ر 87ایس پی میڈیمجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور بلاشبہ اپنی شاندار عسکری خدمات اور عظیم شہادت سے اس 'عزت و اقبال'  میں اضافہ کیا۔ ان کی ایمانداری، خوش اخلاقی، حسُن کردار اور فرض شناسی ان کے رفقائے کار اور ساتھیوں کے لئے ناقابل فراموش ہیں۔

نومبر 2017ء میں جب کیپٹن ضرغام کی مہمند میں پوسٹنگ ہوئی توانہوں نے اپنی یونٹ کے قریبی ساتھیوں کو اپنی شہادت کا عندیہ بھی دیا۔ وہ مہمند رائفلز کے ایک ونگ میں پاک افغان بارڈر پر جاری باڑ لگانے کے منصوبے کے انچارج تھے اور چرتنہ پوسٹ پر تعینات تھے کہ 7 نومبر 2018ء کو زیرو لائن پر ایک

Fencing Site

پر بارودی سُرنگ 

(IED)

کی موجودگی کی اطلاع آئی۔ پاک فوج کی اعلیٰ روایات کے مطابق قابلِ  رشک قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیپٹن ضرغام فوراً جائے وقوعہ پر پہنچے اورمزیدکارروائی سے پہلے اپنے سارے ساتھیوں کو مروجہ طریقہ کار کے مطابق حفاظتی تدابیر کے تحت محفوظ فاصلے پر مورچہ بند کیا اور پھر خود حفاظتی سُوٹ پہن کر جیمر

سے لیس سپاہی ریحان کے ہمراہ بارودی سرنگ کا مشاہدہ کرنے کے لئے قدرے قریب ہوئے تو افغانستان سے ملحقہ پہاڑوں میں گھات لگائے بیٹھے دہشت گردوں نے ریموٹ کنٹرول سے دھماکہ کردیا اور ساتھ ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس کے باعث کیپٹن ضرغام شہید ہوگئے جب کہ سپاہی ریحان زخمی ہوئے۔ ایف سی کے شیردل غازیوں حوالدار عبدالعزیز، لانس نائیک لائق شاہ، سپاہی برہان الدین اور سپاہی ریاض خان نے فوری ایکشن کرتے ہوئے دشمن پر زبردست جوابی فائر کیا اور انتہائی  پُر خطر صورتحال میں شرپسندوں کی براہِ راست فائرنگ کے باوجود اپنے نڈر قائد کے جسدِ خاکی کو اپنی تحویل میں لے کر محفوظ جگہ پر منتقل کیا۔ایف سی کی زبردست جوابی کارروائی سے بزدل دہشت گرد بھاگ گئے کیونکہ حق کے سامنے باطل ٹک نہیں سکتا۔ بعدازاں کیپٹن ضرغام کی شہادت کا بدلہ لینے کے لئے سرحد پر موجود شرپسندوں کے مرکز کو ایف سی کے جوانوں نے  نیست و نابود کردیا۔

ضرغام شہید کے ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل اسد شبیر اُن کی شیردلی، پیشہ ورانہ طرزِ عمل ،فرض شناسی، سلجھے پن اور اعلیٰ تربیت و کردار کے گُن گاتے ہیں۔ اُن کے مطابق اُن کے ونگ کو کٹھن اور پُرخطر علاقے میں بارڈر پر حفاظتی باڑ لگانے کا کام سونپا گیا کہ جہاں سے خفیہ راستے سے سرحد پار سے شرپسند باجوڑ اور مہمند میں داخل ہو کر ملکِ پاکستان میں دہشت گردی کی مذموم کوششیں کرتے تھے۔ اس راستے کی بندش کو روکنے کے لئے دشمن نے ہر حربہ اپنایا۔ اس سے پہلے یکم اکتوبر کو بھی ایک بارودی سرنگ کا سراغ لگایا گیا اور اسے ناکارہ بنایا گیا تھا۔ آئے روز سنائپر فائرنگ کرکے باڑ لگانے کے عمل میں رکاوٹیںاور مشکلات پیدا کی جاتی رہی ہیں لیکن اس سب کے باوجود شیردل جوانوں کے حوصلے بلند ہیں۔6 نومبر کی شام کو کیپٹن ضرغام کی پوسٹ پرساتھیوں کی اُن سے آخری ملاقات ہوئی توانہیںپُرعزم اور حوصلہ مند پایا۔ وہ کافی عرصہ سے چھٹی بھی نہیں گئے تھے پھر بھی انہوں نے اپنے ونگ کمانڈر کو تسلی دی کہ جب تک بارڈر پر جاری اس اہم قومی فریضے اور دفاعی منصوبے کے لئے ان کی خدمات درکار ہیں، وہ گھر نہیں جائیں گے۔ کرنل اسد نے کہا کہ کیپٹن ضرغام اور ان کے ساتھی غازیوں کی ایسی جرأت و بہادری اور طرزِ فکر و عمل کو دیکھ کر انہیں اقبال کا یہ شعر سمجھ آیا کہ

محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

کیپٹن ضرغام شہید کے باہمت والدین اور پُرعزم بہن اور بھائی کو مادرِ وطن کی خاطر اُن کی اس عظیم ترین قربانی پر فخر اور ناز ہے۔ آپ اپنے اہل خانہ  کے لئے سرمایۂ افتخار تھے۔ انہیں آپ کی سلیقہ مندی، شائستگی، خلوص، بلند جذبہ اور حب الوطنی ہمیشہ یاد رہے گی۔شہید کی والدہ عمر بھر شعبہ تدریس سے وابستہ رہی ہیں۔ انہوںنے بتایاکہ ضرغام کو بچپن سے ہی پاک فوج میں شامل ہونے کا شوق تھا۔ دوسری جماعت کے دوران یومِ دفاع کی تقریب پر فوجی وردی پہن کر بہت خوش ہوا تھا۔وہ بہت محنتی ،کم گو، ہونہار، شریف الطبع اور انتہائی فرمانبردار بچہ تھا۔اسے کتب بینی کابے پناہ شوق تھا۔ والدین ، بہن، بھائی اور رشتہ داروں سے بہت پیار کرتااور سب کا خیال رکھتا تھا۔ گزشتہ رمضان المبارک میں ضرغام نے اپنی والدہ ماجدہ اور چھوٹے بھائی کو بڑے اہتمام اور محبت سے عمرہ کے لئے بھجوایا۔ وہ تحفے تحائف اور صدقہ ،خیرات کا اہتمام کرتاتھا۔ والدہ یاد کرتی ہیں کہ جب ضرغام سے ٹریننگ کے دوران پی ایم اے کاکول ملنے جاتیں تو اس کے پسندیدہ آلو والے پراٹھے ساتھ لے جایا کرتیں۔ پاسنگ آئوٹ پریڈ کے بعد جب کیڈٹس والدین سے ملنے پہنچے تو وفورِ مسرت اورفرطِ تشکرمیںضرغام نے اپنی والدہ کو اپنی فوجی بیرٹ پہنائی اور محبت بھرا سلیوٹ کیا کہ یہ سب کچھ آپ ہی کی بدولت ہے۔ شہید کی والدہ ضرغام کی ایسی کئی پیار بھری یادوں کو سینے سے لگائے عزم و ہمت اور صبر و رضا کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ ایک مرتبہ کسی رشتہ دار کی شہادت کی خبر کے بعد اہلِ خانہ میں گفتگو جاری تھی تو ضرغام کے چھوٹے بھائی عدنان نے امی سے پوچھا کہ اگر ضرغام شہید ہوگیا تو آپ کیا کریں گی ۔ جواب میں والدہ نے کہا، صبر کروں گی۔ والدہ نے جب ضرغام سے پوچھا کہ جب کوئی شہید ہوتا ہے تو اس کی تدفین وغیرہ کا بندوبست فوج کس طریقے سے کرتی ہے تو ضرغام بولا ''امی جان جب میں شہید ہوںگا تو آپ دیکھ لینا۔ شہید بہت خوش نصیب لو گ ہوتے ہیں، دعا کیا کریں کہ خدا مجھے بھی شہادت نصیب کرے۔''ضرغام شہید کے والدِ محترم کو اپنے مایہ ناز بیٹے پر بے حد فخر اور ناز ہے۔ وہ ضرغام کی قبر پر پوری قوم کے لئے عزم و ہمت اور حوصلہ کی تصویر بنے یہی دعا کررہے تھے کہ' اﷲ پاک تمہیںجنت میں جگہ دے۔ مولاپاک پاکستان کو محفوظ رکھے، مسلمانوں کو محفوظ کرے، اﷲ پاک فوجیوں کی حفاظت کرے۔'

 سلام ہے عظیم شہیدوں اور اُن کے عظیم تر ورثا پر کہ جن کی لازوال قربانیوں اور باکمال صبرو ہمت نے پاکستانی قوم کی اُمید کو تاریخ کے مشکل ترین مراحل میں بھی زندہ و تابندہ رکھا۔ الحمدﷲ! غیور اور پُرعزم پاکستانی قوم کا جذبہ بلند اور حوصلہ بلند تر ہے اور وہ پُرامن اور روشن پاکستان کے حصول کے لئے مزید بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں:

کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا


شہید


 وہ جواں سال پُرشباب نوجوان
گھر سے نِکلا اور واپس نہ آیا
کھو گیا ہمیشہ کے لئے
مٹی کی محبت میں
آنگن کے سب خوش نما پھول کہتے ہیں
خون بویا اُس نے مٹی میں
وہ گیا کہاں ہے
یہیں ملے گا
مٹی کی محبت میں

(طاہر محمود)

یہ تحریر 168مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP