ہمارے غازی وشہداء

شیر دِل سپوت

  افواجِ پاکستان کے شہیدوں اور غازیوں کی طویل فہرست میں ایک اور نام لانس نائیک تیموراسلم (شہید )کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ عساکر پاکستان سے وابستہ ایک ایک شہید اپنے پیچھے جرأت اور بہادری کی لازوال داستانیں چھوڑ جاتا ہے اور اہلِ وطن اپنے اِن ہیروز سے جڑی داستانوں کو یاد کر کے انہیں نہ صرف خراج تحسین پیش کرتے ہیں بلکہ اپنے جذبوںاور ولولوں کو بھی مہمیز کرتے ہیں۔
 لانس نائیک تیموراسلم نے یکم دسمبر1991ء کو والٹن کینٹ لاہور میں میاں محمد اسلم آرائیں کے آنگن میں آنکھ کھولی۔تیمور اپنے خاندان اور علاقے بھر میں بے حد مقبول نوجوان تھا۔ وہ پورے محلے میںہر دلعزیز تھا۔ جب بھی چھٹی آتا اس کی کوشش ہوتی کہ ہر ایک سے ملے ۔وہ ہر ایک کے دکھ سکھ میں شریک ہوتا اور ہر کسی کا کام شوق سے کیا کرتا۔پاک فوج میں شامل ہونا اس کا دیرینہ خواب تھا جو اس نے پورا کیا۔شہید کے نانا محمد رفیق اپنے بہادر نواسے کویاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ تیمور اعلیٰ اخلاق اور کردار کا مالک ایک خوش اطوارنوجوان تھا ۔ جب وہ چھوٹا تھا اور میں اسے گود میں لیتا اور اس سے پوچھتا کہ بڑے ہو کر کیا بنو گے تو وہ اپنے دونوں بازو پھیلا کر جواب دیتا کہ'' میں فوجی بنوں گا اور دشمن کو مارگرائوں گا۔'' اس وقت ہم اس کی باتیں سن کر خوب محظو ظ ہو ا کرتے لیکن جب 15اگست 2019کو  مجھے اس کی شہادت کی اطلاع ملی تو میرا سر فخر سے بلند ہو گیا کہ ہمارے خاندان کا جوان وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت کا مرتبہ پاگیا ہے۔ تیمور اسلم شہید نے میٹرک کا امتحان سرسید پبلک سکول والٹن کینٹ سے پاس کرنے کے بعد 2011ء میں فوج میں شمولیت اختیار کی ۔جب وہ اپنے شوق کی تکمیل کی خاطر بلوچ رجمنٹ سنٹر ایبٹ آباد میں پہنچا تو اپنی پہلی کوشش میں ہی منتخب کر لیاگیا۔ تیمورنے آٹھ سالہ سروس میں سیاچن،اوکاڑہ، وزیرستان اور کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر فرائض انجام دیئے۔ شہید کے ماموں محمد سہیل بتا رہے تھے کہ تیمور اسلم بہترین سولجر ہی نہیں ایک بہترین انسان بھی تھا۔ بے حدسادہ طبیعت پائی تھی ۔فوج میں جانے کے بعد وہ کہا کرتا تھا کہ جو گولی میرے لئے بنی ہے وہ کسی اور کو کیسے لگ سکتی ہے اور اگر کوئی گولی کسی اور کے لئے تیار ہوئی ہے تو وہ مجھے کیسے لگ سکتی ہے ۔جس کو جو ملنا ہے بس اس کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔ اپنے گھروالوں اور دوستوں کو خوش رکھنا اس کی زندگی کا نصب العین تھا۔ شہادت سے ڈیڑھ سال قبل تیمورکی شادی ہوئی اور اب ان کی سات ماہ کی ایک بیٹی ہے۔تیمور اسلم یوں تو مختلف کھیلوںمیں بہت زیادہ دلچسپی لیتے تھے تاہم ان کا پسندیدہ کھیل کرکٹ تھا۔ وہ اپنی یونٹ میں کھیلوں میں حصہ لیتے رہے اور انہیں یونٹ کی طرف سے بہت سی ٹرافیاں اور انعامات بھی د یئے گئے تھے۔تیموراسلم شہادت سے 20دن قبل 25جولائی کو چھٹی گزار کر واپس گئے۔شہادت سے ایک دن پہلے والدین کو فون کیا اور کہنے لگے کہ لائن آ ف کنٹرول پر حالات بہت خراب ہیں ، اگر میں وطن کی حفاظت کرتے ہوئے ماراجائوں تو صبرو تحمل سے کام لینا۔
تیمور شہید کی نما ز جنازہ 16اگست کو والٹن کینٹ میں ادا کی گئی ۔ان کا جنازہ اس شان سے ان کے گھر سے اٹھا کہ پوری فضا نعرہ تکبیر-اللہ اکبر، پاک فوج زندہ باداورپاکستان پائندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی ۔شہریوں کی طرف سے شہید کو سلام پیش کرنے کے لئے ''اے راہ حق کے شہیدو''،''اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے''جیسے پرجوش ملی نغمے چلائے گئے۔لوگوں نے دیوانہ وار جسد خاکی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور اس کا آخری دیدار کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔جنازے میں موجود ہرشخص کی خواہش تھی کہ وہ جسد خاکی کو بار بار کندھا دے ۔پاک فوج کے چاق چوبند دستے نے شہیدکو سلامی دی اورانہیںسبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کروالٹن کینٹ میں' باب ِپاکستان 'کے مقام پر سپرد خاک کیاگیا۔شہید نے پسماندگان میں والدین، بیوہ اورسات ماہ کی ایک بیٹی چھوڑی ہے ۔
 تیمور شہید کی نماز جنازہ کو مختلف ٹی وی چینلز پر دکھا یا جا رہا تھا کہ یہ  والٹن کی تاریخ کا ایک بہت بڑا جنازہ تھا جس میں تاحد ِ نگاہ انسان ہی انسان نظر آرہے تھے ۔ شہید کے والدین ،بھائی او ر دیگر عزیز بھی صبر و تحمل کی عملی مثال پیش کر رہے تھے ۔ شہید کے والدمیاں محمد اسلم جو اس موقع پر عزم و ہمت کی تصویر بنے ہوئے تھے،انہوں نے کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ میں تو دھرتی کی خاطر اپنے سارے بیٹے قربان کرنے کا جذبہ رکھتا ہوںکیا دشمن فوج میں کوئی ایسا سپاہی ہے جس کے والدین یہ جذبہ رکھتے ہوں؟ شہید کے نانامحمدرفیق،ماموں محمد سہیل اور دیگر عزیزواقارب نے میڈیا کے سامنے واضح الفاظ میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بیٹے نے شہادت کا جام پی کر ہمارا سرفخر سے بلند کر دیا ہے۔
ہمیںلانس نائیک تیمور شہید، جیسے جری فرزندوں کوخراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان بہادر صفت والدین کے حضور سلام بھی پیش کرنا ہے کہ جنہوںنے اپنے جگر کے ٹکڑے پال پوس کر دھرتی پر نچھاور کر دیئے۔ہمیں چاہیے کہ جہاں ہم اپنے شہدا ء کی قربانیوں کو یاد کریں وہیں ان کے والدین اور دیگر ورثاء کو بھی نہ بھولیں ،کیونکہ جب تک اس دھرتی پر شیردل سپوتوں کو جنم دینے والے بہادراورباہمت والدین موجود ہیں اسے کوئی زوال نہیں آسکتا ۔


مضمون نگار ایک قومی اخبار کے لئے کالم لکھتے ہیں
[email protected]


 

یہ تحریر 97مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP