ہمارے غازی وشہداء

شہید ہوکے کیاماں کو سرخرو تم نے

ہمارا ناز، ہماری حرمت اورہمارا فخر شہدائے پاکستان۔ جن کے دم سے ہماری آزادی کا عَلم بلندہے۔بڑے جتن سے پالتے ہیں، ناز نخرے اٹھاتے ہیں۔ زندگی کی خواہشات کی نفی کر کے اپنے خوابوں کو تعبیر دینے کے لیے والدین اپنے بچوں کے لیے مشقت اوراذیت کی اس چکی میں پستے ہیں کہ جس کا گمان بھی بچے نہیں کر سکتے۔
میجر شاہد بشیر (شہید) 22 اپریل 2022 بروز جمعہ 21 رمضان (یوم شہادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ) شہادت کا تمغہ اپنے سینے پہ سجا کے دار فانی سے کوچ کر گئے۔
میجر شاہد بشیرو لد بشیر احمد 25 مئی 1990 کو ضلع فیصل آبادکی تحصیل تاندلیانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بشیر احمد زرعی بینک میں ڈرائیور کی عزت دار نوکری پہ مامور تھے۔ انتہائی عاجز' ملنسار بشیراحمد کا ایک خواب تھا جو وہ اپنی محنت کش بیوی کے ساتھ بُنا کرتے تھے کہ مجھے اپنے بیٹے کو افسر بنانا ہے۔ اللہ نے ان کو دو بیٹیاں اور دو بیٹوں جیسی نعمت سے نوازاتھا۔ میجر شاہد( شہید) اُن کے بڑے بیٹے تھے۔ بچپن سے ہی خاموش طبع' تنہائی پسند مگر ملنسار اوراطاعت گزار۔ کتابوں سے محبت کے علاوہ ویڈیو گیمز اور کھیل کے میدان کے رسیاتھے۔ بڑی بہن نبیلہ بشیر، چھوٹی بہن حمیرا بشیر اور سب سے چھوٹا بھائی شاہ زیب حیدر ان سب میں ایک قدرمشترک ہے، خاموش طبع اور فرمانبرداری۔ میجر شاہد کی شہادت اور ان کی زندگی کے بارے میں جاننے کے لیے راقمہ کی ان کی بہن حمیر ا بشیر سے بات ہوئی۔ بات تھی یا لہجے کی سسکیاں، لفظ تھے یا بارش کی بوندیں اور خواب کہانی تھی کہ حسرتیں۔
ماں کا لاڈلا، باپ کا چہیتا اور بہن بھائیوں کا رول ماڈل میجر شاہدبشیر (شہید) تاندلیانوالہ گورنمنٹ سکول سے پانچویں جماعت میں سکالر شپ کا مستحق ٹھہرا۔ ششم جماعت میں ان کے والدین نے ان کا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے تاندلیانوالہ تحصیل سے نکال کر چیچہ وطنی میں راشد منہاس اکیڈمی میں داخل کروا دیا۔ تاندلیانوالہ کے پسماندہ ماحول میں ویڈیو گیمزکی دکانوں کا کاروبار بہت گرم تھا۔ وہاں پہ اکثر جم غفیر ہوتا تو ایسے میں شاہد کی والدہ انہیں وہاں سے لے آتیں۔ اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہاں شاہدکو ایسے لوگوں کے اثر سے بچانا ناممکن ہے، وہ توانہیں اچھا انسان اورکامیاب فرد بنانا چاہتے تھے۔ ایسے میں شاہدبشیر کی فرمانبرداری کی حدیہ تھی کہ انہوں نے نہ ضد کی نہ اعتراض اور راشد منہاس اکیڈمی کے ہوسٹل میں منتقل ہوگئے۔ والدہ چھٹیوں میں یا گاہے بگاہے اپنے جگر کے ٹکڑے کے لیے پسند کے کھانے بنا کر لے جاتیں اور شاہد اپنے دوستوں کو بھی بلا لیتے۔ اساتذہ شاہدبشیر سے بہت خوش تھے۔ وہاں سے وہ اسکردو کیڈٹ کالج کا  امتحان دے کے پاس ہوئے۔ ساتھ ہی انہوں نے ملٹری  کالج جہلم سرائے عالمگیر کا امتحان بھی پاس کر لیا۔ اسکردو دور تھا مگر وہاں کے اساتذہ نے کہا کہ یہ ہماراذہین کیڈٹ ہے ہم اسے اپنے پاس ہی رکھیں گے۔ مگر والد نے بتایا کہ میں بیمار ہوں میرے ڈائلیسز ہوتے ہیں میں اسکردو کاسفر کر کے بیٹے سے ملنے نہیں جا سکتا۔ اس طرح شاہدجو ایک ماہ تک اسکردو رہے، اپنا سامان اٹھا کر جہلم پہنچ گئے۔ 
 شاہدبشیر کی فیسوں اوردیگر اخراجات کو سامنے رکھتے ہوئے اُن کے عظیم والد  شام کو ڈائلیسز کرواتے تو صبح ڈرائیونگ سیٹ پہ آ بیٹھتے۔ لوگ لاکھ منع کرتے مگر اُن کا کہنا تھاکہ میراخواب تعبیر مکمل کرنے کے سفر پر رواں ہے میں کیسے سٹیئرنگ چھوڑ دوں۔ بشیر احمد جیسے عظیم والد اور آسیہ بشیر جیسی عظیم ماں کے ہاں میجر شاہد (شہید) جیسے بیٹے ہی پیدا ہوا کرتے ہیں۔ ہونہار' نڈر' فرمانبردار' صابر اور نیک۔
 والد کی محنت کے رنگ لانے میں والدہ کی مشقت کا بھی بہت ہاتھ تھا۔ وہ مویشی خرید کر پالتیں، اُن کی دیکھ بھال کرتیں اور مویشی بیچ دیتیں۔ یہ کام کوئی چند سالوںکا نہیں عرصہ دراز پہ محیط تھا۔ دونوںمیاں بیوی گاڑی کے دو پہیے ہونے کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے تھے۔ شومئی قسمت کہ اپنے ہونہار بیٹے کو ملٹری کالج جہلم میں بھیجنے کے ایک ماہ کے بعد والد بشیر احمد کا انتقال ہو گیا۔ گھر میں ایک سناٹا تھا۔ ویرانی اپنے بال کھولے ہر جگہ بین کرنے لگی اردگرد کے لوگوں اور رشتے داروں نے سوال اٹھایا کہ اب شاہد کو کیڈٹ کالج سے بلوا لیں اور کوئی ہنر سکھا دیں تاکہ گھر کاخرچہ چل سکے مگر آفرین ہے ماں آسیہ بشیر پہ کہ انہوں نے اپنی کمر کس لی اور بیٹے کا سر گود میں رکھ کے بال سہلاتے ہوئے کہا کہ بیٹا اب میں تمہارا باپ بھی ہوں اور ماں بھی، ہم دونوں کا سپنا تمہیں وردی میں دیکھنے کا ہے، دو آنکھیں تو اُس خواب کو سجا کر بند ہو گئیں مگر میری آنکھیں تو ابھی تک پُر امیدہیں تو شاہدنے اپنی ماں کے ہاتھ چوم لیے اور اپنا سامان اٹھا کرکیڈٹ کالج چلے گئے۔ کوئی ایسا مہینہ نہیں تھا کہ وہ بیٹے کو ملنے نہ جاتیں۔ کیڈٹ کالج کی انتظامیہ نے بھی اُن کے ساتھ تعاون کیا۔ والد کا ایک جملہ شاہدکے کانوں میں اکثر گونجتا کہ ''اگر مجھے اپنا آپ بھی بیچنا پڑا تو میں شاہد کو افسر بنا کر رہوں گا۔''
وہ مبارک دن آ گیا کہ شاہدبشیر  PMA پہنچ گئے یہ ان کی منزل کا وہ راستہ تھا جس کی تڑپ اُن کے والدین کے دل میں رہتی تھی۔ 2009ء میں پی ایم اے گئے۔ وہاں کا نظم و ضبط شاہد کا پسندیدہ تھا۔ جب وہاں سے پہلی چھٹی آئے تواپنی ماں کی تکلیفوں اورمشقتوں کا احساس کرتے ہوئے فوٹو سٹیٹ کرنے والی مشین پہ کام کرتے رہے اور چھٹی کا ایک لمحہ ضائع نہ کیا۔ اُن کے دوست میجر رستم نے بتایاکہ شاہد(شہید) ایک شاندار انسان تھا۔ کتاب دوست، انسان دوست، اورہرکھیل کے میدان کا دوست۔ اُس نے ہمیں صبر، برداشت اور محنت کرنا سکھایا۔ وہ ذہین و فطین تھا، کسی مشکل سے نہ گھبراتا۔ جب ہمیں کوئی سزا ملتی تو وہ اسے خوشی خوشی پورا کرتا۔ اُس کا کہنا تھا کہ ''جب اس مشکل سے گزرنا ہی ہے تو کیوں نہ ہنس کے گزارا جائے۔ وقت جلدی اور اچھا ہو کے گزرے گا۔''وہ دوستوں کاساتھ کبھی نہ چھوڑنے والا تھا۔
2012ء میں شاہد پاس آئوٹ ہوئے تو انہیں 22 AK رجمنٹ ملی۔ کھاریاں پوسٹنگ ہو گئی۔ PMA میں پریڈ کے بعد شاہد نے ماں کو گلے لگایا اور ماں کا ماتھا چوما پھر انہیں سلیوٹ کیا۔ سب کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور شاہدبشیر بس اتنا کہنے لگے کہ بابامیں نے آپ کا سپنا پورا کردیاہے مگر آپ نہیں ہیں۔ پھر روتے ہوئے ماں کے گلے لگ گئے۔
زندگی مسکراہٹوں اور خوشیوں کے ساتھ آگے بڑھنے لگی، سیاچن اور وزیرستان کے مشکل ترین وقت میں ضرب عضب کی کامیابیوں کے ساتھ میجرشاہد کمانڈر کی طرح اپنے سا تھیوں کے ساتھ آگے بڑھتے رہے، سیاچن کی مشکل ترین چوٹی جو 18000 فٹ پہ تھی اور گیاری سیکٹر میں پانچ پانچ ماہ گزارتے ہوئے انہوں نے کبھی چھٹی نہیں مانگی۔جب کبھی ماں نے پوچھا کیسے ہو بیٹا توہمیشہ کہتے کہ بہت اچھا ہوں، امی کوئی کام مشکل نہیں لگتا میں توکرسی پہ بیٹھا راج کررہاہوں۔ جب گھر داخل ہوتے تو ان کو آوازیں دیتے امی کہاں ہیں، امی میں آگیا ہوں۔توبہنیں کہتیں کہ بھائی ہم جو دروازے پر کھڑے آپ کا انتظارکررہی ہیں کیا ہم آپ کو نظرنہیں آرہیں تو مسکرا کے کہتے پہلے ماںپھر میری بہنیں۔
حیران کن بات یہ بھی پتہ چلی کہ وہ زیادہ ہنسی مذاق اور شرارتیں صرف والدہ کے ساتھ کرتے اور خاص طور پر والدہ کو بیڈمنٹن کھیلنے کے لیے راضی کرتے ہوئے نٹ کھٹ سے بچے بن جاتے۔
میجر شاہد اکثر اپنے دوستوں کو کہتے کہ میری ماں میرا کھلوناہے۔ میرا دل چاہتاہے گھر جائوں تو بس امی سے ہی کھیلتا رہوں، ان کے ساتھ سو جائوں، ان کے ہاتھ سے کھائوں اورہرجگہ ان کے ساتھ جائوں۔
پھرماں نے بڑے ارمانوں سے اپنے لخت جگرکی شادی کی، سیاچن، وزیرستان کے بعد ان کا تبادلہ کوئٹہ ہوگیا، تب تک اللہ نے ان کو دو بیٹیاں عطاکردی تھیں جو دادی ماںکی جان ہیں۔ میجر شاہد کی خواہش تھی کہ میری امی میری بیٹیوں کی تربیت میرے جیسی کریں، منصوبہ تو انسان بناتاہے مگر اسے مکمل خدا کی ذات کرتی ہے، اس کا لکھا کون جان سکتا، بس اس کی آزمائش پہ بھی شکر اور صبر اورعنایت پہ بھی۔
میجر شاہد شہید کی فوجی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ سیاچن جیسے سخت ترین محاذ پر بھی ان کے ایک سپاہی کی بھی شہادت نہیں ہوئی، وہ اپنی جان ہمیشہ اپنے جوانوں کے آگے رکھتے اور ان کی حفاظت خود سے زیادہ کرتے۔
شہادت سے ایک ہفتہ پہلے اپنی والدہ سے بات کی اور رمضان اور عید کیلئے خرچہ بھیجتے ہوئے کہا امی عید پر آپ سب میرے پاس آجائیں، دل بہت اداس ہے مگر کسے معلوم تھا کہ دل کی اداسی تو اب کبھی نہ ختم ہونے کا نقارہ بجارہی تھی۔ بہن حمیرا سے بات ہوئی تو اس سے وعدہ کیا کہ تم نے ایم بی اے کرلیاہے توFBR اسلام آباد میں تمہاری نوکری کے لیے کوشش کریں گے۔ حمیرا نے بھائی کی شہادت سے دو دن پہلے اپنے پیپر تیارکرکے فائل میں لگالیے تھے کہ بھائی کے ساتھ اسلام آباد جائوں گی ۔
ماں کو22اپریل صبح فون کال آئی تو ماں کے منہ سے الفاظ نکلے ''یا اللہ خیر'' یہاں تو خیر ہی تھی۔ شہادت سے بڑی خیر کی خبر کیا ہوگی۔ جب ماں نے یہ الفاظ سنے کہ آپ کا بیٹا وطن پہ قربان ہو گیا ہے تو منہ سے بے اختیارنکلا ''الحمدللہ''
پھر ماں کو ہوش نہ رہی۔ ٹی وی پہ خبر آگئی کہ 
آواران کے علاقہ کاہان میں دہشت گردوں کے فورسز چوکی پر حملے میں پاک فوج کا میجر شہید اور ایک سپاہی زخمی ہوا ہے۔



پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان آواران کے علاقے کاہان میں گزشتہ رات دہشت گردوں نے فورسز کی چوکی پر حملہ کردیا۔ فورسز نے دہشت گردوں کے حملے کو پسپا کرنے کے بعد فرار ہونے والے دہشت گردوں کاقریبی پہاڑوں میں تعاقب کیا۔ جس پر فرار سے روکنے پر دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کردی۔ شدید جھڑپ کے دوران میجر شاہد بشیر جام شہادت نوش کر گئے جبکہ جھڑپ کے دوران دہشتگردوں کوبھاری نقصان پہنچاتے ہوئے ہماراایک سپاہی زخمی بھی ہوا۔ پاک فوج کا عزم بلند ہے اُن کا کہنا ہے کہ فورسز قوم کے ساتھ مل کر بلوچستان کے امن' استحکام  اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنائیں گے۔ 
خبریں سن کر میجر شاہد (شہید) کے گھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ پھر جب میجر شاہد (شہید) کو پورے اعزاز کے ساتھ لایا گیا اور تابوت سے ماں نے چہرہ دیکھا تو کہا مجھے تابوت کھول کے اپنا بیٹا دیکھناہے۔ اُس کے ہاتھ چومنے ہیں اُس کے ماتھے پہ بوسہ دینا ہے۔ ماں کہنے لگی میں روئوں گی نہیں' چِلائوں گی نہیں' اپنے بیٹے کا شکریہ ادا کروں گی کہ اُس نے اپنے غریب والدین کی محنت اور مشقت کو آج اللہ اور اُس کے نبیۖ کے سامنے سرخرو کر دیاہے۔ ||


مضمون نگار کالم نویس اور ادیبہ ہیں۔
 

یہ تحریر 121مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP