اداریہ

ہندوستان میں اسلاموفوبیا اوربڑھتا ہوا جنگی جنون

ہمسایہ ملک ہندوستان کا نام نہاد سیکولر چہرہ تار تار ہوچکا ہے۔ ایک عرصہ سے ہندوستان نے سیکولر ازم کا ڈھنڈورا پیٹا اور دنیا کو اپنا ''سافٹ امیج''  دکھا کر جہاں اپنی ثقافت اور سیاحت کو ترویج دیا وہاں ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی پُرامن جمہوری ریاست بھی قرار دیتا رہا ہے۔ لیکن آر آیس ایس کی پشت پناہی سے برسرِ اقتدار آنے والی بھارتی جنتا پارٹی کی مودی حکومت کے دورِ اقتدار میں ہندوستان میں مسلمانوں کوجس طرح نشانہ بنایاگیا ہے اور جواقدامات لئے گئے ہیںان پر نہ صرف پوری دنیا میں آواز اٹھائی جارہی ہے بلکہ ہندوستان کے اندر موجود بعض اعتدال پسند شہری بھی مودی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بنارہے ہیں۔ آر ایس ایس اور بھارتی جنتاپارٹی کے کارندوں نے جس طرح سے ماضی میں بابری مسجد کو شہید کیا، موجودہ مودی حکومت نے بابری مسجد بارے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اثر انداز ہو کرہندوئوں کے موقف کی تائید میں جو فیصلہ کروایا اس سے ہندوستان کااصلی چہرہ سامنے آیا ہے اور ہندوستان میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کو بھی اپنے مستقبل بارے تشویش لاحق ہوگئی ہے جس کی توثیق مودی حکومت نے گزشتہ سال اگست  کے مہینے میں کشمیراور کشمیری مسلمانوں کے حقوق سے متعلق رائج ایکٹ 370 اور 35 اے کو ختم کرتے ہوئے کی۔ علاوہ ازیں گزشتہ سال ماہِ دسمبر میںہندوستانی مسلمانوں کی شناخت سے متعلق سوالات اٹھادیئے اور بھارتی پارلیمنٹ سے سٹیزن(ترمیمی) ایکٹ 2019 پاس کروا کر ہندوستانی مسلمانوں پر ایک مستقل تلوار لٹکا دی۔ علاوہ ازیں ہندوستان میں 'گھر واپسی' کے نام پر ایک ایسی تحریک چل رہی ہے جس کے تحت ہندوستان کے چپے چپے میں بسنے والے مسلمانوں کو تشدد کے زور پر اپنا مذہب چھوڑ کر پھر سے ہندو مذہب اختیار کرنے کا کہا جارہا ہے۔ ''گھر واپسی'' تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے وشوا ہند وپرشاد (وی ایچ پی)، راشٹریہ سوائم سیوک سنگ (آر ایس ایس) اور ہندو مکال کچی نامی تنظیمیں سرگرم ہیں۔ یہ تنظیمیں مسلمانوں اور عیسائیوں کو زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے کے لئے دبائو ڈالتی ہیں۔ 
ہندوستان اس قدر ذہنی پسماندگی کا شکار ہے کہ دنیا بھر میں پھوٹنے والی کرونا وبا کو بھی مسلمانوں کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ گویا کرونا ختم کرنا اورمسلمانوں کو ختم کرنا ایک سی بات ہے۔ہندوستان کے اندر ہندوستانی مسلمانوں اور کشمیر میں بسنے والے مسلمانوں پر مظالم اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ متعدد مسلم ممالک نے نہ صرف اس کی پُرزور مذمت کی ہے بلکہ ہندوستان کی ان نفرت انگیز پالیسیوں پر کڑی تنقید کی جارہی ہے۔ لیکن ہندوستان دیگر ممالک کی تنقید سے بے نیاز مسلمانوں کے خلاف بھڑکتی ہوئی آگ میںنہ صرف جل رہا ہے بلکہ آئے روز اس آگ میں شدت پیدا کی جارہی ہے جس سے ہندوستان کے اندر بسنے والے مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن ہو کر رہ گئی ہیں۔ مودی حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے ہندوستان ہی کی ایک سیاسی شخصیت بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئی کہ'آج جناح کا نظریہ کہ مسلمانوں کے لئے الگ مملکت ہونی چاہئے ، جیت گیا اور گاندھی کانیریٹو ہارگیا ہے۔' 
ہندوستان صرف اسلاموفوبیا ہی نہیں بلکہ توسیع پسندانہ عزائم بھی رکھتا ہے۔  وہ نہ صرف پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال ، سری لنکا اور خطے کے بعض چھوٹے چھوٹے ممالک کو بھی اپنے زیرِ تسلط لانا چاہتا ہے بلکہ وہ  مہابھارت کے نقشے میں افغانستان کے کچھ علاقوں کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے یوں ہمارے مغرب میں بسنے والے برادر ملک کی آنکھیں بھی کھل جانا چاہئے اور اس وقت کا انتظار کرنا چاہئے جب  ہندوستان کے چہرے پر چڑھا سافٹ ماسک بھی بالکل اسی طرح سے اُترجائے گا جس طرح سیکولر ازم کا نام نہاد امیج برباد ہوا ہے۔ بہرطور ہندوستان کا جنگی جنون دنیا سے پوشیدہ نہیں ہے۔ لائن آف کنٹرول کے اس پار آئے روز بمباری، نیپال کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور لداخ میں چین کے علاقے پر تسلط قائم کرنے کی ناکام خواہش سے اس کے عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ وطنِ عزیز پاکستان جنوبی ایشیا کا بہرطور وہ ملک ہے جو ہندوستان کے اسلاموفوبیا اور توسیع پسندانہ عزائم (Hegemonic Designs) کو نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر اُسے ایسا کرنے سے باز رہنے کا بھی کہتا ہے۔ یقینا پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں ہے اور وہ دشمن کی ہر چال اور حرکت پرنظر رکھے ہوئے ہے۔ ضرورت ہے تو صرف اس امر کی کہ ایسے میں عوام یک جان دو قالب بن کر رہیں اور ملک کو درپیش کسی بھی چیلنج اور مشکل کا جرأت اور دلیری کے ساتھ سامنا کریں۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد
 

یہ تحریر 120مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP