قومی و بین الاقوامی ایشوز

سی پیک اور ہمسایہ ملک کے عزائم ۔۔

گلگت  بلتستان کا ضلع غذر جس کو شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین کہا جاتا ہے اس وادی کے ہر گائوں میں شہداء کے مزاروں پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتا ہوا نظر آتا ہے۔یہاں کے بہادر سپوتوں نے ملک کے گلشن کی آبیاری  کے لئے ہر میدان میں بہادری کی لازول داستانیں رقم کی ہیں۔کار گل کے ہیرو شہید لالک جان نشان حیدر کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے ۔ کارگل کی جنگ میں اس وادی کے ایک سو سے زائد جوانوں نے اپنے ملک کی سرحدوں کی

  حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور چالیس کے قریب شہداء کو اعزازت سے نوازا گیا۔یہ امر خوش آئند ہے کہ اب اس ضلع کے عوام کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے وفاقی حکومت اہم اقدامات اٹھا رہی ہے جس کا اہم ثبوت غذر چترال روڈ کو سی پیک میں شامل کرنا ہے۔ اس اہم شاہراہ کا باقاعدہ سروے شروع ہوچکا ہے ۔ اس شاہراہ کی تعمیر کے بعد یہ سڑک شاہراہ قراقرم کا متبادل ثابت ہو گی اور شاہراہ قراقرم بلاک ہونے کی صورت میں یہ شاہراہ استعمال کی جاسکے گی، اس کے علاوہ غذر کے خوبصورت علاقے پھنڈر میں 87میگاواٹ پاور پراجیکٹ بھی سی پیک کا حصہ ہے، اور شندور میں بلندترین پولو گرائونڈ کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جارہا ہے۔ اگر سی پیک کے تحت یہ منصوبے مکمل ہوگئے تو گلگت بلتستان ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوجائیں گے۔ سی پیک میں گلگت  بلتستان کے اہم منصوبوں کو تعمیر کرنے کے حوالے سے نوید ایک سال قبل سنائی گئی تھی۔ اب ان پر عملی طور پر کام بھی شروع ہورہا ہے۔ گلگت  بلتستان سی پیک کا دروازہ ہے اور سی پیک نے اسی دروازے سے گزرنا ہے اور پاک چین اکنامک کوریڈور سے اگرکوئی ملک پریشان ہے تو بھارت ہے جو نہیں چاہتا کہ پاکستان ترقی کرے کیونکہ سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے جس سے پاکستان میں خوشحالی آئے گی اور پاکستان ترقی کے میدان میں بہت آگے نکل جائے گا، اس لئے بھارتی میڈیا من گھڑت خبروں کے ذریعے سازشوں میں مگن ہے۔

 

بھارت کو گلگت بلتستان کے حوالے سے بھی تحفظات ہیں اور اس علاقے کی ترقی اُسے کسی طور بھی قبول نہیں۔ کیونکہ سی پیک میں جہاں ملک کے دیگر چاروںصوبے ترقی کی راہ پر گامزن ہوںگے وہاں آزاد کشمیر اور گلگت  بلتستان میں بھی معاشی انقلاب آئے گا۔ اس کے علاوہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے گلگت اور غذر میں دو سو میگاواٹ کے قریب بجلی کے منصوبوں کی تعمیر بھی عنقریب شروع ہوگی ۔ گلگت  بلتستان کے دیگراہم منصوبوں میں سب سے اہم منصوبہ گلگت چترال روڈ کی تعمیر کا ہے اس روڈ کی تعمیر وقت کی اہم ترین ضرورت بن گئی ہے اور اس شاہراہ کی تعمیر سے شاہراہ قراقرم کسی وجہ سے بلاک ہونے کی صورت میں گلگت چترال روڈ کو متبادل روڈ کی شکل میں بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے، اس روڈ کی تعمیر بہت جلد شروع ہونے والی ہے اور اس اہم شاہراہ کوہر موسم کے لئے کارآمدبنانے کے لئے شندور میں پندرہ کلومیٹرطویل سرنگ بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ اس شاہراہ کو ٹریفک کے لئے بحال رکھا جاسکے۔ یاد رہے کہ سی پیک میں پچاس ارب ڈالر کے قریب سرمایہ کاری ہورہی ہے جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے اس اہم منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ چین کی حکومت نے تاشقرغان سے کاشغر تک کی اہم شاہراہ کو مکمل کر دیا ہے اورتاشقرغان میں تعمیر ہونے والے ایئر پورٹ کا کام بھی تیزی سے جاری ہے ۔اس سے قبل تاشقرغان سے کاشغر تک جو مسافت آٹھ گھنٹے کی تھی اب صرف دو گھنٹے کی مسافت رہ گئی ہے، اسی طرح بہت جلد بابوسرسرنگ کی تعمیر بھی شروع ہوگی اگر یہ اہم منصوبہ مکمل ہوا تو گلگت سے راولپنڈی کی مسافت صرف چھ سے سات گھنٹے رہ جائے گی اور گلگت  بلتستان کا یہ خطہ ترقی کے ایک اہم دور میں داخل ہو جائے گا۔ دشمن اسی وجہ سے اس اہم منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے کوششیں کر رہا ہے لیکن اس کے یہ ناپاک عزائم کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوں گے۔اس کے خدشات بھی موجود ہیں کہ بھارت افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے ترقی کے عمل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا اس حوالے سے گلگت  بلتستان خصو صاً غذرکے بارڈرز کی سخت نگرانی کرنی ہوگی۔ چونکہ یہ دَور براہِ راست لڑائی کا نہیں بلکہ میڈیا کا دَورہے اس سلسلے میںہمیں میڈیا کے محاذ پر بھی مضبوط ہونا ہوگاتاکہ دشمن کے ہر حربے کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔


[email protected]


کون و مکاں میں رفعت و عظمت کی دھوم ہے 
اے خالقِ جہاں، تری سطوت کی دھوم ہے
یہ ساری کائنات ہے بس کُن کا معجزہ
ہر چیز سے عیاں تری قدرت کی دھوم ہے
لب کھولتی ثنا سے ہے ہر گل کی پنکھڑی
ہر اِک مقام پر تری قدرت کی دھوم ہے
حاصل کسے ہے واحد و یکتا کا یہ مقام 
ہر نوکِ خار پر مچی وحدت کی دھوم ہے
چُھوتی ہیں آسمان کو پربت کی چوٹیاں
بجلی کی صوت میں چھپی صولت کی دھوم ہے
خوشبو ہوا کے دوش پر محوِ سفر رہے
گلشن کے پھول پھول میں نکہت کی دھوم ہے
میرے رسولِ پاکۖ ہیں محبوب آپ کے
وہ رحمتِ کونین ہیں، رحمت کی دھوم ہے
میں تیری بادشاہی سے لوں گا زرِ ہنر
تو ہی نواز دے، تری دولت کی دھوم ہے

پروفیسر اکرم باجوہ


اﷲ کے عرش تک ہے مومن تیری رسائی
تو پاسبان وطن کا تو دین کا سپاہی
تیرے ہی رتجگوں سے نیندوں میں ہے تسلسل
تجھ سے ادیب شاعر تجھ سے غزل رباعی
تیرا سوز ہے بلالی تیرا وار ضربِ حیدر
تیرا شوق ہے شہادت تیرا ذوق کربلائی
تیرے جوش اور جنوں سے قائم وطن ہمارا
افلاک سے بھی آگے ہے تیری بلند نگاہی
تجھے دید کی طلب ہے رہِ حق کا تو مسافر
منزل تیری نہیں ہے یہ تاج و تختِ شاہی
مٹی تیری قبر کی ریشم سے نرم تر ہے
ہے تازہ دم ہمیشہ یہ تیرا رخ زیبائی
اشعار میرے سُن کر حیران کیوں ہے دنیا
خالق کی سب عطا ہے یہ حکمت و دانائی

ساجد فخری

یہ کالم 244 مرتبہ پڑھا ہے

اس کالم پر اپنے خیالات تحریر کریں

Success/Error Message Goes Here
برائے مہربانی اپنے اکاؤنٹ میں لاگ ان کریں اور اس مضمون پر اپنے خیالات تحریر کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road Sadar, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-1617

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP