متفرقات

سیرتِ طیبہ ۖ

دنیا کا افضل ترین کام انسانوں کوحقیقی معنوں میں اﷲ کا بندہ بنانا، اُنہیں خالقِ حقیقی کی پہچان کرانا اور اُن کا تعلق اﷲ تعالیٰ سے جوڑنا ہے۔اس نیک مقصد کے لئے مختلف ذرائع تعلیم متعارف ہوئے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید طریقۂ تعلیم بھی رائج ہوئے ۔ اﷲ تعالیٰ نے تعلیم کے اس نیک مقصد کے لئے انبیاء کرام کو منتخب فرمایا اور اُن کا طریقہ تعلیم یہ تھا کہ وہ جو تعلیم لوگوں کو دیتے وہ خود اس کا عملی نمونہ پیش کرتے۔ سب انبیاء کرام علیہم السلام ، اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے اور سب نے توحید کا درس دیا اور بت پرستی اور شرک کا انکار کیا۔خاتم النبیین حضرت محمدۖ سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات اور شریعت ایک محدود وقت اور قوم کے لئے تھی۔

جب اگلا نبی بھیجاگیا تو پچھلی شریعت منسوخ ہوگئی تو ان کی تعلیمات کا مواد بھی محفوظ نہ رہا۔ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اسی بات کا درس دیا کہ وہ کسی بھی نبی میں تفریق نہ کریں۔ سب انبیاء علیہم السلام کا درجہ اﷲ تعالیٰ کے ہاں اعلیٰ و ارفع ہے۔ نبی کریم حضرت محمدۖ کی نبوت کی حیثیت اور درجہ اس لحاظ سے مختلف ہے کہ آپ ۖ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپ خاتم النبیینۖ  ہیں۔ اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے آپ کی شریعت اور اسوہ کو قیامت تک کیلئے محفوظ کردیا۔ آپ ۖ نے خود اپنی نبوت کی مثال ایسے دی ''جیسے کوئی شخص ایک بہت شاندار ، حسین و جمیل عمارت بنائے مگر اس میں ایک اینٹ کا خلا باقی رہ جائے اور دیکھنے والا جب اس کو چاروں طرف سے دیکھے تو اس کے حسن و جمال اور خوبصورتی کو دیکھ کر دنگ رہ جائے مگر اس اینٹ کے خلا نہ سمجھ پائے کہ کیوں چھوڑی گئی تو وہ آخری اینٹ میں'محمد' ہوں اور میں آخری نبی الزمان ہوں۔''

رسولِ کریمۖ نے فرمایا: ''میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔'' 
وہ دانائے سبل ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
 غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیٔ سینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طہٰ
رسول اﷲۖ کی خاتم النبیین کی خاصیت کا تقاضا تھا کہ آپۖ کی زندگی کی تمام سیرت کو محفوظ رکھا جاتا اور ہر بات پر عمل کو لکھ لیا جاتا تو ایسا ہی کیا گیا۔ رسول کریمۖ اعلیٰ اخلاقی صفات کا بہترین نمونہ ہیں۔ آپۖ کا پیغامِ ہدایت عرب سے نکل کر کل کائنات میں پھیل گیا۔ آپۖ کی سیرت نہ صرف عرب بلکہ پوری دنیا کے لئے نمونہ بن گئی۔ آپۖ کامل انسان کہلائے، رسول پاکۖ صادق و امین کہلائے ، نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی آپ کی تعریف کرتے۔ ابو سفیان اسلام لانے سے پہلے آقاۖ کا بدترین دشمن تھا مگر جب حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے اس سے پوچھاکہ محمد(ۖ)لوگوں کوکیا تعلیم دیتے ہیں اور اس نے تمہارے ساتھ کوئی بدعہدی یا غداری کی ہے تو ابوسفیان کی زبان سے اس کے سوائے کوئی الفاظ نہ نکل سکے کہ ''وہ بت پرستی سے روکتا ہے اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔'' کسی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے آپ ۖ کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا آپ نے فرمایا ''آپۖ کے اخلاق تو گویا قرآن تھا'' یعنی آپۖ کے اخلاق قرآن پاک کا عملی نمونہ تھے۔
آپۖ ایک مکمل ضابطۂ حیات لے کر آئے  جس میں نہ صرف حقوق اﷲ کا درس دیاگیا ، طریقے اور آداب سکھائے گئے بلکہ تمام انسانوں کے حقوق کو بھی واضح فرمایا تاکہ معاشرتی  زندگی گزارنے کے لئے ان کو ایک واضح  راہ مل سکے اور معاشرے میں توازن قائم رہے۔ آپ نے بادشاہوں کے ساتھ مراسم ، تعلقات، خطوط ، جوابات اور سفارت کاری کا مکمل اور مربوط نظام پیش کیا۔ غلاموں اور سرداران ِ قریش دونوں سے حسنِ سلوک کی مثالیں قائم کیں۔ نبی کریم ۖ نے عورتوں کو حقوق دلوائے جو اسلام سے پہلے زندہ درگور کر دی جاتی تھیں، اُنہیں نہ صرف وراثت میں حصہ دلوایا بلکہ اُن سے حُسنِ سلوک کو دین کا حصہ قرار دیا۔ آپۖ کی سیرت ہر طبقے کے بچے کے لئے عام تھی جس کی مثال آپۖ کی زندگی کے متعدد واقعات سے ملتی ہے۔ ایک مرتبہ آپ ۖعید کی نماز پڑھ کر واپس آ رہے تھے کہ آپۖ نے ایک بچے کو دیکھا، آپۖ اسے اپنے ساتھ گھر لے آئے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا اور اس کے سر پر رحمت و شفقت کا ہاتھ رکھا۔ آپۖ نے اپنی پوری زندگی کسی غلام یا عورت پر ہاتھ نہیں اُٹھایا۔ یہ آپۖ کی سیرت کا سایہ ہی تھا کہ جب زید بن حارث کے والدین ان کو لینے آئے تو انہوںنے جانے سے انکار کردیا۔ اسی طرح جب کوئی نیاپھل آتا تو بچوں کو سب سے پہلے دیتے۔ نماز کے دوران بچوں کے رونے کی آواز آتی تو نماز مختصر کردیتے۔
اﷲ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفیۖ  کو عرب کی بادشاہی عطا کی تھی مگر ایک لمحے کے لئے آپۖ نے شاہی طرزِ عمل اختیار نہیں کیا۔ آپۖ نے زندگی بھر کبھی تکلف اور بناوٹ سے کام نہیں لیا۔ جو مل جاتا وہ زیبِ تن فرما لیتے۔ گھر کے چھوٹے موٹے کام خود کرلیتے۔ گھر میں جو چیز کھانے کے لئے میسر ہوتی وہ کھانے میں کوئی عار نہ سمجھتے، غریب اور کمزور لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے میں عار محسوس نہیں فرماتے تھے۔ آپۖ نے رہنے کے لئے جو گھر تعمیر کئے وہ بھی سادہ تھے اور ہمیں بھی سادگی کا درس دیا۔
نبی کریمۖ نے پیغمبر بن کر جو دینِ اسلام پیش کیا وہ خود اس کا عملی پیکر تھے۔ جس بات اور عمل کا درس لوگوں کو دیتے خود اس کا عملی نمونہ بن کر دِکھاتے۔ نبی کریم ۖ نے رنگ و نسل کے بُت پاش پاش کردیئے جبکہ شرافت، بزرگی، پرہیز گاری اور خدا ترسی کو بڑائی کا معیار قرار دیا۔ ہمارے سامنے اس کی بہترین مثال حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کی صورت میں موجود ہے۔ حضرت بلال حبشی غلام ہونے کے باجود حضورۖ کو بہت عزیزتھے۔  رحمت ِعالمۖ نے فرمایا ''میرے کنبے والے وہ ہیں جو اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، چاہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں۔''  حجة الوداع کے موقع پر حضور اکرمۖ نے فرمایا'' نہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی برتری (فضیلت) ہے اور نہ کسی عجمی کو عربی پر، نہ کسی گورے کو کالے پر فضیلت ہے اور نہ کسی کالے کو گورے پر، مگر تقویٰ کے سبب۔ تمام لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور آدم کو مٹی سے پیدکیاگیا۔''
رسول کریمۖ نے تمام انسانوں کو نہ صرف مساوات کا درس دیا بلکہ تمام معاملات میں چاہے وہ دینی ہوں یا دنیاوی، میانہ روی کی تعلیم دی۔ مسلمانوں کو قرآن ِ پاک میں اُمتِ وسط یعنی ''بیچ کی اُمت'' کہاگیا ۔ ایک صحابی  نے جب دن میں مسلسل روزے رکھنا اور رات کو نوافل پڑھنے شروع کردیئے تو حضورۖ نے اُنہیں اعتدال کی تاکید فرمائی اور کہا '' تمہارے ذمے اور بھی حق ہیں اور تمہارے نفس کے بھی تم پر حقوق ہیں ۔یعنی محنت و مشقت اور عبادت و ریاضت کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ اپنے جسم کو بھی آرام دو۔'' نبی کریم ۖ نے آدابِ زندگی سے لے کر ریاستی اُمورتک ہر شعبۂ زندگی میں رہنمائی فرمائی۔ آپ ۖنے خطہ عرب میں جو دستورِ مملکت اور نظامِ حکمرانی مرتب فرمایا وہ آپۖ کے حسنِ نظم کی تابندہ مثال ہے۔ مواخات اور میثاق ِ مدینہ سے ریاست کو سیاسی و اقتضادی استحکام فراہم کیا ۔ حضورۖ کی حیاتِ طیبہ میں فتوحات کا جو سلسلہ قائم ہوا اُس کی مثال نہیں ملتی۔ رسول کریمۖ نے نہ صرف جنگی حکمتِ عملی کے عظیم الشان اصول متعارف فرمائے بلکہ عفو و درگزر کی مثالیں بھی قائم کیں۔ مکہ فتح کرنے کے بعد عام معافی کا اعلان کیا اور قریش ِمکہ جنہوں نے حضرت محمد ۖ اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے تھے اُن سب کو معاف فرمادیا اور ایسی مثالیں قائم کیں جو تاریخ میں کہیں بھی نہیں ملتیں۔ ||

 

یہ تحریر 66مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP