قومی و بین الاقوامی ایشوز

سوشل میڈیا:منفی اثرات سے بچائو کی ضرورت

زمانہِ قبل از تاریخ سے لے کر آج تک کا اگر طائرانہ جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ بنی نوع انسان نے مسلسل تہذیبی، معاشرتی، سماجی، معاشی، سیاسی اور جغرافیائی ارتقا کے مراحل طے کئے ہیں۔ شائد ابتداء سے ہی انسانوں کا ایک سب سے اہم کام آپس میں گفتگو اور بات چیت کے ذریعے اپنے خیالات و خواہشات کا اظہار اور حسب ضرورت باہمی طور پر معاملات کو طے کرنے کے لیے سماجی رابطوں پر انحصار ہی کلیدی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ہزاروں سال پر محیط یہ سفر مختلف مدارج طے کرتا ہوا قریب ساڑھے پانچ سو برس پہلے پرنٹنگ پریس کی کمرشل بنیادوں پر تیاری تک پہنچ چکا تھا۔ پرنٹنگ پریس اس زمانے کی ایک انقلابی ایجاد تھی جس کی مدد سے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں چھاپہ خانے بن گئے اور بڑی تیزی سے کاغذ پر کتابوں کی طباعت شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں فروغ علم عام ہونے کی رفتار میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا۔ اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد چھاپہ خانہ یعنی پرنٹنگ پریس کی بدولت روز مرہ کی خبروں، اعلانات اور حالات حاضرہ سے عوامی آگاہی کے لئے اخبارات اور رسائل کا اجراء ہوا اور یہاں سے ذرائع ابلاغ کی نئی اصناف سامنے آتی چلی گئیں جبکہ اخبارات، رسائل اورکتابوں کے ساتھ ساتھ روز مرہ کی خبروں کی ترسیل کا سب سے بڑا اور مستند ذریعہ بن کر سامنے آئے۔
 یاد رہے پرنٹنگ پریس کے حامل چھاپہ خانہ کی تیاری میں ٹیکنالوجی کا ہی سب سے اہم کردار تھا اور پھر ہم نے دیکھا کہ اس کے بعد آنے والے وقتوں میں کس طرح ذرائع ابلاغ ٹیکنالوجی کی پشت پر سوار ہوکرتیزی سے پہلے لاسلکی پیغامات کی ترسیل کے ٹیلی گراف نظام اور پھر ہوا کے دوش پہ ریڈیو ویوز کی مدد سے آواز کی صورت دنیا بھر میں پھیلتے چلے گئے۔ جلد ہی متحرک تصاویر پر مبنی فلموں اور پھر ٹیلی وژن کا دور آیا اور ہم نے دیکھا کہ دنیا بھر میں ٹیلی وژن خبروں اور معلومات تک رسائی کا عام اور مؤثر ترین ذریعہ بن گیا۔
بلاشبہ ٹیکنالوجی کی رفتار گزرتے وقت کے ساتھ تیز تر ہوتی چلی جارہی ہے اور پھر ہمارے سامنے ہی انٹرنیٹ کا دور آگیا جس میں برقی ڈاک سے شروع ہونے والی معلومات کے تبادلے نے جلد ہی سوشل میڈیا یعنی سماجی رابطوں کے مربوط نظام کی شکل اختیار کرلی ہے۔ آج جبکہ ہم اس دور میں رہتے ہیں کہ جس میں ذرائع ابلاغ کا ایک جمگھٹا اخبارات، رسائل، ریڈیو، ٹی وی اور انٹرنیٹ کی مدد سے چلنے والے لاتعداد سماجی رابطوں کی ایپس اور نیٹ ورکس کی صورت ہمہ وقت دستیاب رہتا ہے تو یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے کہ ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ انٹرنیٹ کی بنیاد پر چلنے والے سماجی رابطوں کی ایپس اور نیٹ ورکس کا استعمال کس طرح اور کن کن پہلوؤں کے ساتھ ہماری روز مرہ زندگیوں پر اثر انداز ہورہا ہے یا اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ہمیں سماجی رابطوں کے لئے استعمال ہونے والے سوشل میڈیا کو بہتر انداز سے سمجھنے کے لئے کچھ نکات کا جائزہ لینا ہوگا۔ یاد رہے کہ روائتی ذرائع ابلاغ جیسے کہ اخبارات و رسائل اور یہاں تک کہ ریڈیو اور ٹی وی بھی عمومی طور پر ایک اداراتی اختیار کے تحت کام کرتے ہیں یعنی ان میڈیا آؤٹ لیٹس سے جاری ہونے والی ہر خبر کی ناصرف جانچ اور تصدیق ان کی ذمہ داری ہوتی ہے بلکہ غیر تصدیق شدہ خبروں یا مفاد عامہ کے خلاف تخریبی یا کسی بھی طبقے کے خلاف ممکنہ تعصب یا نفرت کے فروغ پر مبنی تباہ کن مواد کی اشاعت و ترسیل کو ذمہ داری کے ساتھ ہینڈل کرنا بھی ان مستند ذرائع ابلاغ کے ایڈیٹوریل کنٹرول کے تحت ممکن بنایا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان میڈیا آؤٹ لیٹس کی ساکھ ہمیشہ ان کی پیشہ ورانہ دیانت داری سے جڑی رہتی ہے۔ دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس اور ایپس نے ایک بالکل نئے انداز سے اب ہر فرد کو یہ موقع اور اختیار فراہم کردیا ہے کہ وہ کسی بھی خبر، موضوع یا عنوان پر اپنی رائے، ردعمل یا خیالات کو تبصرے کی شکل میں لکھ کر یا آڈیو ویڈیو ریکارڈ کرکے اوروں تک پہنچا سکتا ہے۔ بظاہر یہ ایک بہت انقلابی پیشرفت ہے کیونکہ اس کے تعمیری اور مثبت استعمال سے مفاد عامہ میں بہت کچھ بہتر ہوسکتا ہے لیکن دوسری جانب یہی سہولت غلط یا غیر تربیت یافتہ ہاتھوں میں منفی اور تخریبی سوچ کے ساتھ ایک ایسا کاری ہتھیار بن جاتا ہے جو معاشرے میں فساد کے فروغ کا سب سے موثر ہتھیار بن سکتا ہے۔
سماجی رابطوں کی ایپس کے استعمال کا ایک اور نہائت اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اکثر صارف بالخصوص نوجوان موبائل ایپس کی بہتات اور ان کے توسط سے دستیاب انواع اقسام کے کانٹینٹ کے باعث اپنے قیمتی وقت کا بڑا حصہ حقیقی دنیا اور اپنی اصل ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرکے سماجی رابطوں کی ایپس میں موجود مصنوعی، غیر حقیقی اور تخیلاتی مفروضوں پر مبنی تصوراتی دنیا میں گم ہوکر نا صرف برباد کر بیٹھتے ہیں بلکہ اپنی ذہنی و جسمانی صحت کو بھی بربادی کی جانب لے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے آئے روز ایسی بہت سی ایپس بہت تیزی سے سامنے آتی رہتی ہیں جو کسی بھی طرح ہمارے سماجی مزاج سے ہم آہنگ نہیں ہیں لیکن ہمارا نوجوان طبقہ بلا روک ٹوک اور اندھا دھند سماجی رابطوں کی ایسے بہت سی ایپس کا اس طرح شکار ہورہے ہیں جیسے کسی نشہ آورشے سے لوگ متاثر اور برباد ہوجاتے ہیں ۔۔ گو کہ معاشرے کی اکائی ایک فرد ہی ہوتا ہے جبکہ فرد اور معاشرے کے درمیان اہم ترین کڑی خاندانی نظام کی صورت میں موجود ہوتی ہے لیکن دیکھنے میں آرہا ہے کہ سماجی رابطے کی ایپس اور پلیٹ فارمز نے صرف نوجوانوں اور بچوں کو ہی اپنی جانب نہیں کھینچا ہے بلکہ گھریلو خواتین اور پختہ عمر کے افراد بھی اپنے وقت کا بڑا حصہ موبائل فون کے ساتھ گزارنے لگے ہیں جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ایسے والدین اور بزرگ کم از کم اپنی اولاد اور چھوٹوں کو موبائل فون اور انٹرنیٹ کی دنیا میں غرق ہونے سے روکنے کا اخلاقی جواز ہی کھو بیٹھتے ہیں۔ انٹرنیٹ کیونکہ ایک عالمگیر نظام ہے تو اس لئے سماجی رابطوں کی موبائل ایپس پر دستیاب افراد اور مواد کی انواع و اقسام لامحدود ہیں اور والدین و اساتذہ کے لئے عملی طور پر یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ وہ اس بات پر نظر رکھ سکیں کے انکے بچوں کو انٹرنیٹ پر کس قسم کی صحبت میسر آرہی ہے اور وہاں پر موجود افراد اور مواد کس طرح ان کی شخصیت اور ذہنی صحت پر اثر انداز ہورہا ہے۔
بلاشبہ دنیا بھر میں یہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملکی قوانین بنانے میں اس بات کا پورا خیال رکھیں کہ مفاد عامہ کے خلاف کوئی بھی نظام اور مواد عام شہریوں کو منفی طور پر متاثر نہ کرسکے اور اس کے ساتھ ایسے سماج دشمن افراد کو بھی کسی طور انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کی موبائل ایپس استعمال کرکے انتشار پھیلانے اور جرائم کے فروغ کا سبب بننے سے روکا جائے۔ ساتھ ساتھ پاکستان جیسے ترقی پذیر اور نسبتاً کم خواندگی اور شعور والے ملک میں یہ بات بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ معاشرے کے باشعور طبقات بھی اپنا مثبت کردار ادا کریں اور اپنے ارد گرد، اپنے حلقہ اثر میں تواتر کے ساتھ نشستوں اور اظہاریوں کے ذریعے لوگوں میں اس شعور کو اجاگر کریں کہ کسی بھی کارآمد شے کی طرح سوشل میڈیا کے صرف مثبت استعمال کو فروغ دیا جائے اور اس کے ممکنہ مضر اور منفی اثرات سے بچ کر اپنے آپ اور اپنے خاندان و معاشرے کو محفوظ رکھا جائے۔
موبائل فون یا کمپیوٹر وغیرہ کے ذریعے سوشل میڈیا پر دستیاب اطلاعات اور مواد کس کس طرح انسانی ذہن پر اثر انداز ہوتا ہے، یہ دنیا بھر کے ماہرین نفسیات اور ذہنی امراض کے ڈاکٹروں کے لئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سماجی نیٹ ورکس استعمال کرنے کے مخصوص منفی اثرات پر سب سے زیادہ ریسرچ بھی انہی ممالک میں ہورہی ہے جہاں سے عام طور پر ان ایپس کا اجرا ہورہاہے۔ گو کہ کوشش رہی ہے کہ اس اظہاریے میں کسی خاص نیٹ ورک یا ایپ کا نام لے کر ذکر نہ کیا جائے لیکن برائے اطلاع یہ معلومات آپ کے سامنے رکھی جارہی ہیں کہ حال ہی میں امریکی سینیٹ میں انسٹاگرام نامی ایک سوشل میڈیا ایپ کے استعمال سے نوجوانوں میں ذہنی مسائل کے حوالے سے مذکورہ کمپنی کے ذمہ داران سے جرح کی گئی اور امریکی قانون سازوں نے فیس بک نیٹ ورک جو انسٹاگرام نامی ایپ کی ملکیت بھی رکھتا ہے، کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی کہ وہ اپنی پالیسیوں کو اس انداز سے ترتیب دے جس سے نوجوانوں بالخصوص ٹین ایجرز میں نفسیاتی مسائل پیدا نہ ہوں۔ یاد رہے انسٹا گرام ایک تصویری مواد پر مبنی ایپ ہے جس میں صارفین اپنی نجی زندگی سے لے کر دنیا کے کسی بھی موضوع پر تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کرتے ہیں اور کئی مرتبہ یہ تصاویر ماورائے  حقیقت حد تک ایسے مبالغے پر مبنی ہوتی ہیں جس میں کوئی بھی صارف اپنی زندگی میں موجود یا تصوراتی خوبصورتی کو اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ زیادہ تر دیکھنے والے احساس محرومی یا احساس کمتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کی اپنی حقیقی زندگی ان تصاویر کے مقابلے میں ان کو نہائت حقیر وکمتر دکھائی دیتی ہے۔
اگر عالمی طور پر اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ گزشتہ بیس برسوں کے دوران دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیزی سے معاشی ترقی کرنے والی کمپنیاں وہ ہی ہیں جو ٹیکنالوجی پر مبنی پراڈکٹس اور ان سے جڑی خدمات فراہم کررہی ہیں تو یہ سمجھنا مشکل نہیں رہے گا کہ انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کی ایپس چلانے والی کمپنیاں اور افراد ہی اس وقت دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سر فہرست نظر آتے ہیں کیونکہ ان کی ایپس اور سروسز دنیا بھر میں صارفین کے لئے انتہائی پر کشش ہیں اور ان کو اپنی جانب کچھ اسی انداز سے کھینچ رہی ہیں کہ جیسے منشیات کمزور قوت ارادی کے حامل افراد کو شکار کرتی ہیں۔ یہ کہنا ضروری ہے کہ اس اظہاریے کا مقصد کسی بھی طور سے سماجی رابطوں یا ٹیکنالوجی کی مخالفت برائے مخالفت ہرگز نہیں ہے بلکہ قارئین کی توجہ ان نازک مگر انتہائی فیصلہ کن امور کی جانب مبذول کرانا ہے کہ جن پر منطقی انداز سے غور کرکے وہ اپنے اہل خانہ اور اپنے ارد گرد موجود حلقۂ اثر میں دعوت فکر دے سکتے ہیں۔ سوچ کی ایسی دعوت جو بڑی تعداد میں لوگوں کو ان ممکنہ ناقابلِ تلافی نقصانات سے بروقت بچا سکتی ہے کہ جس کا شکار ہم میں سے کوئی بھی کسی بھی وقت ہوسکتا ہے خاص طور پر یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کے عوام کو گمراہ کرنے کے لئے پاکستان کے دشمنوں نے باقائدہ سوشل میڈیا کو میدان جنگ بنا کر بیانیے کی ایک جنگ مسلط کر رکھی ہے اور اس جنگ کو سمجھنے کے لئے اور اس کے نقصانات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے اس بات کی اہمیت اور بھی زیادہ ہوجاتی ہے کہ ہم فرد سے لے کر معاشرے تک ہر سطح پر آگاہی حاصل کرنے کے لئے جستجو کو جاری رکھیں، اپنے لئے، اپنے خاندان کے لئے، اپنے پیاروں کے لئے اور اپنے پیارے وطن پاکستان کے لئے۔ ||


مضمون نگار تجزیہ کار ہیں اور ایک ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ اینکر وابستہ ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 88مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP