قومی و بین الاقوامی ایشوز

سوشل میڈیا اور ہماری ذمہ داریاں

بلاشبہ زمانے کی چال اور ترقی کی رفتار سے لاتعلق رہنا ممکن نہیں ہے۔ گویا سوشل میڈیا کے پھیلنے سے اب اس سے کٹ کر زندگی گزارنا مشکل ہے تو ایسے میں کم از کم اس بات کا بندوبست کرلینا تو بہرحال لازم ہے کہ بحیثیت والدین اور اساتذہ ہمیں پوری طرح اس بات کی آگاہی ہونی چاہئے کہ سوشل میڈیا کس طرح چلتا ہے اور اس پر آنے والی معلومات اور مواد کی حقیقت اور سچائی کو کس طرح جانچا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جو بات اہم ترین ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی نوجوان نسل کی تربیت کرتے وقت ان کو غلط اور صحیح، سچ اور جھوٹ، جائز اور ناجائز کے درمیان فرق روا رکھنے کی سوجھ بوجھ کے ساتھ مثبت اور منفی رویوں کی پہچان بھی سکھانی ہوگی۔۔ پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے دیکھا جارہا ہے کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے سوشل میڈیا کا غیر معمولی استعمال ہورہا ہے اور نوجوان نسل بڑھ چڑھ کر سوشل میڈیا پر زیر گردش مواد کے قاری ہیں اور مختلف خیالوں کے بیانیے سے متاثر نظر آرہے ہیں۔۔۔جمہوری معاشرے میں سیاسی شعور رکھنا ایک عام اور جائز بات سمجھی جاتی ہے مگر شائداس حد تک کے مقاصد مثبت اور معتدل ہوں، یہ بات قابل غور ہے کہ کوئی بھی نیم خواندہ معاشرہ بآسانی انتہا پسند رویوں کا شکار ہوکر تعمیری سرگرمیوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے اور معاملات صبح شام سوشل میڈیا پر جھوٹ سچ کی خطرناک آمیزش کے باعث معاشرتی بگاڑ اور انتشار کی جانب جاسکتے ہیں۔۔۔
آج کل جس طرح سوشل میڈیا عملی طور پر ٹرولز یعنی سوشل میڈیا کے ایسے گمنام یا اپنی اصل شناخت چھپائے ہوئے صارف جن کا مقصد جھوٹ سچ کی آمیزش یا طنز و مزاح کی آڑ میں مبالغہ آرائی کر کے انتشار پھیلانا ہوتا ہے، کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے، وہ آپ کے سامنے ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے منظم گروہوں اور اکثر نادانی میں ان کے آلہ کار بن جانے والے جذباتی نوجوانوں کے ہاتھوں کسی کی عزت محفوظ ہے اور نا ہی شائد جان و مال۔۔۔ہم سب اس سنگین صورتحال سے آگاہ تو ہیں لیکن عملی طور پر اس معاملے پر کوئی خاص منظم سوچ یا اس گھمبیر معاملے سے نبرد آزما ہونے کے لئے کسی مربوط حکمت عملی کی ترتیب نظر نہیں آرہی۔۔اس حوالے سے شائد مناسب تجویز یہی ہوسکتی ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت اور قابل قبول استعمال کی بنیادی اخلاقیات کے حوالے سے معاشرے میں آگاہی کے لئے ایک مرحلہ وار مہم کی ضرورت ہے جس میں والدین اور اساتذہ کو سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی باریکیوں سے آگاہ کرنا ہوگا۔ تاکہ وہ اپنی اولاد اور شاگردوں کی تربیت میں اس اہم مگر بڑی حد تک نظرانداز معاملے پر مناسب توجہ دے سکیں۔۔۔یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اور متفرق سماجی گروہ یعنی اپنے نظریات کی ترویج کرنے والے متفرق منظم پلیٹ فارمز باقاعدہ طور پر اپنی تنخواہ دار سوشل میڈیا ٹیمیں رکھتے ہیں اور بدقسمتی سے ایسی ہی منظم سوشل میڈیا ٹیموں سے زیادہ تر اپنے نظریات کے فروغ اور دفاع کے نام پر طرح طرح کی جارحانہ سوشل میڈیا مہم  چلواتے رہتے ہیں۔۔۔اگر ذمہ دار اور معاملے کی سنگینی سے آگاہ والدین اور اساتذہ کو یہ سب معلوم ہوگا تو شائد وہ اس طرح اپنی اولاد اور طلبہ کو کسی بھی قسم کی غیر صحت مند مہم جوئی میں ایندھن کے طور پر استعمال ہونے سے روک سکیں گے۔۔۔میڈیا اور قلمکار احباب سے خصوصی گزارش ہے کہ وہ اپنی سطح پر اس حوالے سے خصوصی آگاہی  ضرور عام کریں اور معاشرے کے لئے عنقریب خدانخواستہ ناسور بن جانے کا پورا امکان اور خدشہ رکھنے والے اس معاملے سے عوامی آگاہی مہم میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں۔۔
اس حوالے سے والدین کی ذمہ داری اولین اور اہم ترین ہے، اپنی اولاد کو کس عمر میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون تک رسائی دینی چاہئے کا فیصلہ، رسائی سے پہلے اور رسائی کے دوران ان کی مناسب بنیادی تربیت اور نگرانی بھی نہایت ضروری ہے، دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی بڑی تعداد بنا کسی اعتدال اور رہنمائی کے اپنے قیمتی وقت کا ایک بہت بڑا حصہ انٹرنیٹ/ اسمارٹ فون/سوشل میڈیا پر صرف کررہے ہیں جس سے نہ صرف ان کی ذہنی نشوونما اور اخلاق پر گہرے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں بلکہ ان کی جسمانی صحت بھی متاثر ہورہی ہے، سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ نوجوان جو ہمارا کل اثاثہ اور سرمایہ ہیں کیا ہم بحیثیت والدین اور اساتذہ ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کا مناسب خیال رکھ رہے ہیں یا نہیں۔۔۔عین ممکن ہے کہ بعض معزز قارئین کو اس اظہاریہ میں راقم کا مؤقف کچھ سخت گیری پر مبنی معلوم ہورہا ہو اور شائد اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آپ کے گھرانے میں سوشل میڈیا کے مزکورہ بالا پہلوکواتنی تشویش سے نہ دیکھا جاتا ہو مگر گزارش ہے کہ یہ تحریر راقم کے عمومی مشاہدے اور تجربات پر مبنی ہے اور وطن عزیز کے والدین اور اساتذہ کی بڑی اکثریت تاحال سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی پہلوؤں سے پوری طرح آشنا نہیں ہیں۔ اس لئے اس تحریر کو یاددہانی سمجھا جائے، ہماری نئی نسل جس کے ساتھ پاکستان کا مستقبل جڑا ہے اس کو ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند رکھنا ہمار اہم ترین فرض ہے، یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ ہم سے پہلے کی نسل یعنی آج کے نوجوانوں کے والدین کے اساتذہ اور والدین نے بہر حال اپنے وقت کی نوجوان نسل کی بہتر اخلاقی تربیت کا فرض نبھایا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آج کے والدین اور اساتذہ اپنے نوجوانوں کو کتنا ذمہ دار اور مثبت انسان بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔۔
ترقی یافتہ معاشروں میں کیونکہ تعلیم اور آگاہی کا معیار بہتر ہے اس لئے عمومی طور پر وہاں کے والدین اور اساتذہ سوشل میڈیا کے استعمال اور نوجوانوں پر اسکے ممکنہ اثرات کے بارے میں زیادہ بہتر طور پر آگاہ ہیں، دنیا بھر میں میڈیا پر دستیاب مواد کے متوقع ناظرین یا قارئین کے لئے عمر کی درجہ بندی کا نظام موجود ہے یعنی کسی بھی ٹی وی پروگرام، فلم، کتاب، یا انٹرنیٹ اورسوشل میڈیا ایپ کو دیکھنے یا استعمال کرنے کے لئے کم از کم عمر کی حد ضرور بیان کی جاتی ہے جس کو ایج ریٹنگ کہا جاتا ہے، ایج ریٹنگ کا یہ نظام ایک قانونی اور اخلاقی پابندی کا کام کرتا ہے، پاکستان میں تاحال یہ نظام مؤثر طور پر رائج اور نافذ نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے کم عمر بچے اور نوجوان بھی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بے دریغ اور بلا روک ٹوک استعمال کررہے ہیں، سوچنے والی اہم بات یہ ہے کہ اگر ترقی یافتہ اور مغربی معاشرے میں بھی کم عمری میں کچے ذہنوں کا تحفظ لازمی سمجھا جارہا ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں فوری طور پر اس حوالے سے ضروری قانون سازی کی جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ ہم ترقی یافتہ معاشروں کے ہمقدم بن کر تیز رفتاری سے دنیا،جوکہ اب گلوبل ویلیج بن چکی ہے ،کے ہم رکاب ہوکر تعلیم اور تحقیق کی منازل کو طے کریں اور اپنے ملک کو عظیم تر بنائیں۔۔


مضمون نگار  ذرائع ابلاغ و تعلقات عامہ کے پیشہ ور ماھر، محقق اورتجزیہ کار ہونے کے ساتھ نجی نیوز ٹی وی چینل پر حالات حاضرہ کے پروگرام کے اینکر پرسن بھی ہیں
۔  [email protected]

یہ تحریر 150مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP