صحت

سموگ

سموگ بنیادی طور پر ایسی فضائی آلودگی کو کہا جاتا ہے جو انسانی آنکھ کی حد نظر کو متاثر کرے ۔ سموگ کو زمینی اوزون بھی کہا جاتا ہے ۔یہ ایک ایسی بھاری اور سرمئی دھند کی تہہ کی مانند ہوتا ہے جو ہوا میں جم سا جاتا ہے۔ سموگ میں موجود دھوئیں اور دھند کے اس مرکب یا آمیزے میں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، میتھین جیسے مختلف زہریلے کیمیائی مادے بھی شامل ہوتے ہیں اور پھر فضا میں موجود ہوائی آلودگی اور بخارات کا سورج کی روشنی میں دھند کے ساتھ ملنا سموگ کی وجہ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ بارشوں میں کمی، فضلوں کو جلائے جانے، کارخانوں اورگاڑیوں کے دھوئیں اور درختوں کا بے تحاشا کاٹے جانا اور قدرتی ماحول میں بگاڑ پیدا کرنا سموگ کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔
 سب سے پہلے ہمیں دھند اور سموگ میں فرق معلوم ہونا چاہئے کیونکہ سموگ کی موجودگی اور اس کے مضر اثرات کے بارے میں جاننے کے بعد ہی ہم اپنے آپ کو اس سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ دھند اور سموگ میں بظاہر کوئی امتیاز(فرق) نہیں ہوتا لیکن دھند اور سموگ دو مختلف نوعیت کی صورتیں ہیں۔ جب ہوا میں موجود بخارات کم درجہ حرارت کی وجہ سے کثیف ہو جاتے ہیں تو یہ ماحول میں سفیدی مائل  ایک موٹی اور دبیز تہہ بنا دیتے ہیں جسے دھند کہا جاتا ہے جبکہ اگر اسی دھند میں دھواں اور مختلف زہریلے کیمیائی مادے شامل ہو جائیں تو یہ دھند مزید گہری اور کثیف ہو جاتی ہے جسے سموگ کہتے ہیں۔ سموگ میں موجود فضائی آلودگی انسانی صحت کے لئے بے حد نقصان دہ ہے کیونکہ اس میں بہت سارے خطرناک کیمیائی مادے اور مضر صحت اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دھوئیں کی وجہ سے گہرے اور پیلے رنگ کی تہہ آجاتی ہے ۔ سورج کے نکلنے کے ساتھ ساتھ نارمل دھند آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جاتی ہے، جبکہ سموگ ماحول میں دن بھر ویسے ہی موجود رہتا ہے اور اس ماحول میں سانس لینے سے ایک گھٹن اور آلودگی کا احساس ہوتا ہے جو ہماری صحت کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ افراد فضائی آلودگی کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ دراصل سموگ میں بنیادی طور پر ایک پرٹیکولیٹ مادہ موجود ہوتا ہے جو کہ پرٹیکولیٹ مادہ2.5 کہلاتا ہے اور یہ پی ایم 2.5 ایک انسانی بال سے تقریباً چار گنا باریک ہوتا ہے۔ جو انسانی پھیپھڑوں میں بآسانی داخل ہو کر پھیپھڑوں کی مختلف بیماریوں کے ساتھ ساتھ پھیپھڑوں کے کینسر تک کا باعث بن سکتا ہے۔
 سموگ کو بنانے میں دھواں، درجہ حرارت اور بادل سب حصہ دار ہوتے ہیں اور ان میں ایک ایسا کیمیائی تعامل پیدا ہوتا ہے جس کے لئے سال کے درمیان کے مہینے بہت زیادہ سازگار ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہوا کی رفتار بھی آہستہ ہو جاتی ہے اور پھر درجہ حرارت کی وجہ سے دھواں اور دھند مل کر سموگ بناتے ہیں۔ ہوا کی کم رفتار اس سموگ کو حرکت دینے میں رکاوٹ ثابت ہوتی ہے اور بادلوں کی موجودگی کی وجہ سے ایک دبائو سا بن جاتا ہے جو کہ اس دھند کو یا دھوئیں کو اوپر کی طرف جانے سے روکتاہے اور پھر یہ سموگ ساکن حالت میں اس جگہ کو گھیر لیتی ہے اور فضائی آلودگی کا باعث بنتی ہے ۔
 اگر کسی فرد کو سموگ کی وجہ سے انفیکشن شروع ہو جائے تو سب سے پہلے اس انسان کے گلے میں خراش یا زخم ہوجانے کے ساتھ ساتھ ناک اور آنکھوں میں بھی شدید چبھن یا جلن ہونا شروع ہو جاتی ہے اور جو افراد پہلے سے ہی سانس کی مختلف بیماریوں مثلاً دمہ، پھیپھڑوںکے کینسر اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں، ان کے لئے سموگ زہر قاتل ثابت ہوسکتا ہے اور ایسے افراد کے لئے مزید بیماریوں کا باعث بھی  بن سکتا ہے۔
 اگر ہم سموگ سے آلودہ کسی علاقے میں موجود ہیں تو ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ سموگ کے دوران چہرے کو مکمل طور پر ڈھانپ کر رکھیں اور گھر کے دروازے اور کھڑکیوں کو بند کر کے رکھیں۔ فضا کو صاف کرنے والے مختلف فلٹرز اور ایسے جدید آلات دستیاب ہیں جن کو استعمال کر کے ہم اپنے گھروں، دفاتراور گاڑ یوں کی فضا کو صاف رکھ سکتے ہیں۔ مگر سموگ کے دوران یا سموگ والے علاقوں میں جانے کے لئے عام سرجیکل سبز رنگ والے ماسک استعمال نہیں کرنے چاہئیں کیونکہ سموگ میں موجود پی ایم2.5 کے ذرات اس سرجیکل والے عام ماسک کے سوراخوں میں سے بھی گزر کر پھیپھڑوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا سموگ کے نقصان دہ اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے ہمیں3 ایم، 95 این یا99 این ماسک استعمال کرنے چاہئیں اور سموگ میں موجود اوزون سے محفوظ رہنے کے لئے آنکھوں پر بھی حفاظتی چشمے استعمال کرنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ سموگ والے علاقے میں زیادہ محنت و مشقت ، بھاگنے ، دوڑنے، ورزش اور کھیل کود سے اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ سموگ کی وجہ سے ہوا کا پریشر زمین پر کم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے سانس پھولنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر سانس لینے میں مشکل پیش آ سکتی ہے اور اگر سانس اکھڑ جائے تو سانس بحال ہونے میں دقت ہوتی ہے۔ خاص طور پر ایسے افراد جو پہلے سے ہی سانس کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوں وہ اس سے زیادہ جلدی متاثر ہو سکتے ہیں۔
 سموگ انسانی صحت کے ساتھ ساتھ درختوں اور پودوں پر بھی نقصان دہ اثرات مرتب کرتا ہے اور اس کی وجہ سے درختوں کے مسامات بند ہو جاتے ہیںاور اس طرح ماحول میں آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے جو بلاواسطہ انسان کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
سموگ ایک ایسی میڈیکل ایمر جنسی کا نام ہے جو ہم سب کی صحت کے لئے بے حد نقصان دہ ہے مگر اس سے ہم خود اپنا کردار اداکر کے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اس کے لئے گیس کے مختلف آلات کو استعمال کرنے کے بجائے بجلی کے آلات کا استعمال کرنا چاہئے ، خراب گاڑیاں یا ایسی مشینیں جن سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہو، ان کے استعمال کو ترک کر دیں اور گاڑیوں کے استعمال کو کم سے کم کر کے پیدل چلنے کو ترجیح دیں۔ اپنے علاقے میں موجود پودوں اور درختوں کو کاٹنے سے اجتناب کرنا چاہئے اور درختوںمیں اضافہ کیا جائے ۔اس کے علاوہ گاڑی چلاتے وقت گاڑیوں کی رفتار دھیمی رکھیں اور فوگ لائٹس کا استعمال کریں ۔وہ لوگ جو دمے یا سانس کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں انہیں زیادہ رش یا ٹریفک جام والی جگہوں پر جانے سے اجتناب کرنا چاہئے۔


مضمون نگار بلاگر اور کالم نگار  ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 291مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP