متفرقات

سمارٹ لاک ڈائون میں زندگی کے معمولات

ڈراموں یا فلموں میں ظالم باپ کو بیٹی سے کہتے سنا تھا کہ اب اگر گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھا تو ٹانگیں توڑ دوں گا۔ ہمیں ظالم کورونا نے یہی دھمکی دی۔ سچ جانئے کہ دو مہینے سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ واقعتاً اپنی گلی میں بھی قدم نہیں رکھا۔



پوری دنیا کے لئے یہ ایک نیا تجربہ ہے۔ اکیسویں صدی ۔ سائنس بھی بہت آگے۔ علاج معالجے میں بڑی تحقیق، طرح طرح کی دوائیں، ویکسین، لیکن  کروناCOVID-19نے تو دنیا ہی بدل دی۔ سب سے بہتر علاج ہم جیسے عمر رسیدہ۔فرسودہ۔ بوسیدہ انسانوں کے لئے تجویز کیا گیا۔ گھر میں رہیں۔ محفوظ رہیں۔ گھر کی اہمیت اور وقعت ذہن نشین ہوئی۔ ورنہ تو گھر کی مرغی دال برابر والا حساب تھا۔ گھر اتنا بڑا نہیں ہے۔ صرف 240مربع گز لیکن ان ساٹھ دنوں میں اس کی وسعتوں اور پہنائیوں کا احاطہ ہی نہیں ہوپایا۔ ہر دن کوئی نیا گوشہ منکشف ہوجاتا ہے۔
تخلیقی صلاحیتیں کونپلوں کی طرح پھوٹتی ہیں۔
13مارچ کو چند سطری نظم وارد ہوئی ہے۔
عجیب درد ہے جس کی دوا ہے تنہائی
بقائے شہر ہے اب شہر کے اجڑنے میں
علاج اس کا بشر سے بشر کی دوری ہے
یہ امتحاں ہے بنی نوع انساں کا
ہر ایک موت ہی دیتی ہے دعوت تحقیق
کہیں تو حضرت انساں سے ہوگئی ہے بھول
 نئی نئی اصطلاحات ایجاد ہورہی ہیں۔ مسعود اشعر اسے گھر بندی کہہ رہے ہیں۔ میں نے اسے 'خود خانہ محصوری' کہا ہے۔ یہ رسم خانہ محصوری اپنے عظیم دوست ملک چین سے چلی،آسٹریلیا،ایشیا، افریقہ، یورپ اور شمالی امریکہ کے براعظموں سے ہوتی ہوئی کینیڈا تک پہنچی۔ سب ملکوں میں مدبرانہ احتیاط یہی رہی کہ کسی اشد ضرورت کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلا جائے۔ خاص طور پر 50برس سے زیادہ عمر والے اور 12سال سے کم عمر کے بچے۔ عالمی ادارۂ صحت کی سب سے پہلی خواہش یہ تھی کہ انسانوںکی آئندہ نسل کو اس مہلک اور عالمگیر وبا سے محفوظ رکھنے کو ترجیح دی جائے اسی لئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں سب سے پہلے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کو غیر معینہ عرصے کے لئے بند کیا گیا۔ حکمت یہی تھی کہ 50سال کی عمر والوں نے تو دنیا دیکھ لی ہے، زندگی بسر کرلی ہے، درسگاہوں میں موجود نئی نسلوںکے تو ابھی پڑھنے، کھیلنے اور کھانے کے دن ہیں، انہیں اس وبا کے ہاتھوں بے وقت موت سے بچایا جائے۔


عجیب درد ہے جس کی دوا ہے تنہائی
بقائے شہر ہے اب شہر کے اجڑنے میں
علاج اس کا بشر سے بشر کی دوری ہے
یہ امتحاں ہے بنی نوع انساں کا
ہر ایک موت ہی دیتی ہے دعوت تحقیق
کہیں تو حضرت انساں سے ہوگئی ہے بھول


میرے اور میرے ہم عصر انسانوں کے لئے یہ بالکل ہی انوکھی اور نئی صورتِ حال ہے۔ دوسری جنگ عظیم ،اس سے پہلے اسپینش فلو، اور دوسری وبائوں کے زمانے گزر چکے۔ جب کروڑوں انسان ان متعدی وبائوں کا لقمہ بن گئے۔ ہم نے تو ایسی صدی میں آنکھ کھولی جب ہر روز نئی ایجادیں ہورہی تھیں۔ زندگی آسان سے آسان تر اور خود کاری، تیز رفتاری بڑھتی جارہی تھی۔سمارٹ فون جدید ترین تحفہ ہے انسانیت کے لئے۔ سمارٹ فون کے زمانے میں سمارٹ لاک آئوٹ۔ بھاگتی دوڑتی زندگی کو اچانک بریکیں لگ گئیں۔ کرونا کے سامنے کوئی امتیاز تھا نہ تخصیص۔ غریب تر قومیں۔ امیر ترین قومیں۔ کسی کو نہ چھوڑا۔
ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں 
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں
میں پہلے دن سے ہی غور کررہا ہوں۔ ایک عجب پیچ و تاب میں ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے کڑے امتحان کے لئے 2020کو کیوں منتخب کیا ہے۔ اس کا آغاز سب سے تیزی سے ترقی کرتے ملک چین سے کیوں ہوا ہے۔ سب سے زیادہ ترقی کرنے والے یورپی ممالک اور اپنے آپ کو ساری قوموں سے بالا تر خیال کرنے والی سپر طاقت امریکہ میں ہی کرونا کے باعث اموات بے تحاشا کیوں ہوئی ہیں۔یقینا اور درد مند بھی ان خطوط پر سوچ رہے ہوں گے۔ میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ جب عالمی سائنسدان اور محققین مشیت ایزدی کے کسی قدر نزدیک پہنچ جائیں گے تو اس ہلاکت خیز وبا کا علاج بھی ممکن ہوجائے گا۔
اس وقت منظر نامہ کیا ہے۔ پوری دنیا کے سب ہی ممالک وینٹی لیٹرز پر ہیں۔ اسپتالوں کے بستر کم پڑ رہے ہیں۔ عبادت گاہیں بند ہیں۔ مسلم امّہ کے لئے یہ سب سے المناک پہلو ہے کہ حرمین شریفین کے دروازے بند ہیں۔ رمضان میں تو دنیا بھر سے کلمۂ طیبہ کے ماننے والے عمرے کے لئے، اعتکاف کے لئے مکّے مدینے جاتے تھے۔ خانہ کعبہ میں 24گھنٹے طواف جاری رہتا تھا۔اب اللہ کے اس سب سے پہلے گھر کاخالی خالی صحن دل کو تڑپادیتا ہے۔ بڑے بڑے شہروں کے شاپنگ مال، مارکیٹیں، چھوٹی بڑی دکانیں، کارخانے۔ سب پر تالے پڑے ہیں۔ پسماندہ ملکوں کا بھی یہی حال ہے اور ترقی یافتہ کا بھی۔31دسمبر2019 سے شروع ہونے والی یہ تنہائی اب مئی کے تیسرے ہفتے تک جاری ہے۔ 
دنیا بھر میں جو احتجاجی تحریکیں چل رہی تھیں۔ وہ رُک گئی ہیں۔ سیاسی جلسے جلوس بھی ممنوع ہیں۔ مذہبی اجتماع بھی روک دیئے گئے ہیں۔ہمارے کشمیری بھائی تو بھارتی حکمرانوں کے ظلم و استبداد سے پہلے سے ہی لاک ڈائون میں تھے۔ اب ان پر مزید قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ کرونا کے حملے بھی جاری ہیں۔ بھارتی فوجوں کی یلغار بھی۔دنیا پہلے ہی مظلوم کشمیریوں کی فریاد، حقوق انسانی کی پامالی پر کان نہیں دھر رہی تھی۔ اب اس مہلک وبا کے بعد تو ساری قوموں کو اپنی اپنی پڑ گئی۔ پاکستان اب بھی ان کے لئے آواز بلند کررہا ہے۔ کشمیر میں بھارتی فوج کی خونریزی اب بھی جاری ہے۔
لاک ڈائون نے زندگی کے معمولات بالکل بدل دیئے ہیں۔ذاتی طور پر تو میں کرونا کا ممنون و شکر گزار ہوں کہ مطالعے کے لئے بے پایاں وقت مل گیا ہے۔ ہم کراچی، لاہور یا دوسرے بڑے شہروں میں رہنے والوں کے جو تین سے چار گھنٹے سڑکوں پر ضائع ہوتے تھے، وہ بھی ہمیں میسر آنے لگے اور وہ بھی کتابوں کی ورق گردانی میں گزر رہے ہیں۔کتابوں کے مطالعے کے ساتھ نئی کتابیں مرتب کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اپنی یادداشتیں نامکمل تھیں۔ ان میں اضافے کے لمحات میسر آرہے ہیں۔ کچھ اور کتابیں درمیان میں تھیں۔ ان کی نوک پلک درست کررہا ہوں۔ 
رمضان نے کرونا کی پیدا کردہ بے یقینی کو چند روزکے لئے ختم کرنے میں مدد دی ہے۔ اب سحری افطار کا اہتمام، قرآن پاک کی تلاوت سے وقت گزاری سے زندگی میں کچھ ترتیب آگئی ہے۔ ایک عجب سا احساس ہوتا ہے کہ رات سوتے وقت گھر کے دروازے بند کرنے، مقفل کرنے، پردے گرانے اور پھر چند گھنٹوںبعد اس عمل کے برعکس عمل۔ دروازے کھولنے، پردے اٹھانے، زندگی یہی رہ گئی ہے۔ صبح سویرے بیگم کے لگائے پودوںکو پانی دینے میں بھی کچھ وقت صَرف ہوجاتا ہے۔
میری طرح سب بزرگوں کو اپنے بیٹوں بیٹیوں،پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں سے ملنے کا وقت فراوانی سے مل رہا ہے۔ نئی نسل کا زیادہ وقت تو سمارٹ فون، آئی پیڈ، ٹیبلٹ پر گزرتا ہے۔ انٹرنیٹ کا استعمال غیر معمولی ہے۔ جہاں بہت سے کاروبار بند ہوگئے ہیں وہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے ملحقہ کاروبار اپنے عروج پر ہیں۔ پوری دُنیا کی طرح پاکستان میں بھی وائی فائی کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنیاں خوب پیسے کمارہی ہیں۔
نوجوان ، نو عمر اور بچے جہاں نیٹ کی رنگین، پراسرار تخیلاتی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں، وہ مستقبل کی طرف سے قلانچیں بھر رہے ہوتے ہیں۔ ہم معمر لوگ اپنے ماضی کے ماہ و سال میں گم ہوجاتے ہیں۔ الماریوں، درازوں میں بھری فائلوں، لفافوں، البموں میں اپنا بچپن، اپنی جوانی ڈھونڈتے ہیں۔ بعض گوشے جو بالکل فراموش ہوچکے ہوتے ہیں ۔وہ اچانک سامنے آتے ہیں تو جیسے جوانی دوبارہ مل جاتی ہے۔
حالانکہ شاعر تو کہہ چکے ہیں:
جاکے آئے نہ کبھی ایسی جوانی دیکھی
آکے جائے نہ کبھی ایسا بڑھاپا دیکھا
محفلیں لد گئی ہیں۔ انجمن آرائی رُک گئی ہے۔ مگر فیس بک پر محفلیں جم رہی ہیں۔ کوئی پرانی تصویر ، بھولی یاد، یا تازہ نظم فیس بک پر پوسٹ کرتے ہیں تو اچانک میلہ سجنے لگتا ہے۔ اپنے شہر اپنے ملک سے ہی نہیں۔ دنیا بھر سے جاننے والے اپنے اپنے تبصرے اور پسندیں لے کر آجاتے ہیں۔
احتیاطی تدابیر کے تحت گھریلو ملازمین۔ کراچی کی اصطلاح میںماسیوں کو تنخواہ سمیت یا بلا تنخواہ چھٹی دی جاچکی ہے۔اس لئے گھر کے کام کاج میں شوہروں کی شرکت ناگزیر ہوگئی ہے۔ بعض شوہروں کو تو گھر میں جھاڑو پوچا بھی کرنا پڑرہا ہے۔
کرونا اور لاک ڈائون نے تمام ملکوں کی اقتصادیات کا دیوالیہ نکال دیا ہے۔ بڑے بڑے سب کاروبار بند ہیں۔ درآمدات برآمدات معطل ہیں۔ سب سے مہنگی چیز پیٹرول کی کھپت بھی کم ہوگئی ہے۔ اس کی قیمتیں بھی بہت کم ہوگئی ہیں۔ معیشت کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ صنعت و تجارت پر اس بحران کے اثرات کم از کم چار پانچ سال رہیں گے۔ صنعتی طور پر بہت زیادہ ترقی یافتہ مملکتوں کی حالت قابل رحم ہے۔ ان کے ہاں تو خیر سوشل سکیورٹی کا سسٹم ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر ہیں۔ سونے کے ذخائر ہیں۔ اس لئے وہ ان نقصانات کا مقابلہ کرلیں گے مگر پسماندہ ممالک جو پہلے ہی قرضوں تلے دبے ہوئے ہیں، ان کے لئے اس بحران سے سرخرو ہونا بہت مشکل ہوگا۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ امیر ممالک اور عالمی مالیاتی ادارے مقروض ملکوں کو قرض کی ادائیگی میںمہلت اور رعایتیں دے رہے ہیں۔ آئی ایم ایف قرض اتارنے کے لئے مزید اقساط جاری کررہا ہے۔ فی الوقت تو سارے ملکوں کو طبی ساز و سامان کی اشد ضرورت  ہے۔ ایسے میں پاکستان کے عظیم دوست چین نے اس سامان کی فراہمی مستقل جاری رکھی اور صرف پاکستان کے ایک ایئرپورٹ پر نہیں بلکہ مختلف صوبائی دارُالحکومتوں کے ایئرپورٹوں پر سامان پہنچایا ہے۔
اس متعدی وبا نے بنی نوع انسان کو ایک سبق دیا ہے کہ اصل چیز انسانی جان ہے اور اس کی صحت۔ انسان کے کاروبار، تحقیق، تعلیم اور دیگر جدوجہد کا مرکز انسانی جان ہونا چاہئے۔ہماری اسلامی تعلیمات کے مطابق بھی انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایاہے۔ انسان اس کرۂ ارض پر اللہ تعالیٰ کا نائب ہے۔ تو سارے کاروباروں، قوانین اور تحقیقی کوششوں کا مرکز بھی انسان کو ہونا چاہئے۔ جانوروں سے شروع ہونے والے متعدی امراض پر تحقیق جاری تھی اور سائنسدان اس موجودہ وبا کے امکان کے نزدیک پہنچنے والے تھے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے 2009میں شروع ہونے والے پروگرام Predict کی بساط ستمبر2019میں لپیٹ دی اس کے لئے فنڈز روک دیئے۔ تین ماہ بعد ہی اس وبا کا چین کے شہر ووہان میں آغاز ہوگیا۔ گزشتہ ایک دہائی سے ماہرین صحت One Health۔'ایک علاج' کے فلسفے پر زور دے رہے ہیں۔ جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ صرف انسان کو لاحق بیماریوں پر ہی توجہ نہ دی جائے۔ انسان جس ماحول میں رہتا ہے اس کی صحت کا بھی خیال اسی طرح رکھا جائے۔ درختوں اور نباتات کو صحت مند بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے اور انسان کے آس پاس جو حیوانات ہیں ان پر بھی نظر رکھی جائے کہ وہ تو کسی بیماری میں مبتلا نہیں ہیں۔ ان تینوں کی بیک وقت دیکھ بھال ہوگی تو حضرت انسان بھی صحت مند رہیں گے۔
کرونا نے یہ احساس بھی دلادیا ہے کہ ملکوں کی باگ ڈور سنجیدہ اور صاحب فکر قیادتوں کے ہاتھ میں ہونی چاہئے۔ لا اُبالی حکمران قوموں کی صحت اور معیشت دونوں خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ اسی طرح جو لیڈر فیصلے میں تاخیر اور تذبذب کا شکار ہوتے ہیں وہ بھی اپنے عوام کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ کرونا کے بعد کس حکومت نے تاخیر کی، کس حکومت نے بروقت فیصلے کئے،محققین اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ خاص طور پر عالمی ادارۂ صحت اس کی روزانہ مانیٹرنگ کررہا ہے۔تازہ ترین اعدادو شُمار پر مبنی تفصیلی رپورٹ بھی روزانہ جاری کرتا ہے۔ 12مئی کو اس نے 113ویں رپورٹ جاری کی تھی۔ ان رپورٹوں میں تازہ ترین صورت حال بھی بتائی جاتی ہے اور چارٹ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مریض بڑھنے، اموات اور صحت یابی کی کیا شرح رہی ہے۔ ان رپورٹوں سے یہ اندازہ لگتا تھا کہ جن ملکوں نے بروقت لاک ڈائون کیا، جن علاقوں میں متاثرین پائے گئے، وہاںسختی کی گئی ، تو وبا کے پھیلائو کو روکا بھی جاسکا۔ لیکن جہاں غفلت کی گئی ۔ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل نہ کیا گیا۔ وہاں اموات کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی۔ اس کے شکار زیادہ تر عمر رسیدہ افراد ہوئے، جن کی قوت مدافعت کم ہوچکی ہوتی ہے، جنہیں دوسری بیماریاں بھی لاحق ہوتی ہیں،وہ زندگی کی جنگ جلدی ہار جاتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں زیادہ اموات نرسنگ ہومز میں ہوئی ہیں جنہیں اولڈ ہومز بھی کہا جاتا ہے۔
اب عالمی سطح پر صحت کو بنیادی اور مرکزی اہمیت حاصل ہوگی۔ یورپ امریکہ کے صحت کے بہت اچھے نظام بھی اس وبا کا مقابلہ نہ کرسکے۔ وہاں جو خامیاں پائی گئی ہیں انہیں بھی دور کیا جارہا ہے۔ اس وبا نے سب سے زیادہ متاثر جس صنعت کو کیا ہے وہ سیاحت، سفر، میزبانی کی صنعت ہے۔ کئی بین الاقوامی  ایئر لائنیں دیوالیہ ہوگئی ہیں۔ ملازمین بے روزگار ہوگئے ہیں۔ سفر بالکل رُک گیا ہے۔ زیادہ تر پروازیں مختلف ملکوں میں پھنسے اپنے شہریوں کو لارہی ہیں۔ ہوٹل بند ہیں۔ کئی ملکوں میں، ہوٹلوں میں آئسولیشن سینٹر اور قرنطینہ کے مراکز کھول دیئے گئے ہیں۔ سفر اور میزبانی کی صنعت بحال ہونے اور اس سے وابستہ اعلیٰ و ادنیٰ ملازمین کو دوبارہ بر سر روزگار ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
2020 کا سال جہاں اپنے دامن میں بحران، مشکلات اور دیوالئے لے کر آرہا ہے، وہاں یہ بنی نوع انسان کے لئے ایک فیصلہ کن موڑ بھی ثابت ہو گا۔ جہاںجنوبی کوریا، امریکہ، چین، یورپ میں سائنسدان، ڈاکٹرزاور ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے ہیںاور اس خطرناک وبا کی اکسیر تلاش کرنے میںمصروف ہیں، وہاں یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ،جانوروں کی تندرستی کے لئے کیا کیا اقدامات کئے جائیں۔ اب جینے کے انداز بدل جائیں گے بہت سے کاروبار ہمیشہ کے لئے بند ہوجائیں گے۔ بہت سے کاروبار اور روزگار کے نئے آفاق دریافت ہوں گے۔ اب وہی قومیں آگے بڑھ سکیں گی جو ماحول پر مسلسل تحقیق کریں گی۔ اپنے شہریوں کو نظم و ضبط میں رکھ سکیں گی۔ اب حکومت کے اختیارات میں اضافہ ہوگا۔ اتھارٹی کا کلچر زیادہ فروغ پائے گا۔ غیر ضروری شہری آزادیاں ختم ہوجائیں گی۔
بعض ماہرین یہ خیال بھی ظاہر کررہے ہیں کہ حکمرانی کے انداز بدل جائیں گے، نئی قیادتیں سامنے آئیں گی۔ سب سے زیادہ گزند جمہوریت کو پہنچے گی۔
میں نے گھر بیٹھے بیٹھے یہ جائزہ لینے کی کوشش کی تھی کہ گھر محصوری اور اس بحران کے کیا کیا فائدے ہیں، کیا کیا نقصانات ہیں۔ ان سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ معیار زندگی اور انداز زندگی کہاں کہاں تبدیل ہوں گے۔ فائدے کچھ اس طرح نظر آئے۔1۔ پیٹرول ڈیزل کے کم استعمال سے فضا صاف ہوگئی۔2۔ شہروں میں آلودگی کم ہوئی۔3۔ لوگوں کے آپس میں کم ملنے جلنے سے جھگڑے کم ہوئے۔ 4۔جرائم کی رفتار گھٹ گئی۔5۔ٹریفک حادثات نہ ہونے کے برابر۔6۔ انسانوں کو وقت فراواں ملا۔7۔کرنسی کی گردش کم ہوئی۔توانائی کی بچت۔8۔انٹرنیٹ کے زیادہ استعمال سے نئے تحقیقی آفاق دریافت ہوئے۔ 9۔انفارمیشن ٹیکنالوجی میں نئی جہات میسر آئیں۔10۔ ماں باپ کو بچوں کی تربیت کا زیادہ موقع ملا۔ بچوں کے مزاج جاننے میں آسانی ہوئی۔11۔ آن لائن تدریس۔ تربیت۔12۔ آن لائن بینکنگ میں اضافہ۔13۔ آن لائن تفریح اور گیم۔14۔ مطالعہ ذہانت میں اضافہ۔ کتابوں سے رجوع۔15۔ دعائیں۔ وظائف۔16۔ قرآن پاک کی تلاوت۔17۔ اسپتالوں، ڈاکٹروں کی استعداد زیادہ ہوئی اور اسے جِلا ملی۔18۔ صلاحیت اور میرٹ کی قدر ۔19۔ ادب اور شاعری کو فروغ۔20۔ فضول تقریروں اور گپ شپ۔ بحثوں سے نجات۔21۔ دفتری سازشیں کم۔22۔ مافیائوں کی سرگرمیاں محدود۔23۔ سخاوت۔ عطیات۔ دریا دلی میں اضافہ۔24۔ گھریلو ملازموں ، ملازمائوں کے بغیر متوسط گھرانوںمیں بیگمات کو کام کرنے کی عادت۔25۔ تازہ سبزیوں اور گھر میں پکے کھانوں کا رجحان۔26۔ نئی زبانیں سیکھنے کا رجحان۔27۔ منفی سوچ میں کافی حد تک کمی۔28۔ ملکوں کے تعلقات میںمثبت بنیادیں۔
اب آئیے نقصانات کی طرف۔1۔ بے روزگاری میں ہوش ربا اضافہ۔2۔ روزانہ اجرت والوںکی آمدنی بند۔3۔برآمدات میں کمی۔ زر مبادلہ کی ترسیل کم۔4۔انٹرنیٹ میں بے مقصد گیم پر توجہ۔5۔ پڑھائی کا فقدان۔ تدریس میں خلل۔ آن لائن کا تجربہ اور تربیت نہیں تھی۔6۔تربیت میںوقفہ۔7۔پارکس ۔  سیر اور ورزش میں ناغہ۔ 8۔ پالتو جانوروں کی خوراک ملنے میں ناکامی۔9۔ کھانے پینے پر زیادہ زور۔10۔ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا رجحان۔11۔ گھریلو ملازمین بے روزگار۔12۔ سوشل میڈیا پر منفی خبریں۔13۔ بچوںپر ماں باپ کا غیر ضروری دبائو۔14۔خاتون خانہ پر گھریلو کام کا بوجھ۔15۔ ملازمت کے معاہدے ختم۔ برطرفیاں زیادہ۔16۔ ڈاک، کوریئر سروسز بند۔17۔ مساجد بند ہونے سے عبادات میںخلل۔18۔ رمضان کی رونقیں ماند پڑ گئیں۔19۔لوگ رمضان میں حرمین شریفین میں عمرے اور زیارات پر نہ جاسکے۔ 20۔ گھر بندی سے نفسیاتی مسائل۔21۔عام مریضوں کے لئے ہسپتال کی او پی ڈی بند۔22۔ بعض ڈاکٹروں کو طبی ساز و سامان میسر نہیں تھا۔23۔ فلاحی تنظیموں کو اس بار عطیات زکوٰة کم ملی۔24۔ صنعتی پیداوار میں رُکاوٹ۔25۔ مزدور، ٹرانسپورٹ نہ ہونے سے آم کی فصل متاثر۔26۔ کاغذ کی قلت اور پریس بند ہونے سے نئی کتابیں نہیں چھپیں۔27۔23مارچ کی پریڈ نہ ہوسکی۔28۔ بے حساب سیمینار، کانفرنسیں ملتوی۔
یہ تو میرا سرسری اندازہ ہے۔ تحقیق اور تدریس سے منسلک ادارے مزید فوائد اور نقصانات کا تخمینہ لگائیں۔ اللہ تعالیٰ سے دل کی گہرائی سے دُعا ہے کہ اس وبا کا مقابلہ کرتے ہوئے جن ڈاکٹروں، نرسوں، دوسرے میڈیکل سٹاف، ڈیوٹی پر مامور فوجیوں اور پولیس والوں نے جان نثار کی، ان کے درجات بلند کرے، اہل خانہ کو صبر عطا کرے، بے روزگاروں کے لئے روزگار کے دروازے کھول دے اور خدائے بزرگ و برتر انسان کو اس کی بھول اور فرو گزاشت کا احساس دلائے جس کی وجہ سے لاکھوں انسان اپنی جان سے گئے اوز ندگی کے معمولات کئی مہینے معطل رہے۔
دیکھئے لاک ڈاون میں اقتصادی حالات کے پیشں نظر بہت نرمی کر دی گئی ہے لیکن کورونا کی سخت گیری اب بھی باقی  ہے پاکستان سمیت اکثر ملکوں میں کورونا اب بھی انسانی جانوں کا نذرانہ وصول کر رہا ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اب انسانوں کو کورونا کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی عادت ڈالنا ہوگی۔ہمارے ہاں ویسے تو احتیاطی تدابیر پر عمل ہو رہا ہے لیکن کئی مقامات پر لا پروائی دیکھنے میں آرہی ہے جو یقینی طور پر خطرناک ہے ۔یہ وبا عالمگیر ہے غفلت برتی جائے تو جان لیوا ہوجاتی ہے ۔اپنے لئے اپنے پیاروں کی سلامتی کے لئے ان تدابیر پر عمل  لازمی بنائیں جو حکومت کی طرف سے بتائی جا رہی ہیں اور ڈاکٹر تجویز کر رہے ہیں ۔معاملہ صحت کا ہے اسلئے ڈاکٹرز اور محکمہ صحت کی رائے کو ترجیح ملنی چاہئے۔بہت ہی ضروری ہو تو گھر سے باہر نکلیں ماسک ضرور پہنیں۔ دوسرے لوگوں سے چھ فٹ کے فاصلے پر رہیں ۔گھر سے نکلتے اور گھر میں داخل ہوتے وقت ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھوئیں ۔گھر میں کوئی بھی باہر سے اگر آرہا ہے آپ کے اہل خانہ بچے یا ملازم ان کو بھی فوری ہاتھ دھونے کے لئے کہیں ۔اگر آپ محسوس کریں طبیعت کچھ ناساز ہورہی ہے بخار کی حالت ہے کھانسی ہو رہی ہے فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔احتیاط میں ذرا سی غفلت بھی آپ کے لئے اذیت کا باعث ہو سکتی ہے پورے گھر والوں کی سلامتی سکوں خطرے میں ڈال سکتی ہے۔۔۔گویا حفاظتی اقدامات پر عمل پیرا ہوکر اس خطرناک وبا سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔


مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ کار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 124مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP