قومی و بین الاقوامی ایشوز

سماجی وحدت کے لئے  مسجد ومدرسے کا کردار

مسجد اور مدرسہ مسلم معاشرت کے اہم مظاہرہیں۔صدیوں کا تعامل جس نے مسلم تہذیب کو ایک منفرد حیثیت بخشی،اس میں مسجد اور مکتب کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔آج بھی جہاں مسلمانوں کے چند گھرآباد ہوتے ہیں،وہ سب سے پہلے مسجد کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں۔
ابتداہی سے مسلم نفسیات کی تشکیل جن خطوط پرکی گئی،ان میں ان اداروں کا کردار بنیادی تھا۔رسالت مآب ۖ جب تک مکہ میں رہے،بیت اللہ سے آپ کا تعلق قائم رہا،باوجود اس کے کہ اللہ کا یہ گھر شرک کا مرکزبنادیا گیا تھا۔مدینہ تشریف لانے کے بعد آپۖ نے جس عمارت کی تعمیر کو اولیت دی،وہ مسجد ہی تھی۔ساتھ ہی اصحاب ِ صفہ کے لئے چبوترہ بھی قائم ہو گیا جہاں درس وتدریس کا سلسلہ شروع ہوگیا۔غیر محسوس طریقے سے،مسلمانوں کو یہ تعلیم دی جارہی تھی کہ ایک مسلم معاشرے کے امتیازی خواص کیا ہوتے ہیں۔ یہ تعلیم مسلمانوں کے شعور ہی نہیں، لاشعور کا بھی حصہ بن گئی۔آج مسجد کے بغیر مسلم معاشرت کا تصور قابلِ فہم نہیں۔
مذہب کا بنیادی کام انسان کا اخلاقی تزکیہ ہے۔تزکیہ دو امور سے عبارت ہے:اللہ کے ساتھ تعلق اورانسانوں کے ساتھ تعلق۔تزکئے کی پہلی ضرورت علم کا تزکیہ ہے۔ اگر اللہ اور بندوں کے ساتھ تعلق کی درست تفہیم نہیں ہو گی تو ان کے حقوق کا صحیح ادراک اور احساس بھی نہیں ہو گا۔اس لئے مسجد اور مدرسے کا وجود ناگزیر ہے۔یہ ادارے دونوں کام بیک وقت کرتے ہیں۔مسجد میں جہاں اللہ کی عبادت ہوتی ہے،وہاں ایک دوسرے کے احوال سے واقفیت بھی پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح مدرسے سے جو تعلیم ملتی ہے،وہ محض تعلیم نہیں ہوتی بلکہ تربیت اس کا لازمی حصہ ہے۔


ایک مسلم سماج اپنی بنیادی مذہبی ضروریات سے بے نیازنہیں ہو سکتا۔مسجد و مکتب،گویا اس کی تہذیبی شناخت کے ناگزیر عناصر ہیں۔اگر ہم ان کے روایتی اور تاریخی کردار کا احیاء کر سکیں تو معاشرے کی اخلاقی قوت میں بے پناہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔یہ تعلیم اور رابطے کے فطری ادارے ہیں۔ان کے ذریعے جس طرح وحدت اور بھائی چارے کا پیغام عام ہو سکتا ہے،کسی دوسرے ذریعے سے ممکن نہیں۔


قرآن مجید نے بتایا ہے کہ مسجد اللہ کے لئے ہوتی ہے(سورہ جن:١٨) گویا مسجد کا انتساب کسی فرد کے نام نہیں ہے۔اسی لئے جو مسجد انسانوں یا گروہوں سے منسوب ہونے لگے یا جہاں لوگوں کو داخل ہونے سے روکا جائے،وہ ایک عمارت تو ہو سکتی ہے،اللہ کا گھر نہیں ہو سکتا۔قرآن مجید میں کہا گیا: '' اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گاجواللہ کے معبدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی کے درپَے ہو۔ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان عبادت گاہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیں بھی تو ڈرتے ہوئے جائیں۔'' (سورةالبقرہ ١١٤) قرآن مجید نے اس بات کا تذکرہ یہود ونصاریٰ کی کشمکش کے تناظر میں کیا ہے۔دونوں کا قبلہ بیت المقدس تھا۔نصاریٰ نے ،ایک رائے یہ ہے کہ سیدہ مریم کے مقامِ اعتکاف کی رعایت سے مشرق کو قبلہ ٹھہرایا  اوریہود نے ان کی ضد میں مغرب کی طرف رخ کر لیا۔اس کے نتیجے میں ایک کشمکش نے جنم لیا اور دونوں نے ایک دوسرے کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی۔ 
یہود ونصاریٰ کی اس کشمکش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، مسجد کی سماجی حیثیت کے بارے میں ابتدا ہی سے واضح کر دیا گیا کہ یہ اللہ کے لئے ہے اور اسے کسی ایک گروہ سے منسوب کر کے،اس کے دروازے کسی دوسرے گروہ پر بند نہیں کئے جا سکتے۔رسالت مآب ۖ کا معاملہ تو یہ تھاکہ جب نجران کے مسیحیوں کا وفد آپ سے ملنے آیا اور انہوں نے اپنی عبادت کے وقت یہ چاہا کہ مسجدِ نبوی سے باہر عبادت کریں تو آپ نے انہیں اجازت دی کہ وہ مسجد کے اندر ہی اپنی عبادت کریں۔اس طرح آپ ۖ نے اپنے طرزِ عمل سے بتایا کہ مسجد اللہ کی عبادت کے لئے ہے اوریہ خدا کے نام پر لوگوں کو جمع کرتی ہے۔
یہی معاملہ مدرسے کا بھی ہے۔علم کا دروازہ کسی کے لئے بند نہیں کیا جا سکتا۔اسی کے ساتھ مسلم روایت یہ بھی ہے کہ علم صرف معلومات جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ علم وہی ہے جو انسان کا اخلاقی تزکیہ کرے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول ۖ ہمیشہ علم ِ نافع کی دعا کرتے تھے۔تربیت کو درس وتدریس کا لازمی حصہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمانوں میں مدرسے کاجو تصور قائم ہوا،اس میں مدرسہ ایک تربیت گاہ تھا جہاں ایک طالب علم کو عام ماحول سے الگ کر کے،اس کی شخصیت سازی کی جا تی تھی۔اسی سبب سے مسلمانوں میں مدرسے کو جن خطوط پر استوارکیا گیا ،ہاسٹل اس کا لازمی حصہ تھا۔گویاطالب علم اوراستاد کا رشتہ محض چند گھنٹوں کا نہیں ہو تا تھا بلکہ پورے دن کا ہوتا تھا اور اس میں بہت سی غیر نصابی سرگرمیاں بھی شامل تھیں جن میں عبادت اور اخلاقی تزکیہ کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔


مسجد دن میں پانچ بار ایک محلے میں رہنے والوں کو اکٹھا کر تی ہے۔جمعہ کو ایک بڑے اجتماع کا موقع فراہم کر تی ہے۔ اگر لوگ اس اجتماع کو باہمی غلط فہمیوں کی دوری اور ایک دوسرے کی مدد کے لئے استعمال کریں تو کسی دشمن کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ ہمارے معاشرے میں مذہبی یا کسی اور طرح کی منافرت پھیلا سکے۔


سوال یہ ہے کہ اگر مسجد اور مدرسہ تعلیم، تزکیہ اور تربیت کے مراکز ہیں تو کیا وجہ ہے کہ آج مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت جیسے سماجی عوارض کاانتساب ان کے نام ہے؟ مساجدکیوں مسالک سے منسوب ہو گئی ہیں؟ہمیں مساجد کے باہر ایسے ہدایت نامے کیوں آویزاں دکھائی دیتے ہیں جن میں دوسرے مسالک کے لوگوں کو داخل ہونے سے روکا جا تا ہے؟ہمیں ان سوالات کا جائزہ تاریخی تناظرمیں لینا ہو گا۔ 
روایتی طور پر مدرسہ ،مسجد اور خانقاہ میں گہرا رشتہ قائم تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ مدرسہ علم،مسجد عبادت اور خانقاہ تزکیہ کی علامات تھیں۔مسلم تہذیبی روایت میں تینوں ایک دوسرے سے الگ نہیں تھیں۔علم، عبادت اور تزکیہ بیک وقت انسانی شخصیت کی تعمیر کرتے تھے۔مولانا محمد قاسم نانوتوی دارالعلوم دیوبند کے بانی تھے۔انہوں نے روحانی و اخلاقی ترقی کے لئے بطورِ خاص حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے تعلق قائم کر نا چاہا جو دینی علوم کے ماہر یاکوئی باضابطہ عالم نہیں تھے۔جب لوگوں نے ان سے کہا کہ ان جیسے جید عالم کو کسی ایسے فرد کے پاس نہیں جانا چاہئے جو دینی علوم میں رسوخ نہ رکھتا ہو تو ان کا کہناتھا: ''میں عالم ضرور ہوں مگر مجھے عمل کا ذوق حاصل نہیں ہو سکا۔میں اسی ذوقِ عمل کے حصول کے لئے حاجی صاحب کے قریب ہوا ہوں۔''
ہمارے ہاں بد قسمتی سے علم،عبادت اور تزکئے کی یہ یک جائی باقی نہیں رہی۔وہ مراکز جنہیں معاشرے کو وحدت،حسنِ خلق اور حقوق کاپیغام دینا تھا،وہ اپنی اس ذمہ داری کو فراموش کر بیٹھے۔اس کا ناگزیر نتیجہ یہ ہے کہ آج یہ مراکز تو موجود ہیں مگران میں وہ روح نہیں جو ماضی میں ان کے اندر جا ری و ساری تھی اور اگر کہیں استثناء ہے توان کی برکات کو آج بھی محسوس کیاجا سکتا ہے۔
آج اگر مسجدومدرسہ اپنے روایتی کردار کی طرف لوٹ جائیں تو یہ معاشرے میں ایک بار پھرمذہبی وحدت اور اخلاقی تربیت کے مراکز بن سکتے ہیں۔ اس کردار کے احیا ء کے لئے چند اقدامات ناگزیر ہیں:

  • مسجد اور مدرسے کے مابین گہرا تعلق ہے۔بالعموم ایک مدرسے کا فارغ التحصیل ہی کسی مسجد کا امام یا خطیب ہو تا ہے۔ہمارے ہاں دینی مدارس مسلک کی بنیاد پر قائم ہیں۔جب ان کا تعلیم یافتہ کسی مسجد کا انتظام سنبھالتا ہے تو مسجد ایک ناگزیر نتیجے کے طور پر اس مسلک کی نمائندہ بن جا تی ہے۔یوں مسجد کا وہ کردار مجروح ہوتا ہے جو قرآن مجید نے بیان کیا ہے کہ وہ اللہ کے لئے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہمارے ہاں دینی تعلیم کے اداروں کی تشکیلِ نو ہو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں سب مسالک کی علمی روایات سے آگاہی پیدا کی جائے اور اختلاف کے آداب کو مدرسے کی تعلیم کا حصہ بنایا جائے۔
  •  مدرسہ اور خانقاہ کے ٹوٹے ہوئے رشتے کو جوڑا جائے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ تزکیہ نفس دینی علوم کا ناگزیر حصہ ہو، تا کہ یہاں کا فارغ التحصیل جب کسی مسجد میں جائے تو اسے اخلاقی تربیت،عبادت اور بھائی چارے کا مرکز بنائے۔اسے معلوم ہو کہ مسجد اللہ کے لئے ہوتی ہے اوراس کے دروازے اللہ کے بندوں پر بند نہیں ہو سکتے۔اس مقصد کے حصول کے لئے مدرسے کے ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
  • مساجد کے نظم کو بھی کسی سماجی بندوبست کے تابع کرنا ضروری ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر مسجد کمیٹی ہو تی ہے جو مسجد کا انتظام سنبھالتی ہے۔اس کو بامعنی اور مزید بہتر بنانا لازم ہے۔اس کا کام صرف یہ نہیں ہو نا چاہئے کہ وہ مسجد کی عمارت،پانی کی فراہمی وغیرہ کا خیال رکھے بلکہ وہ یہ بھی دیکھے کہ مسجد کسی مسلک کی خدمت کر رہی ہے یا اللہ کے بندوں کے لئے عبادت اور وحدت کا مرکزہے۔
  •  حکومت کو بھی وزارتِ مذہبی امو رمیں ایک شعبہ قائم کر نا چاہئے جس کا کام مساجد کا انتظام و انصرام ہو۔یہ شعبہ مساجد کمیٹیوں سے رابطے میں رہے۔اس ضمن میں ترکی میں قائم ادارے 'دیانت' کے تجربے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
  • آئمہ اورخطباء کے لئے خصوصی تربیتی ورکشاپس کا اہتمام ہو جس میں انہیں نئے موضوعات اور سماجی ضروریات کے بارے میں آگاہ کیا جا ئے۔ ان ورکشاپس میں دوسرے مسلمان ممالک سے لوگوں کو مدعو کیا جا ئے جو بتائیں کہ ان ملکوں میں مسجداور مدرسہ کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔مثال کے طور پر انڈونیشیامیں مدرسے کی ایک بہت مضبوط روایت موجود ہے جس سے استفادہ کیا جانا چاہئے۔وزارت ِمذہبی امور کو یہ کام سونپا جا سکتا ہے۔

ایک مسلم سماج اپنی بنیادی مذہبی ضروریات سے بے نیازنہیں ہو سکتا۔مسجد و مکتب،گویا اس کی تہذیبی شناخت کے ناگزیر عناصر ہیں۔اگر ہم ان کے روایتی اور تاریخی کردار کا احیاء کر سکیں تو معاشرے کی اخلاقی قوت میں بے پناہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔یہ تعلیم اور رابطے کے فطری ادارے ہیں۔ان کے ذریعے جس طرح وحدت اور بھائی چارے کا پیغام عام ہو سکتا ہے،کسی دوسرے ذریعے سے ممکن نہیں۔مسجد دن میں پانچ بار ایک محلے میں رہنے والوں کو اکٹھا کر تی ہے۔جمعہ کو ایک بڑے اجتماع کا موقع فراہم کر تی ہے۔ اگر لوگ اس اجتماع کو باہمی غلط فہمیوں کی دوری اور ایک دوسرے کی مدد کے لئے استعمال کریں تو کسی دشمن کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ ہمارے معاشرے میں مذہبی یا کسی اور طرح کی منافرت پھیلا سکے۔مسجد اور مدرسے کی بنیاد پر ہم ایک مستحکم معاشرہ قائم کر سکتے ہیں جو ایک مضبوط ریاست کے لئے ناگزیر ہے۔
لازم ہے کہ ا ن اداروں کے احیاء کے لئے سماجی سطح پر مکالمہ ہو اور یہ ادارے وحدت کے مراکز بنیں۔
 مضمون نگار معروف دانشور ،سینیئر تجزیہ نگار اورکالم نویس ہیں۔


 [email protected]
      
 

یہ تحریر 63مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP