قومی و بین الاقوامی ایشوز

سلگتا کشمیر

یہ سری نگر کی بات ہے۔ میں ڈل جھیل کے کناروں پر گلابوں اور دوسرے پھولوں کی سیر کرکے شکارے سے اُترا ہی تھا کہ ایک نوجوان قریب آیا۔ میں نے دائیں بائیں گھبرا کے دیکھا تو میرے ساتھی مطمئن تھے۔ نو وارد نے کہا سید صاحب نے چائے پر بلایا ہے۔ اس سے قبل ہم وفد کے ساتھ ناشتہ کرچکے تھے۔ جدہ میں ان سے میری دو تین ملاقاتیں ہو چکی تھیں لیکن یہ دعوت غیر متوقع تھی۔


یہ کہنا مناسب ہوگا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد تو بھارت نے مقبوضہ وادی کو پوری طرح چنگل میں لینے کی کوشش کی ہے ۔ لداخ کی طرح وادی اور جموں کی ریاستی حیثیت ختم کرکے مرکزی علاقہ قرار دیاگیا ہے۔تمام بھارتیوں کو اس علاقے میں رہنے اور جائیداد رکھنے کا حق مل گیا ہے اور یہ سب کچھ بھارتی حکومت اور اپوزیشن کے گٹھ جوڑنے کیاہے۔صرف سابق وزیرِاعلیٰ محبوبہ مفتی بار بار واضح کررہی ہیں کہ وہ دہلی کی وفادار ہیں لیکن دہلی کشمیریوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کررہا ہے۔ فاروق عبداﷲ بھی تلخ ہو چکے ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں جو نئی انتخابی حلقہ بندیاں کی ہیں ان پر بھی بھارت نواز کشمیری بھی مشتعل ہیں انہیں کئی ماہ نظر بند بھی رکھا گیا۔


''میں نے سوچا کہ تم پرسوں جارہے ہوتومل لیا جائے۔'' سید علی گیلانی نے گلے لگاتے ہوئے خاص انداز میں کہا''تو پھر پتہ نہیں کہ ملاقات ہو یا نہ ہو، تم سے ایک ملاقات ضروری ہے، لیکن یہ صرف تمہارے لیے ہے، ابھی اشاعت کے لیے نہیں۔''
اس روز سید علی گیلانی جنہیں لوگ مرشد ، سینیئر رہنما، رہبر سب کچھ کہتے تھے، کچھ تھکے ہوئے لگ رہے تھے۔ حیدر پورہ کے اس علاقے میں ان کے موڈ کے برعکس بہت گہما گہمی تھی۔ انہوںنے چائے اور بسکٹ اپنے ہاتھ سے میرے سامنے رکھے۔ فرشی نشست تھی۔ کہنے لگے''کچھ پتہ نہیں کب بلاوا آجائے۔ بس خواہش ہے کہ قبرستان شہداء میں جگہ مل جائے۔ میرا خیال ہے کہ بھارت بہت جلد کچھ کرنے والا ہے۔ مزید کوئی کارروائی،مزید کوئی بڑا آپریشن، کوئی شرانگیزی۔ دلّی سے یہی اطلاعات ہیں کہ وہ دہشت گردی کرکے پاکستان پر حملے کا جواز نکالے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ واجپائی کی جگہ امیت شاہ یا نریندر مودی وزیراعظم بن جائیں۔ واجپائی جی سے تو بات ہوسکتی ہے لیکن یہ دونوں تو کشمیر ہی نہیں مسلم ، دشمن بھی ہیں۔''
میں نے کچھ پوچھنا چاہا مگر انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔ ''تم یہی پوچھو گے کہ پھر کشمیر کا کیا ہوگا۔ میری بات لکھ لو۔ پھر بہت برا ہوگا۔ پورے بھارت کے مسلمانوں کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی، سیکولرازم ، ہندو انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ جائے گااور مقبوضہ جموں و کشمیر میں سابق گورنر جگ موہن کے اس منصوبے پر عمل ہوگا کہ وادی کے مسلمانوں کو اقلیت میں بدلا جائے۔اس کا ذکر تم نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو پھر مقبوضہ کشمیر میں ایک نئی قسم کی مزاحمت شروع ہوگی۔ نوجوان چھاپہ مار جنگ شروع کرنے کی کوشش کریں گے۔ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر، لداخ کو دہلی دربار کا حصہ بنالے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں ہندو آباد ہوں گے۔ انہیں زمین خریدنے کا حق مل جائے گا، وہ ووٹر بن جائیں گے۔''
سید صاحب باتین کرتے رہے، میں سُن ہو کر سُنتا رہا۔ وہ مستقبل بیان کررہے ۔ ان سے پہلی ملاقات جدہ میں1995 میں ہوئی تھی تو وہ اتنے مایوس نہ تھے اور نہ ہی پیش گوئیاں کررہے تھے لیکن آج بہت مختلف تھے، بہت مختلف۔۔ سید علی گیلانی نے2004 میں مجھ سے جو کچھ کہا تھا وہ سب سامنے ہے۔ سب کچھ وہی ہورہا ہے جو ان کا تجزیہ ہے۔کشمیری نوجوانوں نے 5 اگست2019 کے بھارتی قبضہ کے خلاف اپنے طور پر مزاحمت شروع کی ہے جس کا بہانہ بنا کر بھارتی فوج یومیہ 5 سے10 نوجوانوں کو شہید کررہی ہے۔سری نگر کے آبشار  ڈل جھیل، ہائوس بوٹس شکارے سب زبردستی چلائے جارہے ہیں۔ بار بار کرفیو لگتا ہے۔ خود سید علی گیلانی کے جلوس جنازہ کو روکنے کے لیے کرفیو لگایاگیا۔ 91 سالہ ضعیف ، بوڑھے بیمار، نحیف ونزار کی میت کوبھارتی فوج نے قبضے میں لے کر قبرستان شہداء میں دفن کرنے کے بہانے گھر کے قریب ہی قبرستان میں صرف چند افراد کی موجودگی میں سپردِ خاک کردیا۔ پورے کشمیرلداخ تک جو مظاہرے ہوئے ان پر بے دردی سے فائرنگ اور شیلنگ کی گئی۔ قبرستان شہداء میں مقبول بٹ، افضل گورو کی طرح سید علی گیلانی کی بھی علامتی قبر بنی ہوئی ہے کہ جب آزادی ملے گی تو امانت یہاں سپردِ خاک ہوگی۔
برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں نے خود کو منظم کیا ہے لیکن ٹولیوں کی شکل میں۔ بھارت نے مرکزی تنظیموں سے ان کے رابطے منقطع کرنے کی ہر ممکن کوشش ہے۔ امیت شاہ ، وزیرِ دفاع، آرمی چیف اور سلامتی کے مشیر جندال کی ساری توجہ کشمیری جدو جہد کی کمر توڑنے کے لیے ہے لیکن1985 سے شروع ہونے والی اس جدوجہد میں اُتار چڑھائو ضرور آئے لیکن اسے وہ کچل نہ سکے۔ برہان وانی کی شہادت نے تو اسے نیامرحلہ دیا اور 5 اگست کو بھارتی تسلط کے اعلان کے بعد اس کی شکل ہی بدل گئی۔
یہ کہنا مناسب ہوگا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد تو بھارت نے مقبوضہ وادی کو پوری طرح چنگل میں لینے کی کوشش کی ہے ۔ لداخ کی طرح وادی اور جموں کی ریاستی حیثیت ختم کرکے مرکزی علاقہ قرار دیاگیا ہے۔تمام بھارتیوں کو اس علاقے میں رہنے اور جائیداد رکھنے کا حق مل گیا ہے اور یہ سب کچھ بھارتی حکومت اور اپوزیشن کے گٹھ جوڑنے کیاہے۔صرف سابق وزیرِاعلیٰ محبوبہ مفتی بار بار واضح کررہی ہیں کہ وہ دہلی کی وفادار ہیں لیکن دہلی کشمیریوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کررہا ہے۔ فاروق عبداﷲ بھی تلخ ہو چکے ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں جو نئی انتخابی حلقہ بندیاں کی ہیں ان پر بھی بھارت نواز کشمیری بھی مشتعل ہیں انہیں کئی ماہ نظر بند بھی رکھا گیا۔
آرٹیکل370 کسی نہ کسی حد تک آئینی طور پر کشمیری شناخت کی ضمانت دیتا تھا۔ اس آئینی شق کے تحت کشمیر کا اپنا آئین، پرچم داخلی خود مختاری اور مقبوضہ کشمیر کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ بھارتی آئین کے قابلِ نفاذ حصوں کا خود انتخاب کرے۔5 اگست کو یہ سب کچھ ختم ہوا تو ہزاروں بھارتی فوجی بھی سری نگر پہنچے اور ہزاروں نوجوان بھی مخالفت میں باہرنکل آئے۔
پلوامہ شوپیاں، لولاب، سرینگر، جموں اور دیگر علاقوں میں نوجوانوں کی مزاحمت جاری ہے۔ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی، بھارت تسلط اور تشدد کے خلاف مسلسل  آواز اٹھا رہے  ہیں۔ دوسری طرف بھارتی فوج جیلوں میں سیکڑوں نوجوانوں کو تشدد سے شہید کرچکی ہے۔ ہزاروں افراد فائرنگ میں جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔ لاپتہ افراد کی تعداد کا اب تو اندازہ بھی نہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو وادی میں کام کرنے کی اجازت تک نہیں۔ جو نوجوان صحافی خبریں اور ویڈیوز کسی نہ کسی طرح دہلی یا بیرون ملک بھیجتے تھے، انہیں گرفتار کرکے ان پر غداری کے مقدمات بنائے گئے۔ کئی صحافی قتل ہوئے۔ عالمی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خوفناک خلاف ورزیوں پر کئی رپورٹس جاری کیں لیکن ان کا کوئی اثر کسی دوسرے ملک پر نہیں ہوتا۔ انسانی حقوق کے کچھ گروپوں کا کہنا ہے کہ1989 سے اب تکمتعدد افراد قتل کیے جاچکے ہیں۔ بھارت خود 50 ہزار کا اعتراف کرتا ہے۔ 1993میں ہیومن رائٹس واچ نے خبردار کیا تھا کہ سرچ آپریشن کے نام پر لوگوں کو قتل کیاجارہا ہے۔ عصمت دری ان سرچ آپریشن کا حصہ بن چکی ہے۔
2019 میں اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی سکیورٹی فورسز نے غیر معمولی تشدد کیا اور پیلٹ گنز کا افسوس ناک استعمال کیا، انسانی حقوق پر رپورٹ تیار کرنے والے شجاعت بخاری کو ان کے دفتر میں اس وقت قتل کیا جب انہوںنے انسانی حقوق کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی رپورٹ مکمل کرکے ٹویٹ کی تھی۔
اب صورت حال یہ ہے کہ بھارت نے پوری شدت سے ڈیموگرافک کی تبدیلی کے جگموہن منصوبے پر عمل شروع کردیا ہے۔ 2021 کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف دو سال میں41 لاکھ پانچ ہزار ڈومیسائل جاری کیے۔ یہ اعداد و شمار بڑے فخر سے آرٹیکل 371 کے خاتمے کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر پیش کیے گئے۔890 مرکزی قوانین کا مقبوضہ علاقے پر نفاذ ہوا۔ ریاست جموں و کشمیر کے 205 قوانین منسوخ کیے گئے۔130 قوانین میں دہلی کی مرضی کے مطابق ترمیم کی گئی۔ شیخ عبداﷲ کے پروگرام نیا کشمیر کو ختم کردیاگیا جس کے تحت کاشت کاری کرنے والے کشمیری کو زمین کم قیمت پر دی جایا کرتی تھی۔ کشمیر میں دس سال سے رہنے والے ہر ہندو ، سکھ کو کشمیری سرٹیفکیٹ دیا جارہا ہے۔
اس صورت حال میں کشمیر کی پوری قیادت قید میں ہے۔ یاسین ملک کی صحت بہت خراب ہے۔ انہیں وضاحت کا موقع دیے بغیر عمر قید دے دی گئی ہے۔ ان کی صحت کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بھارت انہیں قید میں جاں بحق کرنا چاہتاہے۔ شبیر شاہ ، مسرت صدیقی، عمر فاروق سب پابندِ سلاسل ہیں، ایسے میں نوجوان ہی تحریک چلارہے ہیں۔
بقول ایک رہنما'آخری کشمیری تک جدوجہد جاری رہے گی!' اور یہ جدوجہد جاری ہے۔ ہر ماہ 30  سے 40 نوجوان شہید ہو رہے ہیں اور بڑی تعداد میں بھارتی مخبر ہلاک ہو چکے ہیں۔ کئی فوجی افسر قتل ہوئے ہیں۔ جواب میں فوج نے گھر، بستیاں اور مساجد جلا دی ہیں۔ لیکن جدوجہد کے ڈھول کی ترنگ سنائی دے رہی ہے۔ طبل بج رہے ہیں۔ لہو تال دے رہا ہے، دھول سے ماتھا اٹھا لیا ہے۔ فیض نے سچ ہی تو کہا تھا، اپنی مشہور نظم ''افریقہ کم بیک'' میں۔ ||


مضمون نگار سینیئر صحافی اور تجزیہ کار ہیں وہ کشمیر پر پہلے ریسرچ ناول 'سلگتے چنار ' کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ سری نگر کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔

یہ تحریر 175مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP