متفرقات

سرفروش  

1971 کا واقعہ ہے۔ستمبرکا مہینہ شروع ہو چکا تھا۔ ڈھاکہ کی ویران گلیوں میں وحشت سی امڈنے لگی تھی۔ ہوا کے خنک جھونکوں کے دوش پہ آتی بارود کی بدبُو باغیوں کی بڑھتی سرگرمیوں کاپتہ دیتی تھی۔ امدادی کارروائیوںکی غرض سے کہیں کہیں فوجی گاڑیاں آتی جاتی اس سکوت کو توڑتیں۔ ہر دریچہ سراسیمگی میں مبتلا تھا، ہر کواڑ پر بے سکونی کا قفل پڑا تھا۔ مشرقی پاکستان میں تعینات پاک فوج کے دستوں میں کئی بنگالی بھی موجود تھے جو دل وجان سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہی میں ایک نائیک حبیب اللہ بھی تھا۔ ڈھاکہ کے ایک نواحی گاؤں ناگوری سے تعلق رکھنے والا نائیک حبیب اللہ ایک انتہائی محبِ وطن سپاہی تھا۔ جنگِ پینسٹھ کے دوران ایک کمسن سپاہی ہونے کے باوجود وہ اگلے مورچوں میں بے حد دلیری سے لڑا۔ یونٹ میں اس کی جانفشانی اور بہادری کے کئی قصے مشہور تھے۔ مگر اب سال بدل چکا تھا۔ اس بار کی جنگ بھی مختلف تھی اور دشمن بھی بھیس بدل کر آیا تھا۔ اپنی قوم کو دشمن کے ہاتھوں یوں گمراہ ہوتے دیکھ کر نائیک حبیب اللہ بے حد پشیمان تھا۔ وہ اکثر اپنی برادری کے کچھ گمراہ افراد سے بحث کرتا۔ انہیں سمجھاتا ، جس سے اس کے کئی رفقاء اس سے خفا بھی ہو جاتے مگر حق اور بہکاوے کی اس جنگ میں اس کا ایمان ہمیشہ پختہ رہا ۔
اکتوبر شروع ہوا تو حبیب اللہ اپنی بیمار ماں کی بگڑتی طبیعت  کے پیشِ نظر کچھ روز کی رخصت لے کر گھر پہنچا۔ شام کے ایک پہر وہ اپنی ماں کی تیمار داری میں مصروف تھا کہ اچانک باہر سے کچھ شور شرابے کی آوازیں آنے لگیں۔ جب وہ دروازے سے باہر نکلا تو گلی میں کچھ نوجوانوں کو گالی گلوچ کرتا دیکھ کر وہ ان کی طرف بڑھنے لگا۔ قصہ کچھ یوں تھا کہ یہ چار پانچ نوجوانوں کا جتھہ جب محلے کے لوگوں کو گھروں سے نکال نکال کر اپنی طرف راغب کر رہا تھا تو ایک بوڑھے شخص کی مزاحمت پر بحث طول پکڑتی، بد کلامی کے دہانے کو عبور کرتی اب ہاتھا پائی تک پہنچنے کو تھی۔ ان باغیوں نے علاقے میں خاصی دہشت پھیلا رکھی تھی۔ اس خوف اور دہشت کی وجہ ان کی اسلحہ بارود تک رسائی اور اس کا بے دھڑک استعمال  تھاجس کی رسد کا واحد ذریعہ بیرونی دشمن طاقت تھی۔ 
بابا کو کیوں تنگ کر رہے ہو - کیا مسئلہ ہے؟  نائیک حبیب نے ٹھوس لہجے میں گرجنے والے ایک نوجوان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر روکنے کے انداز میں کہا۔
 کہتے ہیں اپنے بیٹے کو ہمارے ساتھ بھیج دو۔ بھلا میں کیوں بھیجوں اپنے اکلوتے بچے کو ان فسادیوں کے ساتھ؟ بوڑھے آدمی نے فوراً سارا مدعا بیان کر دیا۔
  تو کون ہے بے؟ یہ نوعمر انتہائی بدتمیزی سے نائیک حبیب سے مخاطب ہوا۔  نائیک حبیب نے اس کی ایسی گستاخی برداشت کی اور معاملے کو رفع کرنے کا ارادہ کیا۔
  تم غلط راہ پر ہو بچو! یہاں سے چلے جاؤ ورنہ میں تمہیں پولیس کے حوالے کر دوں گا۔ 
 ہم تمہیں دیکھ لیں گے۔ باغیوں کا یہ جتھہ نائیک حبیب کو تیوری دکھاتا وہاں سے چلتا بنا۔ 
  شام ڈھلتے ہی نائیک حبیب کے گھر پہ کچھ نا معلوم افراد نے پتھراؤ کر دیا۔ کئی پتھر اس کے دروازے پر لگے اور ان میں سے کئی پتھر کھڑکیاں توڑتے اندر بھی گرے۔ وہ فوراً باہر کی جانب بھاگا۔ گلی کے نکڑ پر کچھ سائے سے بھاگتے محسوس ہوئے تو حبیب ان کے تعاقب میں بھاگا مگر وہ خاصے دور ہونے کی وجہ سے اوجھل ہو گئے۔ حبیب کی بیوی بھی دونوں معصوم بچوں کو سینے سے لگائے دروازے پر کھڑی پریشان سی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ شوروغل کی وجہ سے آس پڑوس کے بھی کچھ لوگ جاگ گئے اور حبیب اللہ سے ہمدردی کا اظہار کرنے لگے۔  حبیب خاصے غصے میں تھا ۔ جوں ہی وہ واپس گھر کی طرف پلٹا تو دروازے کے پاس ایک پتھر پر نظر پڑی۔ اس پتھر پر لپٹا کاغذ اسے باقی کے پتھروں سے جدا کر رہا تھا۔ حبیب نے آگے بڑھ کر پتھر اٹھایا اور اس پر سے کاغذ اتار کر پڑھنے لگا۔ 
''اپنی قوم کی اس جدوجہد میں ساتھ دو ورنہ غدار کہلاؤ گے۔'' نائیک حبیب نے انتہائی غصے سے اس کاغذ کو مٹھی میں مسل کر نالی میں پھینک دیا۔ رات گئے تک وہ اپنے سہمے ہوئے بچوں اور اپنی بیوی کو تسلی دیتا رہا ۔  رات تو جیسے تیسے کٹ گئی ، جب اگلی شام حبیب یونٹ واپسی کو نکلا تو بس اسٹاپ کے کچھ ہی فاصلے پر اسے انہیں سرکش نوجوانوں کا ٹولا ملا۔ اس بار اس ٹولے میں چند اور ساتھی بھی شامل تھے۔ یہ حبیب کا راستہ روکے کھڑے تھے۔ 
   تو پھر تم نے کیا سوچا فوجی صاحب؟ ان کے سرغنہ نے حبیب سے سوال کیا۔
رات کو میرے گھر پہ تم لوگوں نے پتھراؤ کیا؟ نائیک حبیب نے  غصے سے پلٹ کر سوال کیا۔ 
اب تک سمجھے نہیں تم؟ ۔۔۔ دیکھو تم فوج میں رہ کر اپنی قوم کے ساتھ غداری کر۔۔۔ اگلے الفاظ منہ سے نکلنے سے پہلے ہی ان کا یہ لیڈر زمین پر پڑا تھا۔ یہ اس مُکّے کا اثر تھا جو نائیک حبیب نے طیش میں آ کر اسے رسید کیا تھا۔ باقی کے لوگ حبیب کی اس بے خوف حرکت پر چونک اٹھے۔ ان میں سے کچھ اپنے اس لیڈر کو اٹھانے لگے جس کے منہ سے اب خون بھی جاری ہوچکا تھا۔ اس ٹولے میں سے ایک آگے بڑھا تو نائیک حبیب  نے ہاتھ کے ہاتھ اسے بھی  ایک تھپڑ رسید کر دیا جس سے ان سب پر نائیک حبیب کا خوف سا طاری ہونے لگا ۔   
 بد بختو پورے علاقے کا سکون برباد کر رکھا ہے۔ آئندہ مجھے یہاں نظر بھی آئے تو پولیس کے حوالے کر دونگا۔ لیتے رہنا وہاں بیٹھ کر آزادی۔ نائیک حبیب نے سینہ تان کر بے دھڑک انداز میں کہا۔ اب وہاں کچھ لوگ بھی جمع ہونے لگے توان بزدل باغیوں نے وہاں سے بھاگنے میں ہی عافیت جانی۔
نومبر شروع ہوتے ہی باغیوں کی طاقت بڑھنے لگی۔ کہیں کہیں فوج کے ساتھ جھڑپوں کی بھی اطلاعات آنے لگیں۔ فوج ان باغیوں کے خلاف سرگرم ہوئی تو نائیک حبیب اللہ بھی فوجی دستوں میں شامل اپنی فوج کے شانہ بشانہ فرض ادا کرنے میں مصروفِ عمل رہا۔ اس کا حوصلہ بلند تھا مگر اچانک ایک خبر نے اسے آ دبوچا۔ بگڑتے حالات میں نہ جانے کیسے اس کے گاؤں کاایک شخص یونٹ کے گیٹ پراس کی ماں کی آخری خبر لے کر پہنچا۔ اس خبر نے حبیب کو توڑ کر رکھ دیا۔  وہ ایسے حالات میں چھٹی مانگنے سے ہچکچا رہا تھا مگر جوں ہی یہ بات اس کے بالا کمانڈر کو پتہ چلی تو اس نے فورا ًحبیب کو دو دن کی چھٹی  دے دی۔ دنگے فسادات سے نکلتا، کرفیو میں سے ہوتا ہوا آخر کار وہ اپنے گاؤں پہنچا جہاں اس نے اپنی ماں کی آخری رسومات ادا کیں۔ تدفین سے اگلے ہی روز اس نے واپس یونٹ جانا تھا۔ اہلِ محلہ اس سے شہر کے حالات کے بارے میں پوچھتے اور ملکی حالات کے بارے میں اس کی رائے بھی لیتے۔ جہاں سب لوگ حالات سے ڈرے سہمے بیٹھے تھے وہیں نائیک حبیب کی بیوی بھی ایسے حالات میں اس کی ڈیوٹی پر شدید فکرمند تھی۔ نائیک حبیب اپنے پھول سے بیٹوں کو بوسہ دے کر روانہ ہوا ۔ وہ اپنے محلے سے کچھ ہی دور نکلا ہوگا کہ ایک بوسیدہ حالت جِیپ اس کے عین سامنے آکر رکی۔ اس میں سے ایک ٹولا نکلا جن میں کچھ چہرے وہی تھے جن کا سامنا حبیب پہلے بھی کر چکا تھا۔ 
تو تم نہیں مانو گے؟۔ ان میں سے ایک پرانے چہرے نے حبیب سے سوال کیا۔ اس کی آواز میں اس بارگھمنڈ تھا اور اعتماد بھی کچھ بڑھا ہوا لگ رہا تھا۔
میرا راستہ چھوڑ دو۔ ماں کی وفات اور اپنے ملک کے بگڑتے حالات سے  پریشان حبیب نے بہت تحمل سے کہا۔   
 تاکہ تم پھر سے جا کر اپنے دستے میں شامل ہو جاؤ اور ہمارے لوگوں کے خلاف لڑو۔ ایک بھاری بھرکم پکی عمرکے شخص نے جِیپ سے اترتے ہوئے کہا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بندوق بھی تھی۔  
دیکھو تم ہم میں سے ہو اس لئے تمہارے بھلے کی بات کرتے ہیں۔ آ جاؤ ہمارے ساتھ ۔ مل کر آزادی حاصل کریں۔ ان میں سے ایک نے کچھ ٹھہرے سے انداز میں مشورہ دینے کی کوشش کی۔ 
میری گردن بھی کاٹ دو تو میں اپنے ملک کا وفادار رہوں گا۔  
کون سا ملک؟  بندوق والے شخص نے مسکرتے ہوئے طنزیہ انداز میں پوچھا۔
 میرا ایک ہی ملک ہے --- پاکستان۔ یہ سننے کی دیر تھی کہ اس شخص نے گھما کر اپنی بندوق کا بٹ حبیب کی گال پر دے مارا اس کی ضرب سے وہ لڑکھڑا کر ایک طرف گر پڑا۔ دیکھتے ہی دیکھتے باقی کا ٹولا بھی حبیب پر ٹوٹ پڑا اور خوب پیٹنے لگا۔ مزاحمت کی ایک دو بار کی کوشش اس دفعہ حبیب کے کام نہ آئی  اور  آخر وہ خاموشی سے یہ مار  سہنے لگا۔ 
اب بتا، کون سا ملک ہے تیرا؟
 پپ۔۔۔ پاکستان۔  حبیب کے لبوں سے ادھ موئی سی آواز نکلی۔   
 چلو اٹھاؤ اسے۔ اس وہشت زدہ شخص نے بندوق کے اشارے سے اپنے ساتھیوں سے کہا۔ یہ سب لوگ اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالنے لگے۔ حبیب  نیم بے ہوشی کی حالت میں بھی مسلسل  پاکستان۔۔۔ پاکستان کا ورد کر رہا تھا۔ وطن پرستی کی لو  اب تک اس کے قلب و روح میں تاباں تھی۔ 
گاڑی علاقے سے کچھ ہی دور دریا کنارے جا کر رک گئی۔ یہ ایک گنجان آباد علاقہ تھا۔نائیک حبیب کو مارتے پیٹتے گاڑی سے اتارا گیا۔اس کے کپڑے پھٹ چکے تھے۔ اس کا چہرہ لہُولہان تھا مگر اس کی آنکھ میں سرفروشی کی چمک اب تک نمایاں تھی۔ اس بار اسے ضرب لگتی تو کوئی سوال نہ ہوتا۔ مار کا سلسلہ بہت دیر تک جاری رہا  اب حبیب کے چہرے پر کہیں کہیں سوزش بھی ہونے لگی مگر اس کے وجود کا کڑا پن ذرا سا بھی کم نہیں ہوا۔ نیم جانی میں بھی یہ جاں باز سپاہی اپنے عشق پہ ڈٹا تھا۔ اپنی حب الوطنی کے لئے وہ ہر قربانی دینے کو تیار تھا۔ مگر وہیں دل میں کہیں وہ ایک غم بھی سموئے ہوئے تھا کہ اسے مارنے والے کوئی اور نہیں بلکہ اسی کی قوم اور برادری کے کچھ گمراہ بدبخت تھے ۔ 
آخری موقع دیتے ہیں تجھے۔۔۔ بول کون سا ملک ہے تیرا؟  
 پپ، پپ، پاکستان۔ جیسے آخری سی کوشش کی ہو اور ساتھ ہی  اپنا سر زمین پر پھینک دیا۔ 
 اٹھاؤ اس غدار کو۔ اس بندوق والے نے حقارت سے ایک مرتبہ پھر اپنے ساتھیوں کو احکامات دیئے۔ ان میں سے دو آدمی بے سدھ حبیب کو گھسیٹتے ہوئے دریا کی جانب لے جانے لگے۔ کنارے پر پہنچ کر ان دونوں نے اپنی پوری قوت سے حبیب کو اٹھا کر دریا کی جانب اچھال دیا۔  
 حبیب کئی گھنٹوں دریا کنارے بے ہوش پڑا رہا۔ وہ دریا کے کنارے پر ہی تھا جہاں پانی کا جوش کم تھا۔ اس کے جسم کا کچھ حصہ پانی میں مگر چہرہ پانی سے باہر تھا۔
 جب شام ہوئی کچھ ملاح جو وہاں سے گزر رہے تھے۔ ان ملاحوں کے ایک بچے نے آواز لگا کر سب کو متوجہ کیا۔ جب سب نے بچے کی نشان زدہ سمت میں دیکھا تو سب چونک اٹھے۔ کشتیاں رکنے لگی اور ایک کشتی کا رخ کنارے کی سمت میں موڑنے لگے جہاں حبیب پڑا تھا۔  سرد موسم کے باوجود اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے کچھ نوجوان ملاحوں نے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ کچھ  فاصلہ تیراکی کرتے طے کیا اور  پھر پانی میں چلنے لگے۔ انہوں نے  اوندھے پڑے حبیب کو پلٹا اور ان میں سے ایک اپنا گال حبیب کے ناک سے جوڑ کر اس کی سانسیں محسوس کرنے لگا۔   
 زندہ ہے۔ ابھی زندہ ہے۔ نوجوان  ملاح نے کشتیوں کی جانب آواز لگائی۔کچھ ہی دیر میں کشتی بھی وہاں پہنچ گئی اور حبیب کو اٹھا کر اس میں ڈال لیا گیا۔ ایک بزرگ ملاح نے اپنا پیوند لگا پرانا سا کمبل خود سے اتار کر حبیب پر ڈال  دیا۔ کشتیاں منزل پر پہنچ کر رک گئیں۔ یہ دریا کے کنارے ہی ایک مقام تھا جہاں بہت سے اور ملاح بھی حالات کے پیشِ نظر اکٹھے ہو کر رہ رہے تھے۔ حبیب کو ایک محفوظ جھگی میں منتقل کر دیا گیا جہاں روائتی ٹوٹکے اور دوا کے اثر سے حبیب کی طبیعت اب بحال ہونے لگی تھی۔ صبح ہوئی تو  ہوش میں آتے ہی حبیب نے ان ملاحوں سے درخواست کی کہ جیسے تیسے اس کے ڈھاکہ جانے کا بندوبست کر دیا جائے۔ حبیب کا بخار ابھی اترا نہ تھا۔ ملاحوں کے لاکھ روکنے کے باوجود جب حبیب بے تابی سے اصرار کرنے لگا تو وہ اسے ایک ریڑھے پر ڈال کرایک سڑک پر لے گئے جہاں کئی گھنٹوں بعد ایک ڈاک خانے کی گاڑی آئی جس میں نائیک حبیب کو تعارف کے بعد بٹھا لیا گیا۔ حالات کافی بگڑ چکے تھے فوجی دستے اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں میں مصروف تھی۔ یہ گاڑی ڈھاکہ ہی جا رہی تھے۔ حبیب کی حالتِ زار دیکھ کر گاڑی میں سوار  ڈاکخانے کے اہلکار بھی گہرے تعجب میں  تھے۔ 
آخر گاڑی نے نائیک حبیب اللہ کو کینٹ کے صدر دروازے پر اتار دیا۔ حبیب لڑکھڑاتا چلتا استقبالیے تک پہنچا جہاں سے اسے اس کی یونٹ میں پہنچا دیا گیا۔ تمام لوگ نائیک حبیب کی ایسی حالت پر فکرمند تھے۔ علاج معالجے کے بعد کچھ ہی روز میں  جب وہ بہترمحسوس کرنے لگا تو اس نے اپنے ساتھی جوانوں کے ساتھ اگلے محاذپر جانے کی درخواست کی جس پر اس کے افسران نے اسے مزید آرام کی ہدایت کی۔ مگر نائیک حبیب ٹلنے والا نہ تھا۔ مسلسل اصرار پر اسے اگلے مورچوں میں بھیجوا دیا گیا۔ 
دسمبر شروع ہوا تو جنگ نے شدت اختیار کر لی۔ نائیک حبیب کو اس کے گاؤں سے کئی خط آئے جس میں اسے نئے ملک کی حمایت میں محاذ چھوڑ کر آنے کے لئے کہاگیا تھا۔ ایک خط تو اس کی بیوی کا بھی آیا جس نے ڈھکے چھپے الفاظ میں اس سے وہی تقاضا کیا مگر وہ پاکستان کو ہی اپنا ملک تسلیم کر چکا تھا۔ وہ ہر دم مورچے میں ڈٹا رہا یہاں تک کہ رسد ختم ہو نے لگی۔ مگر وہ اپنے باقی ساتھیوں کے ہمراہ ایک پل بھی کمزور نہ پڑا۔   
جنگ کے بعد نائیک حبیب اللہ کے سامنے حکومتی سطح پر یہ سنہری پیشکش رکھی گئی کہ قیدوبند چھوڑ کر وہ اپنے نئے ملک رہ سکتا ہے۔ مگر اس سرفروش بنگالی نے تب بھی پاکستان کو ہی چنا اور اپنے فوجی کامریڈوں کے ساتھ ہر حد تک  پابندیاں کاٹتا رہا۔ وہ ہمیشہ کی طرح ان غازیوں میں ملا جلا رہا ۔ کئی بار اس کے علاقے کے کچھ بزرگ اس سے ملنے آئے اور اسے تعاون کا مشورہ دیتے رہے مگر نائیک حبیب بضد رہا ۔اس کی بیوی بھی اس سے ملاقات کو آئی اور اصرارکرتی  رہی مگر اس کے اندر لگی سرفروشی کی آگ کسی صورت نہ بجھ سکی۔ کچھ ہی دنوں بعد خبر پھیلنے لگی کہ ملک دولخت ہو چکاہے۔ یہ خبر حبیب کے دل پر تیر بن کے لگی اور  وہ بہت غمگین رہنے لگا۔ 
جب تنازع ختم ہوا تو ملک واپسی کا دور چلنے لگا۔ بنگالی ہونے کی حیثیت سے ہر کوئی اسی امید میں تھا کہ اب حبیب کو تقدیر کے اس فیصلے کے ساتھ جانا ہوگا۔ کچھ ہی سالوںکے بعد سپاہ واپس پہنچانے کا مرحلہ شروع ہوا۔ جہاز پاکستان جانے کے لئے تیار کھڑا تھا۔ تمام پاکستانی فوجی قطار بنائے جہاز پر سوار ہو رہے تھے۔ نائیک حبیب کوبھی باقی فوجی ساتھیوں کے ساتھ پاکستان کے لئے سوار ہوتا دیکھ کر ہر آنکھ دنگ تھی۔ اس لازوال جذبے پر ہر ایک آفیسر اور جوان اسے بے انتہا  سراہ رہا تھا۔ حبیب کے لئے یہ فیصلہ آسان نہ تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس حب الوطنی کی قیمت آسان نہ ہوگی۔ جو کبھی اس کا علاقہ تھا اب شائد بیگانہ ملک کہلائے گا۔  اب اسے اپنے گاؤں، اپنے لوگوں سے ملنے کے لئے ویزا اور پاسپورٹ درکار ہوگا۔ مگر اس کے ارادے اٹل تھے۔ وہ اپنی قوم کے اس فیصلے پر نالاں ضرور  تھا مگر اپنے اصولوں اور حقیقی وطن کے عشق میں دیوانگی کی حدیں عبور کر آیا تھا۔ حبیب کی باری آئی تو جہاز پر قدم رکھنے سے پہلے اس نے اپنے قدموں کی طرف نگاہ ڈالی ۔ شائد یہ اس کے آباء کی دھرتی پر اس کے آخری قدم تھے۔ وہ سجدے میں گرا اور زمین کو چومنے لگا۔ آنکھیں نم ہوئیں مگر جب سجدے سے اٹھا تو وہی جری سپاہی سینہ تان کر یوں بے دھڑک جہاز پر سوار ہوا کہ یہ منظر ہر دیکھنے والے کے لئے ناقابلِ فراموش تھا۔ 
کئی دہائیاں گزرنے کے بعد آج نائیک حبیب اللہ جو اب صوبیدار میجر ریٹائرڈ حبیب اللہ کہلاتا ہے ،سکھر شہر میں ایک انتہائی کامیاب زندگی گزار رہا ہے۔ وہ شہر کے ایک نامور ڈیری فارم کا مالک ہے اور اسے اپنے علاقے میں خاصی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ حبیب اللہ نے اپنی پاکستان واپسی کے کچھ ہی ماہ بعد اپنے بیوی بچے بھی پاکستان بُلوالئے تھے ۔ اس کی حب الوطنی آج بھی قائم ہے جس کا ثبوت اس کا ایک بیٹا میجر امین اللہ ہے جو اسی کی یونٹ میں کمپنی کمانڈر ہے جبکہ دوسرا  بیٹا  نقیب اللہ اسسٹنٹ کمشنر ملتان کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ حبیب اللہ کی بیوی کو آج اپنے خاوند کے اس وقت کے فیصلے پر بے حد فخر ہے۔ || 


مضمون نگار مختلف موضوعات پر کہانیاں تخلیق کرتے ہیں۔
 

یہ تحریر 105مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP