ہمارے غازی وشہداء

سرفروشانِ وطن

دفاع وطن کسی بھی ملک کی افواج کے لیے افضل ترین فریضہ ہے اس امر کے باوجود کہ یہ جان جانے کا کھیل ہے اوریہ بھی کمال احساس ہے کہ زمینی سرحدوں کی حفاظت وجود کی بقاء سے زیادہ مقدم ہوجائے اورپھر بات جب ارض پاک پاکستان کی حفاظت کی ہو تو اس میں فوج اور عوام دونوں یک جان دو قالب ہوجاتے ہیں۔ جنگیں فوجیں قوموں کے ساتھ جیتتی ہیں، یہی تاریخ پاکستان کی فوج وقوم نے رقم کی ہے جب ستمبر1965ء میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کردیا، محدود وسائل اور ناموافق بین الاقوامی حالات کے باوجود پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی اور6ستمبر1965ء کا دن پوری قوم کے لیے فخر کا دن بن گیا۔



افواج پاکستان کو جہاں سرحدوں کی حفاظت کرنی ہوتی ہے وہاں اندرونی و بیرونی  سازشوں کے ساتھ دہشت گردی کے حملوں سے بھی چوکنا رہنا پڑتاہے، کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے جس میں اس قوم نے اپنی قربانی اور عزم اور افواج پاکستان کے تعاون سے عسکریت پسندوں کا قلع قمع کیا، دہشت گرد جہنم واصل رہے، کہیں ہولناک زلزلہ تھا،کہیں یہ محاذ سیلاب کی صورت کھلا اور معصوم مفلوک الحال عوام افواج پاکستان کی طرف دیکھنے لگی۔ ملک اور بیرون ملک سے امداد کے علاوہ جنہوں نے اپنی قوم کو اس تباہی سے بچانا تھا وہ تھی ہماری قابل فخر فوج۔ دن رات کی محنت اور انتھک کوششوں سے خطرناک مقامات سے لوگوں کو محفوظ مقام تک پہنچایا۔ ایک کندھے پہ کئی افراد اٹھائے، لہروں کے ساتھ بہتے بوڑھے بچے ڈوبنے سے بچائے، لاکھوں کو نقل مکانی میں مدد کی۔ ہر مشکل میں فوج اور قوم ایک ساتھ دکھائی دیتی رہی ہے، عصرحاضر میں یہ قوم کے جذبے اور عسکری طاقتوں کا عزم ایثار وقربانی کا احساس ہی ہے جو آنے والی کسی بھی آفت کو مات دے سکتا ہے۔ 


موت نے جب عشق کی رمز کو جان لیا تو یک جان ہوگئے یہ وہ عشق ہے جو شاہین کی نگاہ رکھتاہے، جومومن کی آماجگاہ ہے، جو خودی کی عباہے، جو نعرہ شبیر، نعرہ حیدری کی للکارہے، جو اذان بلال ہے ،وہ عشق وقوت جو ارض وسمامیں لاالٰہ الااللہ کی صدا بلند کرتا ہوا ضرب عضب اور ردالفساد میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتاہے، جو میزائلوں کے تجربے کرکے دشمن کے چھکے چھڑا دیتاہے، یہ قوت وعشق اپنے ہرمفاد کو پس پشت ڈال کر سیاچن گلیشیئر پہ برف کے  گھروں میں تن تنہا دشمن پہ نگاہ رکھے رہتاہے۔


 دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو پاکستان اور اقوام عالم کے لیے بہت بڑا چیلنج تھا اور جس پر عالمی طاقتیں ابھی تک قابو نہیں پاسکیں، پاک فوج نے شاندار کامیابی اور نتائج حاصل کیے ہیں۔ طاقت وقوت کے ساتھ اگر جذبہ قربانی اور حرمت کی پاسداری کا احساس نہ ہو تو ایسی طاقتیں طاغوتی طاقتیں کہلاتی ہیں۔ ہماری قوم اور افواج نے جس قوت کا انتخاب کیا ہے اقبال نے اس کے لیے  کہا
قوت عشق سے ہرپست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدۖ سے اجالا کر دے
 موت نے جب عشق کی رمز کو جان لیا تو یک جان ہوگئے یہ وہ عشق ہے جو شاہین کی نگاہ رکھتاہے، جومومن کی آماجگاہ ہے، جو خودی کی عباہے، جو نعرہ شبیر، نعرہ حیدری کی للکارہے، جو اذان بلال ہے ،وہ عشق وقوت جو ارض وسمامیں لاالٰہ الااللہ کی صدا بلند کرتا ہوا ضرب عضب اور ردالفساد میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتاہے، جو میزائلوں کے تجربے کرکے دشمن کے چھکے چھڑا دیتاہے، یہ قوت وعشق اپنے ہرمفاد کو پس پشت ڈال کر سیاچن گلیشیئر پہ برف کے  گھروں میں تن تنہا دشمن پہ نگاہ رکھے رہتاہے، یہی جذبہ اسے وزیرستان کی کھائیوں اور چوٹیوں پہ رات کے اندھیرے میں ہتھیار ہاتھ میں لیے چاروں اطراف دشمنوں کے چنگل میں موت کے خوف سے بے پروا مرد مجاہد کا ثبوت دیتاہے۔ وطن عزیز کو درپیش اندرونی وبیرونی تمام چیلنجز کے لیے ہردم تیار رہنے والی افواج، پاکستانی عوام اورہمارے تمام عسکری ادارے یک جان ہیں۔مشکل گھڑی اورکٹھن امتحان میں سنہری تاریخ رقم کرنے والی پاکستان کی افواج جنہیں شہادت کی لگن اور فتح کا جنون، خدا کی مدد پہ یقین اور اپنی خودی پہ فخر ہے، کو شکست  دینا دشمنوں کے لیے ناممکن ہے۔ان کے جذبے ہی ان کی منزل کی راہیں متعین کرتے ہیں۔ تاریخ اسلام سے لے کر آج تک تمام قومیں اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ مصائب و آلام ہی قوموں کو مضبوط اور یکجا کرتے ہیں۔ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بننے کا جذبہ آج پاکستان کے ہر بوڑھے، بچے، جوان،مرد اور عورت میں موجودہے۔ 
تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات تاریخ کے آئینے میں یوں نظر آتے ہیں کہ جہاں نظریات کے تضادات وجہ کشت و خون بنیں، وہاں اُن پُرخطر اور انقلابی راہوں میں منزل کا وہ نشاں ملتا ہے جس کے حصول کے لیے میدان میں اُترا جاتا ہے۔ مگر ہمیں یاد رکھنا ہے کہ جہاں وطن کی مٹی کاتقاضا ہو وہاں سب کچھ پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے اور اُس کی ایک مثال یہ ہے کہ سلالہ چیک پوسٹ پر 24 مائوں کے جگر گوشوں نے اپنی جان وطن کی نذر کی اور اہل خانہ نے فخر سے کہا کہ الحمدللہ دین و وطن پہ قربان ہونے والے ہمارے بیٹوں نے ہمیں سرخرو کیا۔ مجھے یہاں یاد آ رہا ہے کہ پنجاب رجمنٹ کے ایک جانباز سپاہی سے جب یونٹ کے سی او (CO) نے ایک چوٹی پہ قبضہ کرنے کے بارے میں اس کے جذبے کی شدت دیکھتے ہوئے اس کی تیاری کے متعلق پوچھا تو اُس نے کہا کہ سر! 
 شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
اُس جوان نے پاکستانی جھنڈا ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا تو سی او نے کہا کہ جوان یہ جھنڈا کیوں لے جا رہے ہو تو وہ مردِ آہن بولا ان شاء اللہ فتح کے بعد پوسٹ پہ لہرائوں گا۔ اگر شہید ہوگیا تو اسی جھنڈے میں لپیٹ کر مجھے گھر بھجوا دیجیے گا۔'' ایسے ہزاروں سرفروشانِ وطن آج بھی وطن پہ جان دے رہے ہیں۔
گیاری کا سانحہ جہاں 139 جاں فروشوں کی زندگی منجمد ہوگئی، سپاہی کاشف علی شہید جو ٹنڈوآدم میں پلا بڑھا، اُس نے جنوبی وزیرستان کی چوٹی ''ٹاپ رنگ'' پہ اس وطن عزیزکو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے اپنی جان دے دی اور دو آئی ای ڈیز کو اُڑنے سے پہلے اپنے ساتھیوں کو مطلع کردیااور اُن کی زندگیاں محفوظ بنا دیں۔ شہداء چاہے جی ایچ کیو میں ہونے والی دہشت گردی کے ہوں، نیٹو فورسز یا گیاری سیکٹر کے یا'دِیر' میں بے دردی سے مارے جانے والے ہمارے سپاہی، ہیلی کاپٹر کے کریش میں بریگیڈیئر افضل چیمہ یا آئی ڈی بلاسٹ میں جیپ میں شہید ہونے والے 33 بلوچ رجمنٹ کے سی او توصیف شہید ہوں یا دیگر آپریشنوں میں جامِ شہادت نوش کرنے والے یہ سب قوم کے محسن ہیں۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ ساتھ ہماری افواج پاکستان کی قربانیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ہمارے اس باعزت ادارے کی بابت کسی کو کوئی بات کرنے سے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ وہ ان فوجیوں کے لہو کے ایک ایک قطرے کے قرض دار ہیں۔ ہم لوگ تو شاید مرنے کے بعد اپنے پیاروں کے لیے بھی قصۂ پارینہ بن جائیں مگر یہ شہداء اور غازی ہماری سنہری تاریخ کا حصہ بن کر ہمیشہ فلک پہ ستاروں کی مانند چمکتے رہیں گے۔ ہم سب ان کے احسان مند اور ممنون ہیں۔ اللہ رب العزت نے بھی انبیاء اور صدیقین کے بعد ان شہداء کا مقام رکھا ہے۔ ||


مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 85مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP