متفرقات

سانحۂ مشرقی پاکستان حقائق کے تناظر میں

لیفٹیننٹ کرنل (ر)ثمین جان بابر ستارئہ جرأت (بار)

لیفٹیننٹ کرنل (ر) ثمین جان بابر کا شمار پاکستان آرمی کے ان جری سپوتوں میں ہوتا ہے جنہوں نے1965ء اور1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں حصہ لیا اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور کارناموں کے باعث دو مرتبہ ستارئہ جرأت اور ایک مرتبہ امتیازی سند کے اعزازات سے نوازے گئے۔ ضلع نوشہرہ کے باسی، دسمبر1941 ء میں پیدا ہوئے۔ PMA 25لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی اور اپریل 1962 میں پاس آئوٹ ہوکر بطورِ سیکنڈ لیفٹیننٹ 2 فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں شامل ہوئے۔1965کی پاک بھارت جنگ  میں رَن آف کچھ کے محاذ پر بیاربیٹ کے معرکے میں شامل ہوئے۔1971 کی جنگ میں آپ کو ستارہ جرأت(بار) سے نوازاگیا۔ 1970ء میں یونٹ کے ہمراہ مشرقی پاکستان پہنچے اور جیسور و کھلنا سیکٹرز میں1971ء کی پاک بھارت جنگ میں حصہ لیا۔دفاعِ وطن کے لئے ہمہ وقت تیار یہ غازی آج بھی پاکستان کے لئے لڑی گئی جنگوں کا ذکر نہایت فخر سے کرتا ہے۔



دسمبر 1971ء کی جنگ ہمارے وطن کے پاسبانوں کے جذبے اور صلاحیت کی ایک اور آزمائش تھی۔ حالات سخت ناموافق تھے۔ ہمارے بہادروں کے مقابل ایک ایسا حریف صف آراء تھا جو تعداد میں اس سے کئی گنا بڑا ہونے کے علاوہ برتر ہتھیاروں سے لیس تھا۔ جنگ کے دونوں محاذ ایک ہزار میل کے فاصلے پر تھے۔ ہمارے جوانوں کو اس طرح کے نامساعد حالات میں نبرد آزما ہونا پڑا، مگر اس کے باوجود انہوں نے بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کردی کہ جہاں تک جنگی صلاحیت اور جذبۂ ایثار کا تعلق ہے، ان کا کوئی جواب نہیں۔ اسی جنگ کے ایک ہیرو لیفٹیننٹ کرنل(ر) ثمین بابرجان بھی ہیں جو جنگ دسمبر کے دوران مشرقی محاذ پر دفاعی خدمات انجام دے رہے تھے۔ 'ہلال' نے ایک نشست کے دوران ان سے اس جنگ کے بارے میں کچھ باتیں کیں، جو قارئین ہلال کی نذر ہیں۔

سوال :  1971 کی جنگ کے دوران آپ مشرقی پاکستان میں پاک فوج کے کسعہدے پر اور کہاں تعینات تھے؟  

جواب:اس وقت میں مشرقی پاکستان کے جیسور سیکٹر (بالمقابل بھارتی سرحدی شہرکلکتہ) میںانفنٹری بٹالین کی الفاکمپنی کی کمان کررہا تھا۔جیسور کینٹ پہنچ کر 22 فرنٹیئر فورس رجمنٹ کو کھلنا شہر میں مارشل لاء ڈیوٹی اور دسمبر1970ء میںعام انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری سونپی گئی۔ انتخابات کے بعد حکومت بنانے کے لیت و لعل میں حالات بگڑنا شروع ہوگئے۔ شیخ مجیب الرحمن نے حکومت کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے مارچ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں اپنا راج قائم کردیا۔اسی دوران مکتی باہنی کارروائیوں نے کھلنا شہر میں بھی زور پکڑ لیا۔ان حالات میں مشرقی پاکستان آرمی کمان کی طرف سے احکامات ملنے پر ہم نے آپریشن سرچ لائیٹ شروع کردیا اور نتیجتاً ٹی وی سٹیشن، ریڈیو سٹیشن اوردیگر تنصیبات کو قابض مکتی باہنی سے خالی کروالیا اورعلاقے کی صورتِ حال پر قابو پالیا۔ازراہِ اطمینان چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبدالحمیدخان ، لیفٹیننٹ جنرل گل حسن اور کمانڈر مشرقی کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل امیرعبداﷲ خان نیازی نے وہاں کا دورہ کیا اور ہماری کھلنا کمپنی کی کارکردگی کو سراہا۔

                جو ن سے ستمبر تک ہم نے ستخیرہ(بھومرہ)، بیناپول،پٹکلی اور جھنگر گاچہ کے علاقوںمیں باغی ایسٹ بنگال رجمنٹوں، ایسٹ پاکستان رائفلز اور مکتی باہنی کے ساتھ لڑائی لڑی اور کئی بارڈر پوسٹیں خالی کروائیں۔اس کے بعد ہم ان پوسٹوںپرسرحد کی حفاظت کے لئے مامور رہے۔

3دسمبر کو جنگ کے باقاعدہ اعلان پر بالا کمان کی طرف سے ہدایات کے مطابق دشمن کی جیسور کی جانب پیش قدمی پر اسے تاخیردی اور اپنی پس قدمی کے دوران بھارتی فوج کو بھاری نقصان پہنچاتے رہے۔ بالآخر کھلنا پہنچ گئے اور اس کا دفاع کیا۔

سوال :  یہ کافی حد تک واضح ہو چکا ہے کہ 29 نومبر1971 ء کو جنگ کے باضابطہ آغاز سے قبل ہی بھارتی افواج نے پاک فوج پر حملے شروع کردیئے تھے آپ کے نزدیک اصل حقائق کیا ہیں۔؟

جواب:جی ہاں بھارتی فوج باضابطہ جنگ کے آغاز سے قبل ہی ہمارے خلاف جنگ کا آغاز کرچکی تھی۔ 3مارچ1971 کی رات کو آٹھ بجے ریڈیو نیوز پر سنا کہ بھارتی فضائیہ نے سلہٹ کے علاقوں میں فضائی حملے کئے ۔ ان حملوں کے پیشِ نظر ہم بھی کھلنا ڈسٹرکٹ میں الرٹ ہوگئے۔ ہماری فضائیہ نے مؤثر جوابی کارروائیاں شروع کردیں اور بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو ان کی فضائوں تک محدود کردیا۔ مگر کم تعداد کے باعث بہت جلد انڈیا کو مکمل فضائی برتری حاصل ہوگئی۔ نومبر کے پہلے ہفتے میں میری کمپنی (بینا پول) کے شمال میں سرحدی علاقوں بائرہ

(Boyra)

کی طرف سے بھارتی ٹینکوںکی پیش قدمی اور توپ خانے کے فائر کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔

سوال:  آپ کے نزدیک مشرقی پاکستان کے موسمیاتی اور دیگر جغرافیائی حالات 1971 ء کی جنگ پر کس طرح اثر انداز ہوئے؟

جواب  :   پاک فوج کے لئے مشرقی پاکستان میں جنگ لڑنا بہت مشکل مرحلہ تھا۔ وہاں سب سے بڑا خطرہ موسم کی دشواری تھا۔ بارشیں بہت زیادہ ہوتیں اور ہر طرف پانی ہی پانی رہتا۔ وہاں نالے بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اس وقت وہاں آمدورفت بھی انہی نالوں یا دریائوں پر بذریعہ کشتی ہوتی تھی۔ ہمارے جوان جب مورچے کھودتے تھے تو نیچے سے پانی نکل آتا۔ جس کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ان سب کے باوجود پاک فوج نے جس بہادری اور دلیری سے جنگ لڑی، وہ قابلِ ستائش ہے۔

سوال :  1971 کی جنگ کے دوران آپ مشرقی پاکستان میں پاک فوج کے کس عہدے پر اور کہاں تعینات تھے؟  

جواب:  مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان کا فضائی رابطہ بہت مشکل تھا۔ جہازوں کا بھارت کی فضائی حدود سے جانا ممکن نہ تھا۔ اس لئے مغربی پاکستان سے اضافی فورس اور سازوسامان

C-130

کی فلائیٹس پر براستہ کولمبو جاتے تھے،جو کہ ایک طویل سفر تھا۔ جبکہ مشرقی پاکستان کے اندر بھی ڈھاکہ سے آگے دیگر شہروں اور شہروں سے پوسٹوں تک سامان لے جانا بہت مشکل تھا۔ کیونکہ بھارتی فوج نے مکتی باہنی کے ہمراہ مختلف شہروں اور راستوں پر قبضہ کر رکھا تھا۔ ہر طرح کے ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کے لئے صرف چار ہیلی کاپٹر موجود تھے لیکن ان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مشرقی پاکستان کے اندرونی علاقوں تک رسائی بہت مشکل تھی کیونکہ بھارتی فوج مشرقی پاکستان میں ہر طرف پھیل چکی تھی۔

 سوال :  1971کے حالات میں پاک فوج کے افسروں اور جوانون کے جنگ میں کردار پر روشنی ڈالیں۔

جواب:1971 کی جنگ میں انتہائی نامساعد حالات کے باوجود ہمارے جوانوں اور افسروں نے اپنے حوصلے بلند رکھے اور جرأت و قربانی کی لازوال داستانیں رقم کیں۔ اس امر کی تصدیق بھارتی فیلڈ مارشل جنرل مانک شا نے اپنے انٹرویو میں کی کہ پاکستان آرمی اور بھارتی فوج میں سپاہ و سازوسامان کا 1:9 کا عددی فرق تھا۔ لیکن پھر بھی پاک فوج بہادری سے لڑی۔ ہمارے مقابلے میں آج ہندوستان 7 لاکھ سے زائد فوج کے ساتھ کشمیر پر قابض ہے لیکن اب تک کشمیریوں کے دل و دماغ سے پاکستان کے ساتھ تعلق کو کمزور نہیں کرسکا۔ اس کے برعکس بھارتی افواج میں خودکشیوں کی تعدادبڑھتی جارہی ہے جو ان کی پست ہمتی اور بزدلی کی آئینہ دار ہیں۔ جبکہ ہم مشرقی پاکستان میں بے جگری کے ساتھ لڑے۔ اپنے گھروںاور عزیز و اقارب سے ہزاروں میل دُور ہونے کے باوجود مصمم ارادے کے ساتھ ڈٹے رہے۔

       سوال: جنگ کے دوران لڑتے ہوئے آپ کا کوئی ناقابلِ فراموش واقعہ؟   

جواب :میری پیشہ ورانہ زندگی کے دو انتہائی اہم کارنامے ہیں جنہیں آپ میرے ناقابلِ فراموش واقعات کہہ سکتے ہیں۔ مجھے ہر لمحہ مدد خداوندی حاصل رہی اوریہی وجہ ہے کہ میری کارکردگی پرمجھے صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان فضل الٰہی چوہدری نے ستارئہ جرأت  (بار )سے نوازا۔

                 جیسور شہر سے تقریباً45 کلو میٹر دور جیسور ۔ ستخیرہ روڈ پر سرحدکے ساتھ بھومرہ بارڈر پوسٹ تھی جہاں سے بھارتی فوج کے کیمپوں سے تربیت یافتہ مکتی باہنی،ایسٹ بنگال رجمنٹ اورایسٹ پاکستان رائفلز کے باغی سرحد کے آر پارنقل وحرکت کرتے تھے۔ بھومرہ کے علاقے میں گھنے جنگل اور کئی آبی رکاوٹیں تھیں۔ اس پوسٹ کے گردایک ہزارمیٹر لمبائی کے محافظ بند پر باغیوں کی ایک کمپنی سے زیادہ کی نفری موجود تھی۔ اس علاقے میںمارچ، اپریل کے مہینوں میں بدامنی اپنے عروج کو پہنچ چکی تھی۔اس وقت 22 فرنٹیئر فورس رجمنٹ کا بٹالین ہیڈکوارٹر جھگرگاچہ منتقل کردیا گیا تھا۔ پاک فوج کی نقل و حرکت کینٹ اور پوسٹوں تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ 26 مئی1971ء کو بریگیڈ کمانڈربریگیڈیئر محمد حیات اورکمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل شمس الزمان کی طرف سے اس بارڈر آئوٹ پوسٹ پر آپریشن کے احکامات جاری ہوئے۔ضروری زمینی جائزے کے بعدمیںنے بریگیڈ کمانڈر اور کمانڈنگ آفیسر سے فضائی، توپ خانے اور اضافی سپاہ کی مددطلب کی جوبین الاقوامی سرحد پار گولہ باری کے اندیشے میںمیسر نہ آسکی۔ ایسی صورتِ حال میںمَیں نے نفوذ کر کے دشمن پر عقب سے حملے کی تجویز دی تو وہ بھی سرحد کی خلاف ورزی کے تناظر میںمنظور نہ ہوئی۔ تاہم بریگیڈ کمانڈر نے ایس ایس جی کے میجر(بعدازاںبریگیڈیئر) ٹی ایم شہید کی فورس سے بند کی دوسری جانب سے کارروائی و امداد کا یقین دلایا۔بالآخر 29/28 مئی  1971کو رات کے پہلے پہر ہم ہدف کی جانب بڑھے ۔یہ علاقہ گھنے جنگل کے عقب میں ایک اونچا بند تھا۔ بندکی جانب بڑھتے ہی دشمن چوکنا ہوگیا اوراس نے بندکی بائیں جانب سے فائرکھول دیاجس کی وجہ سے ہمارے تین جوان شہید ہوگئے۔ میرے ساتھ ایک اور آفیسر کیپٹن اعجاز تھے جنہوںنے دشمن کی مسلسل فائر کرنے والی مچان کی شناخت کرلی اور جس پر ہم نے راکٹ لانچر تان لیا مگر راکٹ فائر ہونے سے قبل ہی گولیوں کا ایک برسٹ آیا جس سے کیپٹن اعجازبھی شہید ہوگئے۔ اس کے بعد میں نے خوداس مچان کو راکٹ سے نشانہ بنا کراُڑا دیا۔ صورت حال کو بھانپتے ہوئے میں نے آپریشن کو موقوف کردیا۔آپریشن کی حساسیت اور ہمارے مزید نقصان کے اندیشے میں بریگیڈ کمانڈر نے میری مدد کے لئے بلوچ رجمنٹ کی ایک کمپنی، توپ خانہ اور فضائیہ کی مدد کا عندیہ دیا۔ لیکن بٹالین کمانڈر اور میںنے کسی مددکا انتظارکئے بغیر 30/29مئی کی صبح ہونے سے پہلے دوبارہ حملہ شروع کردیا اورمیری کمپنی نے دوپہر تک بند پر موجود تمام 10 مورچوںکو کلیئر کردیا۔ گھبراہٹ میںتمام مکتی باہنی اور دیگر باغی بھومرہ پوسٹ چھوڑ کر بھاگ نکلے اور کچھ مارے گئے۔ اس طرح ہم کچھ عرصے کے لئے علاقے میں حالات کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔

                اسی طرح ایک دوسرے آپریشن کی روداد اس طرح سے ہے کہ بھومرہ کو آزاد کرنے کے کچھ عرصہ بعدجون 1971ء کے اوائل میں  میری کمپنی کو بینا پول پر تعینات کیاگیا جو جیسور سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بارڈر پوسٹ تھی۔ میری کمپنی نے بغیرکسی بڑی مزاحمت کے بیناپول کو مکتی باہنیوں کے چنگل سے چھڑا لیا۔اس کے بعد ہم نے کافی حد تک علاقے میں امن قائم کئے رکھا۔

                 نومبر میں حالات نے دوبارہ پینترا بدلا ۔ بھارت کی فوج کا اصل مقصد مزید واضح ہونے لگا۔جنگ کے باقاعدہ آغاز کے چند دن بعد6دسمبر1971ء کو بھارتی ٹینک اورانفنٹری میری کمپنی کے شمال سے حرکت کرتے ہوئے چواگاچہ کے علاقے میںجا پہنچے۔پہلے دو دنوں ہی میں ہماری فضائیہ غیرفعال ہوچکی تھی۔بھارتی فوج جیسورکی طرف پیش قدمی جاری رکھے ہوئے جیسور۔ بینا پول روڈ کو منقطع کرکے ہمیں سرحدی علاقے میں محصور کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ اس خطرے کے پیشِ نظر بریگیڈ کمانڈر نے میری کمپنی کو پست قدمی کرتے ہوئے دشمن کو 24 گھنٹے تاخیر دینے کا حکم دیا اور بقیہ بٹالین کے ساتھ جھگرگاچہ پرملاپ کرنے کا کہا۔ میری کمپنی پست قدمی کے دوران7دسمبر 1971ء کو  جیسور کے جنوب میں Y جنکشن پر ڈیپلائے ہوئی، ریکائلیس رائفل کی مدد سے تین بھارتی ٹینک تباہ کئے اور دشمن کو 72 گھنٹوں سے زیادہ تک تاخیردے دی۔واضح رہے کہ دشمن کی پیش قدمی کا اصل مقصد ڈھاکہ تھا۔لیکن ہماری کمپنی کی طرف سے پہنچائے گئے بھاری نقصان کی وجہ سے بدلہ لینے اور ہماری تباہی کے زعم میں دشمن کھلنا شہر کی جانب پیش قدمی کرآیا۔ آپ کے ذہن میں سوال ضروراٹھے گا کہ اتنے توپخانہ، آرمر، ہوائی حملوں اور بھارتی فوج کا مقابلہ ہماری کمپنی کیسے کر پائی۔اس کا بڑا آسان جواب ہے کہ ہماری ہمت اور حوصلے کے ساتھ جنگلوں اورآبی رکاوٹوںنے ہماری بہت مدد کی۔ دولت پور (کھلنا شہر کے مضافات) پہنچنے پر ہم نے دشمن کو مزید مزاحمت دی اور اسے آخر تک کھلناشہر پرقبضہ نہ کرنے دیا۔اس کے بعد جب ہمیں سرنڈر کے احکامات موصول ہوئے تو ہم نے اپنے ہتھیاردشمن کے حوالے کرنے کے بجائے کھول کر کھلنا دریا میں بہا دیئے۔

سوال :  1971 ء میں آپ ایک عام بنگالی کے پاکستان کے لئے جذبات کو کس طرح بیان کریں گے ؟

جواب:مشرقی پاکستان میں مقیم عام بنگالی مغربی پاکستان کے لوگوں سے محبت کرتے تھے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے پیار اور ایثار کے جذبات تھے۔ پاکستان کے ساتھ اُن کی وفاداری پر شک کرنا مناسب نہ ہوگا۔بیشتر بنگالی ہمارے ساتھ سکولوں میں پڑھتے تھے اوربہت اچھے دوست تھے۔ یہ لوگ بہترین فہم و فراست کے حامل اور اپنے حقوق سے آگاہی رکھتے تھے۔عام انتخابات کے انعقاد کے بعد بنگالیوں کو یہ یقین تھا کہ جیتنے والی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع ملے گا۔ مگر عوامی لیگ کی حکومت نہ بننے پر ان میں  پریشانی پھیل گئی اور حالات میںبگاڑ جنگ کی شکل اختیار کر گیا۔ بعدازاں مشرقی پاکستان میں بہت سے بنگالیوں کو مغربی پاکستان سے علیحدگی کے دُکھ میں روتا ہوا دیکھا گیا۔ان کی پریشانی اور دکھ دیدنی تھے۔ جب انہوں نے بھارتی ٹرینوں میں لوٹ کھسوٹ کا سامان بنگلہ دیش سے بھارت منتقل ہوتے دیکھا۔ کچھ لوگوںنے تو اس حد تک کہا کہ ''بھارت سے تو مغربی پاکستان کئی گنا بہتر تھا۔'' مزید یہ کہ مجیب الرحمن کے خلاف بغاوت اور اس کا قتل بھی اسی امراور ناپسندانہ اقدام کا شاخسانہ تھا۔

سوال:      میڈیا میں 25 مارچ1971 ڈھاکہ میں ہونے والے فوجی آپریشن کو تشدد کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے لیکن بہت سی اشاعت سے واضح ہوا ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے مارچ1971 سے پہلے ہی مداخلت کرچکے تھے۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب:ہم سب کی نظر یں مارچ کے اسمبلی سیشن کے انعقاد پر جمی ہوئی تھیں۔ جیسے ہی ڈھاکہ میں 3 مارچ کو ہونے والے اسمبلی سیشن کو ملتوی کیا گیا تو بھارتی خفیہ اداروں اور مجیب الرحمن کے ساتھیوںنے مشرقی پاکستان میں بغاوت کا تاثر پھیلادیا۔ علاقے میں مجیب راج قائم کردیاگیا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم مغربی پاکستان کے طلباء کو بُری طرح تشدد کرکے قتل کردیا گیا۔ تمام اہم اداروں پر مجیب کے حامیوں نے قبضہ کرنا شروع کردیا۔ 25 مارچ1971ء کو چھائونیوں کے علاوہ مختلف علاقوں میں پاکستان کے جھنڈے تک پھاڑ دیئے گئے تھے۔ پاک فوج کو چند شہروں تک محدود کردیا گیا تھا۔حتیٰ کہ پاک فوج اتنا دفاعی انداز اختیار کرچکی تھی کہ اگر حرکت کی ضرورت ہوتی تو کم از کم پلاٹون سے زیادہ نفری کے ساتھ کی جاتی تھی۔اسی دوران چٹا گانگ شہر سے گزرتے ہوئے پاک فوج کے ایک کپتان سے بنگالیوں نے اس کا ہتھیار چھین لیا اور جے بنگلہ کے نعرے لگاتے ہوئے اس کی تذلیل کی۔اس بگڑتی ہوئی صورت حال میں مغربی پاکستان کے افسروں اورجوانوں کی فیمیلیز کو مغربی پاکستان واپس بھیجنا شروع کردیا گیا۔ 25 مارچ1971ء  کا کریک ڈائون ایک مجبوری بن چکا تھا لیکن پاک فوج کی جانب سے، باغیوں کے خلاف کسی قسم کا تشدد ممکن نہ تھاجبکہ بھارتی خفیہ ادارے اور افواج ہر قسم کے منفی پراپیگنڈہ میںبھرپور سرگرم عمل ہو چکے تھے۔

سوال :  پاک فوج پر بنگالیوں کے قتل عام کا الزام لگایا جاتا ہے۔آپ کے نزدیک حقائق کیا ہیں۔؟

جواب:پاک فوج پر بنگالیوں کے قتل عام کے الزام میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اس کا ذکر سرمیلہ بوس نے اپنی کتاب

Dead Reckoning

  میں بھی کیا ہے ۔ یہ تو بھارت اور عوامی لیگ کا پراپیگنڈہ تھا جس کا صرف اور صرف مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا تھا۔ درحقیقت قیامِ پاکستان کے فوری بعد سے بھارتی ایجنٹ مشرقی پاکستان کے لوگوں میں پھیل چکے تھے۔ انہوںنے پہلے پہل تو نام نہاد حقائق کی بدولت پڑھے لکھے طبقے میں حسد اور نفرت کے جراثیم بوئے، اس کے بعد پُرتشدد کارروائیاں شروع کردیں اور عوام کو نشانہ بنایا۔ پاک فوج اپنے ہی لوگوں پر تشدد کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی جبکہ تمام تر قتلِ عام بھارتی فوج یا ان کے ایماء پر کام کرنے والے مکتی باہنیوں کی جانب سے کیا گیا۔ ہاں باغیوں کے خلاف پاک فوج کی جانب سے کی گئی کارروائیوں میں گیہوں کے ساتھ گھن کے پسنے کا انکاربھی نہیں کیا جاسکتا۔ مارچ کے آپریشن کے بعد جب حالات میں بہتری آئی اور کمانڈر مشرقی پاکستان لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداﷲ خان نیازی نے کھلنا ڈسٹرکٹ کا دورہ کیا تو میںنے اُنہیں مکتی باہنی کے قائم کردہ ذبح خانے دکھائے جہاں وہ مغربی پاکستانیوں یاپاکستان کے حامیوں پر تشدد اور ان کا قتلِ عام کرتے تھے اور اس کے بعد لاشیں کھلنا دریا میں بہادیتے تھے۔

سوال :آپ کے خیال میں مشرقی پاکستان کے اندرونی و بیرونی تناظر میں بھارتی پراپیگنڈہ کس حد تک مؤثر رہا؟

جواب:بھارتی بیرونی و اندرونی منفی پراپیگنڈہ انتہائی مؤثر انداز میں کام کررہا تھا۔ اندرا گاندھی نے فی الفور روس کے ساتھ فرینڈشپ ٹریٹی کرلی اور جدید ہتھیار اکٹھے کرنا شروع کردیئے۔ اس کے علاوہ فرانس اور برطانیہ کے بھی دورے کئے۔ مزید برآں بیرونِ ملک بھارتی مشن ہائوسز نے پاک فوج کی جانب سے مشرقی پاکستان میںظلم کی جھوٹی داستانیں گھڑنی شروع کردیں اور مہاجرین کے مسائل اُچھالنا شروع کردیئے۔ دوسری طرف اندرونی محاذ پر بھارتی خفیہ اداروں کے منفی پراپیگنڈہ نے مشرقی پاکستان میں زور پکڑ لیا۔ وہ سسٹم میں اس قدرمداخلت کرچکے تھے کہ پاک فوج سمیت مختلف اداروں کی ڈھاکہ اور دیگر شہروں کے مابین ہونے والی خط کتابت اور ٹیلیفونک گفتگو بھی ریکارڈ کی جاتی۔ بنگالی ٹیلیفون آپریٹرز تک بھارتی ایجنسیوں کے کہنے پر خفیہ معلومات اکٹھی کرتے رہتے۔

سوال :  مشرقی پاکستان میں ترقی کے معاملات پر بہت زیادہ اختلافات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ اس مسئلے پر آپ کا کیا نقظہ نظرہے؟

جواب:میں اس بات سے مکمل اتفاق نہیںکرتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ مشرقی پاکستان میںجو خوشحالی آرہی تھی جو واضح تھی۔ لیکن عوامی لیگ اور بھارتی خفیہ اداروں نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں ترقی کے موازنے کا پراپیگنڈہ شروع کردیا۔ ہم آج پاکستان میں نظر دوڑائیں تو ہمارے تمام صوبوں کی ترقی یکساں نہیں ہے۔ لیکن تمام صوبے پھر بھی خوشحالی کی راہ پر گامزن ہیں۔یہ احوال صرف پاکستان کا نہیںبلکہ دُنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی ریاستوں میں بھی ترقی کا عمل یکساں نہیں ہوتا۔ میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ مشرقی پاکستان میں1970 میں تباہ کن سیلاب آئے تھے جس پر پاکستان کو بیرونی امداد ملی تھی۔اس پر بھی یہ پراپیگنڈہ کیا گیا کہ تمام امداد مغربی پاکستان میں استعمال ہوگئی اور بنگالیوں کو کچھ نہیں ملا۔ حتیٰ کہ خام پٹ سن بھی مغربی پاکستان چلی جاتی تھی اور مشرقی پاکستان میں اس کے کوئی فوائد نہیں ملتے تھے۔ان تمام منفی پراپیگنڈوں سے پاکستان کی ساکھ کو بیرونِ ممالک میں بہت زیادہ نقصان ہوا۔

سوال :مکتی باہنی کو تربیت اور اسلحہ فراہم کرنے میں بھارت کا کردار کیا رہا؟

جواب:بھارتی فوج کی مکتی باہنی کو تربیت اور اسلحے کی فراہمی روزروشن کی طرح عیاں ہے۔ بھارتی فوج نے سرحدی علاقوں میں متعدد کیمپ قائم کردیئے تھے جہاں دو ہفتوں سے لے کر دو ماہ تک مکتی باہنی کو ہتھیاروں اور بارود کے استعمال کی تربیت دی جاتی تھی۔ بھارتی خفیہ اداروں نے ہر سطح پر مکتی باہنی کی مدد کی اور ان کے بھیس میں انٹیلی جنس ایجنٹ مشرقی پاکستان میں داخل کئے۔ اس دور کی جدید ٹیکنالوجی بھی فراہم کی۔ اس کے علاوہ بھارتی فوج بہت سے مقامات پر مکتی باہنی کا روپ دھار کر پاک فوج کے خلاف لڑتی رہی۔ بالآخر یہ شرپسند ہماری سپلائی اور نقل وحرکت میں ایک بہت بڑی رکاوٹ بن گئے۔اس کا اظہارجنگ کے اختتام پر اندرا گاندھی نے یوں کیا ''ہم نے آج پاکستان سے ہزار سالہ تاریخ کا بدلہ لے لیا ہے۔'' اس کے بعد موجودہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے بھی اپنے ایک خطاب میںمشرقی پاکستان میں بھارتی مداخلت کا برملا ذکر کیا۔

سوال :  ہم نے1971ء کے بعدبھارت کی ہمسائیگی میں 47 سال کا سفر طے کرلیا ہے۔ آپ کے خیال میں سیاسی اور قومی تناظر میں کون سے اقدامات  پر توجہ مرکوز رکھنی چاہئے تاکہ دوبارہ ایسی کسی صورت حال پیش نہ آئے؟

جواب:ہم نے من حیث القوم بہت قربانیاں دی ہیں۔ موجودہ حالات میں بھارت کی حرکات کا موازنہ 1971ء سے کرنا ممکن نہیں ۔مشرقی پاکستان میں بھارت نے ہماری سیاسی کمزوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حدود سے تجاوز کیا۔ اس نے ہماری جغرافیائی پوزیشن کے ساتھ ساتھ ہماری فوج کی عددی مشکلات کا بھی بھرپور فائدہ اٹھایا اور ہمیں دولخت کردیا۔ اب جب ہم دوبارہ ایک قوم کے طور پر کھڑے ہیں تو ہمیں آپس میں یگانگت کو مضبوط رکھنا ہوگا، کشمیر پر اپنے مؤقف کواُجاگر کرتے رہنا ہوگا اور بھارت کی جانب سے اندرونی خلفشاروں کا ادراک رکھتے ہوئے دشمن کی کلبھوشن طرز کی کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ہمارے اتحاد میں ہی ہماری بقاء ہے۔


 

 

یہ کالم 298 مرتبہ پڑھا ہے

اس کالم پر اپنے خیالات تحریر کریں

Success/Error Message Goes Here
برائے مہربانی اپنے اکاؤنٹ میں لاگ ان کریں اور اس مضمون پر اپنے خیالات تحریر کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road Sadar, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-1617

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP