قومی و بین الاقوامی ایشوز

زیرو و یسٹ مینجمنٹ اور سماجی بیداری کا عمل 

انسان کے رہن سہن میں تبدیلی ، خواہشات و استعمالات میں اضافہ اور عمومی طور پر احساس ذمہ داری میں کمی کئی بڑے مسائل کو جنم دے چکی ہے جن میں فضلہ بھی ایک بہت اہم مسئلہ ہے ۔فضلہ کسی استعمال شدہ ، خراب  یا پرانی چیز کو پھینکنایا  ٹھکانے لگانا ہے جس کی چند بڑی وجوہات ہسپتالوں ، صنعتوں ، گھریلو ، کاروباری اور زراعتی سرگرمیاں  ہیں۔بڑھتے ہوئے فضلہ کی وجہ سے  بلاواسطہ یا  بلواسطہ پیدا شدہ مسائل میں انسانوں ، جانوروں اورپودوں کی صحت کولاحق خطرات ، خوراک میں کمی، بیماریوں اور آفات میں اضافہ، قدرتی وسائل میں کمی، موسمیاتی تبدیلی،آبی و زمینی  ماحولیاتی آلودگی اور  قدرتی ماحول  و حیاتیاتی تنوع میں کمی وغیرہ شامل ہیں۔ 



ٹھوس فضلہ کی چند اہم اقسام میں قدرتی طور پرختم ہو جانے والا حیاتیاتی فضلہ ''بایئوڈیگریڈایبل ویسٹ'' جن میں خوراک، کچن کی دیگر اشیاء کاغذ اور سبزہ وغیرہ  شامل ہیں۔ کچھ عوامل سے گزارنے کے بعد دوبارہ قابل استعمال ہونے والا فضلہ''ری سائیکل ایبل ویسٹ'' کہلاتا ہے جس میں کاغذ، شیشہ،کچھ اقسام کی  پلاسٹک ، کپڑا اور  بیٹریز وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فضلہ کی دیگر اقسام میں الیکٹریکل اور الیکٹرونکس کا فضلہ جس میں فریج، ٹی وی، کمپیوٹر وغیرہ شامل ہیں اور دو یا دو سے زیادہ مادوں سے مل کر بنا  ہوا مرکب فضلہ ''کمپوزٹ ویسٹ'' جس میں ٹیٹرا پیکس، فائبر گلاس، پلائی وڈ  وغیرہ بھی شامل ہیں۔ قدرتی طور پرختم نہ ہو جانے والا فضلہ ''نا ن بایئوڈیگریڈایبل ویسٹ'' جس میں عمارتی باقیات  مثلاً  پتھر، اینٹیں، ریت وغیرہ شامل ہیں۔ خطرناک اور زہریلا فضلہ''ہیزرڈیئس اینڈ ٹاکسک ویسٹ'' مثلا ً ہسپتالوں کا فضلہ، پینٹس ، کیمیکلز، کھادوں اور سپرے کی پیکنگ  وغیرہ  شامل ہے۔  
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ اڑتالیس ملین ٹن سے زائد  ٹھوس فضلہ  پیدا ہوتا ہے جس میں سالانہ دو اعشاریہ چار فیصد کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے اور ہر دن میں ہر شخص اوسطاًدو سو تراسی (283)سے لے کر چھ سو بارہ(612) گرام تک فضلہ پیدا کرتا ہے ۔ فضلہ  پیدا کرنے کی یہ فی کس مقدار ترقی یافتہ ممالک سے کہیں کم ہے لیکن دوسرے ترقی پذیر ممالک کی طرح مناسب  انتظام ، سہولیات کے فقدان  اور عوامی سطح پر مناسب آگہی اور تربیت نہ ہونے کی وجہ سے اسے زیادہ تر جلادیا جاتا ہے، خالی جگہوں پر پھینک دیا جاتا ہے یا  زمین میں دبا دیا جاتا ہے جس سے ہر قسم کی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
فضلہ کے مسئلہ سے نمٹنے کے لیے جو کوششیں ہو رہی ہیں ان کا  اہم پہلو  یہ ہے  کہ پہلے تو فضلہ کے پیدا ہونے کو کم سے کم کیا جائے اور اگر یہ پیدا ہو بھی جائے تو اس کو بار بار  ری سائیکل کر کے دوسری اشیا بنائی جائیں یا متبادل توانائی کے لئے استعمال کیا جائے تاکہ اس کو کہیں دبانے، جلانے یا پھینکنے کی نوبت ہی نہ آئے یعنی کہ زیرو ویسٹ کی طرف جایا جائے  ۔ زیرو ویسٹ کا مرکزی نقطہ انفرادی اور مقامی سطح پر کوششیں کرنے کا ہے یعنی کہ چیزوں کا استعمال کم کیا جائے ، چیزوں کا استعمال با ر بار کیا جائے اورباقی ماندہ فضلہ کی ری سائیکلنگ کر کے نئی اشیا بنائی جائیں ۔
پاکستان میں زیرو ویسٹ کے لئے  عوامی سطح  پر شعور بیدار کرنے اور اس سلسلے میں منظم کوششیں کرنے کی انتہائی ضرورت ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ فضلہ کو ری سایئکل کرنے یا ٹھکانے لگانے کا کوئی مناسب انتظام کرنا ہوگا تاکہ یہ گلیوں یا سڑکوں پر نہ بکھرا رہے اور فضلہ کو اس کی ا قسام مثلاً کاغذ، شیشہ، لوہا، پلاسٹک وغیرہ کی بنیاد پر علیحدہ  علیحدہ اکٹھا کرنے کی  انفرادی و اجتماعی سطح پر کوشش ہونی چاہئے ۔
ویسے تو ہمیں زندگی کے ہرپہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں اور کیسے  فضلہ کے پیدا ہونے کو کم کر سکتے ہیں اس کے لیے ہمیں ذمہ داری سے عمل کرنا ہوگا اور محتاط رویّے اور مناسب طریقے اپنانے کی ضرورت ہے۔ زیرو ویسٹ کی سطح تک پہنچنا عملی طور پر بہت مشکل تو ہے لیکن یہ ناممکن نہیں ۔زیرو یسٹ کے حوالے سے عوامی سطح پر احساس ذمہ داری پیدا کرنا اور ان کے لئے تربیتی پروگرامز منعقد کروانا ضروری ہیں۔یہاں زیرو ویسٹ کے حصول اورسماجی بیداری کے عمل میں مدد دینے کے لئے چند ایک ضروری گذارشات پیش کی جا رہی  ہیں ۔

1۔ انفرادی و اجتماعی طور پر ہمیں چاہیے کہ اپنی بڑھتی ہوئی خواہشات کو محدود رکھیں اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر کریں اور انتہائی ضرورت کے احساس کے تحت ہی پانی، خوراک، لکڑی اور زمین کا استعمال کریںاوران کو ضائع ہونے سے بچائیں ۔
2۔ ضرورت کے وقت مضبوط ،  پائیدار اور کثیرالمقاصد اشیا خریدی جائیں ۔اگر ممکن ہو تو پرانی اشیاء خریدی جائیں۔ قابل استعمال پرانی اشیا کو پھینکنے کے بجائے سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں فروخت کیا جائے۔
3 ۔معمولی خراب ہونے پر اشیاء کی مرمت کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ اس کوشش میں  درزی ، رفو گر، موچی اور ترکھان سے مدد لی جائے تو بہتر ہو گا۔
4۔ قدرتی طور ختم ہو جانے والی اشیاء کے استعمال کو رواج دیا جائے اور ڈسپوزابیل اشیا اور پلاسٹک کے استعمال کو کم سے کم کیا جائے خصوصاً  برتن، شاپنگ بیگز، پینے کے لئے سٹراز، پیکنگ میٹریل وغیرہ ۔ 
5۔ ٹشو پیپر زکے بجائے کپڑے یا رومال کو ترجیح دی جائے۔
6۔ بجلی کے استعمال کو کم کریں اورشمسی اور ہوائی توانائی کے استعمال کو رواج دیا جائے۔
7۔ گھریلو استعمال کی اشیا اور اخبارات و کتب و رسائل کو ہمسائیوں اور رشتہ داروں سے شیئر کرنا چاہیے۔
8 ۔پرانی اشیاء مثلاً بستر کی چادریں، پردے، تولیے ، شیشے کی بوتلیں وغیرہ کو دوسرے انداز میں استعمال میں لایا جائے  جیسے کہ صفائی کے کپڑے، رومال، کپڑے کے بیگ، فرشی چٹائیاں وغیرہ
9۔ گاڑی ، فرش اور دروازوں کو گیلے کپڑے سے صاف کریں اور صرف انتہائی ضرورت کے وقت ان کو دھویا جائے۔ ڈش واشر اور واشنگ مشین کو برتنوں اور کپڑوں سے بھر کر ہی چلائیں۔
10۔ سبزیوں اور پھلوں  کے فضلہ کو کھاد کے طور پر استعمال کریں۔
11۔ تھوڑے فاصلے کے لئے پیدل چلیں یا سائیکل پر جائیں۔
12۔ ایک دفعہ استعمال ہونے والی بیٹری کے بجائے  بار بار چارج ہونے والی بیٹری کا استعمال کریں۔
13۔ اگر ممکن ہو تواستعمال  شدہ پانی کو صفائی ، پودوں کو پانی دینے اور دیگر کاموں میں دوبارہ  استعمال کیا جائے۔
14۔ جہاں تک ممکن ہوبجلی، گیس، پانی اور دیگر بلز آن لائن ادا کریں اور  اس کے ساتھ ساتھ دوسری آن-لائن سہولیات سے استفادہ کیا جائے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی سطح پر زیرویسٹ سے متعلق پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر عوام کے لئے آگاہی مہم چلائے اور رہنمائی فراہم کرے  تاکہ وہ اس معاملے میں ذمہ دار شہری کا کردار ادا کرسکیں۔ ||


ڈاکٹر ضیا الحق پاکستان کی پہلی قومی تجربہ گاہ برائے موسمیاتی تبدیلی  ، جامعہ پنجاب لاہور کے ڈائریکٹر اور مرکزی تحقیق دان ہیں اورتحقیقی سنٹر فار ریموٹ سینسنگ کے انچارج ڈائریکٹر ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 201مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP