متفرقات

زہریلی ذہنیت آج بھی زندہ ہے

سردیوں کی آمد آمد ہے۔ صبح ٹھنڈک‘ دن نسبتاً بہتر۔۔۔ بلکہ باہر تھوڑی گرمی محسوس ہونا‘ کمروں میں ٹھنڈک لگنا اور پھر رات کی ٹھنڈ ہی دراصل ہمارے لئے ایک چیلنج ہے اور اگر ہم اس کے مطابق اپنے آپ کو

adjust

کر لیتے ہیں تو بیمار ہونے کے چانسز کم ہو جاتے ہیں۔ کئی سال پہلے سردیوں کی آمد آمدتھی‘ فجر کی نماز کے بعد تین چار دن لگاتار جنازے کا اعلان ہوتا رہا۔ سردیوں کے شروع اور زیادہ سردیوں میں بزرگ زیادہ فوت ہوتے ہیں۔ اس بات کو میں ہر سال نوٹ کرتی رہی اور واقعی اس میں کافی حد تک صداقت لگی لیکن یہ صرف ہمارا مشاہدہ ہے ہر شخص کی موت کا ایک وقت متعین ہے۔

سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی نزلہ‘ زکام‘ فلو‘ کھانسی‘ بخار‘ نمونیہ اور جوڑوں کا درد وغیرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ پانی کے کم استعمال کی بدولت اکثر لوگوں کو پیشاب کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔

اﷲتعالیٰ نے موسموں کی تبدیلی میں بہت بڑی حکمت رکھی ہے۔ موسم سرما میں برف باری ہوتی ہے۔ اگر گرمی نہ پڑے اور ایک ہی موسم زیادہ دیر ٹھہر جائے تو ہم اس سے بھی بور ہو جائیں گے۔ سردیوں میں ہمیں گرمیوں کے پھل اور گرمیوں میں سردیوں کے کینو‘ مالٹے اور لحاف میں گھس کر مونگ پھلیاں کھانا یاد آتا ہے۔ موسموں کی تبدیلی اور تغیر میں انسانوں کے لئے دلچسپی اور سکون کا سامان رکھا ہے۔ سردیوں کی بیماریوں سے بچاؤ انتہائی آسان ہے بس کچھ چیزوں کا خاص دھیان رکھیں۔ فلو‘ زکام اور نزلہ کی صورت میں کوشش کریں کہ ناک اور منہ ڈھانپ کر رکھیں۔ ماسک کا استعمال کریں اس سے آپ خود کو فلو اور زکام کے جراثیم دوسرے کو منتقل کرنے سے روک سکیں گے۔ ایسی چیزوں کا استعمال کریں جو فلو میں آپ کو بیماری کے خلاف مدافعت فراہم کریں۔ شہد میں اﷲ تعالیٰ نے شفا رکھی ہے۔ گرم پانی میں شہد کا استعمال کریں۔ فلو میں سٹیم لیں‘ نمک ملے گرم پانی کے غرارے کریں اور گرم مشروبات استعمال کریں۔ جن میں یخنی‘ سوپ‘ سبز قہوہ اور چائے وغیرہ شامل ہیں‘ اپنے آپ کو گرم رکھیں۔ گرم بنیان اور پاجامے کا استعمال ضرور کریں۔ وضو اور غسل کے لئے گرم پانی استعمال کریں۔ باہر نکلنے سے پہلے اپنے کان اور ناک کو اچھی طرح ڈھانپ لیں۔ بعض لوگ بطور فیشن سویٹرز کا استعمال کم کرتے ہیں۔ خاص طور پر ہمارے نوجوان جانے کیوں سویٹر اور ٹوپی پہننے میں ہتک محسوس کرتے ہیں۔ تھوڑی سی احتیاط سے اگر آپ اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں تو سویٹر پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

بزرگوں کا سردیوں میں خاص خیال رکھیں۔ خاص طور پر صبح اور رات کو جب درجہ حرارت خاصہ کم ہوتا ہے۔ سینہ‘ سر‘ کان اور پیر خاص طور پر ڈھانپ کر رکھیں۔ جہاں تک ممکن ہو دھوپ میں بیٹھنے کا اہتمام کریں۔ کوشش کریں ایک دم سے گرم سرد ہونے سے اپنے آپ کو بچائیں۔ دہی میں قدرتی طور پر ایسے اجزاء موجود ہیں جو تیز زکام کے لئے بہت بہتر ہے۔ ہیٹر والے کمرے میں بیٹھنے سے

Dehydration

ہو جاتی ہے اس لئے پانی‘ قہوہ اور سوپ پیتے رہیں۔ زکام کی صورت میں دو سے تین کپ قہوہ اور شہد ضرور لیں۔ شیرخوار بچوں کے لئے احتیاطی تدابیر

نومولود اور شیرخوار بچے سردی سے جلد متاثر ہوتے ہیں۔ بچوں کو ہم گرم کپڑے تو پہناتے ہیں لیکن انہیں گود میں لیتے وقت احتیاط نہیں کرتے۔ گود میں لیتے ہی

top

یا شرٹ اوپر ہو جاتی ہے۔ اندر فلالین کی بنیان پہنائیں پھر بغیر آستین کا سویٹر پھر‘

High Neck‘

پھر ٹراؤزر شرٹ اور ٹراؤزر کے اندر گرم پاجامہ پہنائیں جو تھوڑا لمبا ہو جو زیرجامہ بنیان کے اوپر تک آ جائے۔ اس سے خاصی حد تک بچے کا جسم گرم رہتا ہے اور سردی نہیں لگتی۔ اسی طرح ٹمپریچر کے اتار چڑھاؤ سے بچیں۔ بعض اوقات ہم کمرہ بہت گرم رکھتے ہیں اور جب باہر نکلتے ہیں تو ٹھنڈ۔۔۔ درجہ حرارت کا یہ اتارچڑھاؤ بیمار کرتا ہے۔ جب آپ نے باہر جانا ہو توہیٹر بند کر کے دروازہ کھول دیں تاکہ اندر باہر کے درجہ حرارت میں بہت زیادہ فرق نہ رہے۔ اکثر چھوٹے بچوں کی ماؤں کو اگر آپ

steam

کا مشورہ دیں تو ان کا کہنا ہوتا ہے کہ اتنے چھوٹے بچے کو

steam

کیسے دے سکتے ہیں۔ انتہائی آسان کام ہے۔ بچہ جہاں سو رہا ہے وہاں گرم پانی کا ٹب یا بالٹی رکھ دیں۔ بچے کو

steam

ملتی رہے گی۔ اگر بچہ جھولے میں سو رہا ہے تو ٹب جھولے کے ساتھ رکھ کر چادر جھولے پر ایسے ڈالیں کہ بھاپ اندر رہے بچے کو آرام سے

Steam

مل جائے گی۔ بازار کے کھانوں سے پرہیز کریں

کمرشل فوڈسے خاص طور پر پرہیز کریں۔ بازار کے کھانوں میں تیل اچھی کوالٹی کا استعمال نہیں ہوتا جس کی بدولت گلا بہت جلدی خراب ہو جاتا ہے۔ کھٹی چیزیں اور ٹھنڈی چیزیں بھی گلے کے لئے نقصان دہ ہیں۔ گھر کے بنے ہوئے چکن کارن سوپ ‘ ہاٹ اینڈ سؤر سوپ

(hot and sour)

انجوائے کریں۔ اُبلے ہوئے انڈے‘ کافی ‘چائے‘ کشمیری چائے‘ قہوہ‘ گرم دودھ‘ اوولیٹن کے ساتھ بچے بہت شوق سے پیتے ہیں۔ سری پائے‘ نہاری بھی کبھی کبھار شامل کریں۔ شلجم‘ گاجر‘ بند گوبھی‘ مٹر‘ سبز پیاز کا سوپ بنائیں۔ اﷲتعالیٰ نے ان تمام سبزیوں میں کینسر سے بچاؤ کے لئے مدافعت رکھی ہے۔ سردیاں ہوں اور ساگ نہ ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہمارے گھر سرسوں کا ساگ اوائل سردیوں سے شروع ہو کر اس کے اختتام تک پکتا رہا ہے۔ اور گرمیوں میں اس کا ذائقہ یاد کر کے سردیوں کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔ کبھی سرسوں کا ساگ دیسی گھی اور مکئی کی روٹی پسندیدہ کھانا تھا۔ میری امی جی مکئی کی روٹی بہت اچھی بناتی تھیں۔ یہ واحد کام تھا جو میں امی سے ضد کر کے کرواتی تھی۔ کچن میں کرسی اورسٹول رکھا جاتا۔ امی کی تشریف آوری ہوتی امی سٹول پر پرات رکھ کر آٹا گوندھتی تھیں۔ ساتھ ساتھ مجھے ڈانٹ پڑتی امی کی صحت ٹھیک نہیں رہتی تھی۔ وہ یہ سب نہیں کر سکتی تھیں اور میں صرف اس لئے کرواتی تھی کہ امی کے اندر یہ احساس قائم رہے کہ اب بھی وہ کام کر سکتی ہیں۔ ایک

positive feeling

بیدار کرنے کے لئے ڈانٹ بھی قبول تھی۔ 2010میں امی کا انتقال ہوا اور اس کے بعد مکئی کی روٹی نہ کھائی کیونکہ میں امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی روٹی کا ذائقہ بھولنا نہیں چاہتی تھی۔

غذائیت کے اعتبار سے مکئی کی بڑی افادیت ہے۔ مکئی میں مختلف قسم کے

Phytonutrients

اور

Antioxidants

موجود ہیں جوکہ کینسر کے خلاف مدافعت فراہم کرتے ہیں۔ جسم میں فاسد مادوں کا اخراج ہوتا ہے۔ فائبر کا بہترین ذریعہ ہے۔ کھانے سے

satisfaction

اور پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے۔ فاسفورس‘ وٹامن B3‘ میگینز اور وٹامن B6‘ پینٹوتھینک ایسڈ ‘ فولک ایسڈ اور پروٹین کا بہترین ذریعہ ہے۔

سردیوں کی سبزیاں‘ پھل اور ان کے فوائد

گاجر: گاجر میں شامل

Beta Caroene

جو جگر میں وٹامن A میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ آنکھوں کے لئے انتہائی مفید ہے۔ بیٹا کیرویٹن مسلز کے لئے انتہائی ضروری ہے اور کینسر سے بچاتی ہے۔ اس کا استعمال پھیپھڑوں کے کینسر کے خلاف مدافعت فراہم کرتا ہے۔ گاجر میں شامل

Beta Carotene

کی بدولت جسم سے فاسد مادوں کا اخراج ہوتا رہتا ہے۔ جس کی بدولت دل جگر گردوں کے افعال بہتر رہتے ہیں۔

Meteobolism

بہتر رہتی ہے اور بڑھاپے کے عمل کو سست کرتی ہے۔ اسی طرحگاجر کا مستقل استعمال چہرے کو نکھارتا ہے اور سورج کی وجہ سے ہونے والے

skin damage

کو بہتر کرتا ہے۔ حیاتین الف کی کمی سے جلد ‘بال خشک ہو جاتے ہیں۔ ناخن کمزور ہوتے ہیں جبکہ گاجر کے استعمال سے جھریاں‘ چھائیاں ختم ہوتی ہیں۔ گاجر‘ سلاد کی صورت میں‘ کھائیں یا جوس پیئیں۔ گاجر کے حلوے کو بھی کبھی کبھار کھانے میں شامل کریں۔ گاجر دل کی بیماریوں سے بچاتی ہے اور کولیسٹرول کم کرتی ہے۔

پالک ‘ میتھی‘ ساگ:حدیث ہے کہ اپنے دسترخوان کو سبز چیزوں سے سجاؤ۔ آج ہمارے دسترخوان پر گوشت‘ مرغی‘ مچھلی‘ تکے‘ کباب‘ پلاؤ نظر آتے ہیں۔ نتیجتاً دل ‘ جگر‘ گردوں کی بیماریاں‘ موٹاپا اور شوگر بہت عام ہے۔ خون کی کمی بہت زیادہ ہے۔ پالک ‘ میتھی‘ ساگ میں منرلز اور وٹامن فائبر کا خزانہ ہے۔ میتھی کے متعلق حدیث ہے کہ اگر تمہیں میتھی کے فائدے پتا چل جائیں تو تم سونے چاندی کے بجائے میتھی کو ذخیرہ کرنے لگو۔ جوڑوں کے درد‘ کھانسی‘ الرجی کے علاوہ جلد کی بیماریوں میں بھی میتھی انتہائی مفید ہے۔

شلجم: شلجم سردیوں کی بہترین سبزی ہے۔ جس کے پتے اور سبزی دونوں پکائے جاتے ہیں۔ اس کی تین اقسام ہیں۔ سفید‘ ہلکے پیلے‘ اور سفید جامنی‘ ان میں کیلوریز انتہائی کم ہیں۔ وٹامن سی کا بہترین ذریعہ ہے ۔ اس میں کیلشیم‘ میگنیشم ‘ پوٹاشیم‘ آئرن‘ بیٹا کیروٹین اور ٹامن بی کمپلیکس وافر مقدار میں موجود ہیں۔ شلجم کو پھل کے طور پر بھی کھایا جاتا ہے جو جسم سے فاسد مادوں کے اخراج میں مدد دیتا ہے اور قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے۔ یہ فائبر کا بہترین ذریعہ ہے۔

پالک: پالک میں آئرن کی مقدار باقی سبز پتوں والی سبزیوں کی نسبتاً دوگنی ہے۔ پالک کا جوس خون کی کمی میں انتہائی مفید ہے۔ پالک کا استعمال بطور سلاد میں نے مکہ مکرمہ میں دیکھا اور کھایا۔ حج کی سعادت کے دوران میں نے سبزیوں کو بہت

miss

کیا لیکن پالک اور ساگ بطور سلاد بہت اچھا تجربہ تھا۔ فائبر قبض کے لئے انتہائی مفید ہے۔ کیلشیم‘ پوٹاشیم اور میگنیشیم کا بہترین ذریعہ ہے۔ مولی: مولی کا استعمال بطور سلاد ‘ بھجیا اور مولی کے پراٹھے سردیوں کا لازمی جزو ہیں۔ مولی فائبر کا بہترین ذریعہ ہیں۔ اس میں کیلوریز انتہائی کم ہیں۔ مولی یرقان کے لئے انتہائی مفید ہے۔ قبض کشا ہے اس لئے تو السر کے مریضوں کے لئے اس میں صحت ہے۔ پیشاب کے امراض میں مفید ہے۔ دل کی بیماریوں اور جلد کے بیماریوں کے لئے مفید ہے۔ مولیوں میں پانی وافر مقدار میں موجود ہے اس لئے

dehydration

میں بہت کارگر ثابت ہوتی ہے۔ سردیوں میں پانی کا استعمال کم ہو جاتا ہے۔ اس لئے بہت مفید ہے۔

کینو‘ مالٹا‘ مسمی کے فوائد:

کینسر سے بچاؤ: کینو مالٹا‘ موسمی سردیوں کا قیمتی تحفہ ہیں۔ پاکستان کا اورنج دنیا کا بہترین اورنج مانا جاتا ہے۔ اورنج میں وٹامن سی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اس میں موجود

Limonoids

مختلف قسم کے کینسر سے بچاتا ہے۔ جن میں جلد‘ پھیپھڑے‘ چھاتی اور معدے کا کینسر شامل ہے۔ اس کے چھلکے کا استعمال جلد کے کینسر سے بچانے میں بہت مدد کرتا ہے۔

گردے کی بیماری سے بچاؤ: روزانہ اورنج جوس پینے سے گردے کے امراض سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے اور گردے کی پتھری نہیں بنتی اور جگر کے کینسر کے امکان کو کم کرتا ہے۔ جاپان میں کی گئی تحقیق کے مطابق کینو‘ مالٹا‘ موسمی میں شامل

Carotenoids

کی بدولت جگر کے کینسر کے خلاف مدافعت ملتی ہے۔ اورنج اپنی فائبر کی وافر مقدار ہونے کے باعث کولیسٹرول کو کم کرنے میں معاون ہے اور دل کو توانا رکھتا ہے۔ اورنج میں پوٹاشیم بہت وافر مقدار میں ہوتا ہے جو کہ دل کی کارکردگی کو بہتر کرنے میں معاون ہے۔ دل کی دھڑکن کو بہتر کرتا ہے بیماریوں کے خلاف مدافعت فراہم کرتا ہے۔ اورنج میں وٹامن سی کی وافر مقدار موجود ہے۔ جو جسم سے فاسد مادوں کوخارج کر کے جسم کو صحت مند بناتا ہے۔ اس کے علاوہ اورنج

viral infections

سے بچاتا ہے اس میں شامل

Poly Phenols

انفکشن سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

چکوترا یا گریپ فروٹ <?p>

گریپ فروٹ وٹامن سی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ جو کہ قوت مدافعت کو بڑھانے میں معاون و مددگار ہے۔ 20سے زائد تحقیقات سے ثابت ہے کہ نزلہ‘ زکام‘ میں چکوترے کا استعمال انتہائی مفید ہے۔ دمہ اور

Osteoarthritis

میں مفید ہے۔ دل کی شریانوں کو کھولنے میں معاون و مددگار ہے۔ گلابی گریپ فروٹ میں

Lycopene

موجود ہوتا ہے جو کہ فاسد مادوں کو جسم سے نکالنے میں انتہائی معاون و مددگار ہے۔ مردوں کے لئے گلابی گریپ فروٹ کا استعمال

Prostate

کے کینسر کے امکان کو کم کرتا ہے۔

چکوترے میں موجود وٹامن سی چربی کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے جس کی بدولت وزن میں خاطرخواہ کمی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سبزپیاز‘ کھیرا‘ بند گوبھی‘ سرخ مولی‘ مونگرے ‘آلو اور پھول گوبھی‘ یہ تمام سردیوں کی سبزیاں ہیں جتنی ورائٹی سردیوں کی سبزیوں میں ملتی ہے اتنی گرمیوں میں نہیں ہے۔

اﷲتعالیٰ نے موسموں کے تغیر و تبدل کے ساتھ ساتھ پھلوں اور سبزیوں کی اقسام میں بھی فرق رکھا ہے۔ اس میں یقیناًہمارے لئے صحت اور بھلائی ہے۔ سردیوں کے موسم میں بہت سے لوگ مالٹے اس لئے نہیں کھاتے کے سردی لگ جائے گی‘ گلا خراب ہو گا۔ باہر کے ممالک میں فلو‘ زکام‘ کے لئے اورنج جوس کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ وٹامن سی کی وجہ سے قوت مدافعت بڑھے اور بہتری ہو۔

قدرت کے ہر کام ہر چیز میں ہمارے لئے بہتری ہے۔ موسم کے پھلوں اور سبزیوں کو انجوائے کریں۔ ان میں موجود

Phytochemicals

سے اپنی قوت مدافعت کو بڑھایئے۔ ہر چیز اپنے اوپر پرہیز کے نام پر حرام نہ کریں۔ اﷲ کی ہر چیز میں حکمت و صحت ہے۔ صرف اسے بہتر طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

 

یہ تحریر 26مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP