متفرقات

زمین کی چھت اوزون

اوزون تہہ کی کسی حد تک بحالی انسان کے لئے بڑی خوش خبری ہے۔ سولہ ستمبر کو اوزون کی حفاظت اور انسانی کوششوں کے نتیجے میں اس کی بحالی کا دن منایا گیا۔ اوزون کی تہہ کو نقصان کا تخمینہ لگانے کا کام 2018 میں مکمل ہوا جس کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ سن 2000 سے ایک اعشاریہ تین فیصد فی دہائی کے حساب سے یہ پرت اپنی اصلی حالت پر واپس آرہی ہے۔ یعنی ہم نے اسے مزید خراب ہونے سے روک لیا ہے۔ لیکن زیادہ بہتریہ ہو گا کہ ہم اس کامیابی پر خوش ہونے کے بجائے وہ طریقے اپنائیں جس کی بدولت ہم اوزون لیئر کو مزید پھٹنے سے بچا سکیں۔ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انٹونیو گوٹیرز کا کہنا ہے کہ ہمیں کلائمیٹ چینج کے چیلنج سے نبرد آزما ہوتے ہوئے اوزون لیئر کی تباہی کے حامل عوامل کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ 
اوزون لیئر زمین اور سورج کے بیچ گیس کی وہ نازک جِھلّی ہے جو زمین کو سورج کی نقصان دہ شعاعوں( الٹرا وائلٹ) سے محفوظ رکھتی ہے اور زمین پر موجود زندگی کی حفاظت کی ضامن بنتی ہے۔ یہ زمین کی سطح سے 10 کلو میٹر سے 40 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہوتی ہے۔ اس پرت کو نقصان پہنچانے والی گیسوں کا کم سے کم استعمال نہ صرف انسانوں ،جانوروں، حشرات الارض اورپودوں کی نشوونما کے لئے ضروری ہے بلکہ اس سے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ کیونکہ یہ لیئر الٹرا وائلٹ شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ 
مونٹریال پروٹوکول میں ایسی گیسوں کے استعمال پر پابندی لگائی گئی ہے جو اس پرت کے لئے نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مونٹریال پروٹوکول کو ایک بڑی کامیابی تصور کیا جاتا ہے۔ مونٹریال پروٹوکول ویانا کنونشن کا بین الاقوامی پروٹوکول ہے۔ مونٹریال پروٹوکول کا آغاز اَسّی کی دہائی کے اواخر میں ہوا۔ اس کا پہلا ڈرافٹ 1987میں ترتیب دیا گیا جب دنیا بھر کے سائنسدانوں نے جمع ہو کر اوزن لیئر کی حفاظت کی تدابیر سوچیں۔ کیونکہ اوزون کی تہہ میں سوراخ ہونے کی وجہ سے انسان کینسر اور دوسری جلدی بیماریوں کا براہ راست شکار ہوتا ہے۔ ناسا کے سائنسدانوں کے اعداد وشمارکے مطابق اگر ہم نے اس کی بحالی کو جاری نہ رکھا تو اوزون کی تہہ 2075 تک اپنے خاتمے کے قریب پہنچ جائے گی ۔ مونٹریال پروٹوکول میں کچھ صنعتی مرکبات پر پابندی لگائی گئی جبکہ کچھ پر نہیں لگائی گئی۔کیونکہ اول الذکر کیمیکلز اتنی دیر تک فضا میں موجود رہتے ہیں کہ اوزون کی تہہ متاثر ہوتی ہے۔ لیکن مختصر عرصے کے لئے فضا میں رہنے والے کیمیکلز اورمرکبات پر پابندی نہیں لگائی گئی۔
 قدرتی طور پر تیار ہونے والے بہت سے مادے جو سمندروں سے خارج ہوتے ہیں اور موسمیاتی تبدیلیاں سمندروں میں گرمی اور حرارت کا سبب بنتی ہیں ان کے اخراج میں اضافے کی صورت میں اوزون تہہ کی بحالی میں مزید تاخیر ہو گی۔  
اوزون ماحول سے آلودگیوں کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اوزون کی کمی یا اوزون ہول یعنی اوزون کی تہہ میں سوراخ ہونے کی بڑی وجہ کیمیکلز ہیں۔ کاروں ، بجلی گھروں، صنعتی بوائیلرز ، ریفائینریوں اور کیمیکل پلانٹوں سے بھی گیسیں خارج ہوتی ہیں۔ 
 اوزون کی پرت الٹرا وائلٹ لائٹ (UV Light) کو زمین کے ماحول سے گزرنے سے روکتی ہے۔ اوزون ایک انتہائی ردعمل کا مالیکیول ہے جو عمل انگیزی کی صورت میں زیادہ مستحکم آکسیجن کی صورت میں کم ہو جاتا ہے۔ مجموعی طور پر اوزون کی تہہ کی سطح میں کمی واقع ہوئی ہے۔   
اوزون میں ستر فیصد تک کمی انٹارکٹیکا کے جنوب میں دیکھی گئی اور پہلی بار 1985 میں رپورٹ ہوئی۔ 2016 میں بحالی کی طرف بتدریج رحجان کی پہلی اطلاع ملی۔ قطبی طوفان بادلوں پر ہونے والے اثرات اوزون کی کمی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ انٹارکٹیکا کی شدید سرد سطح میں آسانی سے تشکیل پاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انٹارکٹیکا میں اوزون کی تہہ میں سوراخ سب سے پہلے بنے اور واضح ہوئے۔ 
اوزون کی تہہ میں کمی ایک خاصا پیچیدہ موضوع ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے حوالے سے عوام الناس میں کافی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ اور لوگوں کو مکمل طور پرآگہی نہیں۔ عوام کی ، سائنس کے حوالے سے، محدود معلومات اس موضوع کی سمجھ بوجھ میں الجھنیں اور عدم دلچسپی بھی عالمی درجہ حرارت میں زیادتی کی وجہ بنی کیونکہ عام لوگ اس کو نہ سمجھ پانے کی وجہ سے اس کی طرف توجہ ہی نہیں دے پائے۔ اوزون تہہ کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے پوری زمین کے ماحول اور اوزون کی مقدار میں فرق قائم کرنا بہت ضروری ہے۔
 سوال یہ ہے کہ اوزون کی تہہ واپس اپنی اصل حالت میں کب تک پہنچ پائے گی۔ سائنسدانوں کا ایک اندازہ ہے کہ موجودہ حالت سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وسط صدی کے آس پاس اوزون کی سطح 1960 کی سطح پر آ جائے گی۔ انٹارکٹیکا جہاں بہت کم درجہ حرارت کی وجہ سے اوزون کی کمی سب سے زیادہ شدید رہی ہے، اُمیدہے کہ اس کی بحالی سب سے سست رفتار رہے گی۔ اور اواخر صدی تک یہ اپنی 1960  کی شرح پر پہنچنا شروع ہو گی۔ 
اوزون کو اپنی اصلی حالت پر واپس لانے اور بحال کرنے میں ہر فرد ذمہ دار ہے۔ عوامی نقل و حمل کے لئے سواری کا اشتراک کریں۔ کاموں کو یکجا کر کے گاڑیوں اور ٹرانسپورٹ کے استعمال کو کم سے کم کرنے کی کوشش کریں۔ یعنی آٹو موبائل کے استعمال کی زیادتی سے بچیں۔ ائیر کنڈیشنگ اور ریفریجریشن کا وہ سامان خریدیں جو ایچ سی ایف سی کو خارج نہیں کرتے۔ اپنی گاڑی کو شام کے وقت ٹھنڈی ہونے پر ری فیول کریں۔ ائیر کنڈیشنگ اور ریفریجریشن مصنوعات کا باقاعدہ معائنہ اور دیکھ بھال کریں۔ گھر پر اور کام کی جگہ بلکہ ہر جگہ توانائی کا کم سے کم استعمال کریں۔ کاغذ اور پتے جلانے سے پر ہیز کریں۔ درخت زیادہ سے زیادہ لگائیں۔ کسی بھی کام میں گیس سے چلنے والے آلات کا کم سے کم استعمال کریں۔ 


مضمون نگار براڈکاسٹ جرنلسٹ، ٹی وی اینکراور رائٹرہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 75مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP