متفرقات

ریسکیو 1122 قومی خدمت میں پیش پیش

مختلف قومی ادارے ملک و قوم کی خدمت میں سرگرداں ہوتے ہیں اور ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں، جہاں پاکستانی افواج کے جوان سینہ تان کر بارڈر پر کھڑے ہوتے ہیں اور دشمن کی سنسناتی گولیوں کو اپنے سینوں پر روکتے ہیں ، جن کی وجہ سے ہم چین کی نیند سوتے ہیں، وہیں ہمارے پولیس کے جوان اندرونی خطرات یعنی ڈاکوئوں ، چوروں ، راہ زنوں، اور دیگر جرائم میں ملوث افراد پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان فرائض کی انجام دہی میں اپنی جان تک پیش کردیتے ہیں۔ اسی طرح ریسکیو 1122کے ریسکیورز دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان وہ ہمہ وقت خدمتِ انسانی میں کوشاں رہتے ہیں۔ 




 پنجاب ایمرجنسی سروس کی داستان دلچسپی سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سروس کا آغازموجودہ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں ہوا۔ وہ وزیراعلیٰ پنجاب جبکہ جنرل پرویز مشرف صدرِ پاکستان تھے ، عوام کی بے لوث خدمت کے لئے ایک ایسی سروس کا آغاز کیا جو اب سارک ممالک میں ایمرجنسی سروسز کا بہترین ماڈل بن چکی ہے ۔ ڈاکٹر رضوان نصیر موجودہ  ڈائریکٹرجنرل ریسکیو 1122 کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ بہترین ریسکیو ماڈل بنائیں۔ یہ اس قدر اچھا نظام تھا کہ محمد شہباز شریف وزیراعلیٰ بنے تو انہوں نے ایک پریزنٹیشن لی اور اس سروس کی عوام دوست خدمات کو دیکھتے ہوئے اس سروس کا دائرہِ کارپہلے چھتیس اضلاع اور بعد ازاں صوبہ کی تمام تحصیلوں تک پھیلا دیا اور آج یہ سروس پنجاب کی تمام تحصیلوں اور حتیٰ کہ یونین کونسل کی سطح پر موجود ہے۔ ابھی یہ سروس پنجاب کے تمام اضلاع اور تحصیلوں میں اجراء کے مرحلے میں تھی جب پنجاب ایمرجنسی سروس کی انتظامیہ نے دیگر صوبوں سے بات چیت کی اور وہاں کے عوام کو بھی ایمرجنسی سروسز کی فراہمی پر آمادہ کیا۔ چونکہ تجویز اچھی تھی، دیگر صوبوں نے آمادگی کا اظہار کیا۔ اس طرح دیگر صوبوں کو پنجاب حکومت نے تکنیکی معاونت فراہم کی اور مفت ایمرجنسی مینجمنٹ کی تربیت بھی فراہم کی ۔ یوں آزاد کشمیر، گلگت  بلتستان، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پنجاب ایمرجنسی سروس کے تکنیکی ماہرین اور افسران کی مدد سے اس سروس کا آغاز کیا گیا اور وہاں کے کیڈٹس کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی گئی ۔ آج ریسکیو 1122کے ہی نام سے یہ سروس مندرجہ بالا صوبوں میں ایمرجنسی سروسز فراہم کررہی ہے۔  مارچ 2017میں پاکستان کی پہلی ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کا افتتاح کیاگیا۔ یہ اکیڈمی بجا طور پر سارک ممالک میں اپنی مثال آپ ہے۔ حکومت ِ پنجاب نے خطیر رقم خرچ کرنے کے بعد اس تربیتی ادارے کو قائم کیا جو پنجاب کے ساتھ ساتھ دیگر صوبوں بلکہ دیگر ممالک کے لئے اپنے دروازے کھولے ہوئے ہے۔ اس تربیتی ادارے میں ایمرجنسی منیجمنٹ کے تمام سمولیٹرز قائم کیے گئے ہیں جن میں اربن سرچ اینڈ ریسکیو ربل پیڈ، تیراکی کے لئے سوئمنگ پول، سیلف کنٹینڈ بریدنگ آپریٹس لیب، فائر ریسکیورز کی فٹنس کے لئے فائر فائٹ چیلنج ٹاور، دس منزلہ فائر ٹریننگ ٹاور، سموک ہائوس، فلڈ مینجمنٹ کے لئے جھیل، فزیکل فٹنس کے لئے وسیع وعریض گرائونڈ ، کیڈٹس کی رہائش کے لئے دو منزلہ کیڈٹس بلاک، پنجاب ایمرجنسی سروس کے منیجرز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں نکھار لانے کے لئے منیجرز ٹریننگ سنٹر ، ایڈمن بلاک اور دیگر تمام سہولیات جو ایمرجنسی سروسز کے تربیتی ادارے کے لئے درکار ہوتی ہیں وہ اس ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں موجود ہیں۔اس تربیتی ادارے میں وقتاََ فوقتاََ قومی اور غیر ملکی انسٹرکٹرز دورہ کرتے رہتے ہیں ۔ان کی رہائش اور دیگر سہولیات کے لئے منیجرز ٹریننگ سنٹر قائم کیا گیا ہے۔ جہاںایمرجنسی سروسز اور دیگر اداروں کے منیجرز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں نکھار لانے کے لئے بین الاقوامی انسٹرکٹرز کی ایمرجنسی سروسز اکیڈمی آمد یقینی طور اس ادارے اور ملک کے لئے اعزاز سے کم نہیں، وہاں یہ ادارہ اس سروس میں کام کرنے والوں کے لئے بھی باعث ِ عزت ہے۔




اگرچہ اس ادارہ کی عمر باقی حکومتی اداروں کی نسبت بہت کم ہے مگر اس کی کارکردگی دیگر کئی اداروں کے مقابلے میں بہتر ہے۔ اس ادارے نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر لوگوں کے دلوں میں گھر کیا ہوا ہے۔ ریسکیو سروس نے بین الاقوامی سرٹیفیکیشن کے لئے گزشتہ سالوں کی تگ ودَو کے بعد بالآخر یہ سنگِ میل بھی عبور کرلیا ہے۔ اس مقصد کے لئے ایک بین الاقوامی سطح کے ماہر ایڈ وارڈ جی پیرینس انسراگ سرٹیفیکیشن کے لئے پنجاب ایمرجنسی سروس کے ساتھ منسلک رہے ہیں ۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کے کچھ دورے بھی کیے ہیں اور ایمرجنسی پروفیشنلز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہم آہنگ کرنے کے لئے اپنی خدمات سرانجام دی ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر ایڈورڈ نے پنجاب ایمرجنسی سروس اور ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کے افسران و اہلکاروں کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ اب یہ سروس پاکستان آرمی، پاکستان پولیس اور دیگر اداروں کی طرح اس مرحلے میں داخل ہوگئی ہے کہ جب زلزلہ، سیلاب یا دیگر قدرتی و انسانی سانحات پیش آئیں گے تو اس ادارے کی خدمات بھی لی جاسکیں گی۔ بین الاقوامی تنظیم United Nations Office For The Coordination Of Humanitarian Affairs(OCHA)بھی پنجاب ایمرجنسی سروس کے ساتھ باہمی تعاون کے معاہدے پر کام کررہی ہے ۔ 



حال ہی میں حکومت ِ پنجاب نے محکمہ صحت کے تمام حکومتی ہسپتالوں سے مریضوں کو ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال منتقل کرنے کے لئے مہیا ایمبولینسز واپس لے کر پنجاب ایمرجنسی سروس کو دے دی ہیں ۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ یہ ایک کٹھن فیصلہ تھا جو ادارے کے سربراہ نے لیا اور حکومتی فیصلے کو قبول کرتے ہوئے پانچ سو سے زائد ایمبولینسز ریسکیو ادارے کے حوالے کردیں ۔ اب یہ ادارہ پیشنٹ ٹرانسفر سروس کے نام سے ایک مکمل سروس چلا رہا ہے ۔ ہسپتالوں کے اندر ایمبولینسز کائونٹرز بنائے گئے ہیں جہاں ریسکیورز ہر وقت تیار رہتے ہیں ۔ جس مریض کو دوسرے ہسپتال منتقل کرنا ہوتا ہے، ڈاکٹرز کی ہدایت کے بعد فوری طور پر بہترصحت کی سہولیات والے ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ سرو س پنجاب ایمرجنسی سروس کی دیگر ایمرجنسی سہولیات کی طرح بلامعاوضہ فراہم کی جاتی ہے۔ اس اقدام سے سروس پر شہریوں کا اعتماد بڑھا ہے۔




پنجاب ایمرجنسی سروس چونکہ ہر طرح کی ایمرجنسی پر نبرد آزما ہوتی ہے۔ اس مقصد کے پیش ِ نظر سروس پراونشل مانیٹرنگ سیل کے ذریعے ایمرجینسیز کے اعداد و شمار کا جائزہ لیتی ہے اور ایمرجینسیز کی روک تھام اور شہریوں کی آگاہی کے لئے ضلعی ایمرجنسی افسران ماہانہ کی بنیاد پر ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ ملاقاتیں کرتے ہیں اور اہم امور کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ سے ایمرجنسی سروس کو تنگ گلیوں اور سڑکوں پر لوگوں کو سروسز کی فراہمی میں مسائل پیش آرہے تھے ۔ ایمبولینس اور فائر وہیکلز کی رسائی اندرون شہرمیں مشکل سے ہورہی تھی خصوصاََ لاہور، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی، بہاولپور اور ڈیرہ غازیخان جیسے پرانے شہروں میں چھوٹی گلیوں اور تنگ سڑکوں پر ایمرجنسی وہیکلز آسانی سے نہیں جاسکتیں۔ اس لئے پنجاب ایمرجنسی سروس نے موٹر بائیک ایمبولینس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا، یوں سال 2017کے اواخر میں پنجاب کی تمام ڈویثرنز میں یہ سرو س بھی شروع کردی گئی۔ اس سروس کے اجراء کے بعد اندرون شہر رہنے والے شہریوں کو ابتدائی طبی امداد اور دیگر ایمرجنسی سروسز آسانی سے فراہم کی جارہی ہیں۔ اگر صحیح معنوں میں حالات کا تجزیہ کیا جائے تو حکومتیں ہمیشہ سرپرستی کرتی ہیں۔ اداروں کی نشو و نما کی ذمہ داری اداروں کے سربراہان پر عائد ہوتی ہے۔ ڈاکٹر رضوان نصیر نے اس ادارے کے اغراض و مقاصد کے پیش نظر ترجیحات کا تعین کیا اور ہر مرحلے کو بخوبی منطقی انجام تک پہنچایا ۔اب یہ ایک عوامی سروس بن چکی ہے جس کا براہِ راست فائدہ عوام کو پہنچتا ہے اور عوام اس سروس کی اچھائی برائی دونوں سے واقفِ حال رہتی ہیں۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہماری افواج، پاکستان پولیس، ریسکیو اور دیگر ایسے اداروں میں کام کرنے والے جوانوں، افسران اور سربراہان کو اسی جذبہ اور لگن سے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔ ||

یہ تحریر 10مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP