اداریہ

روشن پاکستان

بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے  14 اگست 1948 کو پاکستان کی پہلی سالگرہ کے موقع پر قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ''ہمارے دشمنوں نے پاکستان کو پیدا ہوتے ہی گلا گھونٹ کر مار دینے کی کئی طریقوں سے کوششیں کیں اور ان تمام کوششوں میں ناکام و مایوس ہو کر انہوں نے سمجھا کہ معاشی سازشوں سے وہ مقصد بآسانی حاصل ہوجائے گا۔  انہوں نے پیشگوئی کی کہ پاکستان بہت جلد دیوالیہ ہوجائے گا اور یوں دشمنوں کی تلوار اور بھڑکائی ہوئی آگ جو مقصد حاصل نہ کرسکی وہ مملکت کے بگڑے ہوئے اور تباہ شدہ مالی حالات سے بخوبی حاصل ہوجائے گا۔ لیکن ان کے جھوٹے نجومیوں کو زبردست مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کیونکہ ہمارا پہلا بجٹ ہی ''اﷲ تعالیٰ'' کے فضل و کرم سے فاضل بجٹ ہے۔ تجارت کا توازن ہمارے حق میں ہے اور معاشی میدان کے ہر شعبے میں ترقی صاف صاف نظر آتی ہے۔'' بانیٔ پاکستان کے ان الفاظ سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس نئی مملکتِ خداداد کے روشن مستقبل کے بارے میں ان کا اعتماد کتنا تھا۔ اُنہیں معلوم تھا کہ کس طرح پاکستان کے دشمن سیاسی اور معاشی سطح پر سازشوں کے ذریعے پاکستان کو کمزور سے کمزور تر کرنے کے لئے سرگرم تھے۔ لیکن قائداعظم محمد علی جناح، ان کے ساتھیوں اور عوام کی اپنے وطن سے بے پایاں محبت کے سامنے دشمن کی ہر سازش نحیف ثابت ہوئی۔
اس میںکوئی شک نہیں کہ پاکستان کو قیام کے اوائل ہی سے متعدد چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ کہیں مہاجرین کی آباد کاری کا معاملہ تھا تو کہیں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے مسائل ،بھارتی لیڈر شپ اور برطانوی سامراج کی ملی بھگت سے اس نوزائیدہ مملکت کے حصے میں آنے والے فوجی اور سول اثاثہ جات بھی اُس انداز سے نہیں دئیے گئے جن کا فیصلہ کیا گیاتھا۔ یوں پاکستان کو بطورِ ریاست مشکل ترین چیلنجز سے نبردآزما ہوتے ہوئے آگے بڑھنا تھا۔ جس کا پاکستانی قوم میں بھرپور عزم اور جذبہ موجود تھا کہ یہ وہ قوم تھی جس نے محمد علی جناح کی قیادت میں ایک پلیٹ فارم اور ایک پرچم تلے متحد رہتے ہوئے جدوجہد کی اور پاکستان کی صورت میں کامرانی حاصل کی۔ یہی وجہ تھی کہ جب قیامِ پاکستان کے صرف ایک برس بعد ہی محاذ کشمیر کا وقت آیا تو ہماری افواج اور قوم نے باہم مل کر بھارتی افواج کو کشمیر سے واپس دھکیلنا شروع کردیا۔اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اُس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو 1948ء میں کشمیر کے معاملے کو اقوام متحدہ میں لے گئے جہاں یہ قرارداد پاس ہوئی کہ کشمیریوں کو حق رائے دہی دے کر کشمیر کے مسئلے پر استصواب رائے سے فیصلہ کروایا جائے۔
 بہرطور اُس کے بعد 1965ء ہو، 1971یا پھر معرکۂ کارگل پاکستانی قوم اور افواج نے دشمن کے ہر وار کا مقابلہ کیا۔ نائن الیون کے بعد خطے میں دہشت گردی کی جنگ چھڑی تو اُس موقعے کو غنیمت جانتے ہوئے پاکستان دشمن عناصر نے پاکستان کے اندر تخریب کاری اور دہشت گردی کا ایک لامتناعی سلسلہ شروع کردیا۔ یوں افواجِ پاکستان کو نہ صرف بیرونی بلکہ اندرونی دشمنوں سے بھی مقابلہ کرنا پڑا۔ جس میںعوام اور افواج  سرخرو رہیں اور آج وطنِ عزیز میں امنِ عامہ کی عمومی صورتِ حال بہترین ہے۔ مغربی سرحد پر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور نیٹ ورک تباہ کئے جاچکے ہیں اور شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت دیگر قبائلی علاقے جو کبھی نوگو ایریاز تھے آج الحمدﷲ قبائلی اضلاع کی صورت میں صوبہ خیبرپختونخوا کا حصہ ہیں۔ ان علاقوں میں پُرامن انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اور مقامی عوام کے اپنے منتخب کردہ نمائندے  اسمبلیوں میں موجود ہیں۔
بلاشبہ یہ ایسے اقدامات ہیں جن سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا پُرامن، پراعتماد اور روشن امیج اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ یقینا اس کے پیچھے قوم اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کا عمل دخل ہے۔ قوم کے جوانوں نے اپنے خون سے اس دھرتی کو سینچا ہے۔ تب جا کر یہاں پھول کھلے ہیں اور فضائیں خوشبوئوں سے معطر ہوئی ہیں۔ قربانیوں کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور تب تک جاری رہے گا جب تک اس دھرتی سے آخری پاکستان دشمن کا  خاتمہ نہیں ہوجاتا۔
پاکستان کا مستقبل بہت روشن، بہت خوبصورت ہے اور درست سمت کا تعین ہوچکا ہے۔ عملی اقدامات کے ذریعے اور اپنی نیتوں کو ٹھیک رکھتے ہوئے باقی ماندہ چیلنجز پر قابو پا لیا گیا تووہ وقت دور نہیں جب پاکستان کا شمار انشاء اﷲ دنیا کے صف اول کے ممالک میں ہوگا ۔ ہمیں اس کے لئے ثابت قدم رہنا ہوگا، متحد رہنا ہوگا اور بانیٔ پاکستان کے افکار پر عمل پیرا رہنا ہوگا۔ ہم بطور قوم اپنی منزل سے ضرور ہمکنار ہوں گے۔ پاکستان ہمیشہ سلامت رہے۔
 

یہ تحریر 274مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP