قومی و بین الاقوامی ایشوز

روشنی کا سفر۔۔۔ایف سی بلوچستان کے سنگ

زیور ِتعلیم سے آراستہ قومیں ہی ترقی کی اعلیٰ راہیں طے کرتی ہیں اور ہر قوم کا روحِ رواں نوجوان طبقہ ہوتا ہے ۔ ایک تعلیم یافتہ نوجوان نہ صرف ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے بلکہ وہ معاشرتی بُرائیوں کا حصہ نہ بنتے ہوئے ، ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف بھی ایک مضبوط دیوار ثابت ہوتا ہے ۔ شاید انہی وجوہات کی بنا پر جی ایچ کیو میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان کے نوجوانوں کوہمارا حقیقی دفاع قرار دیا(ہلال مئی2018) ۔ ایف سی بلوچستان (نارتھ) بھی آرمی چیف کے اس وژن کو بلوچستان میں حقیقت میں بدلنے کے لئے عمل پیرا ہے ۔


 


 

بلوچستان میں قیامِ امن کی اپنی اولین ذمہ داری کے علاوہ ایف سی بلوچستان (نارتھ) تعلیم کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات سر انجام دے رہی ہے ، جس کا زندہ ثبوت اپنے 82ایف سی سکولز اور کالجز کو کامیابی سے چلانا اور 4000سے زائد تعلیمی وظائف کے ذریعے ذہین اور ضرورت مند طلباء کو پروان چڑھانا شامل ہے۔ تعلیم کی وجہ سے ہونے والی یہ تبدیلی نہ صرف مثبت ہے بلکہ دیر پا بھی ہے، اس لئے ایف سی بلوچستان (نارتھ) بلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم دینے اور ہمارے حقیقی دفاع کو مضبوط بنانے میں د ن رات کوشاں ہے۔



بلوچستان کے خدوخال اور موجودہ تعلیمی صورتِحال :
بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے ۔یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ بلوچستان کی موجودہ شرح خواندگی 44%ہے لیکن اس کی یہ شرح اس تناسب سے نہیں بڑھی جیسے دوسرے صوبوں میں بڑھی ہے ۔اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1972میں پنجاب اور بلوچستان کی شرح خواندگی بالترتیب 20.07فیصد اور 10.10فیصدتھی جوکہ اب 75.84فیصد(پنجاب)اور 44فیصد (بلوچستان )میں تبدیل ہو چکی ہے ۔اس حقیقت سے ایک بڑا اور واضح فرق صاف دکھائی دیتا ہے ۔ یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 60-70 فیصدبچے اپنی ابتدائی عمر ہی میں سکول چھوڑ جاتے ہیں اور اس کی ایک بنیادی وجہ سکولوں کا دور دراز ہونا ہے۔ ایف سی بلوچستا ن(نارتھ) اپنی دور دراز علاقوں میں تعیناتی کی بدولت اس کمی کو حتی الا مکان پورا کرنے کی کوشش میں لگی ہے ۔
ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی ذمہ داری کے علاقے اور گراں قدر تعلیمی خدمات:    
انتظامی لحاظ سے بلوچستان کے 34اضلاع میں سے 24اضلاع ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی ذمہ داری میں آتے ہیں اور ان میں آبادی کا تناسب بھی سب سے زیادہ ہے۔ ان اضلاع میں ایف سی بلوچستان (نارتھ)،12کالجز ،31ہائی سکولز ،10مڈل سکولز اور29پرائمری سکولز چلا رہی ہے ۔ ان 82اداروں میں29فری/شیلٹر سکولزبھی شامل ہیں جو مقامی آبادی کو مفت تعلیم حتیٰ کہ مفت یونیفارم اور کتابیں بھی فراہم کر رہے ہیں۔اِن اداروں میں بیک وقت 16000سے زائد بچے زیرِتعلیم رہتے ہیں جن میں 24 فی صد لڑکیاں شامل ہیں۔ ان اداروں میں تقریباً800اساتذہ اور 300انتظامی /ذیلی عملہ کام کر رہا ہے جو کہ مقامی آبادی کے پڑھے لکھے اور ضرورت مند افراد کے لئے روز گار کا مؤثر ذریعہ بھی ہے ۔یہ تمام سکولز اور کالجز ایک مرکزی ادارے ایف سی ایجوکیشن سیکرٹریٹ کے زیرِانتظام چلائے جارہے ہیں جو کہ ہیڈکوارٹر ایف سی بلوچستان (نارتھ) میں واقع ہے ۔



اساتذہ کی مستقل تربیت اور استعداد ِکار میں اضافہ ایف سی سکولنگ سسٹم کی  خصوصیت ہے۔یہی بنیادی وجہ تھی کہ بلوچستان میں فیڈرل بورڈاسلام آباد سے منسلک بلوچستان کے 40 سکولز میں سے ایف سی سکولز نے ٹاپ 10پوزیشنز میں سے 3پوزیشنز حاصل کیں ۔ تعلیمی ترقی کا یہ سفر مزید عروج کی جانب گامزن ہے ۔
آن لائن تدریسی عمل :دور افتادہ ترقی پذیر علاقوں جیساکہ کوہلو ، سوئی ، دکی اور ڈیرہ بگٹی وغیرہ میں اچھے تعلیم یافتہ اساتذہ خاص کر سائنس مضامین کے اساتذہ کا انتظام ایک بڑا چیلنج تھا۔ اس مسئلے کو ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے آن لائن تدریسی عمل سے حل کیا۔سال 2019کے اوائل میں جب کرونا نہیں تھا اور بہت ہی کم ماہرِ تعلیم آن لائن سکولنگ سے واقف تھے، تواس نئے طریقہ تدریس کا آغاز کیا گیا۔ اس عمل کے تحت کلاس رومز کو ڈیجیٹل/ Androidاسکرینز ، مائیکرو فون ، سپیکرز اور کیمروں سے آراستہ کیا گیا ۔اس ای لرننگ پیکج میں آن لائن تدریس ، کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹنگ ، لرننگ منیجمنٹ سسٹم اور جونئیر اور مڈل کلاسز کے لئے خصوصی طور پر تیار کردہ ٹیچنگ اینڈ لرننگ سافٹ وئیر TEC-Browserشامل ہیں۔
کرونا وبا اور تعلیمی تسلسل:  2020میں وبائی مرض کرونا کی ہولناکی نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور تعلیم کا شعبہ اس سے شدیدمتاثرہ شعبوں میں سے ایک تھا ۔ ایف سی سکولز اینڈ کالجز سسٹم پہلے سے ہی اپنے طلبا کے لئے ای-سلوشنز کی صورت میں پوری دنیا میں پھیلے ہوئے اندھیرے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار تھااور لاک ڈائون کے دوران بھی کلاسز کو ایک دن کے لئے بھی بندنہیں کیا گیا اور یہی وجہ تھی کہ ہمارے سکولز نے امتحانات 2021میں بلوچستان کے بہت سے بڑے سکولز کو پیچھے چھوڑا ۔
ایف سی بلوچستان (نارتھ) "تعلیم سب کے لئے"کے مضبوط یقین پر عمل پیرا ہے ۔ موجودہ آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کا وژن ہر بچے کو اس کی ذات، قبیلے یا مذہبی وابستگی کی تفریق کے بغیر تعلیم فراہم کرنا ہے۔
آئی جی ایف سی کے اس وژن کی عکاسی مندرجہ ذیل اقدامات سے عیاں ہے:
ایف سی فری /شیلٹر سکولز:    بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں 29ایف سی فری /شیلٹر سکولز قائم ہیں یہ پرائمری سطح کے سکولز ہیں جو اپنے طلبا ء کو پڑھنے اور سیکھنے کی بنیادی مہارتیں فراہم کرتے ہیں۔ ان سکولز میں پڑھنے والے زیادہ تر بچے بڑی عمر کے ہوتے ہیں لیکن ان کی سیکھنے کی لگن انہیں کبھی کبھی ایک سال میں دگنی ترقی کے قابل بھی بنادیتی ہے ۔ان سکولز کے ذہین طلباء کو ان کی مزید تعلیم کیلئے ایف سی پبلک سکولزاینڈکالجز کے ہاسٹلز میں داخلہ دیا جاتا ہے۔ ان کے تما م تعلیمی /رہائش اور قیام کے اخراجات ایف سی بلوچستان (نارتھ) اٹھا رہی ہے۔
٭    اس وقت آرمی پبلک سکولز (APS)اور رینجرز پبلک سکولز (RPS)میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تقریباً 200ایسے ہونہار طلباء زیرِتعلیم ہیں جو کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پا رہے تھے۔ ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی خصوصی کاوشوں سے یہ طلباء APSاور RPSمیںتعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ان کے تمام اخراجات جن میں یونیفارمز ، کتابیں ،رہائش حتیٰ کہ تما م سفری اخراجات بھی ایف سی بلوچستان (نارتھ) برداشت کر رہی ہے۔ 
 ٭    اعلیٰ تعلیم کے لئے وظائف:    ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے سپانسر کردہ بیشتر طالب علم پاکستا ن کی معروف یونیورسٹیوں مثلاً یونیورسٹی آف پنجاب لاہو ر ، این سی اے (NCA) لاہور ، NUSTاسلام آباد اور NUCESاسلام آباد میں زیرِتعلیم ہیں ۔ ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے NUSTاسلام آباد اور کوئٹہ کیمپس میں ایک انڈو رمنٹ فنڈ قائم کیا ہے جس سے بلوچستان کے 10قابل اور ذہین نوجوانوں کے لئے BSپروگرامز کے لئے وظائف رکھے گئے ہیں۔
 ٭ملٹری اور کیڈٹ کالجز کے لئے وظائف :    اس وقت ملٹری کالج سوئی میں 10، ملٹری کالج جہلم میں 02اور  دس کے قریب طلباء مختلف کیڈٹ کالجزجن میں کیڈٹ کالج کوہاٹ ، قلعہ سیف اللہ ، رزمک اور پشین شامل ہیں، میں زیرِ تعلیم ہیں اور ان کے تمام اخراجات ایف سی بلوچستان (نارتھ) اُٹھا رہی ہے ۔
سرکاری  سکولزکی Adoption اور بہتری :حکومت کے 26سکولز / کالج جس میں 20پرائمری سکولز ، 5ہائی سکولز اور ایک انٹر کالج شامل ہے ،ان سکولز کو صاف پانی ، فرنیچر ، یونیفارم ، کتابیں اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی گئی ہیں اور کئی دور دراز سکولز میں اساتذہ بھی فراہم کئے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ پولی ٹیکنیکل کالج مسلم باغ اور خانوزئی کی بھی تزئین و آرائش کی گئی ہے۔وہاں جدید ترین لیبارٹریوں کے قیام نے اداروں کو معیاری فنی تعلیم کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
ایف جی پبلک سکولزکے ساتھ تعاون: ایف سی بلوچستان (نارتھ) تعلیم کے ذریعے بلوچستان کی تبدیلی کے عظیم مقصد میں اپنی ساتھی تنظیموں کی بھی بھر پور مدد کر رہی ہے۔ ایف جی پبلک سکولز (FGEIs) کا تعلیمی نیٹ ورک پورے پاکستان میں پھیلا ہواہے۔ ان میں سے 4 ایف جی سکولز  (ژوب ، لورالائی ، سوئی اور چمن)ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی ذمہ داری کے علاقے میں واقع ہیں۔ ایف جی پبلک سکولز ڈائریکٹوریٹ کی ان سکولز کے لئے تعلیمی معاونت کے لئے اپیل کا بھر پور جواب دیتے ہوئے ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے مالی معاونت سے ان کی تزئین و آرائش اور نئے تعمیراتی منصوبے کامیابی سے مکمل کئے۔  
سال 1998 میں ڈیرہ بگٹی میں پہلے ایف سی سکول کے قیام کے بعد سے ایف سی تعلیمی نظام بلوچستان میں معیاری تعلیم کے مترادف نام کے طور پر ابھرا ہے۔ FCPIANS تقریباً ہر میدان میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں اور پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہمارے طلباء میں سے 45 آرمی آفیسر، 47 ڈاکٹر، 69 انجینئر اور بہت سے دوسرے سول اور سرکاری محکموں میں کام کر رہے ہیں۔ 
تبدیلی کا یہ سفر جاری رہے گا اور اس سلسلے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ ہیڈکوارٹر فرنٹئیر کور بلوچستان (نارتھ) میں بیٹھی کمان اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ قوموں کی تقدیر کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ کوئی قوم کتنی تعلیم یافتہ ہے۔ ایف سی بلوچستان (نارتھ) باقاعدہ بہترین منصوبہ بندی سے اپنا مؤثر کردار ادا کررہی ہے ۔ بلوچستان کو زیورِتعلیم سے آراستہ کرنے کی ذمہ داری بہت خلوص سے اٹھائی گئی ہے اور یہ صرف پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد بڑھانے کے لئے نہیں بلکہ اصل توجہ معیار پر ہے۔  ایف سی بلوچستان (نارتھ) نہ صرف تعلیم بلکہ معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے۔ ||
 

یہ تحریر 1146مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP