متفرقات

رمضان المبارک اور غزوئہ بدر

رمضان المبارک قریب آتا ہے، تو مجھے ہمیشہ غزوئہ بدر یاد آتا ہے۔ کیونکہ دو ہجری کے رمضان المبارک میںہی غزوئہ بدر برپا ہوا اور ٢ہجری میں ہی رمضان کا روزہ اور صدقۂ فطر فرض ہوا۔ یہ بھی ایک خوش گوار اتفاق تھا کہ مسلمانوںنے اپنی زندگی میںپہلی عید بھی شوال٢ ہجری میں ہی منائی، جو جنگِ بدر کی فتحِ مبین کے بعد پیش آئی۔



ہو سکتا ہے آپ غزوۂ بدر کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہوں۔ اس صورت میں یادیںتازہ ہو جائیں گی ورنہ معلومات میں اضافہ ہو جائے گا۔ کیونکہ لوگوں کو کتابیں پڑھنے کا وقت کم ہی ملتا ہے۔ غزوئہ بدر میں مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ اور مشرکین کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ تھی۔ اسلامی لشکرنے بدر کے قریب نزول فرمایا اور معرکے سے ایک روز قبل حضور نبی کریم ۖ نے اپنے لشکر کو حرکت دی تاکہ مشرکین سے پہلے بدر کے چشمے پر پہنچ جائیں۔ اس موقع پر حضرت حباب بن منذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک ماہر فوجی کی حیثیت سے دریافت کیا!' یارسول اﷲ کیا اس مقام پر آپ اﷲ کے حکم سے نازل ہوئے ہیں یا اسے محض جنگی حکمتِ عملی کے طور پر اختیار کیا ہے۔ آپ ۖنے فرمایا: جنگی حکمتِ عملی کے طور پر۔ انہوںنے کہا کہ یہ مناسب جگہ نہیں ہے۔ آپ آگے تشریف لے چلیں اور قریش کے سب سے قریب جو چشمہ ہو، اس پر پڑائو ڈالیں۔ پھر ہم بقیہ چشمے پاٹ دیں گے اور قریش کو پانی نہیں ملے گا۔ رسول اﷲۖنے فرمایا تم نے بہت ٹھیک مشورہ دیا۔ پھر آپۖنے قریب ترین چشمے پر پہنچ کر پڑائو ڈال دیا۔ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے  حوض بنایا اور باقی چشموں کو بند کردیا۔ گویا باہمی مشورہ ضروری ہے اور اچھی تجویز اﷲ کی رحمت ہوتی ہے۔
اﷲ عز و جل نے اسی رات بارش نازل فرمائی جو مشرکین پر موسلا دھار برسی اور ان کی پیش قدمی میں رکاوٹ بن گئی، لیکن مسلمانوں پر پھوار کی مانند برسی اور انہیں پاک کرگئی۔ اس کی وجہ سے زمین میں سختی آگئی اور مسلمانوں کے قدم ٹکنے کے لائق ہوگئے۔ اس کے بعد رسول اﷲ ۖنے لشکر کی ترتیب فرمائی اور میدانِ جنگ میں تشریف لے گئے۔ وہاں آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ فرماتے جارہے تھے کہ یہ جگہ کل فلاں کی قتل گاہ ہے اور انشاء اﷲ یہ جگہ کل فلاں کی قتل گاہ ہے۔ اس کے بعد رسول اﷲ ۖنے وہیں ایک درخت کی جڑ کے پاس رات گزاری۔ مسلمانوں کے دل اعتماد کے نور سے منور تھے۔ یہ شبِ جمعہ ١٧ رمضان کی رات تھی اور آپ ۖاس مہینے کی آٹھ یا بارہ کو مدینے سے روانہ ہوئے تھے۔ دوسری طرف قریش نے وادی کے دہانے کے باہر اپنے کیمپ میں رات گزاری۔ ایک گروہ رسول اﷲۖ کے حوض کی جانب بڑھا۔ آپۖنے فرمایا انہیں چھوڑ دو، مگر ان میں سے جس نے بھی پانی پیا وہ اس جنگ میں مارا گیا۔ صرف حکیم بن حزام باقی بچا جو بعد میں بہت اچھا مسلمان ثابت ہوا۔
جب مشرکین کا لشکر نمودار ہوا تو رسول اﷲۖنے فرمایا: ''اے اﷲ یہ قریش ہیں، جو اپنے غرور و تکبر کے ساتھ تیری مخالفت کرتے اور تیرے رسول کو جھٹلاتے ہوئے آئے ہیں، اے اﷲ تیری مدد… جس کا تو نے وعدہ کیا ہے۔ اے اﷲ آج انہیں اینٹھ کر رکھ دے۔'' اس معرکے کا پہلا ایندھن اسود بن عبدالاسد مخزومی بناجو بڑا بدخلق انسان تھا۔ وہ اعلان کرتے ہوئے نکلاکہ میں ان کے حوض کا پانی پی کررہوں گا۔ ادھر سے حضرت حمزہ نکلے اور تلوار سے قتل کرکے ڈھیر کردیا۔ جنگ کی آگ بھڑک اٹھی۔ قریش کے تین بہترین شہسوار نکلے۔ مقابلے کے لئے انصار کے تین نوجوان آئے۔ قریشیوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے پاس ہماری قوم کے ہمسروں کو بھیجا جائے۔ رسول اﷲ ۖنے فرمایا''عبیدہ بن حارث اٹھو، حمزہ اٹھیے، علی اُٹھو'' حضرت علی اور حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے اپنے مدِ مقابل کو جھٹ مار لیا۔ لیکن حضرت عبیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مدِ مقابل  کے درمیان ایک ایک وار  کا تبادلہ ہوا۔ دونوں کو گہرے زخم لگے۔ اتنے میں حضرت علی اورحضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما فارغ ہو کر مشرک عتبہ پر ٹوٹ پڑے اور اس کا کام تمام کردیا۔تین بہترین شہ سواروں کو کھونے کے بعد مشرکین غیض و غضب سے حملہ آور ہوئے۔ گھمسان کا رَن پڑا تو آپۖ دعامیں انتہائی حضوع و خشوع سے مصروف تھے۔ پھر وحی نازل ہوئی ۔ ترجمہ:''میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا جو آگے پیچھے آئیںگے۔'' اس کے بعد رسول اﷲۖکوایک جھپکی آئی۔ آپۖنے ایک مٹھی کنکریلی مٹی لی اور قریش کی جانب پھینک دی۔ پھر مشرکین میں سے کوئی بھی نہ تھاجس کی دونوں آنکھوں، نتھنوں  اور منہ میں اس مٹی سے کچھ نہ کچھ گیا نہ ہو۔ پُرجوش لڑائی میں فرشتوں نے بھی مدد فرمائی۔ چنانچہ ابنِ سعد کی روایت میں حضرت عکرمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اس دن آدمی کا سرکٹ کر گِرتا اور پتا نہ چلتا کہ اسے کس نے مارا، ہاتھ کٹ کر گرتا اور پتا نہ چلتااسے کس نے کاٹا۔ ایک انصاری حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو قید کرکے لایا تو حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہنے لگے''واﷲ مجھے اس نے قید نہیں کیا، مجھے تو ایک بے بال کے سروالے آدمی نے قید کیا ہے، جو نہایت خوبرو تھا اور چتکبرے گھوڑے پر سوار تھا۔'' معرکہ ختم ہوا تو رسول اﷲۖنے فرمایا: ''ابوجہل کا انجام کیا ہوا؟'' حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کا سرکاٹا اور آپۖکی خدمت میں لا کر پیش کردیا۔ آپۖنے فرمایا ''چلو مجھے اس کی لاش دکھائو'' لاش دیکھ کر آپۖنے فرمایا یہ اس اُمت کا فرعون تھا۔ غزوئہ بدر معرکہ حق و باطل تھا، جس میں حضرت عمربن الخطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو قتل کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے عبدالرحمن کو، جو اس وقت مشرکین کے ساتھ تھا، پکار کر کہا: 'اوخبیث میرا مال کہاں ہے؟ عبدالرحمن نے کہا ''ہتھیار، تیز رو گھوڑے، اس تلوار کے سوا کچھ باقی نہیں جو بڑھاپے کی گمراہی کا خاتمہ کرتی ہے۔'' اس جنگ میں خونی رشتے باطل ٹھہرے اور مذہبی و دینی رشتے اصل رشتے قرار پائے۔ جنگ کے دوران حضرت عکاشہ بن محض اسدی رضی تعالیٰ عنہ کی تلوار ٹوٹ گئی۔ رسول اﷲ ۖنے انہیں لکڑی کا پھٹا تھما دیا۔ عکاشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اسے ہلایا تو وہ ایک لمبی مضبوط اور چم چم کرتی سفید تلوار میں تبدیل ہوگیا۔ یہ تلوار مستقل طور پر حضرت عکاشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس رہی اور وہ اسے بعداز اں شہادت تک استعمال کرتے رہے۔
 مشرکین کی لاشوں کو کنویں میں ڈالا جارہا تھا تو عتبہ بن ربیعہ کی لاش کو گھسیٹ کر لایا گیا۔ رسول اﷲۖنے اس کے صاحبزادے حضرت ابو حذیفہ رضی اﷲ عنہ کو دیکھا، تو غمزدہ لگے۔ آپۖنے فرمایا '' غالباً اپنے والد کے سلسلے میں تمہارے دل کے اندر کچھ احساسات ہیں۔'' انہوںنے کہا ''نہیں واﷲیا رسول اﷲ! میرے اندر اپنے باپ کے قتل کے بارے میں ذرا بھی لرزش نہیں۔'' اس پر حضورۖنے حضرت ابو حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے لئے دعا فرمائی۔
تفصیلات کو اختصار کے کوزے میں بند کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ غزوئہ بدر جو اسلام اور کفر کے درمیان پہلا عظیم اور فیصلہ کن معرکہ تھا، اپنے اندر بے شمار روشن سبق سموئے ہوئے ہے۔ مثلاً یہ کہ اگر رضائے الٰہی حاصل اور شامل ہو تو تعداد اور اسلحہ کوئی معانی نہیں رکھتا۔اسلام میں رشتے خون سے نہیں، بلکہ دین سے طے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں میں اگر شوقِ شہادت زندہ اور روشن ہو، تو انہیں کوئی قوت شکست نہیں دے سکتی۔ تکبر، غرور اور شرک بالآخر خاک میں ملتا اور رُسوا ہوتا ہے۔ جو لوگ معجزات اور غیبی مدد کے بارے میں شکوک میں مبتلا رہتے ہیں، انہیں غزوئہ بدر کی تفصیلات کو غور سے پڑھنا چاہئے اور غور کرنا چاہئے ۔ مختصر یہ کہ بدر کی فتح نے اسلامی حکومت کی بنیاد رکھ دی اور پھر اس کے بعد اسلام کرئہ ارض پر اس قدر تیزی سے پھیلا کہ تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔


مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔ 
[email protected]
 

یہ تحریر 32مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP