یوم آزادی

رقصِ بسمل

(جدوجہدِ آزادیِ کشمیر کے تناظر میں لکھی گئی ایک کہانی)
سرمئی آسمان برسنے کو بیتاب تھا، ندی کا ٹھنڈا پانی شور مچا مچا کر اپنی روانی ظاہر کررہا تھا،سرخ چنار مسکرارہے تھے، مضبوطی سے اپنی جگہ جم کرکھڑے فلک بوس پہاڑ وادی میں اٹکھیلیاں کرتی ہوا کی سنسناہٹ کو دیکھ رہے تھے۔ اس تمام نظارے میں اگر کوئی کمی تھی تو وہ تھی زندگی کی۔ نہ یہاں کسی کی چوڑی کی کھنک تھی نہ معصوم ہنسی کی جلترنگ۔ نہ امنگوں سے بھرپور دلوں کے مستقبل کی منصوبہ بندی تھی نہ جوان کندھے بوڑھے باپ کا بوجھ بانٹتے دکھائی دے رہے تھے۔ تھی تو صرف جیپوں کے انجن کی کھڑکھڑاہٹ، وائرلیس پر آتے جاتے میسج اور ٹرکوں کے گزرنے سے پیدا ہونے والی گڑگڑاہٹ۔



وادی میں آج کرفیو کا چھٹا روز تھا۔ قابض فوج نے گھر گھر تلاشی کے نام پر تین دن تک  ظلم و بربریت کا کھیل کھیلنے کے بعد کرفیو لگا دیا تھا۔  وقت جیسے منجمد ہو کر رہ گیا تھا ۔ 
حاذق نے گلی سے گزرتی فوجی جیپ کو دیکھا اور کھڑکی  کے پٹ بند کرکے کرسی پر آبیٹھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ڈائری تھی جس کو وہ پچھلے چھ دنوں میں کئی مرتبہ پڑھ چکا تھا۔  ڈائری  کے سرورق پر واسق کا نام جگمگا رہا تھا۔ واسق، اس کا بھائی اس کا دوست جو ایک سال پہلے بھارتی فوج کی پیلٹ گن کا نشانہ بن چکا تھا۔ وہ ڈاکٹر بننا چاہتا تھا لیکن اس کے اپنے جسم کے بہتے خون کو روکنے کے لئے کوئی کمپائونڈر کوئی ڈاکٹر نہیں مل سکا تھا۔ کیونکہ بھارتی فوج کرفیو لگا کر سرچ آپریشن کر رہی تھی۔گلی میں رہائش پذیر کمپائونڈر کی دی ہوئی دوا اور گھریلو ٹوٹکے اس کے زخموں کے آگے ہار مان رہے تھے۔ ۔واسق نے ایک رات اور ایک دن کی اذیت اٹھانے کے بعد داعی اجل کا ہاتھ تھام لیا تھا اور امی اور بابا کے ساتھ ساتھ حاذق کو بھی دکھ کی اندھیری رات میں بھٹکنے کے لئے اکیلا چھوڑ گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس گھر کی خوشیاں بھی جیسے رخصت ہو گئی تھیں۔ امی اور بابا خاموش سے ہو کر رہ گئے تھے۔ حاذق نے کتابوں میں پناہ لے لی تھی پر واسق کی یاد پھر بھی آتی تھی۔ اسے برہان وانی شہید سے گہری عقیدت تھی۔ اس کی ڈائری میں جگہ جگہ برہان وانی سے محبت اور  احترام کا ذکر کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ اس بہادر مجاہد کی تصویر ہر وقت اپنی جیب میں رکھتا تھا جس پر اب واسق کے خون کے دھبے پڑ گئے تھے۔ حاذق نے وہ تصویر اپنے بھائی کی نشانی کے طور پر سنبھال کر رکھی ہوئی تھی۔ قریبی مسجد سے عصر کی اذان کی صدا بلند  ہوئی تو حاذق نے نم آنکھوں سے اپنے بھائی کے نام پر ہاتھ پھیرا اور ایک گہری سانس لے کر اٹھ کھڑا ہوا۔
ابو نے کیلنڈر پر لگے نشان پر ایک بار پھر پین پھیرا تو امی کے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ تاریخ اِن کے ہم سفر کی زندگی کی امید بڑھا دیتی ہے، وہ اور ان کے جیسے کئی لوگ اس دن کا انتظار عید کے دن کی طرح کرتے تھے۔ حاذق نے بابا کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
بابا! اس دفعہ یہ خوشی کیسے منائی جا سکے گی۔ کرفیو اٹھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
بیٹا جی! یہ خوشی منانے سے تو یہ قابض فوج ہمیں کبھی نہ روک پائی۔ ہم  سروں پر کفن باندھ کر بھی اس دن رب کا شکر ادا کر چکے ہیں۔ یہ صرف ایک دن نہیں ہے بیٹا یہ ہماری امید ہے، یہی تو ہمارے ادھورے خواب کی تکمیل ہے۔  یہ دن یہ خوشی تو منائی جائے گی چاہے خون کی لالی سے ہی سہی۔
حاذق نے اپنے بوڑھے باپ کے جوان حوصلے کو دیکھا اور عزم سے مسکرادیا۔
میجر پرکاش اپنے آفس میں بیٹھا  اضطراب سے ہاتھ مسل رہا تھا۔ ٹیبل کے دوسری طرف کرسی پر بیٹھا میجرونود اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ دونوں ہی اوپر سے آنے والے آرڈر کو پورا کرنے کا طریقہ سوچ رہے تھے۔
دہلی میں بیٹھے لوگ ہماری پوزیشن نہیں سمجھ سکتے۔ انہیں آئیڈیا ہی نہیں کہ انڈین آرمی کو ویلی میں کیا پرابلم فیس کرنا پڑرہا ہے۔
ونود کی بات پر پرکاش نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
یو آر رائٹ میجر۔ کشمیری مر تو سکتے ہیں پر ہمارے آگے جھک نہیں سکتے۔ "بٹ وی بلانگ ٹو دا گریٹسٹ ڈیموکریسی  آف دا ورلڈ۔ ہم یوں کشمیر کو چھوڑ کر دنیا میں اپنا تماشہ نہیں بناسکتے۔ اٹس ڈو آر ڈائی فار اَس۔" 
بٹ پرکاش "ہاؤ ول وی سٹاپ دا سلیبریشن" یہ لوگ تو چھاتی تان کر سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اور اس دن تو سماں ہی الگ ہوتا ہے۔
وی ول ونود وی ول۔ گھائل ہوں یا مرجائیں یہ لوگ۔ آئی ڈیم کئیر۔ مجھے اس دن کو انڈیا کا وکٹری ڈے بنانا ہے۔ 
میجر پرکاش نے میز پر مکا مار کر کہا تو میجر ونود گہری سانس لے کر رہ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ ان کی بندوقیں اور جبر کشمیریوں کے حوصلوں کے آگے کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ وہ ایک سال سے یہاںتعینات تھا۔ متعدد آپریشنز میں حصہ لینے کے بعد اسے ان نہتے لوگوں کے جذبے سے خوف آنے لگا تھا۔ میجر پرکاش کی پوسٹنگ تین مہینے پہلے ہی یہاں ہوئی تھی۔ وہ زمینی حقائق سے بے خبر طاقت سے حق کو دبانے کے ازلی ہندوستانی زعم میں مبتلا تھا۔ میجر ونود نے پُرفکرنظروں سے پرکاش کی طرف دیکھا جو اپنی پرسنل ڈائری میں آج کی تاریخ ڈال کر ابھی موصول ہونے والا آرڈر اور اس کے متعلق اپنی حکمت عملی تحریر کررہا تھا۔
بالآخر وہ صبح آ ہی گئی جس کا سب کو ہی انتظار تھا۔ جبر و گھٹن کے باوجود ہر گھر ہر گلی سے لوگ دیوانہ وار نکل رہے تھے۔ ان سب کا رخ مرکزی شاہراہ کی طرف تھا۔ قابض فوج کے لئے اس ہجوم کو روکنا مشکل ہورہا تھا۔ میجر پرکاش کے آرڈر پر ہوائی فائرکئے گئے۔ لیکن شمع کے پروانے دیوانہ وار آگے بڑھتے چلے جارہے تھے۔ کچھ لوگوں کے ہاتھ میں برہان وانی شہید کی تصویریں تھیں ۔  اسلحے سے لیس فوج کو نہتے لوگوں کے سامنے سے پیچھے ہٹنا پڑرہا تھا۔ یہ تو کاغذی سورماؤں کے لئے ناقابل برداشت تھا، انہوں نے اپنی بندوقیں سیدھی کرکے معصوم خالی ہاتھ لوگوں پر تان لیں۔ 
کسی نے نعرہ تکبیر بلند کیا  اور فضا اللہ اکبر کی صدا سے گونج اٹھی۔ سامنے کھڑے سورماؤں کے دل لرز اٹھے۔ میجر پرکاش نے برہان وانی  کی مسکراتی تصویر کی جانب دیکھا۔ اسے لگا کہ وانی کی چمکتی آنکھیں بھارت ماتا کا غرور خاک میں ملا رہی ہیں۔ اتنے میں اس کی نظر اگلی صف میں موجود نوجوان پر پڑی جو اپنی قمیض میں چھپایا گیا جھنڈ ا باہر نکال چکا تھا۔ ہرے رنگ پر نظر پڑتے ہی میجر جیسے پاگل ہو اٹھا۔ اس نے چیخ کر بولا' فائر'۔ اس کی آواز' پاکستان زندہ باد' کے نعروں میں ہی دب گئی۔ لوگوں کے قدم آگے بڑھے اور دوسری جانب سے گولیوں کی بوچھاڑ  شروع کردی گئی۔ پاکستان کا پرچم تھامے نوجوان کا سینہ چھلنی ہوا تو حاذق نے بھاگ کر پرچم سربلند کردیا۔ بابا نے فخر سے اس کی طرف دیکھا ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج اٹھے۔ آزادی کے یہ متوالے پتھروں سے جدید اسلحے کا مقابلہ کررہے تھے۔ ایک گولی حاذق کے دل کے آر پار ہوئی ۔ ساتھ چلتے بابا نے اس کو تھام لیا۔ ان کا لخت جگر خون میں لت پت ہورہا تھا۔  حاذق کے ہونٹوں پر آسودہ سی مسکراہٹ رقصاں تھی۔ اس نے بابا کا ہاتھ تھام لیا۔
بابا! میرا فرض پورا ہوا۔ خدا کشمیر کو بھارتی قبضے سے آزاد کرے اور میرے بھائی اور بہنیں اِسے پاکستان کا حصہ بنتے دیکھ سکیں۔
بوڑھے باپ نے بہتے آنسوؤں کے ساتھ اپنے بڑھاپے کے سہارے کو شہادت کا جام پیتے دیکھا اور اس کی کھلی آنکھیں بند کردیں۔  حاذق کی جیب سے برہان وانی کی تصویر آدھی باہر نکل آئی تھی۔ اس پر اب حاذق کا خون بھی لگ چکا تھا۔ پاکستان کا پرچم اب ایک نوجوان کے سر پر بندھا ہوا تھا اور لوگ نعرہ تکبیر بلند کرتے آگے بڑھے چلے جارہے تھے۔
   میجر پرکاش نے جیب سے اپنی نوٹ بک نکالی اور 14  اگست کی تاریخ ڈال کر لکھنا شروع کردیا،" فائرنگ کے باوجود یہ لوگ ڈرنے کو تیار نہیں۔ تھری آر ڈیڈ، سیورل آر انجرڈ بٹ سٹل یہ آگے بڑھ رہے ہیں۔
سرمئی آسمان برسنے کو بیتاب تھا، ندی کا ٹھنڈا پانی شور مچا مچا کر اپنی روانی ظاہر کررہا تھا،سرخ چنار مسکرارہے تھے، فلک بوس پہاڑ مضبوطی سے اپنی جگہ جم کر وادی میں اٹکھیلیاں کرتی ہوا کی سنسناہٹ کو دیکھ رہے تھے۔  آزادی کی دیوی نے جھلملاتی آنکھوں سے خون میں لت پت اپنے  متوالوں کو دیکھا اور  بس کچھ دن اور کہہ کر بادلوں میں اپنا چہرہ چھپا لیا۔


مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 104مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP