قومی و بین الاقوامی ایشوز

راجہ گلاب سنگھ کا دوسرا جنم

تحریکِ آزادیِ کشمیر کی وہ تاریخ جو دنیا نہیں جانتی

جموں و کشمیر کی تحریکِ آزادی ایک ایسا راز ہے جو آہستہ آہستہ دنیا پر کھل رہا ہے اور جب یہ راز پوری طرح دنیا پر کھلے گا تو وہ سب مغالطے ختم ہو جائیں گے جو ہندوستان سال ہا سال سے پھیلا رہا ہے۔1947کے بعد جب بھی ریاست جموں وکشمیر میں ہندوستان کے ظلم وستم کے خلاف کوئی آواز بلند ہوئی تو اس آواز کو دہشت گردی قرار دیاگیا اور الزام لگایا گیا کہ اس دہشت گردی کے پیچھے پاکستان ہے۔ پھر5 اگست 2019 آیا۔ ہندوستان نے پورے جموں و کشمیر میں ایک غیر علانیہ مارشل لاء نافذ کردیا۔ کرفیو کے ذریعے کشمیریوں کو ان کے گھروں میں قید کردیاگیا۔ ہندوستان کے وزیرِاعظم نریندر مودی کا خیال تھا کہ بندوقوں کے خوف، کمیونیکیشن بلیک آؤٹ، بھوک اور بیماری کے ذریعے کشمیریوں کے حوصلے ٹوٹ جائیں گے اور چند ہفتے کی اعصابی جنگ کے بعد وہ ہتھیار پھینک دیں گے لیکن یہ چند ہفتے مہینوں میں بدل گئے۔ کشمیریوں کا رابطہ پوری دنیا سے کاٹ دیاگیا۔ وہ اپنے شہروں اور محلوں میں قیدی بنے رہے۔ اُن پر نمازِ جمعہ کی ادائیگی بند کردی گئی لیکن اُنہیں جب بھی موقع ملا وہ پاکستان کا پرچم لہراتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور نعرئہ تکبیر بلند کرتے ہوئے سینوں پر گولیاں کھاتے رہے۔ اُن کی جرأت و بہادری اور ثابت قدمی دُنیا کے لئے ایک معمہ بن گئی۔ جب نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ سے لے کے دی اکانومسٹ لندن نے بھی بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی مذمت شرو ع کی تو آہستہ آہستہ یہ راز کھلنے لگا کہ کشمیریوں پر2019 کا ظلم پہلی دفعہ نہیں ہوا۔ اُن پر یہ ظلم 1819 سے جاری ہے اور اُن کی مزاحمت 2019 سے نہیں، 1819 سے جاری ہے۔ آج دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کشمیر اور پاکستان کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ جب آپ 2019 اور1819 کے تعلق کوسمجھ جائیں گے تو آپ کو کشمیر اور پاکستان کا رشتہ بھی سمجھ آجائے گا۔جب یہ رشتہ سمجھ آئے گا تو آپ کو پتہ چلے گا کہ کشمیر کی تحریکِ آزادی دراصل پاکستان کی تحریکِ آزادی اور کشمیریوں کا المیہ دراصل پاکستانیوں کا المیہ ہے۔



ریاست جموں وکشمیر کی تاریخ پر محمددین فوق سے لے کر جی ایم میر تک کئی مصنفین نے بہت اچھی کتابیں لکھی ہیں لیکن کشمیر کی تحریکِ آزادی کو سمجھنے کے لئے محمد یوسف صراف کی انگریزی کتاب Kashmiris Fight for Freedom انتہائی مستند ہے۔ محمد یوسف صراف کا تعلق بارہ مولا سے تھا لیکن 1947 کے بعد وہ آزاد کشمیر آگئے اور آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ انہوں نے کئی سال تحقیق کے بعد اپنی کتاب دو جلدوں میں شائع کی اور اس کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست جموں و کشمیرکے مسلمان اپنے اسلامی تشخص کے بارے میں ہمیشہ سے بڑے حساس رہے ہیں اور جب بھی انہیں اپنا اسلامی تشخص خطرے میں نظر آیا اُنہوں نے خاموش رہنے کے بجائے بغاوت کردی۔ 1819 میں جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج نے جموں و کشمیر پر قبضہ کیا تو کشمیری مسلمانوں نے مختلف علاقوں میں مزاحمت شروع کی جو اگلے کئی سال تک جاری رہی۔ کشمیریوں کی اس بغاوت کا ذکر خوشونت سنگھ کی کتاب ''سکھوں کی تاریخ'' میں بھی ملتا ہے لیکن محمد یوسف صراف نے1819 کے بعد شروع ہونے والی بغاوت کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ریاست جموں وکشمیر پر سکھوں کے قبضے کی ایک بڑی وجہ ریاست کے افغان گورنر کے ایک کشمیری ہندو پنڈت مشیر بیدل دھر کی غداری تھی۔ اعظم خان اس سے قبل ریاست جموں و کشمیر پر رنجیت سنگھ کا حملہ ناکام بنا چکا تھا لیکن جب اُسے پنڈت بیدل دھر کا خفیہ تعاون حاصل ہوا تو اُس نے کشمیر پر تین اطراف سے حملہ کیا اور یوں 4 جولائی1819 کو 30 ہزار سکھ فوج سرینگر میں داخل ہوگئی۔ سکھ فوج کے خلاف زیادہ تر پونچھ اور مظفرآباد میں بغاوت ہوئی تھی۔ سکھوں نے باغیوں پر ظلم کے بہت پہاڑ توڑے۔ وہ باغیوں کی لاشوں کو سڑکوں پر گھسیٹتے اور اُن کی عورتوں اور بچوں کو زندہ جلا دیتے۔ اس ظلم و ستم کے خلاف مظفرآباد کے حکمران سلطان زبردست خان نے بغاوت کردی۔ اُس نے مظفرآباد سے بارہ مولا تک سکھوں پر حملے شروع کردیئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سیداحمدشہیدکی طرف سے زبردست خان کو لکھے ایک خط سے پتہ چلتا ہے کہ اُنہوں نے زبردست خان کی کافی مدد کی تھی۔ زبردست خان کی بغاوت 1827 میں شروع ہوئی اور1837 میں اُس نے سکھوں کے مقابلے پر اپنی آزاد حکومت کا اعلان کردیا۔ اُس نے اُڑی تک کا علاقہ آزاد کرالیا لیکن پھر اُسے سکھوں نے دھوکے سے گرفتار کرلیا اور سرینگر کی ہری پربت جیل میں قید کردیا۔ زبردست خان کے بھتیجے حسن خان نے اپنی مزا حمت جاری رکھی اور کہوڑی کے سلطان نجف خان نے بھی بغاوت میں شمولیت اختیار کرلی۔ باغیوں نے بارہ مولا بھی آزاد کرالیا اور آخر کار سکھ زبردست خان کو رہا کرنے پر مجبور ہوگئے۔ زبردست خان سکھا شاہی کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گیا۔ اُسی زمانے میں راجہ شمس خان ملایال نے پونچھ میں سکھوں کے خلاف بغاوت کی۔ راجہ شمس خان  کی بغاوت کو کچلنے کے لئے راجہ گلاب سنگھ پونچھ پر حملہ آور ہوا تو شمس خان پہاڑوں میں غائب ہوگیا۔ اُس نے گوریلا جنگ شروع کردی۔
 محمددین فوق نے 'تاریخ اقوامِ کشمیر' کے علاوہ 'تاریخ اقوامِ پونچھ' جیسی شہرئہ آفاق کتابیں تحریر کیں۔ انہوں نے ملایال قوم پر راجہ گلاب سنگھ کے ظلم و ستم کی تفصیل بیان کی ہے لیکن محمدصدیق خان چغتائی کی کتاب''سردار شمس خان ملایال شہید'' میں پونچھ کے اس حریت پسند کی پوری داستان موجود ہے۔ راجہ گلاب سنگھ اس حریت پسند رہنما کے دو ساتھیوں ملی خان اور سبز علی خان کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اُس نے دونوں کی کھالیں اُتروا کر اُس میں بھوسہ بھرا اور منگ میں ایک درخت پر لٹکا دیا۔ منگ میں یہ درخت ابھی تک موجود ہے اور میں نے چند سال پہلے یہ درخت خود دیکھا تھا۔ شمس خان کو بھی دھوکے سے گرفتار کیاگیا۔ شمس خان کو قرآن کے نام پر ایک غدار مسلمان نے دھوکا دیا تھا۔ اُس کا سرتن سے جدا کرکے راجہ گلاب سنگھ کو بھیجا گیا تو وہ ناراض ہوگیا وہ شمس خان کو زندہ گرفتار کرنا چاہتا تھا۔ لہٰذا اُس نے شمس خان کے قاتل محمدخان کو انعام دینے کے بجائے گرفتار کرا دیا اور قید میں ڈال دیا۔ راجہ گلاب سنگھ نے رنجیت سنگھ کی مدد سے جموں و کشمیر پر قبضہ کیا اور پھر اُس نے انگریزوں کے ساتھ ملی بھگت کرکے سکھوں کو دھوکہ دیا۔1846 میں سکھوں اور انگریزوں کے درمیان جنگ ہوئی تو راجہ گلاب سنگھ نے خفیہ طور پر انگریزوں کی مدد کی جس کے بعد انعام کے طور پر ریاست جموں و کشمیر راجہ گلاب سنگھ کو فروخت کردی گئی۔ ریاست پر ڈوگروں کا قبضہ ہونے کے بعد مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی گئی۔ جموں و کشمیر کے رہنے والوں نے ظلم سے بچنے کے لئے راولپنڈی اور شملہ کی طرف ہجرت شروع کردی۔
شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے 12 مارچ1925کو معروف کشمیری شاعر غلام احمد مہجور کے نام خط میں لکھا:''افسوس کہ کشمیر کا لٹریچر تباہ ہوگیا۔ اس تباہی کا باعث زیادہ تر سکھوں کی حکومت اور موجودہ حکومت کی لاپروائی اور نیز مسلمانوں کی غفلت ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ وادی کشمیر کے تعلیم یافتہ مسلمان اب بھی اپنے موجودہ لٹریچر کی حفاظت کے لئے ایک سو سائٹی بنائیں؟ میرا عقیدہ ہے کہ کشمیرکی قسمت عنقریب پلٹا کھانے والی ہے۔'' علامہ اقبال کا کشمیر کے ساتھ بہت گہرا لگاؤ تھا۔ وہ 1909 میں انجمن کشمیری مسلمانان کے جنرل سیکرٹری بنے اور کشمیری مسلمانوں کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ شیخ محمد عبدﷲ نے اپنی کتاب ''آتش چنار'' میں لکھا ہے کہ وہ علامہ اقبال سے پہلی دفعہ 1924 میں لاہور میں ملے۔ شیخ صاحب اسلامیہ کالج لاہور میں پڑھتے تھے اور انجمن حمایت اسلام کے جلسوں میں علامہ کی نظمیں سُن کر اُن کے دیوانے ہوگئے۔ وہ پردیس میں نمکین کشمیری چائے پینے علامہ اقبال کے گھر پہنچ جاتے۔ شیخ محمد عبدﷲ لکھتے ہیں کہ علامہ اقبال کا جسم لاہور میں اور روح کشمیر میں ہوتی تھی اور وہ ہمیں کشمیر میں ایک تحریک شروع کرنے کے لئے مشورہ دیتے۔ 1929 میں پونچھ میں ایک اور بغاوت ہوئی۔ یہ بغاوت جموں وکشمیر پولیس کے ایک مسلمان افسر سردار فتح محمد کریلوی نے کی تھی۔ انہوں نے اپنے گاؤں تھکیالہ پڑاوہ کے اِرد گرد ڈوگر ہ حکومت کی قائم کردہ محصول چونگیوں کو جلادیا۔ جس کے بعد اُن کے خاندان کے اَسّی افراد گرفتارکر لئے گئے لیکن سردار فتح محمدخان کریلوی زیرِزمیں چلے گئے۔ یہ بغاوت سدھنوتی اور باغ میں بھی پھیل گئی۔ کریلوی صاحب خاموشی سے لاہور جاتے اور علامہ اقبال کے علاوہ مولانا ظفر علی خان اور عبدالمجید سالک سے رہنمائی لیتے۔ اس وقت تک جموں میں چوہدری غلام عباس کی ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن بھی سرگرم ہو چکی تھی۔
29 اپریل1931 کو جموں میں مسلمان عید کی نماز اداکرنے کے لئے اکٹھے ہوئے۔ مفتی محمداسحاق نما ز کے بعد عید کا خطبہ دے رہے تھے اور انہوں نے قرآن کی ایک آیت پڑھی جس میں فرعون اور موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔ ایک ہندو پولیس انسپکٹر بابو کھیم چند نے مفتی محمداسحاق کو خطبہ روکنے کا حکم دیا کیونکہ انہوں نے فرعون کو ظالم قرار دیا۔ اس پر ایک نوجوان نمازی میرحسین بخش نے احتجاج کیا اور کہا کہ پولیس کو ہماری نماز میں مداخلت کا کوئی حق نہیں جس کے بعد مسلمانوں نے شہر میں جلوس نکالا۔ کچھ عرصہ کے بعد سنٹرل جیل جموں میں ایک ہندو انسپکٹر لبھو رام نے ایک مسلمان کانسٹیبل فضل داد خان کے سامنے پنج سورہ شریف کی توہین کی۔ فضل داد خان نے اعلیٰ حکام کو شکایت کی، جب شنوائی نہ ہوئی تو وہ اپنی شکایت ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن کے پاس لے گیا اور یوں جموں سے سرینگر تک احتجاج  شروع ہوگیا۔ سرینگر میں خانقاہِ معلّٰی امیر کبیر حضرت شاہ ہمدان کی ایک مقدس یادگار ہے۔ یہاں مسلمانوں کا ایک احتجاج منعقد ہوا جس میں عبدالقدیر نامی نوجوان نے توہین ِ قرآن پرشدید احتجاج کرتے ہوئے راجہ کے محل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دو۔ عبدالقدیر کے بارے میں زیادہ روایات یہ ہیں کہ اس کا تعلق دیر سے تھا اور وہ یارک شائر رجمنٹ  کے ایک انگریز فوجی افسر کا خانساماں تھا۔ اُسے گرفتار کرلیاگیا۔ 13 جولائی1931 کو سرینگر کی سنٹرل جیل میں عبدالقدیر کے خلاف مقدمے کی بند کمرے میں سماعت شروع ہوئی تو سرینگر کے مسلمان اس پردیسی پختون کے حق میں نعرے لگانے لگے۔ پولیس نے پانچ افراد کو گرفتار کرلیا جس پر مزیداشتعال پھیل گیا۔ پولیس اور مظاہرین میں تصادم شروع ہوگیا۔ کچھ لوگوں نے جیل کی دیوار پر چڑھ کر اذان دینے کی کوشش کی تو اُنہیں گولی ماردی گئی۔22مسلمان شہید ہوگئے۔ سردار فتح محمد خان کریلوی سرینگر سے لاہور پہنچے اور انہوں نے علامہ اقبال، ملک برکت علی، میاں امیرالدین سمیت کئی صحافیوں کو اس سانحے کی معلومات مہیا کیں۔ مولانا عبدالمجید سالک نے اپنے اخبار روز نامہ انقلاب میں13 جولائی کو شہید ہونے والے کشمیریوں کو سلام پیش کرنے کے لئے ایک نظم شائع کی جس کے یہ مصرعے بہت مشہور ہوئے۔
  تم ہی سے اے مجاہدو جہاں کا ثبات ہے
     شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
سید محمود آزادنے اپنی کتاب''سردار فتح محمدخان کریلوی'' میں لکھا ہے کہ کچھ دنوں بعدعلامہ اقبال نے 13 جولائی کے شہداء کی یاد میں جلسے جلوس ترتیب دینا شروع کردیئے جن کی تفصیل فتح محمدملک کی کتاب ''تحریکِ آزادی کشمیر اُردو ادب کے آئینے میں'' کے اوراق میں ملتی ہے ۔ 9 اگست1931 کو برکت علی محمڈن ہال لاہور میں علامہ اقبال کی زیرِ صدارت اجلاس کا فیصلہ ہوا کہ 14 اگست کو جلسہ اور جلوس ہوگا۔ بعد ازنمازجمعہ دہلی دروازے سے جلوس نکلا جو باغ بیرون موچی گیٹ پہنچا جہاں علامہ اقبال کی صدارت میں جلسہ ہوا جس میں ایک لاکھ سے زائد مسلمان شریک تھے۔ اس جلسے میں'' شہیدانِ کشمیرزندہ باد'' اور ''ڈوگرہ راج مردہ باد'' کے نعرے لگے۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا کہ اب کوئی مہاراجہ عوام کی مرضی کے خلاف عوام پر حکومت نہیں کرسکتا۔ 14 اگست 1931کو علامہ اقبال کی زبان سے تحریکِ آزادی کا باقاعدہ اعلان ہوا۔ اس سے قبل1930میں وہ خطبہ الٰہ آباد میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ مملکت کا تصور بھی پیش کرچکے تھے۔ 14 اگست کو ایک بڑا جلسہ سیالکوٹ میں ہوا اور خواتین نے سرینگر میں جلوس نکالا۔ تحریک کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا اورکچھ ہی عرصے بعد 1932 میں آل جموں وکشمیر کانفرنس قائم کردی گئی جس کا منشور  علامہ اقبال کے مشورے سے تیارکیاگیا۔دسمبر1938 میں باغ کے سکھوں نے ہاڑی گہل میں ایک مسجد نذرِآتش کردی۔ پونچھ جیل کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر رام سنگھ نے جیل میں قرآنِ پاک کی بے حرمتی کی لہٰذا سردار فتح محمد خان کریلوی اور کرنل خان محمد خان نے جلسے جلوس شروع کردیئے۔ یہ دونوں ریاستی اسمبلی کے رکن تھے اور کھلم کھلا ڈوگرہ راج کو للکارنے لگے۔ 
23 مارچ1940 کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں وہ قراردادمنظور کی گئی جو قراردادِ پاکستان کہلاتی ہے۔ اس اجلاس میں کشمیری مسلمانوں کا وفد بھی شریک تھا جس میں سردار فتح محمدخان کریلوی، اے آر ساغر، پیر ضیاء الدین ، پروفیسر اسحاق قریشی، سید حسن شاہ گردیزی، مفتی گل احمدخان، مولوی غلام حیدر جنڈیالوی اور دیگر شریک تھے۔ 1944میں قائداعظم سچیت گڑھ کے راستے سے جموں اور سری نگر پہنچے۔ انہوں نے سری نگر میں دوماہ قیام کیا۔ اس قیام میں ایک نوجوان کشمیری صحافی کے ایچ خورشید سے اُن کی ملاقات ہوگئی اور انہوں نے اس نوجوان کو اپنا سیکرٹری مقرر کیا۔ اس وقت تک شیخ عبدﷲ مسلم کانفرنس کی جگہ نیشنل کانفرنس بناچکے تھے۔ مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس نے قائدِاعظم کو علیحدہ علیحدہ استقبالیہ دیا۔ قائداعظم نے شیخ عبدﷲ کے ساتھ کئی ملاقاتیں کیں اور انہیں واپس مسلم کانفرنس میں لانے کی کوشش کی۔ شیخ عبدﷲ نے ''آتش چنار'' کے صفحہ 219 پر لکھا ہے کہ جناح صاحب نے کہا: ''آپ ایک ایسی قوم پر کیسے اعتبار کرسکتے ہیں جو آپ کے ہاتھوں سے پانی پیناتک پاپ سمجھتی ہے۔ اُن کے سماج میں آپ کے لئے کوئی جگہ نہیں، وہ آپ کو ملیچھ سمجھتے ہیں۔'' جناح صاحب نے یہ بھی کہا کہ ''وقت آئے گا جب آپ کو میری بات یاد آئے گی اور آپ افسوس کریں گے۔'' قائداعظم بھی علامہ اقبال کی طرح ریاست جموں و کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے مسلم کانفرنس کے رہنما چوہدری غلام عباس کو مشورہ دیا کہ آپ کشمیری زبان سیکھیں تاکہ شیخ عبدﷲ کا توڑ کیاجاسکے۔ چوہدری غلام عباس کا تعلق جموں سے تھا، اس لئے وہ کشمیری زبان سے نابلد تھے۔ چوہدری غلام عباس نے اپنی خود نوشت ''کشمکش'' میں لکھا ہے کہ قائداعظم نے میری اور شیخ عبدﷲ کی ملاقات کا اہتمام کیا تاکہ ہم دونوں کے اختلافات دُور ہو جائیں۔ ملاقات ہوگئی۔ لیکن اختلافات ختم نہ ہوئے۔ بہر حال چوہدری غلام عباس اور اُن کے ساتھی قائداعظم اور تحریکِ پاکستان کے ساتھ وفادار رہے۔
19 جولائی1947 کو مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل کا اجلاس سرینگر میں سردار ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا جس میں یہ متفقہ قرار داد منظور کی گئی کہ ریاست جموں و کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق بہت ضروری ہے کیونکہ ریاست کی80 فیصد آبادی مسلمان ہے، ریاست کا بیشتر علاقہ پاکستان سے ملحق ہے اور ریاست کے تمام بڑے دریا کشمیر سے پاکستان کی طرف جاتے ہیں۔ اس دوران قائداعظم نے اپنے سیکرٹری کے ایچ خورشیدکو سرینگر بھیجا تاکہ وہ شیخ عبدﷲ کو پاکستان سے الحاق کے لئے راضی کریں۔ شیخ عبدﷲ نے ایک شاطرانہ چال چلی۔ اُس نے اپنے ایک ساتھی خواجہ غلام محمدصادق کو لاہور بھیجا اور قائداعظم کے ساتھ اپنی ملاقات طے کرکے اس کی خبر پنڈت نہروکو دے دی اور پنڈت نہرو نے شیخ عبدﷲ کو کشمیر کا حکمران بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ شیخ عبدﷲ کو شک تھا کہ پاکستان کے ساتھ الحاق کی صورت میں چوہدری غلام عباس اور میرواعظ یوسف شاہ ہمیشہ اُس کے لئے سیاسی خطرہ بنے رہیں گے لہٰذا اپنے سیاسی مفاد کے لئے شیخ عبدﷲ نے کشمیر کا سودا کرلیا۔ شیخ عبدﷲ نے کے ایچ خورشید کو سرینگر میں گرفتار کروا دیا۔
 منیر احمد منیر نے قائداعظم کے متعلق اپنی تحقیقی کتاب ''دی گریٹ لیڈر'' میں کے ایچ خورشید کا ایک انٹرویو شامل کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ کشمیر پر بھارت کے قبضے سے قبل سرینگر کی ہر گلی میں ہر کشمیری بچے اور نوجوان کی زبان پر ''کشمیر بنے گا پاکستان'' کا نعرہ تھا۔ جب بھارتی فوج نے سرینگر پر قبضہ کیا تو عوامی احتجاج روکنے کے لئے دس ہزار سے زائد کشمیری گرفتار کئے گئے۔ اس دوران جموں میں مسلمانوں کا قتلِ عام شروع ہوگیا۔ قتلِ عام کا منصوبہ1947 کے آغاز میں بنایاگیا تھا۔ الطاف حسن قریشی نے اپنی کتاب ''ملاقاتیں کیا کیا'' میں قدرت ﷲ شہاب کا ایک انٹرویو شامل کیا۔ قدرت ﷲ شہاب1947 کے شروع میں اُڑیسہ کے ڈپٹی ہوم سیکرٹری تھے۔ اُن کے ہاتھ ایک سرکاری دستاویز لگ گئی جس میں کہا گیا تھاکہ تقسیمِ ہند کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ مسلمانوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹادیا جائے اور پولیس فورس میں مسلمانوں سے اسلحہ واپس لے لیا جائے۔ شہاب صاحب کو یقین ہوگیا کہ مسلمانوں کے قتلِ عام کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ وہ چھٹی لے کر دہلی آگئے اور کے ایچ خورشید کے ذریعے قائداعظم کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور وہ دستاویز اُن کے حوالے کردی۔ قائداعظم نے اسے غور سے پڑھا اور اپنے پاس رکھ کر لیا ۔ جب قدرت ﷲ شہاب واپس جانے لگے تو اُنہیں کہا ''بوائے! دوبارہ ایسی حرکت مت کرنا۔'' اُدھر کشمیر میں مسلم کانفرنس الحاقِ پاکستان  کا فیصلہ کرچکی تھی۔ لہٰذا سرینگر سے مظفرآباد اور پونچھ سے میرپور تک ڈوگرہ فوج مسلمانوں کے گھروں پر چھاپے مار رہی تھی۔ سیاسی کارکنوں کو گرفتارکیا جارہا تھا۔ لہٰذا راولا کوٹ اور باغ میں ڈوگرہ راج کے خلاف مزاحمت کی تحریک شروع ہوگئی۔14 اگست1947کو قیامِ پاکستان کا اعلان ہوا اور23 اگست کو دھیرکوٹ کے قریب نیلہ بٹ کے مقام پر  سردار عبدالقیوم خان نے ڈوگرہ راج کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا اور مجاہدِ اول کہلائے۔ انہوں نے باغ اور سردار ابراہیم خان نے سدھنوتی کو آزاد کرالیا۔ سردار فتح محمد خان کریلوی نے اپنے علاقے میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجیوں سے رابطے شروع کئے۔ اُن کے ایک ساتھی سید خادم حسین شاہ راتوں کو گاؤں گاؤں سابقہ فوجیوں سے رابطے کررہے تھے۔ ڈوگرہ فوج نے اُنہیں 6 ستمبر1947کو گرفتار کرکے شہید کردیا۔ 
ریاست جموں و کشمیر میں مزاحمت شروع ہوچکی تھی۔ برٹش لائبریری لندن کے سائوتھ ایشیا سیکشن میں موجود ایک دستاویز کے مطابق27 ستمبر1947 کو کابل میں برطانوی سفارتخانے کے ملٹری اتاشی نے لندن کو رپورٹ بھیجی کہ افغان قبائل بھارت پر حملے کی اجازت مانگ رہے ہیں کیونکہ حضرت صاحب شوربازار پر قبائلی عمائدین کا دباؤ ہے کہ بھارت کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم کررہا ہے۔ گیارہ اکتوبر 1947 کو کابل سے ملٹری اتاشی نے ایک اور رپورٹ میں بتایا کہ حضرت صاحب شوربازار کا صاحبزادہ غزنی اور لوگر گیا اور قبائل کو ہندوؤں اور سکھوں کے خلاف جہاد کے لئے تیاری کا حکم دیا ہے کیونکہ سرہند شریف میں درگاہ کی بے حرمتی ہوئی تھی۔ اس درگاہ کی بے حرمتی کے بعد قبائلی لشکر کشمیر کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ امر قابلِ غور ہے کہ آزاد کشمیر میں مقامی لوگوں کی مزاحمت 23 اگست کو شروع ہوئی جبکہ قبائلی لشکر اکتوبر میں کشمیر پہنچا۔ قبائلی لشکر کی آمد سے قبل سردار فتح محمد خان کریلوی پونچھ کی تحصیل مینڈھر میں حیدری فورس قائم کرچکے تھے جس میں نائیک سیف علی جنجوعہ بھی شامل تھے جنہوں نے شہادت کے بعد ہلال کشمیر حاصل کیا۔ اکثر ہندوستانی ماہرین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ 1947 میں کشمیر میں کوئی مزاحمت نہیں ہوئی۔ یہ مزاحمت قبائلی لشکر نے شروع کی جو باہر سے آیا تھا۔ تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ کشمیر میں مزاحمت بہت پہلے سے جاری تھی۔ قبائلی لشکر کو پاکستانی فوج نہیں لائی تھی کیونکہ پاکستانی فوج کی کمان اُس وقت انگریز افسران کے پاس تھی۔ میجر جنرل اکبر خان کی کتاب "Raiders In  Kashmir" کے مطالعے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ کچھ مسلم لیگی رہنماؤں نے اپنے طور پر کشمیری مجاہدین اور قبائلیوں کی مدد کا ایک منصوبہ تیار کیا تھا جس میں کچھ فوجی افسران سے مدد لی گئی  لیکن انگریز کمانڈر بے خبر تھا۔کرنل مرزا حسن خان  اپنی کتاب ''شمشیر سے زنجیر تک''  میں لکھتے ہیں کہ وہ 1946 میں جان گئے تھے کہ کچھ مسلمانوں کی غداری کے باعث کشمیر کے حالات بگڑیں گے لہٰذا اُنہوں نے جموں اور سرینگر میں بہت سے حاضر سروس مسلمان فوجی افسروں کے ساتھ رابطہ کرکے یہ منصوبہ بنایا کہ فوجی بغاوت کے ذریعے ڈوگرہ حکومت کا تختہ اُلٹ دیا جائے۔ ریاستی فوج میں مسلمان کم تھے لیکن ہمارا خیال تھا کہ پونچھ میں سابقہ فوجیوں کی بڑی تعداد ہماری مدد کرے گی لیکن جب منصوبے پر عمل درآمد کا وقت آیا تو کرنل حسن کا گلگت تبادلہ ہوگیا۔ جہاں انہوں نے بریگیڈیر گھنسا را سنگھ کو گرفتار کرکے یکم نومبر 1947کو پاکستان کا پرچم لہرادیا۔ جموں وکشمیر کی ریاستی فوج میں مسلمان بہت کم تھے لیکن برطانوی فوج میں پونچھ اور جموں کے مسلمان بڑی تعداد میں موجود تھے۔
 کرسٹوفر سنیڈن نے اپنی کتاب Kashmir The Unwritten History میں لکھا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم میں جموں وکشمیر کے ایک لاکھ فوجیوں نے برطانوی فوج کی طرف سے حصہ لیا۔ ان میں سے ریٹائر ہونے والے فوجیوں کی بڑی تعداد نے 1947 میں مظفر آباد سے میرپور تک مختلف علاقے آزاد کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ لکھتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی فوجوں میں باقاعدہ لڑائی مئی1948 میں شروع ہوئی تھی۔بابائے پونچھ کرنل خان محمدخان کی سوانح ''یگانہ کشمیر'' کے نام سے شائع ہوئی جس میں تحریکِ آزادی میں ریٹائرڈ فوجیوں کا کردار بڑی تفصیل سے نظر آتا ہے انہوں نے بتایا ہے کہ مجاہدین نے پونچھ پر قبضہ کرلیا تھا لیکن نہرو نے پونچھ شہر سے تین ہزار سویلینز کو نکالنے کے بہانے سیزفائر کرایا اور پھر ہوائی جہازوں میں فوج بھیج کر پوزیشن مستحکم کرلی۔ ہندوستان نے 1947 سے لے کر آج تک سیزفائر اور مذاکرات کے نام پر ہمیشہ دھوکہ دیا ہے۔ لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ تمام دھوکوں کے باوجود کشمیر اور پاکستان کا رشتہ کمزور ہونے کے بجائے پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ تصورِ پاکستان کے خالق علامہ اقبال کشمیر کی تحریکِ آزادی کے بانی ہیں۔ پاکستان کا یومِ آزادی 14 اگست ہے اور علامہ اقبال نے کشمیر کی تحریکِ آزادی  کا آغاز 14 اگست 1931 کو لاہور سے کیا۔ اس 14 اگست کا تعلق13 جولائی کے یومِ شہدائے کشمیر سے ہے اور یہ واقعہ 1947 کے بعد کا نہیں بلکہ 1931 کا ہے۔ پاکستانی فوج کا پہلا نشانِ حیدر کیپٹن محمد سرور کو ملا جو27 جولائی1948 کو اُڑی کی پہاڑی تل پترا پر شہید ہوئے اور وہیں پر دفن ہوئے۔ یہ پہاڑی مقبوضہ کشمیر میں ہے اور کیپٹن محمد سرور شہید کے مقام شہادت کو پاکستان کا حصہ بنانا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔ کشمیر کے شہیدوں کی کہانی 1819 سے شروع ہوتی ہے۔ اس کہانی کے کرداروں نے نہ صرف سینوں پر گولیاں کھائیں بلکہ سردار شمس خان کی طرح سر بھی کٹوایا اور ملی خان اور سبزعلی خان کی طرح اپنی کھالیں بھی کھنچوائیں۔1819 میں شروع ہونے والی اس کہانی میں2019 ایک اہم سال تھا جب نریندر مودی دو صدیوں بعد راجہ گلاب سنگھ بن کر سامنے آیا لیکن آج کشمیر کا ہر بچہ بُرہان وانی بن چکا ہے۔ اور سلطان زبردست خان کی طرح آزادی سے کم کسی بات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔


مضمون نگار سینیئر صحافی، کالم نویس اور ایک نجی ٹی وی چینل کے مقبول ٹاک شو کے میزبان ہیں۔ وہ حالات حاضرہ اور سیاسی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 3501مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP