خصوصی رپوٹ

دیا جلائے رکھنا ہے

ہم گھر کی دہلیز پر یا دریچوں میں دیئے جلا کر رکھتے ہیں شائد اس لئے کہ یا تو کسی کا انتظار ہوتا ہے یا یہ کہ شائد کوئی بھولا بھٹکا مسافر کوئی جائے پناہ ڈھونڈ رہا ہو تو اس روشنی کے آسرے پر اسے پناہ مل جائے گی۔
لیکن ہم راتوں کو دیئے اس لئے بھی جلا کر رکھتے ہیں کہ ہمارا چھوٹا سا خوبصورت ملک ہر طرف سے دشمنوں میں گھِرا ہوا ہے۔ دشمنی کی ویسے تو کوئی وجہ نہیں لیکن ہمارا وجود کسی کو گوارا بھی نہیں۔ دُور پار کہیں بھی دیکھ لیں۔ چاہے وہ عراق ہو، شام ہو، فلسطین ہو، برما ہو، ترکی ہو، سپین ہو۔ وجہ آپ بھی جانتے ہیں ہم بھی جانتے ہیں ۔جو چراغ آج سے14سو سال پہلے روشن ہوا تھا اورجس کی روشنی پھیلتے پھیلتے پوری دنیا پر چھاگئی تھی، یہ پیار کی روشنی تھی روح کی روشنی تھی۔ جو چراغ در چراغ پھیلتی جارہی تھی۔
بھلا یہ کیسے گوارا ہوتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دشمنوں نے چراغ بجھانے شروع کئے۔ الحمراء غرناطہ، مصر، ترکی، بالکن سٹیٹس۔ ورلڈ وار  کے  دوران سب کو تباہ کیاگیا۔ اسلام کی طاقت سے سب خوفزدہ تھے۔ پاکستان کا بننا ناممکنات میں سے تھا۔ اتنی بڑی اکثریت کے مقابلے میں ایک اقلیت جیت جائے کون یہ مان سکتا تھا۔ مگر۔۔۔ ایسا ہی ہوا۔ پاکستان ہزار مخالفتوں کے باوجود ایک شخص کی جرأت، ہمت اور اس کے ساتھیوں کی کوششوں کے سبب وجود میں آگیا۔ یہ کڑوا نوالہ کسی کو بھی ہضم نہیں ہو رہا تھا۔ نہ ہمارے پڑوسیوں کو نہ دور پار کے مخالفین کو۔ ابھی قدم سنبھلے بھی نہیں تھے کہ1948ء کی جنگ ہم پر مسلط کردی گئی۔ اس کے بعد 1965 کی جنگ اس مکمل ارادے سے اچانک شروع ہوئی کہ آج پاکستان نہیں بچے گا۔ بچانے والا مارنے والے سے بہت مضبوط ہوتا ہے اور اس قوم کی ہمت  اور جذبے کو کون مٹا سکتا ہے جوٹینکوں کے سامنے ڈٹ گئی تھی۔ پوری قوم اس طرح جاگ گئی تھی جیسے اب کبھی آنکھیں بند نہیں کرے گی۔ ہمارے نڈر اور بہادر فوجیوں کی تو الگ بات ہے عام آدمی گھروں کی چھتوں پر ڈنڈے اور پتھر لئے کھڑے تھے، دشمنوں کے جہازوں کومارنے کے لئے۔ تاریخ میں ایسا منظرکسی قوم نے کم ہی دیکھا ہوگا۔ ریڈیو سٹیشن جاگ رہے تھے۔ نغمہ نگار دن رات لکھ رہے تھے، فوجیوں کا حوصلہ بڑھانے کو۔۔۔ اور ہمارے گلوکار اور گلوکارائیں اپنے روز و شب بغیر کسی خوف و خطرے کے، ریڈیو سٹیشن اور ٹی وی سٹیشن پر گزاررہے تھے۔ ایسا جذبہ شاید ہی پہلے کسی نے دیکھا ہوگا۔ ہم امن پسند قوم ہیں۔ ہم پرائے مال پر نظریں نہیں رکھتے، ہم اپنے چھوٹے سے گھر کی خود حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ مجھے بچپن ہی سے فوج ، فوجی وردی اورفوجی مارچ سے پیار تھا۔ بچپن میں کسی فوجی کو دیکھتی تو بے ساختہ سلیوٹ کرتی۔ اور جب وہ جواب میں سلیوٹ کرتے تو خوشی کا جو حال ہوتا تھا اسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔
لکھنا لکھانا شروع کیا تو بات فوج تک بھی پہنچی۔ ہنسی خوشی کی باتیں سب کریں ، اچھی لگتی ہیں۔ جیسے گرم دوپہر میں ٹھنڈی ٹھنڈی پھوار پڑنے لگے۔ مزاحیہ ادب یا ڈرامے لکھنے والے شائد اسی لئے پسند کئے جاتے ہیں کہ وہ انسانیت کو فروغ دیتے ہیں۔ مثبت بات کرتے ہیں۔ منفی خیالات کو پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔ شائد اس وجہ سے مجھے پہلی بار بڑی کم عمری میں پاسنگ آئوٹ پریڈ میں بلایا گیا۔ میں اپنی دوست عاتکہ کے ساتھ گئی۔ جب پہلی بار میںنے اﷲ میاں سے شکوہ کیا کہ اگر آپ مجھے لڑکا بنا دیتے تو آج میں یہاں کھڑی ہوتی۔ شائد کہ یہ اعزازی شمشیر مجھے مل رہی ہوتی۔ مجھے تو اس گھوڑے تک سے محبت ہوگئی تھی جو نظم و ضبط کے ساتھ چلتا ہوا آکر چیف کے سامنے ساکت کھڑا ہوگیا تھا۔
کئی بار میں 23مارچ کی پریڈ پر بطورِ مہمان گئی ہوں اور ہر مرتبہ میری محبت بڑھتی ہی گئی۔ اس سال جب دعوت نامہ آیا تو میرے گھر والے ہنس رہے تھے کہ تم کیا پریڈ کو حفظ کرنے جاتی ہو۔ یا پھر یہ کہتے ایسا نہ ہو فوج تمہیں مجبور ہو کر سیٹی بجانے کا کام دے دے۔ میںنے جل کر کہا کہ جھاڑو لگانے کا کام دے دیں پھر بھی میں جائوں گی۔
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور انتہائی بااخلاق انسان ہیں، ان کی بیگم ان سے زیادہ مہمان نواز ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف اتنے مہربان اور ہنس مکھ لگتے ہیں کہ یقین ہی نہیں آتا کہ یہ اتنی بڑی فوج کو اتنی خوش اسلوبی سے نہ صرف سنبھال رہے ہیں بلکہ دشمن کی'کرم فرمائیوں' کا جواب بھی ایسا دیتے ہیں کہ یقینا اُنہیں دانت دوبارہ لگوانے پڑتے ہوں گے۔
یہ تو خیر بہت بڑے لوگ ہیں لیکن جونیئر افسران بھی ہمارے بہت بڑے فین ہیں۔ اتنا خیال رکھتے ہیں کہ کچھ شرمندگی سی ہونے لگتی ہے۔ جن میں میجر منور، میجر عکرمہ، میجر منصور اور کئی نام میں بھول چکی ہوں جس کے لئے اور بھی شرمندہ ہوں۔
ہمیں ایک دن پہلے بلا لیا تھا۔ بہت ہی عمدہ ہوٹل میں ٹھہرایا۔ جو نیئر مہربان افسران کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جو کچھ ہوٹل میں موجود ہے ہمیں سب کھلا پلا دیں۔
صبح ہم ناشتے کے وقت موجود تھے،بس یہ ناشتے کا وقت ذرا امتحان کا ہوتا ہے کیونکہ ناشتہ چھہ بجے شروع ہوتاہے اور ہمیں سات بجے پریڈ گرائونڈ پر پہنچ جانا تھا۔ خیر میںنے اس کا انتظام یہ کیا کہ رات کی نیند سے معذرت کی کہ آج نہ بھی سوئے توکیا قیامت آجائے گی۔رات بھر ٹی وی دیکھتے رہے۔ صبح تیار ہو کر سب سے پہلے نیچے پہنچ گئے۔ جو لوگ مجھے جانتے ہیں وہ حیران پریشان تھے کہ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے! میںنے گھڑی دکھائی۔ فوج کو پتہ چلے کہ ہم بھی وقت کے پابند ہو سکتے ہیں۔ لوگ جمع ہوگئے۔ تھوڑا بہت ناشتہ کرکے روانہ ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ بڑھاپا بچپن کی طرح ہی ہوتا ہے تو میرا تو ہمہ وقت بچپن ہی رہا۔ سخت پُرجوش تھی۔ بڑی اچھی جگہ ہم لوگوں کو بٹھایا گیا۔ میرے ساتھ عدنان صدیقی اور ہمایوں سعید تھے۔ ایوب کھوسہ بھی تھے۔ چونکہ یہ سب میرے ساتھ کام کرچکے ہیں اس لئے وقت اچھا گزرا۔ سدرہ اور ان کے میاں بھی ساتھ تھے۔
مہمانانِ گرامی میں ملائشیا کے وزیرِاعظم مہاتیر محمد گیسٹ آف آنر تھے۔ پریڈ وینیومیں تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی موجود تھے۔ سب سے پہلے وائس چیف آف ایئر سٹاف عاصم ظہیر پریڈوینیو میں تشریف لائے کیونکہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان فلائی پاسٹ کی قیادت کررہے تھے۔ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفرمحمود عباسی کے بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ اور کئی حضرات تشریف لائے۔بعد میں وزیرِاعظم عمران خان تشریف لائے۔ تالیاں مسلسل بج رہی تھیں۔ بگل بجا کر صدرمملکت عارف علوی کی آمد کا اعلان ہوا جو پریذیڈنٹ گارڈ کی روائتی بگھی میں سوار ہو کر پریڈ گرائونڈ میں آئے۔ وزیرِاعظم اور مسلح افواج کے سربراہان نے ان کا استقبال کیا۔ 
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔ صدرمملکت نے پریڈ کمانڈر کے ساتھ پریڈ میںشامل دستوں کا معائنہ کیا۔اچانک ایئر چیف F-16 میں سوار فضا میں نمودار ہوئے اور وہیں سے براہِ راست پیغام دیا'میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاک فضائیہ ملکی آزادی اور خود مختاری کا بھرپور تحفظ کرے گی۔ پاکستان زندہ باد' ۔ کیا شاندار مظاہرہ تھا۔ ہم سب سانس روکے  بیٹھے تھے، لگتا تھا کہ اس وقت صرف اور صرف پاکستان کی محبت ہے جو چہار سو پھیل چکی ہے۔ اور ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔
صدرِ پاکستان نے فرمایا'' پاکستان ایک حقیقت ہے بھارت کو یہ تسلیم کرلینا چاہئے۔'' ہم بھی یہی کہتے ہیں مگر بھارت کی سمجھ میں اتنی سی بات نہیں آتی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی، اس کا جواب دینا ضروری تھا، جو ہم نے دیا۔  اس کے بعد سارے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
اب وہ خوبصورت مناظر ہمارے سامنے تھے جو فوجی دستوں کی پریڈ دیکھ کر نظر آتے ہیں۔ جو قوم اس طرح شانہ بشانہ ساتھ ساتھ چل رہی ہو اسے شکست دینا ممکن نہیں۔ اس وقت میںنے دعا مانگی کہ کاش یہ قوم اسی طرح آپس میں تضادات چھوڑ کر یک جان ہو جائے۔صرف پاکستانی۔۔ صرف پاکستان۔
اپنے علاقائی رنگوں کی نمائش بھی فلوٹ کے ذریعے کی گئی۔ بڑا مزہ آیا جب گھوڑوں کے بعد اونٹوں کے دستے بھی مہمانوں کے سامنے سے قدم سے قدم ملاکر گزرے۔ اب بھلا کون کہہ سکتا ہے کہ اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی۔
آسمان پر جہازوں نے جو رنگ جمایا وہ میں مدتوں نہیںبھلا سکوں گی۔ اچانک آسمان پر رنگ ہی رنگ پھیل گئے۔ اس کے بعد کمانڈوز کا دس ہزار فٹ کی بلندی سے فری فال ناقابلِ یقین نظارہ تھا۔ ان میں ملکی و غیر ملکی پیراٹروپر سب شامل تھے۔ آہستہ آہستہ سب کے سب اپنے اپنے پرچم سنبھالے اس جگہ آکے اترے جہاں انہیں اترنا تھا۔ نہ ڈگمگائے نہ گرے۔ بھارت کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہم گرنے والی قوم نہیں ہیں۔ لیکن جس منظر نے مجھ میں جیسے بجلی بھردی وہ گرلز کیڈٹ کا مارچ تھا۔ اﷲ ہماری بچیوں کو اس سے زیادہ ہمت دے۔ کوئی فرق نہیں تھا ان کے مارچ میں اور نوجوانوں کے مارچ میں۔ وقت گزرنے کا احساس اب بڑی شدت سے ہورہا تھا۔ ہم کیوں اتنے پہلے دنیا میں آگئے۔ اب آتے تو شاید ہم بھی ان میں شامل ہوتے۔ اپنے ملک کے لئے جان دینے کو تیار ہوتے وہ  تو اب بھی تیار ہیں۔ مگر اب جان کچھ جانِ ناتواں سی ہوگئی ہے۔ مگر ہے تو اپنے ملک کی۔ اتنے خوش تھے کہ سب کچھ ختم ہوگیا مگر ہم اپنی جگہ ساکت بیٹھے تھے۔میجر منور نے کہا۔۔۔ آپا واپس نہیںجانا۔۔ ہنسی آگئی۔۔۔۔ 
موج بڑھے یا آندھی آئے، دیاجلائے رکھنا ہے
گھر کی خاطر سودُکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے


مضمون نگار ممتاز ڈرامہ نگار ہیں۔ آپ نے ٹی وی اور ریڈیو کے لئے بہت سے کھیل لکھے جن میں سے بعض نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی۔
 

یہ تحریر 41مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP