متفرقات

دو قومی نظریہ ۔ ایک زندہ جاوید حقیقت

16 دسمبر 1971 ہماری  تاریخ کا ایک انتہائی دل فگار دن ہے جب مشرقی پاکستان کا سانحہ پیش آیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے خلاف بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا اور اس کی فوجیں ڈھاکے تک پہنچ گئی تھیں۔ لیفٹیننٹ جنرل اے کے نیازی کو بھارتی کمانڈر اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ نریندر مودی نے گزشتہ سال اِس امر کا بڑے فخر سے انکشاف کیا کہ ہم سالہا سال سے مکتی باہنی کی تشکیل اور فوجی تربیت میں مشغول اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لئے میدان تیار کرتے رہے۔ اِس اعترافِ جرم کے بعد سلامتی کونسل کو پاکستان کے خلاف طاقت استعمال کرنے پر جارح بھارت کے خلاف مقدمہ چلانا چاہئے تھا، مگر اس کی آنکھیں بند رہیں۔ وہ تو اِن مظالم پر بھی مہر بہ لب ہے جو بھارت کی افواج ان جواں ہمت کشمیریوں پر ڈھا رہی ہے جنہوں نے حقِ خودارادیت کا پرچم اٹھا رکھا ہے اور اِس عظیم نصب العین کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ یہ حق انہیں سلامتی کونسل نے طویل بحث و تمحیص کے بعد جنوری 1949 میں دیا تھا، مگر وہ اپنی قرارداد پر بھارت سے عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی ہے جس کے باعث علاقائی اور عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔



سقوطِ مشرقی پاکستان کے فوراً بعد بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے فاتحانہ انداز میں کہا تھا کہ ہم نے اپنی آٹھ سو سالہ غلامی کا مسلمانوں سے انتقام لے لیا ہے اور دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ہمیشہ کے لئے ڈبو دیا ہے۔ ان کی اِس لاف زنی کا حقیقت سے کوئی تعلق نظر نہیں آیا کیونکہ بنگلہ دیش کے عوام نے بھارت کے اندر ضم ہونے سے انکار کرتے ہوئے اپنا تشخص قائم رکھا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان سے علیحدگی کا عمل جن اندوہناک واقعات پر منتج ہوا، ان سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہت کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ علاوہ ازیں ان میں خوفناک دراڑیں ان غلط اعدادوشمار نے بھی ڈال دی تھیں جو بھارتی پریس اور بھارتی سیاست دانوں نے پاکستانی فوج کے مظالم کے بارے میں گھڑ لئے تھے۔ خود شیخ مجیب الرحمن نے کسی تحقیق کے بغیر ڈھاکہ پہنچتے ہی یہ بیان داغ دیا تھا کہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں تیس لاکھ سے زیادہ بنگالی ہلاک ہوئے اورلاکھوں خواتین کی عزتیں لوٹی گئیں۔ اب تو بنگالی محققین کی مستند تصانیف منظرِ عام پر آ چکی ہیں جن میں برسوں کی کاوش کے بعد یہ حقائق جمع کئے گئے ہیں کہ ایک سال پر محیط خانہ جنگی میں صرف چند سو لوگ مارے گئے اور خواتین کی آبروریزی کے قصے زیادہ تر افسانوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پروپیگنڈے کا غبار بیٹھ جانے کے بعد بنگلہ دیش میں کروڑوں عوام بھارت کی جعل سازیوں سے پوری طرح واقف ہو چکے ہیں اور پاکستان سے کٹ جانے کا دکھ ان کی روحوں میں گاہے گاہے دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی پاکستان اور بھارت کھیل کے میدان میں ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں، تو بنگلہ دیش میں پاکستان کے حق میں فلک شگاف نعرے لگتے ہیں جو ان کے درمیان پائے جانے والے گہرے تاریخی رشتوں کا برملا اظہار ہوتا ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے انگریزوں اور ہندوؤں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی تھی، بلکہ یہ کہنا زیادہ حقیقت کے قریب ہو گا کہ سیاسی اور فکری جدوجہد کا آغاز مشرقی بنگال سے ہوا اور آل انڈیا مسلم لیگ کی داغ بیل ڈھاکہ میں دسمبر 1906 میں ڈالی گئی۔


بنگلہ دیش کے عوام اسلام کے رشتے میں آج بھی پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جنرل ارشاد اور محترمہ خالدہ ضیاء کے عہد میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بڑی حد تک معمول کے مطابق تھے جو بھارت کے لئے سخت پریشانی اور تشویش کا باعث بنے ہوئے تھے۔ اسے اس حقیقت سے بھی شدید خوف لاحق تھا کہ بنگلہ دیش کے عوام کی روح میں دو قومی نظریہ رچا بسا ہے اور یہ ٹوٹا ہوا تارہ کسی وقت بھی مہِ کامل بن سکتا ہے۔


پاکستان14 اگست 1947 کو معرضِ وجود میں آیا، تو اس کے مغربی اور مشرقی بازوؤں کے درمیان ہزار میل سے زائد کا جغرافیائی فاصلہ حائل تھا۔ مشرقی پاکستان کو چاروں طرف سے بھارت نے گھیر رکھا تھا۔ اِن غیرمعمولی حالات میں سب سے اہم ضرورت پاکستان کے حکمران اور سرکاری حکام کی سیاسی حکمتِ عملی اور منصفانہ طرزِعمل سے فاصلے کم کرنے کی تھی، مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ بھارت مشرقی پاکستان کے سر پر بیٹھا ہو آئے دن مشرقی اور مغربی پاکستان میں دوریاں پیدا کرنے کے لئے نئے نئے فتنے اٹھاتا رہتا۔ بنگلہ زبان میں جو لٹریچر دستیاب تھا، اس میں نذرالاسلام کے سوا زیادہ تر غیرمسلم شاعروں اور نثر نگاروں کی تخلیقات غالب تھیں۔ شاعرِ مشرق حضرت اقبال کی شاعری کے بنگلہ زبان میں ترجمے ہونا شروع ہوئے، مگر وہ طلبہ تک اِس لئے نہ پہنچ سکے کہ انہیں تعلیم دینے والے اساتذہ خاصی بڑی تعداد میں غیرمسلم بنگالی تھے، تاہم پورے مشرقی پاکستان میں دینی مدارس کا ایک جال بچھا ہوا تھا جن میں تدریس کا سلسلہ اردو زبان میں جاری رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اضافہ ہوا جن میں بنگلہ قومیت کا پرچار ہونے لگا۔ اس کے برعکس مسلم قومیت کا تصور اجاگر کرنے اور بنگلہ زبان میں اسلامی تعلیمات کو جنگی بنیادوں پر فروغ دینے کی ضرورت تھی، لیکن ہمارے منصوبہ سازوں کو اِن بنیادی معاملات پر توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں تھی جبکہ ہمارے سیاست دان چھوٹے چھوٹے مفادات کے پیچھے دوڑتے اور سول حکام نوآبادیاتی حکمرانی کے مزے لوٹتے رہے۔

اِن تمام باتوں کے باجود مشرقی پاکستان میں یہ احساسِ تفاخر پایا جاتا تھا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کے شہری ہیں، ان کی فوج کا دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتا ہے اور وہ بھارت کے مقابلے میں ایک بڑی علاقائی طاقت کے طور پر ابھرتے جا رہے ہیں۔ اِس احساسِ تفاخر کو قائم رکھنے اور قومی یک جہتی کو پروان چڑھانے کے لئے ہر سطح پر ایسے اقدامات لازم تھے جو معاشرے میں برابری اور اقتدار میں مؤ ثر شراکت کا احساس دلاتے رہیں۔  1954میں وزیراعظم محمد علی بوگرا کی قیادت میں دستور تیار ہوا جسے دستور ساز اسمبلی نے منظور بھی کر لیا اور یہ طے پایا کہ قائداعظم کے یومِ ولادت کی مناسبت سے اسے 25 دسمبر کو نافذ کر دیا جائے گا۔ وہ ہر اعتبار سے حددرجہ متوازن اور شہریوں کے حقوق کا محافظ دستور تھا، مگر گورنر جنرل ملک غلام محمد نے سول اور ملٹری بیوروکریسی اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ سے آئین ساز اسمبلی تحلیل کر دی۔ چار سال بعد صدرا سکندر مرزا نے  1956کا دستور چاک کر کے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا جس کے بطن سے صدارتی نظام نے جنم لیا۔ بنیادی جمہوریت کی بنیاد پر فیلڈ مارشل ایوب خاں صدر منتخب ہوئے اور انہوں نے 1962 میں جو دستور نافذ کیا، اس نے مشرقی پاکستان کو عملًا مغربی پاکستان کی کالونی بنا دیا۔ جنرل یحییٰ خاں نے 25مارچ 1969کو زمامِ حکومت سنبھالی، تو ایک ایسا لیگل فریم آرڈر نافذ کیا جس کی رو سے قومی اسمبلی میں مشرقی پاکستان کو اکثریت حاصل ہو گئی۔ اب مشرقی پاکستان کے ارکانِ اسمبلی اپنی اکثریت سے آئین منظور کر سکتے تھے اور قانون بھی بنا سکتے تھے۔ 1970 کے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے قومی اسمبلی کی دو کے سوا تمام نشستیں جیت لیں اور وہ اس پوزیشن میں آ گئے کہ اپنی مرضی کا دستور منظور کر لیں۔ انتخابی مہم کے دوران شیخ صاحب نے بدترین فسطائیت کا مظاہرہ کیا اور کسی حریف سیاسی جماعت کو جلسہ کرنے نہیں دیا۔ ان کے احکام پر صوبائی انتظامیہ بے چون وچرا عمل کر رہی تھی۔ اِس ابھرتی ہوئی صورتِ حال میں ان عناصر کے حوصلے جواب دینے لگے جو مسلم قومیت کے زبردست حامی اور پاکستان کی وحدت کے علمبردار تھے۔ مشرقی پاکستان کے گورنر ایڈمرل احسن اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر لیفٹیننٹ جنرل یعقوب خاں نے جی ایچ کیو سے باربار اِس امر کی اجازت چاہی کہ شیخ مجیب الرحمن کو حدود میں رکھنے کے لئے طاقت استعمال کی جائے، مگر وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا۔ ایک سال کی طویل انتخابی مہم کے نتیجے میں عوامی لیگ سیاسی منظر نامے پر حاوی ہو گئی۔

1970 کے انتخابات میں ملک سیاسی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ تقریباً تمام قومی اور صوبائی نشستیں جیت چکی تھی جبکہ مغربی پاکستان میں پیپلزپارٹی کو غلبہ حاصل ہو گیا تھا اور سب سے بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ ان کا ایک بھی امیدوار دوسرے صوبے میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔ دوسری بدقسمتی یہ کہ یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خون کی پیاسی تھیں۔ شیخ مجیب الرحمن، مسٹر بھٹو کو اپنا سب سے بڑا سیاسی دشمن سمجھتے اور یہی معاملہ مسٹر بھٹو کا تھا۔ ان گھمبیر حالات نے سیاسی تصفیے کے امکانات بڑے محدود کر دیئے تھے۔ جنرل آغا یحییٰ خاں یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ دونوں سیاسی لیڈروں کو سبز باغ دکھاتے ہوئے اپنے اقتدار کو طول دے سکیں گے۔ بھارت ایک مدت سے مشرقی پاکستان میں فیصلہ کن مداخلت کی تیاری کر رہا تھا۔ اس نے پاکستانی فوج کو گوریلا جنگ کے ذریعے مفلوج کرنے کے لئے یونیورسٹی کے طلبہ میں کام شروع کر دیا تھا۔ میں سب سے پہلے 1964میں ڈھاکہ گیا اور دورانِ قیام اردو ڈائجسٹ کے قارئین کے علاوہ مجھے ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ سے بھی ملنے کا موقع ملا۔ ان کے ایک چھوٹے سے گروپ نے مجھے عشائیے پر دعوت دی۔ ان میں سے دو طالب علم اردو زبان جانتے اور ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے باقاعدہ قاری تھے۔ اس گروپ نے مغربی پاکستان کے خلاف شکایات کا انبار لگا دیا۔ گفتگو کا یہ سلسلہ دو تین گھنٹوں پر محیط رہا۔ ایک چھوٹے قد کے چاق چوبند طالب علم نے کہا کہ اب ہم ظلم برداشت نہیں کریں گے اور جلد ہی تحریکِ مزاحمت کا آغاز کر دیں گے۔ میں نے پوچھا کہ اس کی کیا شکل ہو گی۔ اس پر وہ نوجوان اٹھ کر چلا گیا، تھوڑی دیر بعد واپس آیا، تو اس کے ہاتھ میں بہت سارے نقشے تھے۔ انہیں اس نے قریب رکھی ہوئی میز پر پھیلاتے ہوئے بتایا کہ ہمارے گروپ نے اہم فوجی تنصیبات کا سراغ لگا لیا ہے۔

میں نے میز پر پھیلے ہوئے نقشے بہت غور سے دیکھے اور میرا سر چکرانے لگا۔ ان میں دریاؤں، ریل کی پٹریوں، پلوں، فوجی چھاؤنیوں اور ان میں اسلحہ خانوں کی تفصیلات درج تھیں اور بھارت سے ملحقہ علاقوں اور فوجی چھائونیوں کے نام بھی درج تھے۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ طلبہ کے مختلف گروپس گوریلا ٹریننگ بھی لے رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہم بھارت سے بھی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ میں نے ان سے وعدہ کیا کہ میں مشرقی پاکستان کے مسائل اسلام آباد کے حکمرانوں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا اور ان کے حق میں آواز اٹھاتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا ہمیں آپ سے یہی امید تھی اور اِسی لئے ہم نے آپ کے سامنے اپنا دل کھول کے رکھ دیا۔ واپس آ کر میں نے ''میرا ڈھاکہ'' کے عنوان سے مشرقی پاکستان کے احوال قلم بند کئے اور اس واقعے کی طرف بھی ہلکا سا اشارہ کیا جو ڈھاکہ یونیورسٹی میں پیش آیا تھا، مگر اربابِ حکومت نے مجھ سے رابطہ ضروری نہیں سمجھا اور مجھ پر ایوانِ اقتدار کے دروازے بند رکھے۔ میں بتانا یہ چاہتا ہوں کہ بھارت نے 1960کی دہائی ہی میں افواجِ پاکستان کے خلاف نوجوانوں کو مزاحمت کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب 1971 کے اوائل میں شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ مغربی پاکستان کے لیڈروں کے مذاکرات جاری تھے، تو ایسٹ پاکستان رائفلز جن میں تمام تر بنگالی فوجی شامل تھے، انہوں نے چٹاگانگ میں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے فوجیوں، ان کی خواتین اور بچوں کا قتلِ عام کر ڈالا۔ علاوہ ازیں پاکستان پر یقین رکھنے والے شہریوں کو جن میں بنگالی اور غیربنگالی شامل تھے، ان پر تشدد کا عمل ہفتوں جاری رکھا۔ مکتی باہنی کے لوگ انہیںپکڑ کر ریسٹ ہاؤسز میں لے جاتے اور ان کے بدن سے  اذیتیں دے دے کر خون نکالتے۔ مجھے مئی 1971 میں ان ریسٹ ہاؤسز میں جانے کا موقع ملا۔ تب پاکستانی فوج بغاوت فرو کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی اور ریسٹ ہاؤسز کے فرش کئی ماہ بعد دھوئے گئے تھے، مگر وہاں ابھی تک فرشوں پر خون کی  موٹی تہیںجمی ہوئی تھیں۔ بھارت ایک منصوبے کے تحت پاکستانی فوجوں کو بدنام کرنے اور مشرقی پاکستان کے اندر گوریلا جنگ کی تیاری میں شب و روز مصروف تھا۔ اس دوران ہزاروں بنگالی نوجوان وطن کی حفاظت کے جذبے سے سرشار مردانہ وار اپنی فوج کی مدد کو پہنچے جو البدر اور الشمس کے نام سے منظم کئے گئے تھے۔ انہوں نے قدم قدم پر جاں فروشی کی ناقابلِ فراموش داستانیں رقم کیں۔ اگر بھارت ننگی جارحیت پر نہ اتر آتا، اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں نہ اتار دیتا اور اسلحے کے انبار نہ لگا دیتا، تو مشرقی پاکستان کے عوام داخلی وطن دشمن قوتوں کو شکست سے دوچار کر دیتے اور نئے آئینی انتظامات کے تحت پاکستان اپنا وجود قائم رکھ سکتا تھا۔ بدقسمتی سے اس وقت کے سیاسی بصیرت سے محروم حکمرانوں، مشرقی پاکستان میں فری فار آل انتخابات اور بھارت کی طرف سے ناجائز اور بے رحم طاقت کے استعمال سے بنگلہ دیش وجود میں آ گیا۔


کے اوائل میں شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ مغربی پاکستان کے لیڈروں کے مذاکرات جاری تھے، تو ایسٹ پاکستان رائفلز جن میں تمام تر بنگالی فوجی شامل تھے، انہوں نے چٹاگانگ میں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے فوجیوں، ان کی خواتین اور بچوں کا قتلِ عام کر ڈالا۔ علاوہ ازیں پاکستان پر یقین رکھنے والے شہریوں کو جن میں بنگالی اور غیربنگالی شامل تھے، ان پر تشدد کا عمل ہفتوں جاری رکھا۔ مکتی باہنی کے لوگ انہیںپکڑ کر ریسٹ ہاؤسز میں لے جاتے اور ان کے بدن سے  اذیتیں دے دے کر خون نکالتے۔

 

بنگلہ دیش کے عوام اسلام کے رشتے میں آج بھی پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جنرل ارشاد اور محترمہ خالدہ ضیا کے عہد میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بڑی حد تک معمول کے مطابق تھے جو بھارت کے لئے سخت پریشانی اور تشویش کا باعث بنے ہوئے تھے۔ اسے اس حقیقت سے بھی شدید خوف لاحق تھا کہ بنگلہ دیش کے عوام کی روح میں دو قومی نظریہ رچا بسا ہے اور یہ ٹوٹا ہوا تارہ کسی وقت بھی مہِ کامل بن سکتا ہے، چنانچہ اس نے اس امکان کو ختم کرنے کے لئے مختلف ذرائع استعمال کر کے شیخ حسینہ واجد کو اقتدار کی مسند پر بٹھا دیا ہے جسے پاکستان اور اسلام سے بڑی دشمنی ہے اور وہ اس عہد کے تمام نشانات مٹا دینا چاہتی ہے جن میں البدر اور الشمس پاکستان کی سا  لمیت کے لئے سر پر کفن باندھ کر نکلے تھے اور حب الوطنی کی ایک لازوال تاریخ رقم کی تھی۔ ظلم کی ایک حد ہوتی ہے اور حسینہ واجد تاریخ کے انتقام سے بچ نہیں سکے گی اور بھارت کو بھی بہت جلد ایک ناقابلِ برداشت صدمہ پہنچنے والا ہے۔ وہاں آرایس ایس حکومتوں کے اندر سرایت کر گئی ہے جو مذہبی جنونیوں کی ایک پرانی تنظیم ہے اور بھارت میں ہندو راج قائم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اس نے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ ان کی جان، مال اور آبرو محفوظ نہیں جبکہ دلتوں کے گاؤں کے گاؤں جلا دئیے گئے ہیں۔ یہی وہ حالات تھے جب انیسویں صدی کے نصف سے بیسویں صدی کے نصف تک برصغیر کے مسلمانوں نے دو قومی نظریئے کی بنیاد پر ایک جداگانہ وطن کے لئے سخت جدوجہد کر کے پاکستان حاصل کر کے دم لیا تھا۔

دو قومی نظریے کا باقاعدہ سیاسی اظہار حکیم الامت علامہ اقبال کے خطبہ الٰہ آباد میں ہوا جو انہوں نے دسمبر 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں دیا تھا۔ اِس خطبے کی بنیاد پر آل انڈیا مسلم لیگ نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک قرارداد کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے آزاد وطن کے حصول کو اپنا نصب العین قرار دیا، مگر ان دو تاریخی واقعات کے علاوہ مختلف وقتوں میں مسلم زعماء نے تقسیمِ ہند اور مسلم ریاست کے قیام کی سو سے زائد اسکیمیں اور تجاویز پیش کیں جو مسلمانوں کی نفسیات کا ایک ناگزیر حصہ بنتی چلی گئیں۔ پاکستان کے ایک نامور محقق جناب خواجہ رضی حیدر نے اپنی مایہ ناز تصنیف قراردادِ پاکستان میں وہ تمام تجاویز مستند حوالوں سے یکجا کر دی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ دو قومی نظریے کو برصغیر کے مسلمانوں میں کس قدر مقبولیت حاصل تھی اور ان کے تحت الشعور میں کس قدر گہرائی کے ساتھ اتری ہوئی تھی۔ ان زعماء میں قومی اور ملکی مفکر، دینی رہنما، نامور تخلیق کار، تحریکِ آزادی کے لیڈر ، پورے ہندوستان کے عوامی قائدین اور چوٹی کے اربابِ نظر شامل تھے۔ اختصار کی غرض سے ہم یہاں چند ایک اسمائے گرامی پر اکتفا کریں گے اور وہ سال بھی درج کریں گے جب تجویز پیش کی گئی تھی۔ سر سید احمد خان (1867) جمال الدین افغانی (1879) عبدالحلیم شرر (1890) اکبر الٰہ آبادی (1905) مولانا محمد علی جوہر (1911) خیری برادران (1917) مولانا حسرت موہانی (1921) مولانا عبید اللہ سندھی(1924) مولانا اشرف علی تھانوی (1928)، سر آغا خاں (1928) مرتضی احمد خاں میکش (1928) علامہ محمد اقبال (1930) چودھری رحمت علی (1932) محمد ہاشم گزدار(1937) مولانا ظفر علی خاں (1937) سید ابوالاعلیٰ مودودی (1938) سید علی راشدی (1939) چودھری خلیق الزماں (1939) نواب زادہ لیاقت علی خاں (1939) عبدالستار خاں نیازی (1939) فقیر آف ایپی (1939) راجہ صاحب آف محمود آباد (1939) سر عبداللہ ہارون (1940) آل انڈیا مسلم لیگ (1940)

اِن اکابرین کی تجاویز بڑے پیمانے پر مسلم حلقوں میں سالہا سال تک موضوعِ گفتگو بنی رہیں اور ان کے طرزِ احساس میں راسخ ہوتی گئیں۔ ان میں تقسیمِ ہند کا آہنگ بلند ہوتا گیا اور عظمتِ رفتہ کی بحالی کا شعور گہرا ہوتا گیا۔ انڈین کانگرس ہندوستان میں رام راج قائم کرنے کی تگ و دو کر رہی تھی، جبکہ  دعوی یہ کرتی تھی کہ وہ تمام ہندوستانیوں کی نمائندہ جماعت ہے، سرسید احمد خان، ڈاکٹر اقبال اور قائداعظم محمد جناح نے اِس فریب کا پردہ چاک کیا اور دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں کے لئے جداگانہ وطن کے حصول کو قومی نصب العین قرار دیا۔

ہم ذیل میں علامہ اقبال کے خطبہ الٰہ آباد کے وہ بنیادی اجزاء پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں جن سے دو قومی نظریے کی ابدیت واضح ہوتی ہے:

''مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو آخر ایک منظم اسلامی ریاست قائم کرنا پڑے گی -- ہندوستان دنیا میں سب سے بڑا اسلامی ملک ہے اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اسلام ایک تمدنی قوت کی حیثیت سے زندہ رہے، تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرے۔ اس طرح ہندوستان کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور اس سے مسلمانوں کے احساساتِ ذمہ داری قوی ہو جائیں گے اور ان کے جذبہ حب الوطنی میں بھی اضافہ ہو گا۔''

علامہ اقبال ہندوستان میں اسلامی ریاست کے قیام کو اسلام کی تمدنی قوت کی حیثیت سے زندہ رکھنے کے لئے ناگزیر سمجھتے تھے اور یہی ان کا تصورِ پاکستان تھا جس کی بنیاد پر وہ ہماری تاریخ میں مصورِ پاکستان کے طور پر یاد کئے جاتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے 23مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی صدارت فرماتے ہوئے قراردادِ لاہور کی منظوری کے موقع پر اپنے خطبۂ صدارت میں جو کچھ ارشاد فرمایا تھا، وہ اس مکتبۂ فکر کو سنجیدہ غوروخوض کی دعوت دیتا ہے جو آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ ہندو اور مسلمان کا رہن سہن ایک جیسا ہے اور ان کی عادات وخصائل میں کچھ زیادہ فرق نہیں۔ قائداعظم نے بڑی صراحت سے فرمایا تھا:

''ہندوؤں اور مسلمانوں کا تعلق دو مختلف مذہبی فلسفوں، معاشرتی رواجوں اور روایات سے ہے۔ ان کے درمیان شادیاں ہوتی ہیں نہ ایک ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں دو ایسی تہذیبوں کے پیرو ہیں جن کی بنیاد متصادم خیالات اور تصورات پر ہے۔ یہ واضح ہے کہ وہ تاریخ اور ہے جس پر ہندوؤں کو فخر اور ناز ہے، وہ اور ہے جس پر مسلمان نازاں ہیں اور جس سے ان کے دلوں میں امنگ پیدا ہوتی ہے۔''

ان زریں اقوال کی اساس پر پاکستان وجود میں آیا اور ہندوستان تقسیم ہوا۔ اب اگر اہلِ پاکستان کو اپنی آزادی اور خودمختاری کی حفاظت کرنا اور اسے ایک تمدنی قوت کے طور پر زندہ رکھنا ہے، تو انہیں دو قومی نظریے پر قائم رہنا اور آقائے نامدار حضرت محمدۖ کے ساتھ اپنا رشتہ مستحکم بنانا ہو گا۔ پاکستان کے قیام کے بعد پاکستانی قوم معرضِ وجود میں آ چکی ہے جس میں مسلمان عظیم اکثریت میں ہیں اور اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کی ضمانت دستور نے دی ہے۔ عظیم اکثریت کو اپنے عقیدے، اپنی تہذیب اور اپنی روایات کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہے۔


 

یہ کالم 127 مرتبہ پڑھا ہے

اس کالم پر اپنے خیالات تحریر کریں

Success/Error Message Goes Here
برائے مہربانی اپنے اکاؤنٹ میں لاگ ان کریں اور اس مضمون پر اپنے خیالات تحریر کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road Sadar, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-1617

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP