متفرقات

دل دل پاکستان

( نثار ناسک کے قومی نغمات پر تحقیقی مضمون )
یہ 1967 کا ذکر ہے ، یومِ دفاعِ پاکستان کی دوسری سالگرہ منائی جارہی تھی ، ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں بچوں کا ایک خصوصی پروگرام جاری تھا ، تمام بچے سٹوڈیو میں پہنچ کر ایک نغمے کی ریہرسل کررہے تھے کیونکہ اُنہیں یہ نغمہ براہِ راست ہی پیش کرنا تھا ۔ اُن بچوں میں ایک چار سالہ بچہ بھی موجود تھا جو اپنے والد سکواڈرن لیڈر جمشید انور کے ساتھ آیا تھا۔ کیونکہ وہ بچوں کے ا س پروگرام میں مہمان خصوصی تھے اور اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ اس لئے لائے تھے کہ وہ بچہ صبح سے ہی ضد کررہا تھا ۔سٹوڈیو میں ابھی پروگرام شروع نہیں ہوا تھا کہ پروگرام کے اسکرپٹ رائٹر بھی پہنچ گئے اور جمشید انور صاحب سے ملنے کے بعد ان کے بیٹے کو گود میں بٹھا کر ایک طرف بیٹھ گئے ۔ جمشید صاحب کا بیٹا بھی اطمینان سے بیٹھا رہا اور پھر پروگرام شروع ہوگیا ۔ پروگرام کے اختتام پر جمشید انور صاحب کی گفتگو سے قبل سکرپٹ رائٹر اور شاعر نے مائیکروفون سنبھالا اور بچوں کے لئے لکھی ہوئی اپنی تازہ نظم سنائی ۔ پورا اسٹوڈیو'دل دل پاکستان ' جاں جاں پاکستان '' سے گونج اٹھا ۔ پروگرام ختم ہوا تو ہر بچہ قومی نظم کے یہ سادہ سے اشعار گنگنارہا تھا ۔کیونکہ سہل مگر پُر عزم الفاظ ہر بچے کے دل پر نقش ہوچکے تھے۔ پروگرام کے اختتام پر پروڈیوسر نے سکواڈرن لیڈر جمشید انور سے نوجوان شاعر و ادیب کا تعارف کرواتے ہوئے کہا: 
'' یہ ہیں ہمارے بہترین سکرپٹ رائٹر اور شاعر جناب نثار ناسک صاحب !  آج کل ریڈیو راولپنڈی پر انہی کا چرچا ہے ''
پاک فضائیہ کے ہیرو جمشید انور بھی اُن سے مل کر بے حد خوش ہوئے اور اُن کا بیٹا جنید بھی اُن سے کچھ مانوس ہوگیا ۔ راولپنڈی ریڈیو کا یہ پروگرام شاندار انداز میں اختتام پذیر تو ہوگیا لیکن تین سالہ جنید کے دل اور ذہن میں وہ الفاظ ہمیشہ گونجتے رہے ۔ یہاں تک کہ بیس برس کا عرصہ گزر گیا ۔ جنید کی نثار ناسک صاحب سے ملاقاتیں بھی رہیں لیکن وہ بچپن میں جذبۂ حب الوطنی سے سنے گئے الفاظ کو ایسا رنگ دینا چاہتا تھا جو امر ہوجائے۔جنید اب جنید جمشیدبن کر اپنے میوزیکل بینڈ' وائٹل سائنز' کے ساتھ دنیائے موسیقی کا نیا ستارہ بننے کے لئے تیار تھا۔ بس کیا ہوا … 14اگست 1987ء کو پاکستان ٹیلی ویژن اسلام آباد مرکز سے رات جنید جمشید کی آواز میں پاپ میوزک سے سجا وہی نغمہ گونجا تو بیس سال پہلے ریڈیو راولپنڈی سٹوڈیو کی طرح پورا پاکستان '' دل دل پاکستان ' جان جان پاکستان '' گارہا تھا ۔ یہ قومی نغمہ تھا یا ایک سحر… ہر فرد اس میں گرفتار تھا … اور ٹی وی پر ناظرین بھی حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ پینٹ شرٹ میں ملبوس جدید دور کے یہ ماڈرن لڑکے قومی نغمہ گارہے ہیں … یہ قومی نغمہ صرف قومی نغمہ ہی نہ بنا بلکہ قومی ترانے کے بعد پاکستان کا دوسرا غیر سرکاری قومی ترانہ بھی بن گیا !! اور عالی جی مرحوم کے نغمے '' جیوے جیوے پاکستان'' کی طرح اس کے الفاظ بھی قلب و اذہان پر نقش ہوگئے ۔ بس فرق یہ تھا کہ ''جیوے جیوے پاکستان '' ایک دعا تھی تو '' دل دل پاکستان '' ایک عزم !۔ اور یہ نغمہ لکھنے والی شخصیت نثار ناسک صاحب تھے۔ جو گزشتہ ماہ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہم سے جدا ہوگئے ۔ اللہ تعالیٰ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔ آمین 
نثار ناسک جن کااصل نام محمد نثار تھا 15 فروری 1943ء کو ڈسکہ سیالکوٹ کے گاؤں آدم کے چیمہ میں پیدا ہوئے ۔اُن میں لڑکپن ہی سے شاعری کے جرثومے موجود تھے۔ 1964 میں انہوں نے راولپنڈی ریڈیو کے لئے پہلی غزل لکھی جسے نذیر بیگم پنڈی والی نے گایا،وہ بطورِسکرپٹ رائٹر ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے وابستہ ہوگئے، جہاں وہ بچوں کے پروگرام بھی تحریر کرتے تھے۔ پاکستان کے دوسرے یومِ دفاع کے موقع پر یعنی 1967 میں انہوں نے اپنی نظم دل دل پاکستان لکھی جو بچوں کی نظموں میں بھی آنے لگی۔ پھر انہوں نے بچوں کے لئے نظموں کا مجموعہ لکھا تو اس کا عنوان بھی دل دل پاکستان ہی رکھا۔جنید جمشید شہید کہتے ہیں کہ انہوں نے میوزک انڈسٹری میں آتے ہی یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ بچپن میں سنے گئے دو قومی نغمات ضرور گائیں گے۔ جن میں سے پہلا '' دل دل پاکستان '' ہی تھا ۔ وہ اُس کی اکثر نئی نئی طرزیں بنانے کی کوششیں کرتے۔ پھر جب گٹار تھاما تو اُسے دو ماہ کی مسلسل محنت کے بعد مغربی طرزِ موسیقی میں ایسا ڈھالا کہ وہ زندہ نغمہ بن گیا ۔ جس نے گلوکار اور پروڈیوسر شعیب منصور کی شہرت کو راتوں رات آسمان پر پہنچادیا۔لیکن شاعر کو وہ مرتبہ نہ مل سکا جس کے وہ حق دار تھے بلکہ اکثر لوگ اسے شعیب منصور کا شاہکار ہی سمجھتے رہے۔
''دل دل پاکستان '' پہلا قومی نغمہ ہے جس کے مختلف وقتوں میں تین Versions بنے۔ یعنی یہ نغمہ تین بارایک ہی گلوکار کی آوازمیں مختلف Remix موسیقی کے ساتھ تیار ہوا۔ جس میں اس کا ایک ورلڈ کپ ورژن بھی شامل ہے  جسے جنید جمشید مرحوم نے 1996 کے کرکٹ عالمی کپ کے موقع پرریکارڈ کروایا تھا ۔اور ساتھ ساتھ '' دل دل پاکستان ''کو یہ تاریخی اور سبقتی اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہ پاکستان کا پہلا قومی نغمہ ہے جو کسی اشتہار کا حصہ بنا !۔
یہی دل دل پاکستان ہے جسے پہلی بار سُن کر جنید جمشید نے گلوکار بننے کا سوچا تو یہی قومی نغمہ راقم الحروف کے قومی نغمات کے شوق ِ سفر کا اولین نقش ثابت ہوا۔ کیونکہ راقم الحروف بھی تین برس کا تھا تو جنید جمشید کی آواز میں یہی نغمہ سن کر قومی نغمات سے والہانہ عقیدت رکھنے لگا اور پھر قومی نغموں کو جمع کرنے اور اُن کی معلومات اکٹھی کرنے کا آغاز کیا ۔ اور ا س وقت الحمداللہ راقم الحروف کا نام اسی ضمن میں ایک حوالہ ضرور ہے جس کا پیش خیمہ نثار ناسک کے یہی الفاظ بنے  !!
نثار ناسک صاحب نے قومی نغمات کا سفر دل دل پاکستان پر ہی ختم نہیں کیا بلکہ وہ ریڈیو اور پاکستان ٹیلی ویژن کے لئے قومی نغمات لکھتے رہے ۔ اُن کے تحریر کردہ قومی نغمات سادہ مگر جذبۂ حب الوطنی پر مبنی گہرے خیالات پر مشتمل ہوتے تھے ۔
 علاقائی موسیقی کے رنگوں سے سجا یہ نغمہ بھی سامعین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے جس کے الفاظ کچھ یوں ہیں 
'' سبز پرچم وطن ' چاند تارہ وطن 
دل کی قندیل ' آنکھوں کا تارہ وطن
روح کا جگمگاتا ستارہ وطن ''
جسے موسیقی میں وزیر افضل نے ڈھالا تھا 
 اس نغمے کا مرکزی خیال بھی تقریباََ دل دل پاکستان جیسا ہی ہے جس کی مثال اس کے بند میں موجود یہ مصرعے ہیں :
'' اس کے آکاش تاروں سے معمور ہیں
اس کے گلشن بہاروں سے بھرپور ہیں 
کس کی تقدیر ہے ایسا پیارا وطن 
سبز پرچم وطن چاند تارہ وطن ''
نثار ناسک مرحوم مناظر میں ڈوب کر انہیں محسوس کرنے والے شاعر تھے اسی لئے اُن کے قومی نغمات میں جابجا ایسے ہی احساسات ملتے ہیں ۔
اسی طرح انہوں نے  1994ء میںپاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز کے لئے ایک'' میرا وطن '' بھی تحریر کیا جسے اے نیّر نے محسن رضا کی موسیقی میں ریکارڈ کیا تھا ۔ جس کے ابتدائی الفاظ کچھ اس طرح ہیں :
'' بلند ہے عظیم ہے میرا حسین وطن 
یہ سرزمیں ' یہ وادیاں ' یہ رنگ بھرے چمن''
انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور کے لئے ستّر کی دہائی  میں ایک زرعی قومی نغمہ '' دیس اپنا سرسبز بناؤ'' بھی تحریر کیا جسے منیرحسین اور ساتھیوں نے گایا تھا ،اور یہ نغمہ اب بھی کسان بھائیوں کے پروگرام  میں نشر ہوتا ہے ۔ 
نثار ناسک کے دل میں '' دل دل پاکستان '' کی جو روشنی تھی اسی کی بدولت وہ سارے جہاں سے حسین اپنے پاکستان کو گردانتے تھے۔ اسی لئے وہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا نام لے کر بھی پاکستان کو اُن سے برتر ماننے کا درس دیتے جیسا کہ اُن کے تحریر کردہ ایک قومی نغمے میں واضح الفاظ ملتے ہیں  :
'' امریکا ' جرمن' رشیا یا چاہے ہو جاپان
سب سے اچھا سب سے پیارا دیس ہے پاکستان ''
( یہ نغمہ 1998ء میں پاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز پر نعیم الحسن نے ریکارڈ کروایا تھا )
نثار ناسک نے پاکستان ٹیلی ویژن لاہور اور اسلام آباد مراکز کے لئے  پنجابی قومی نغمات بھی تحریر کئے  جن میں وہی جذبات اور خیالات ہیں جو اُن کے اردو قومی نغمات میں موجود ہیں جن میں سے شاہدہ پروین کی آواز میں متعدد پنجابی نغمے مقبول ہوئے۔:
نثار ناسک کو آزادی نہایت عزیز تھی۔ اسی لئے وہ مُلک کومکمل طورپر آزاد دیکھنا چاہتے تھے۔ اسی لئے وہ اپنے ایک پنجابی قومی گیت جسے انور رفیع اور ساتھیوں نے پاکستان ٹیلی وٰژن پر ریکارڈ کروایا تھا 'میں کہتے ہیں  :
'' اسیں دیوانے آزادی دے
اسیں پروانے آزادی دے
اے دھرتی جھولی ماواں دی 
ماواں، ٹھنڈیاں چھاواں دی
گھر اپنا جنت راہواں دی 
ہُن مستانے آزادی دے ''
نثار ناسک نے ریڈیو اور پاکستان ٹیلی ویژن کے لئے بے شمار قومی نغمات لکھے۔ جن میں زیادہ تر بچوں کے پروگرامز میں بھی شامل ہوئے ۔ انہیں قومی نغمات لکھنے کے صلے میں کئی ایوارڈ ز بھی ملے۔ لیکن افسوس کہ دل دل پاکستان جیسا لازوال نغمہ لکھنے کے باوجود بھی وہ کسی سرکاری اعزاز سے محروم رہے اور اُسی نغمے کو یاد کرتے ہوئے راہیٔ ملکِ عدم ہوگئے ۔ اب بھی اُن پر نگاہِ التفات ڈال کر اُن کی قومی خدمات کو سراہا جاسکتا ہے ۔ انہیں کوئی سرکاری صلہ ملے یا نہ ملے لیکن ہر پاکستانی کے دل پر دل دل پاکستان مثلِ تمغہ بن کر ہمیشہ اُن کی یاد دلاتا رہے گا ۔


[email protected]
 

یہ تحریر 133مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP