اداریہ

دفاع ہر قیمت پر

قوم ہر سال 6 ستمبر کو یومِ دفاعِ پاکستان مناتی ہے۔ یہ دن دشمن کی اُس جارحیت کو کُچلنے کی یاد میں منایا جاتا ہے جس میں عددی برتری کے زعم میں مخمور دشمن نے پاکستان پر یہ سوچتے ہوئے حملہ کردیا کہ اُس کی فتح یقینی ہے اور وہ بہت جلد اس پاک سرزمین کو اپنے قبضے میں لے کر فتح کے جھنڈے گاڑ دے گا لیکن پاکستان کی جری اور پیشہ ور سپاہ نے نہ صرف اُسے آگے نہیں بڑھنے دیا بلکہ اُسے بھاری جانی اور مالی نقصان بھی پہنچایا۔ اُس وقت کے صدرِ مملکت جنرل محمدایوب خان نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ''پاکستان کے دس کروڑ عوام جن کے دلوں میں لآاِلٰہ الَّا اﷲ ُ مُحمَّدرَّسُولُ اﷲ کی صدا گونج رہی ہے، اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دشمن کی توپیں ہمیشہ کے لیے خاموش نہ کردی جائیں۔بھارتی حکمرانوں کو ابھی تک احساس نہیں ہوا کہ انہوںنے ٹکر کس قوم سے لی ہے۔'' پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح پاکستانی عوام اپنی مسلح افواج کی پشت پر ڈٹ کر کھڑے ہوگئے اور افواج نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔ 
وقت گواہ ہے کہ جب جب وطن ِ عزیز پر کوئی مشکل وقت آیا، پاکستان کی غیور قوم دفاعِ وطن کے لیے اپنی افواج کے ہمراہ پوری قوت سے کھڑی ہوگئی۔ سانحۂ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مرحلہ آیا تو قوم نے اس بار بھی نہ صرف یہ کہ افواج کے ساتھ اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کیں بلکہ دہشت گردی کے عفریت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کی کامیابیاں دنیا بھر کے دیگر ممالک جو اس جنگ کے خلاف نبرد آزما تھے، سے بہت نمایاں رہیں۔ شہری اور دیہی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے شدت پسندوں کی سرکوبی کے لیے فروری 2017 میں آپریشن رد الفساد شروع ہوا تو بھی افواج اور عوام نے شدت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانِ عبرت بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ۔
آج بھی پاکستان کی جری افواج بیرونی اور اندرونی سطح پر پاکستان کو درپیش کسی بھی خطرے اور چیلنج سے نمٹنے کے لیے نبرد آزما ہیں اور دفاعِ وطن کو یقینی بنانے کے لیے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کررہے۔یہی وجہ ہے کہ ہارتے ہوئے اور کمزور پڑتے ہوئے ملک دشمن عناصر روایتی ہتھکنڈوں کے ساتھ ساتھ اب غیر روایتی ہتھیاروں کا بھرپور استعمال کررہے ہیں اور ہائبرڈ وار فیئرکے ذریعے ، سوشل میڈیا،  فیک نیوزاور افواہ سازی کا سہارا لے کر افواجِ پاکستان کے خلاف نفرت اور تضحیک کا راستہ اپنانے کی سعی کی جارہی ہے جس کو محبِ وطن عوام رد کرتے ہوئے آج بھی اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں، افواج پر کیے گئے رکیک حملوں کا سوشل میڈیا پر بھی منہ توڑ جواب دے رہے ہیں۔ دشمن کی جانب سے مسلح افواج سمیت دیگر پاکستانی اداروں پر سائبر حملے کیے جاتے ہیںجن کا مؤثر توڑکرکے دفاعِ وطن کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یوں 6 ستمبر2022 کا یومِ دفاع قوم کو یہ پیغام دیتا ہے کہ مشرقی، مغربی سرحدیںہوں یا بحری اور فضائی، ہائبرڈ وار فیئر ہو یا کوئی اورحربہ پاکستانی افواج اور قوم ان چیلنجز کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے کے لیے ہر لحظہ تیار ہیں اوردفاع  پاکستان کو کسی بھی قیمت پر یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
 پاکستان ہمیشہ زندہ باد
 

یہ تحریر 74مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP