قومی و بین الاقوامی ایشوز

دفاعی بجٹ۔ایک تقابلی جائزہ

دفاعی بجٹ ایسے مالی اخراجات کا تخمینہ ہے جو کوئی بھی ریاست اپنی حفاظت کے لئے مسلح افواج آرمی، نیوی، ایئر فورس اور اس سے متعلقہ محکموں پر خرچ کرتی ہے۔
سٹاک ہوم میں قائم بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے سپری(SIPRI) کے مطابق دفاعی اخراجات میں تمام Capital اور رواں اخراجات کا تخمینہ لگایا جاتا ہے جن میں دفاعی ہتھیاروں(روایتی اور غیر روایتی)کی تیاری ان کا  حصول اور دیکھ بھال سب شامل ہونے کے ساتھ ساتھ دفاعی افواج سے متعلق دوسرے اداروں (سول یا عسکری)کی افرادی قوت کی تنخواہیں،پینشن، ان کی بہبود،تربیت،تعلیم اور طبی سہولتوں کی فراہمی اور فوجی تعمیرات کے اخراجات شامل ہوتے ہیں۔
تاریخ اقوام عالم کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں وہی ممالک اور ریاستیں تادیر قائم اور مستحکم رہتی ہیں جنہوں نے ترجیحی بنیادوں پر گڈگورننس کے اہتمام کے ساتھ طاقتور فوج رکھی ہو۔جن ممالک نے ان دونوں پہلوئوں کو متوازن اور حالات کے مطابق نہیں بنایا وہ نہ تو اقوام عالم میں ممتاز اور مقدم مقام حاصل کر سکی ہیں اور نہ ہی تادیر قائم رہ سکیں۔حکومت گڈ گورننس کے تحت ملکی نظام احسن طریقے سے چلاتی ہے جبکہ طاقتور فوج ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کو کم کرنے یا ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

ہمیں دفاع وطن کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے جوہری صلاحیت کے ساتھ ساتھ روایتی ہتھیاروں کے حصول کو بھی یقینی بنانا ہے کیونکہ ملکی دفاع کے لئے یہ ہتھیار بنیادی ضرورت ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اس وقت بھارت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ اسلحہ خریدتے ہیں۔

کسی بھی ملک کی مضبوط اور دیرپا عسکری طاقت کا تجزیہ اس کے دفاعی بجٹ سے بھی لگایاجاسکتاہے۔ جمہوری ممالک میں دفاعی بجٹ کو قومی بجٹ کے ایک اہم حصے کے طور پر پارلیمنٹ کی منظوری کے لئے پیش کیا جاتاہے۔ پاکستان کا سالانہ قومی بجٹ یکم جولائی سے نافذ ہوکر اگلے سال 30 جون تک کے لئے ہوتا ہے۔
قومی بجٹ کی منصوبہ بندی کے وقت دفاعی اخراجات کا مجموعی تخمینہ تو لگایا جاسکتا ہے لیکن ان اخراجات کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کیا اس عرصے کے دوران وہ ملک کسی جنگ کا شکار یا حصہ تو نہیں بنا۔ جنگ اور ناگہانی آفات ایسا عمل ہے جو ہر طرح کی مالی منصوبہ بندی کے تخمینوں کو بکھیر کر رکھ دیتا ہے۔ دنیامیں کوئی ایسا ملک نہیں ہے جو اپنے اقتدار اعلیٰ، خودمختاری اور سالمیت کو محفوظ بنانے کے لئے اپنی افواج کے دفاعی اخراجات کو ترجیحی طور پر پورا نہ کرتا ہو۔
سٹاک ہوم انٹر نیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(SIPRI) نے دفاعی اخراجات کے حوالے سے دنیا کے 15 ایسے ممالک کے اعداد و شمار جاری کئے ہیں جو دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ دفاعی اخراجات کرتے ہیں۔ ان میں پاکستان شامل نہیں ہے۔ اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ دفاعی بجٹ امریکہ کا ہے، اس کے بعد چین، تیسرے نمبر پر سعودی عرب، چوتھے پر بھارت، پانچویں پر فرانس، چھٹے پر روس، ساتویں پر برطانیہ،آٹھویں پر جرمنی، نویں نمبر پر جاپان، دسویں پر ساؤتھ کوریا، گیارہویں پراٹلی، بارہویں پربرازیل، تیرھویں پر آسٹریلیا، چودھویں پر کینیڈا اور پندرہویں پرترکی ہیں ۔
ان پندرہ ممالک کے دفاعی اخراجات کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔



پاکستان کے دفاعی بجٹ کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو 2018-19 میں پاکستان کی مسلح افواج اور اس کے ذیلی اداروں کو مجموعی طور پر نو اعشاریہ چھ بلین ڈالردئیے گئے۔
پاکستان کو دفاعی اعتبار سے جن حالات کا سامنا ہے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، یہی نہیں بلکہ ملک کے اندرونی حالات اور امن عامہ کے قیام کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ختم کرنے میں بھی فوج پر جو اخراجات آتے ہیں، اگر ان کا تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ قلیل ترین مالی وسائل کے باوجود پاکستان کی مسلح افواج مثالی کردار ادا کر رہی ہیں۔
پاکستان کو بھارت اور افغانستان کی سرحدوں پر جس صورتحال کا سامنا ہے وہ ہم سب کے علم میں ہے۔ اسی طرح سیاچن جیسے دنیا کے بلند ترین فوجی محاذ اور قبائلی علاقوں میں فوجی اخراجات کا اندازہ صرف انہی کو ہوتا ہے جو دفاع وطن کے لئے وہاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کا دفاعی بجٹ 66.5 بلین کے لگ بھگ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ نو اعشاریہ چھ بلین ہے اس طرح بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے مقابلے میں تقریبا سات گنا زیادہ ہے۔
بین الاقوامی ادارے کے ان اعداد و شمار سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے مقابلے میں رقبے، آبادی اور کم دفاعی مسائل کا سامنا کرنے والے بہت سے ممالک کا دفاعی بجٹ پاکستان سے کئی گناہ زیادہ ہے۔
انٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز میں جن پندرہ ممالک کے دفاعی بجٹ کا یہ چارٹ بنایا ہے اس میں ایران اور پاکستان شامل نہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ایران کا دفاعی بجٹ بھی عراق کے برابر ہے۔2018-19 میں ایران کا دفاعی بجٹ بھی  عراق کی طرح 19.6 بلین ڈالر ہے جو پاکستان کے دفاعی بجٹ سے 2 گنازیادہ ہے۔
دفاعی بجٹ کے حوالے سے تقابل کرتے ہوئے ایک اور دلچسپ پہلو بھی سامنے آتا ہے دنیا بھر کی افواج کے جوانوں اور افسران کو جو تنخواہیں دی جاتی ہیں ان میں سب سے زیادہ تنخواہ آسٹریلین فوجیوں کی ہے، دوسرے نمبر پر کینیڈا تیسرے پر برطانیہ، چوتھے پر امریکی افواج، پانچویں پر فرانس، چھٹے پر جرمنی، ساتویں پر جاپان، آٹھویں پر روس اور نویں نمبر پر اٹلی کی فوج ہے۔
دنیا بھر کے ممالک کے دفاعی بجٹ کا تجزیہ کرنے سے یہ پہلو بھی کھل کر سامنے آتا ہے کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی طور پر جن خطرات کا سامنا ہے اس پس منظر میں پاکستانی افواج جس قلیل دفاعی بجٹ میں اپنے اہداف پورے کر رہی ہیں وہ ایک مثال ہے۔

دنیا بھر کے ممالک کے دفاعی بجٹ کا تجزیہ کرنے سے یہ پہلو بھی کھل کر سامنے آتا ہے کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی طور پر جن خطرات کا سامنا ہے اس پس منظر میں پاکستانی افواج جس قلیل دفاعی بجٹ میں اپنے اہداف پورے کر رہی ہیں وہ ایک مثال ہے۔

پاکستان کو اپنے اقتدار اعلیٰ کے تحفظ کے لئے دنیا کی تیسری بڑی فوجی طاقت (بھارتی فوج)سے ہمہ وقت چوکس اوردفاع کے لئے تیار رہنا ہے۔ پاکستان کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی فوج کو جدید اسلحے کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ جوہری توانائی اور میزائل پروگرام پر تحقیق اور اس کی پروڈکشن بھی جاری رکھے تاکہ ہمارے پاس ایسا Deterrent موجود رہے کہ بھارت پاکستان پر جنگ مسلّط کرنے سے باز رہے۔
ہمیں دفاع وطن کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے جوہری صلاحیت کے ساتھ ساتھ روایتی ہتھیاروں کے حصول کو بھی یقینی بنانا ہے کیونکہ ملکی دفاع کے لئے یہ ہتھیار بنیادی ضرورت ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اس وقت بھارت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ اسلحہ خریدتے ہیں۔
جغرافیائی اعتبار سے پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں دنیا کی بڑی طاقتوں امریکہ، روس، چین اور بھارت کے عظیم تر معاشی اور عسکری مفادات ہیں۔ اس حوالے سے بھی پاکستان کو اپنی سالمیت، خودمختاری، اندرونی استحکام اور اقتدار اعلی کو محفوظ بنانے کے لئے ایک پرعزم پروفیشنل اور محب ِوطن فوج کی اشد ضرورت ہے۔جن قلیل وسائل(بجٹ) میں افواج پاکستان دفاع وطن کا فریضہ انجام دے رہی ہے اس پر پوری قوم انہیں سلام پیش کرتی ہے۔


مضمون نگار سینیئر صحافی اور کالم نویس ہیں
[email protected]
 

یہ تحریر 221مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP