متفرقات

درپش۔ صبح کی پہلی کرن

کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار صو بہ بلوچستان میں پاک فوج کے مؤثر اقدامات سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے ۔ اب تک تقریباً ٢٥٠٠سے زائد فراری اپنی لاحاصل جنگ ترک کرکے قومی دھارے میں شامل ہونے کے لئے اپنے ہتھیار پھینک کر پہاڑوں سے نیچے اتر آئے ہیں۔ حکومت بلوچستان اورپاک فوج کے اشتراک سے اب ان کی بحالی کے مرحلہ وار پروگرام کا آغاز ہوچکا ہے ۔ گزشتہ دنوں اسی سلسلے میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جس کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال تھے۔ اس کے علاوہ کمانڈر سدرن کمانڈلیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، پارلیمنٹیرینز، سینیئر سول وملٹری افسران، علاقے کے اہم مِشران، سوسائٹی کے نمائندوں اورزیرِ تربیت فراریوں کے رشتہ داروں نے شرکت کی۔ اس بحالی کے پروگرام کی تفصیل سے پہلے ماضی کے کچھ حالات پر روشنی ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں۔



مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کے تصورِ پاکستان نے نظریۂ پاکستان کی شکل اختیار کی۔ نظریہ پاکستان یعنی دو قومی نظریہ کے تحت ٢٧رمضان کی مبارک رات کو مملکت خداداد پاکستان وجود میں آئی۔ دو قومی نظریے کے تحت تمام مسلم اکثریتی علاقوں نے پاکستان کی بھر پور حمایت کی جس میں بلوچستان بھی شامل رہا۔   
 دو قومی نظریے کا بنیادی مقصد ایسی اسلامی مملکت کا قیام تھاجہاں مسلمان آزادی سے اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں اور اسی معاشرے میں اقلیتوں کو بھی تمام حقوق حاصل ہوں، جہاں اُن کی جان ومال اور عبادت گاہیں محفوظ ہوں۔پاکستان دو قومی نظریے کے تحت وجود میں آیا جو ہندوستان یعنی موجودہ بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھایا۔ ہندوستان کی ہمیشہ سے خواہش رہی کہ برصغیر کے مسلمان ہندوستان میںغلام بن کے رہیں اور تعلیم و ترقی حاصل نہ کرسکیں۔بھارت ابتداہی سے پاکستان کے خلاف سازشیں کرتا رہاہے اور مختلف طریقوں سے پاکستان میں نفرت، تعصب اور لسانیت کو ہوا دیتا رہا ہے۔ جس کا اقرار بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو اپنے اعترافی بیان میں کر چکا ہے۔ بلوچستان میں چند سردار اپنے ذاتی مفادات اور لالچ کی بناء پر نہیں چاہتے تھے کہ بلوچستان کا عام نوجوان تعلیم یافتہ اور باشعور ہو۔ جبکہ انہی سرداروں کے بچے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کر تے رہے ہیں۔ یہ چند سردار اپنی فرسودہ سوچ کی بنا ء پرملک دشمن عناصر کے آلہِ کار بن گئے اور بلوچستان کے سادہ لوح اور جذباتی نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر مندی کے بجائے نفرت اور تعصب کی آگ میں دھکیل دیا ۔ جس کا مقصدصرف اور صرف پاکستان کو کمزور کرنا تھا ۔
گزشتہ دہائی میں حکومت پاکستان اور عسکری ذرائع نے ان حالات کا نوٹس لیا اور ایک حکمت عملی کے تحت ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کی اور ان کے چنگل میں پھنسے ہوئے بلوچ نوجوانوں کی واپسی کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جو اپنے بچوں ، خاندان اور علاقوں سے دور بیابان پہاڑوں میں غیر انسانی اور غیر معاشرتی زندگی گزار رہے تھے۔ ان افراد کے ہتھیار ڈالنے کے بعد ان کی بحالی کے پروگرام کے لئے ایک پروجیکٹ ''درپش'' ترتیب دیا گیا ہے جس کی تمام ترذمہ داری پاکستان کے منظم ترین ادارے پاک فوج کودی گئی۔
اس سلسلے میں راقم نے پروجیکٹ ڈائریکٹر سے اس پروگرام کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ مذکورہ فراریوں کے ہتھیار ڈالنے کے بعد سب سے اہم مرحلہ ان نوجوانوں کے ان احساسات کو ختم کرناتھا جو انہیں انتہا پسندی کی طرف لے کر جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی بہترین معاشرتی زندگی کو بحال کرنا ہماری  اولین ترجیح تھی۔
انہوںنے بتایا کہ اس پروگرام کی ابتداء 'امید نو' کے نام سے کی گئی جو کہ بعد میں ایک بلوچی لفظ 'درپش' میں تبدیل کردیا گیا جس کے اردو میں معنی 'اُجالا،یا صبح کی پہلی کرن' کے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت ١٧ دسمبر٢٠١٨ سے گیارہ مارچ ٢٠١٨تک تقریباً تین ماہ میں٥٠ نوجوانوں کو تربیت دی گئی ۔ ان٥٠ نوجوانوں میں اکثریت کا تعلق بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی، سبی اور کوہلو سے ہے۔ یہ پروجیکٹ ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا اس پروجیکٹ میں  ان نوجوانوں کے ہتھیار ڈالنے کے بعد ان کا بائیوڈیٹا ترتیب دیا جاتا ہے جس کے تحت سب سے پہلے ماہر نفسیات ان کے دماغی احساسات کا جائزہ لیتا ہے۔ اور ان کے دماغی احساسات کے مثبت پہلوئوں کو اجاگر کرتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم  بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قابل بلوچ ماہر نفسیات کو مدعو کرتے ہیںجو اُن کے ساتھ ایک بے تکلفانہ ماحول میں ان کی دماغی صلاحیتوں کی درست تشخیص کرتے ہیں۔ 
زندگی کے جملہ آداب سکھانے کے ساتھ ساتھ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اوراسکالرز سے ان لوگوں کی ملاقات کرائی جاتی ہے جو ان کو ایک اتالیق کے حیثیت سے مثبت رجحانات کی ترغیب دیتے ہیں ۔اور ساتھ ساتھ ایک اور مرحلے میں مذہبی رحجان کو فروغ دینے کے لئے درس قرآن مع ترجمہ اور باقاعدہ نماز کی پابندی کرائی جاتی ہے کیونکہ بحیثیت مسلمان ہم سب کا ایمان ہے کہ اسلامی تعلیمات سے حقیقی لگائو ہمیں امن پسندی اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔اس مقصد کے لئے معروف مذہبی اسکالر زکے لیکچرزکا بھی اہتمام کیا جاتاہے۔ جو ترکِ انتہا پسندی اور حب الوطنی کے احساسات کی تکمیل میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔مطالعۂ پاکستان اور آئینی ذمہ داریوں کے احترام سے بھی روشناس کرایا جاتاہے۔ 
 مذکورہ اشخاص کو ہنر مند ی کی تربیت کے لئے کئی کورس کرائے جاتے ہیں۔ جن میں زراعت ، تعمیرات ، سلائی اور موبائل مرمت جیسے ہنرشامل ہیں تاکہ وہ معاشرے میں اپنے خاندان کے لئے ایک ہنرمند اور کارآمد فرد بن کر باعزت زندگی گزارسکیں۔ اس پروگرام کے دوران ان کے ذہنی مثبت پہلوئوں کو اجاگر کرنے کے لئے انہیں جسمانی ورزش، کھیل کود جیسی صحت مندانہ سرگرمیوں میں بھی مشغول کیا جاتاہے۔ بلوچستان کے اہم تہوار جیسے کہ بلوچ کلچر ڈے منانے کے لئے ایک بھرپورثقافتی ماحول فراہم کیا جاتاہے۔ آخر میں ماہر نفسیات اور پروجیکٹ کی ٹیم کے عہدیداران ان نوجوانوں کی بحالی کے عمل کابغور جائزہ لیتے ہیں ۔ 
ان تمام مراحل سے گزارنے کے بعد مذکورہ اشخاص کو اپنے اپنے علاقوں میں اپنے خاندان کے ساتھ ایک سچے پاکستانی کی حیثیت سے بھرپور اور محفوظ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے حکومت کی جانب سے ان کو باعزت روز گار کے لئے مطلوبہ سرمایہ بھی فراہم کیا جاتا ہے ۔ 
 انہوں نے بتایا کہ اس تربیتی پروگرام کو مزید آگے بڑھانے کے لئے تین مراکز کا اضافہ کیا جا رہا ہے ہر مرکز میں ان نوجوانوں کی تعداد ٥٠ سے بڑھاکر ١٥٠ کی جارہی ہے ۔
مذکورہ تقریب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بہترین کارکردگی دکھانے والے افراد میں میڈل اورانعامات تقسیم کئے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آج کا بلوچستان زیادہ مضبوط پرامن اورترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ تربیت حاصل کرنے والے معاشرے کے نہایت مہذب اورقابل قدر محب وطن شہری ہوںگے۔ امن وسلامتی کا جو پیغام ان افراد نے اس درس گاہ سے حاصل کیا ہے اس کو اس معاشرے میں پھیلانا ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے ۔ آج یہ افراد اپنے خاندان کے لئے امید کی کرن بن کر اپنے گھروں کو روانہ ہورہے ہیں۔ لہٰذا اب سب کا فرض ہے کہ مستقبل میں بھی ان کی رہنمائی اسی طرح جاری رکھیں۔ تاکہ یہ افراد معاشرے کے لئے مشعلِ راہ بن سکیں اوراس ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ثابت ہوں۔ 
اس موقع پر تربیت حاصل کرنے والے افراد میں سے ایک نوجوان شاہ زیب بلوچ نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ جب بلوچستان میں قوم پرست تنظیمیں وجود میں آئیں تو ان کا بیانیہ بلوچستان کے حقوق کے لئے جدوجہد تھی۔ جس کی بناء پر ہم جیسے لوگوں نے ان تنظیموں میں شمولیت اختیار کی۔ لیکن وقت کے ساتھ پتہ چلا کہ ہم ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ ان تنظیموں نے پرامن جدوجہد کے بجائے ریاست پاکستان کے خلاف ہمیں ہتھیار تھمادئیے۔ ہمیں کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ یہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے لئے پاکستان دشمن قوتوں سے مالی و خفیہ معاونت حاصل کررہے ہیں۔ اس ساری صورتحال کا بدترین شکار ہم فراری تھے۔جن سے غلط بیانی کی جاتی رہی۔ لیکن خدا کے فضل و کرم سے آج ہمیں سیدھا راستہ دکھایا گیا۔ شاہ زیب بلوچ نے مزید کہا کہ' درپش' میں سہ ماہی اصلاحی تربیت کے دوران ہمیں مذہبی معاشرتی اور نفسیاتی اصلاح کے ساتھ ساتھ فنی مہارت کی تربیت بھی دی گئی۔ اورانشاء اﷲیہاں سے جاکر ہم نئی زندگی کا آغاز کریںگے۔ اور اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ پاک فوج کا یہ پروجیکٹ 'درپش' بلوچستان اورپورے پاکستان کے لئے ایک روشن مستقبل کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کاوش پرہم پاک فوج کے نہایت مشکور ہیں ۔ جنہوں نے روز اول سے اب تک ہر موقعے پر نہ صرف تربیت کی بلکہ ہماری خدمت بھی کی۔ اورہر چھوٹے بڑے کو عزت دی۔ کل کے فراری اور آج کے اس اصلاح شدہ بلوچ نوجوان نے انتہائی جوش اور اعتماد سے کہا:'' اس موقعے پر ہم عہد کرتے ہیں کہ یہاں سے جاکر امن و محبت کا پیغام اپنے علاقے اورپورے بلوچستان میں پہنچائیںگے۔ پاکستان ہمارا اورہم پاکستان کے ہیں۔ اورپاک فوج ہماری ہے اور ہم پاک فوج کے ہیں۔ '' 
راقم کومذکورہ پروگرام میں شرکت کرکے اورپروجیکٹ کا جائزہ لینے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صرف دو ہزار افراد کی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ ہزاروں پاکستانی خاندانوں کی کامیابی ہے ۔ ملک دشمن عناصر کی شکست ہے اور پاکستان کی فتح ہے ۔ ان افراد کی روداد سن کر علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آرہا ہے ۔
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے 
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی 
ہمیں اپنے نوجوانوں کو نظریہ پاکستان اور تحریک پاکستان کی تعلیمات کی اصل روح سے متعارف کرانا ہوگا ۔ ہمارے نوجوانوں کو قیام پاکستان اور استحکامِ پاکستان کے لئے دی جانے والی قربانیوں سے بھی روشناس کرانا ہوگا ۔ ارباب اختیار کو تعلیم اور روزگار کے بھرپور مواقع فراہم کرنے ہوں گے، پس ماندگی دور کرنے کے لئے ٹھوس اور مربوط اقدامات کرنے ہوںگے تاکہ روزگار کی عدم دستیابی اور پسماندگی کے باعث آئندہ کوئی بھی ملک دشمن ہمارے نوجوانوں کو گمراہ نہ کر سکے اوراُن کی زبان پرصرف ایک ہی نعرہ ہو ۔
     بلوچستان زندہ باد ۔    پاکستان پائندہ باد 


[email protected]

یہ تحریر 114مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP