قومی و بین الاقوامی ایشوز

خیبر پختونخوا کے جنگلات میں دوگنا اضافہ

صوبہ خیبر پختونخوا کے جنگلات کے رقبے میں دوگنا اضافے کے برعکس بین الاقوامی سامراج کا پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کا  واویلاکرنے کے پیچھے اصل  ایجنڈا پاکستان کومعاشی اور صنعتی طور پر تباہ  کرنا ہے

مملکت خداداد پاکستان کو اللہ تعالی نے بے پناہ افرادی قوت اور قدرتی  وسائل عطا کیے ہیں ،لیکن ان وسائل سے منظم انداز میں استفادہ کرنے کا فقدان ہے۔  پاکستان کی 22 کروڑ آبادی کا 60  فیصدحصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے یہ آٹھ لاکھ مربع کلو میٹر رقبے کا حامل زرعی  ملک ہے۔ 154 ملین ایکڑ فٹ سالانہ  پانی سے لبریز دریاہیں ،جس کی صرف آبی قوت کا اندازہ ستر ہزار میگا واٹ لگایا گیا ہے۔ پاکستان  میں ذرخیز زمین اور  بلند پہاڑی چوٹیوں کے ساتھ ساتھ دنیا میں موجود تمام 9 اکالوجیکل زونز اور چار موسم موجود ہیں، جس کی وجہ سے دنیا کا موسمیاتی تبدیلی کے لحاظ سے سب سے محفوظ ملک پاکستان ہے۔ جنگلات کے لحاظ سے اللہ تعالی نے اپنے فضل و کرم سے  دنیا کا سب سے بڑاچلغوزے کا جنگل پاکستان کو وزیرستان کے  علاقے میں عطا کیا ہے۔ جبکہ دنیا کا  سب سے بڑا جو نیپر کا جنگل زیارت بلوچستان میں واقع ہے۔ اسی طرح دنیا کے چندممالک  میں پائے جانے والے سمندری (مینگرو )جنگل پاکستان میں سترہ لاکھ ایکڑ رقبے پر محیط ہے جو دنیا میں ساتویں نمبر پر بڑا جنگل ہے ۔ علاوہ ازیں دنیا میں پائے جانے والے قیمتی جنگلی درختوں کی فہرست میں شامل دیودار اوربیاڑ کے وافر جنگلات  بھی  موجود ہیں ۔ جنگلی درختوں کے علاوہ پھلدار درخت جن میں کھجور اور آم شامل ہیں، کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر جبکہ کینو اور اخروٹ میں دنیا میں ساتویں نمبر پر ہے۔ 
  صوبہ خیبرپختونخوا بالعموم ،  مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن بالخصوص جنگلات کی نعمت سے مالا مال ہیں۔ باعثِ اطمینان یہ ہے کہ جنگلات کے رقبے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے لیکن تعجب کا مقام ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ صوبہ خیبر پختونخواہ  کے محاصل اور مقامی معیشت میں جنگلات کا حصہ کم ہوتا جا رہا ہے۔
1895تا  1993 کے درمیان مالاکنڈ کے کل رقبے کا 15 فیصد جنگلات پر مشتمل  تھا،   جبکہ پاکستان فارسٹ انسٹیٹیو ٹ (PFI) کا 2013 میں شائع شدہ Land Cover Atlas کے مطابق مالاکنڈ میں جنگلات کا رقبہ 15 فیصد سے بڑھ کر 27  فیصد ہو گیا ہے ۔ (PFI) کی اس رپورٹ کے علاوہ پرانی تاریخی فوٹوگراف کے موازنے سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مالا کنڈ میں جنگلات کے رقبے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔مالاکنڈ ڈیژون کے چند مقامات کی پرانی اور نئی  تصاویر کا تقابلی جائزہ ملاحظہ کرنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
پاکستان فارسٹ انسٹیٹیوٹ(PFI) کی2013 میں شائع کردہ  رپورٹ اور تاریخی تصاویر کے تقابلی جائزے سے ثابت ہوتا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں جنگلات کے رقبے میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کے برعکس  جنگلات کی صوبائی محاصل اور معاشی ترقی میں حصہ اور کردار کم ہوتا جارہا ہے  جو نہ صرف توجہ طلب ہے بلکہ باعث تشویش بھی ہے۔
صدر ایوب خان نے 1960 کی دہائی میں پاکستان کی صنعتی، معاشی ، زرعی اور تجارتی ترقی کی بنیاد رکھی تو انھوں نے  اپنے ان انقلابی منصوبوں کے لیے مالی وسائل  کا بندوبست کرنے کے لیے جنگلات سے لکڑی کی پیداوار کو تجارتی پیمانے پر نکالنے کے لیے باقاعدہ احکامات جاری کئے۔ثبوت کے طور پر نواب آف دیر کو لکھا گیا مورخہ21 دسمبر 1961  کا خط ملاحظہ کرنے کے لیے کافی ہے۔
EXTRACT FROM TOP SECRET D.O. LETTER
President desire me to write to inform you that in his opinion Forest is the main source of income of Dir State for Development of the area. He would therefore, like your personal attention to the matter and see that exploitation of forests is done strictly according to the orders issued by the Government from time to time. He would also like you to keep him in touch with the exploitation of the Forests through the Ministry of State and Frontier Regions. Any action taken against the Govt. instructions should be regularized even by cancellation if need be. He is also keen that construction of necessary roads for correct exploitation of the forests should be expedited. 
صدر پاکستان کے ان احکامات کی روشنی میں جنگلات سے ان کی پیداواری صلاحیت کے مطابق لکڑی نکالنے کے لیے باقاعدہ  ورکنگ پلان بنائے گئے اور جنگلات کی ترقی کے لیے پشاور میں عالمی معیار کا تحقیقی اور تربیتی ادارہ قائم کیا  گیاجس کا افتتاح خودصدر ایوب خان نے 13-05-1966 کو کیا۔ اس کے علاوہ دنیا کے مختلف حصوں سے جنگلی درخت، پاکستان میں متعارف ہوئے جن میں قابل ذکر تیز نشونما پانے والے درخت سفیدہ ، ایلنتھس، روبینیا اور یوکلپٹس وغیرہ شامل  ہیں۔
اس سلسلے میں عملی اقدامات کے طور پر قابل  ذکرچکدرہ ،حویلیاں، لاہور (جلو)، مانسہرہ ،ہری پور اور مظفر آباد آزاد کشمیر میں لکڑی اور ریزن کے عالمی معیار کے بڑے بڑے کارخانے لگائے گئے۔چکدرہ  میں واقع لکڑی کا کارخانہ اپنی نوعیت کا  ایشیا میں  سب سے بڑا کارخانہ تھا اور اسی طرح مالاکنڈ بالخصوص اور صوبہ سرحدمیں بالعموم1970 کی دہائی  میں لکڑی کی  صنعت کو صوبے کی  سب سے بڑی صنعت کی حیثیت حاصل رہی ۔ 
صدر پاکستان کے ان اقدامات کی بدولت صوبے کے محاصل میں جنگلات کا حصہ سال 1992 میں 47 فیصد ہوگیا اور صرف سوات سے کروڑوں روپے کی لکڑی کے فرنیچر اور لکڑی کے بنے اینٹیکس کی بیرون ملک برآمد ہوتی رہی ۔ معاشی شعبے میں جنگلات کا حصہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتاہے کہ سال1970 تا 1993 کے دوران صرف دیر کوہستان کے فارسٹ کے رائیلٹی ہولڈرز کو  فارسٹ سے لکڑی بیچنے کی مد میں نقد 1900 ملین روپے رائیلٹی کی مد میں ادا کرنے کے علاوہ مقامی روزگار کے وافر مواقع کے ساتھ ساتھ 1970 تا 1995 تک مالاکنڈ کے تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبا کو تعلیمی وظائف لکڑی پر تعلیمی ٹیکس سے ادا کیے جاتے تھے جس کی وجہ سے صرف ان  دو دہائیوں میں مالاکنڈ ڈیژون میں تعلیم کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہوا ۔قابل توجہ امر یہ ہے کہ مالاکنڈ میں 1960 کے مقابلے میں جنگل کا رقبہ دوگنا ہوا جبکہ 80 فیصدسے زیادہ درختوں کے عمر رسیدہ اور بوڑھے ہونے کی وجہ سے سالانہ پیداواری صلاحیت ہر سال کم ہورہی ہے اور اسی طرح جنگل کا معیار روبہ زوال ہے ۔
 جنگلات کی سائنسی بنیادوں پر نکاسی NGOs کے دبائو پر1993 میں پابندی  عائد کر کے روک دی گئی جس کی وجہ سے اس وقت مالاکنڈ کے جنگلات میں  سالانہ تقریبا 40 ملین مکسر فٹ دیار  اور بیار کی لکڑی جس کی مالیت 120ارب روپے بنتی ہے ،گل سڑ کر  زمین برد ہو رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف صرف مالاکنڈ کو ملیشیا ، چائنا، برازیل ، جرمنی اور دوسرے ممالک سے سالانہ تقریبا 2ارب روپے کی عمارتی لکڑی اور 1 ارب روپے کا فرنیچردرآمد ہو رہا ہے۔    
مالاکنڈ میں امن قائم ہونے کے بعد کنزرویٹر آف فارسٹ مالاکنڈ کی حیثیت سے میں نے وہاں کی فوجی اور سول  قیادت خصوصی طور پر کمشنر مالاکنڈ(ظہر السلام) اوربریگیڈ کمانڈر دیر پنا کوٹ (بریگیڈئیر حیدر عباس)کے ساتھ متعدد میٹنگز میں مالاکنڈ کے جنگلات بالعموم اور بالخصوص صرف چترال  کے ایک ھی وادی ارندو کے جنگلات میں ضائع ہونے والی آٹھ ارب روپے سے زیادہ کی لکڑی کو  نکالنے کے لیے قابل عمل منصوبہ حکومت خیبر پختونخواہ کو ارسال کیا تھالیکن NGOs اور میڈیا کے دبائو  کے باغث اس خالص پروفیشنل منصوبے کو سرد خانے میں تاحال رکھا  گیاہے۔         
 ان ہی وجوہات کی وجہ سے سال 2020- 21میں جنگلات سے صوبائی محاصل کا حصہ کم ہو کر 0.5 فیصدرہ گیا ہے۔ جس کا واضح ثبوت  چکدرہ اور دوسرے مقامات پر لکڑی کے کارخانوں کو بند کر کے ان زمینوں پر قائم یونیورسٹیاں ہیں جن کی وجہ سے روزگار کے مواقع ختم ہونے کے علاوہ رائیلٹی ہولڈرز کی جنگلات سے حاصل ہونے والی اربوں روپے کی رائیلٹی پر منحصر ذریعہ معاش  بند ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ جنگل کی کٹائی، ڈھلائی  اور لکڑی کی خرید و فروخت سے پیدا ہونے والے مقامی روزگار کے مواقع بھی ختم ہو گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سال 2004 سے 2010  کے دوران مالاکنڈ کے بیروزگار نوجوان یا تو دہشت گردوں کے چنگل میں پھنس گئے  یا مشرق وسطی کے ممالک میں غلاموں جیسی مزدوری پر مجبور ہیں۔



صدر ایوب خان کے1960میں شروع کیے گئے آبی منصبوں (ڈیمز،بیراجز،نہروں اور پن بجلی)کے بعد کوئی بھی بڑا منصوبہ گزشتہ تین دہائیوں سے شروع نہیں کیا گیا ،ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ سال 1996میں مہنگے IPPs کے ساتھ معاہدہ کر کے حکومت پاکستان نے واپڈا کا  Hydel Power Generation Wing بندکر دیا۔ ان مہنگے IPPs کی وجہ سے نہ صرف پاکستان میں صارفین پر مہنگی بجلی کی وجہ سے بے انتہا  مالی بوجھ  کے علاوہ قومی خزانے کو Circular Debt کی صورت میں سالانہ 500 ارب روپے سے زیادہ کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے جس کا  اس وقت قابل ادائیگی بیلنس پیمنٹ کا حجم 2500 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے اور  بڑے ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کو اربوں روپے سیلاب کی وجہ سے نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے بلکہ 40 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے۔ 
 ان ہی وجوہات کی بنا پر پاکستان کو بے پناہ وسائل ہونے کے باوجود مشکلات کا سامنا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ  جنگلات کی سائنسی بنیادوں پر ہارویسٹنگ شروع کر کے ملک کی معاشی ترقی میں جنگلات کی پیداوار سے پورا پورااستفادہ حاصل کیا جائے۔ ||


مضمون نگارفارسٹ سکول تھائی ایبٹ آبادخیبر پختونخوا کے 
پرنسپل ہیں۔
 

یہ تحریر 197مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP