متفرقات

خریدار

برکت علی نے چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے اخبار اٹھایا اور پڑھنے لگا وہ سمجھ گیا تھا کہ اس کے پہلو میں کھڑا چاند جو کہ اس کا ملازم ہے وہ کچھ کہنا چاہتا ہے برکت علی جان بوجھ کر انجان بنا اخبار پڑھنے میں مصروف ہو گیا تو چاند سے رہا نہ گیا وہ گلا کھنکارتا ہوا برکت علی کے دائیں سے بائیں جانب جا کر کھڑا ہو گیا لیکن پھر بھی برکت علی نے اس کی کھنکا رپر کان نہ دھرا تو چاند سے خاموشی برداشت نہ ہو سکی وہ بول ہی پڑا ۔ '' صاحب جی ! ایک بات پوچھنی تھی ؟ ''  اس کے لہجے کی عاجزی یونہی نہ تھی برکت علی جانتا تھا کہ کوئی بڑی ہی واردات کرنے والا ہے کیونکہ چاند کو برکت علی کی بیوی ہاجرہ اپنے گائوں سے ہی جہیز میں لائی تھی اور یہی وجہ تھی کہ وہ کافی سر چڑھا بھی تھا اور بہت سی ایسی باتیں بھی منوا لیتا تھا جو برکت علی نہ چاہتے ہوئے بھی مان جاتا تھا ۔

'' کتنے دن کی چھٹی چاہئے تمہیں .... ؟ '' اپنے تئیں برکت علی نے اس کی دکھتی رگ پرہاتھ رکھا تھا۔ لیکن اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جب چاند نے اس کے سامنے زمین پر بیٹھ کر اس کی ٹانگیں دبانا شروع کر دیں اور نظریں جھکا تا ہوا نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا ۔



''  چھٹی نہیں چاہئے صاحب جی بس ایک ضروری بات کہنے سے ڈررہا ہوں ۔ ''  اس بار برکت علی نے محسوس کیا کہ چاند خلافِ توقع سنجیدہ ہے ا س نے اخبار ایک طرف رکھا اور چاند کی جانب متوجہ ہوا  ۔  '' کہو کیا کہنا چاہتے ہو ، ؟ ''  چاند اس کی ٹانگیں دباتا ہوا آہستگی سے بولا ۔ ''  وہ جی وہ....... کل جب آپ گھر میں نہیں تھے تو جھورا آیا تھا ۔ ''  یہ گویا ایک بم تھا جو برکت علی کے سر پر چاند نے پھوڑا تھا وہ ایک دم سے صوفے پر سے کھڑا ہو تا ہوا غور سے چاند کی طرف دیکھنے لگا جس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں ، لیکن برکت علی کی سرخ انگارہ آنکھوں میں جھورے کا نام سن کر ہی نفرت کے الائو دہکتے ہوئے صاف نظر آ رہے تھے ۔

''اس نے بہت ہی غصے سے مجھے یہ کہا ہے کہ جب بھی چاچا برکت گھر آئے تو اس سے کہنا کہ جھورا اپنی منگ لینے جلدی آئے گا اور اس بار وہ کسی بھی قسم کی کوئی بھی دلیل نہیں سنے گا ۔ '' چاند نے جلدی جلدی سے ساری بات بتا دی کیونکہ وہ برکت علی کی آنکھ کا اشارہ سمجھ گیا تھا کہ کل اس گھر میں ان دونوں میاں بیوی کی غیر موجودگی میں جھورے نے جو بھی گل کھلایا تھا وہ بیان کیاجائے ۔

 برکت علی نے چور نظروں سے اندر کی جانب دیکھتے ہوئے آہستگی سے چاند سے پوچھا ۔ '' یہ بات تم نے ہاجرہ یا فاطمہ سے تو نہیں کی نا  ...؟ ''  چاند نے نفی میں زور سے سر ہلایا اور خوف زدہ انداز میں بولا ، '' نہیں جی صاحب جی میں بھلا اتنا بے وقوف تھوڑی ہوں ۔ لیکن صاحب جی کل جھورے کے ہاتھ میں ایک پستول بھی تھا جی ۔ ''  برکت علی یہ سن کر اور بھی خوف زدہ ہو گیا تھا وہ اپنے ماتھے پر آنے والے پسینے کو اپنے رومال سے صاف کرتا ہوا بولا، '' کوئی بات نہیں ... اس جھورے کا میں نے علاج ڈھونڈ لیا ہے ۔ ''  چاند کو یہ سن کر کچھ حوصلہ ہوا تھا کیونکہ برکت علی کا اٹھنا بیٹھنا بہت ہی اچھے اور ٹھیک ٹھاک لوگوں میں تھا اور گائوں کے سب بڑے بزرگ برکت علی کی عزت بھی کرتے تھے کیونکہ اس کی کافی ساری زمینیں اس گائو ں کے غریب لوگوں کے گھروں میں خاموشی اور عزت سے چولہا جلانے میں دن رات مصروف تھیں ۔

  '' بابا جانی!'' فاطمہ کی کوئل جیسی آواز سنتے ہی برکت علی کے چہرے پر مسکان دوڑنے لگی تھی۔ اس نے مسکرا کر اس دروازے کی طرف دیکھا جس سے فاطمہ اپنی ماں ہاجرہ کے ساتھ داخل ہو رہی تھی۔ وہ اپنے کمرے سے کالج جانے کے لئے تیار ہو کر نکلی تھی۔ یہ اس کا روزانہ کا معمول تھا اورہاجرہ اس کو ہر روز کی طرح حویلی کے دروازے تک چھوڑنے کے لئے اس کے ساتھ تھی ۔ '' السلام علیکم  بابا جانی ۔ '' فاطمہ نے مسکرا کر برکت علی کو سلام کیا تو ہر روز کی طرح برکت علی کا دایاں ہاتھ فاطمہ کے سر پر اور بایاں ہاتھ اپنی واسکٹ کی جیب میں تھا ۔

''  میری جند میری جان میری لاڈلی بیٹی ۔ '' برکت علی نے محبت بھری مہر فاطمہ کے ماتھے پر ثبت کی اور چاند سے بولا ، '' میری بیٹی کالج جا رہی ہے ...  اجڈ انسان اگر تم بھی چار جماعتیں پڑھ لیتے تو آج کسی سکول کالج میں ماسڑ ہی لگے ہوتے ۔ ''  چاند جھینپ کر خاموش ہو گیا اور فاطمہ کی طرف دیکھتا ہوابُرے بُرے منہ بنانے لگا تو فاطمہ چپ نہ رہ سکی ۔ '' بابا جانی اس کو کہیں کہ صبح صبح میرے سامنے نہ آیا کرے کیسے بُرے بُرے منہ بنا رہا ہے ۔ '' برکت علی نے بیٹی کا شکایت بھرا لہجہ سن کر چاند کی طرف مصنوعی غصے سے دیکھا تو وہ چھت کو گھورنے لگا ۔ لیکن وہ خاموش نہ رہا بول ہی پڑا ،''  فاطمہ بی بی آپ صبح صبح آنکھیں ہی نہ کھولا کریں اس سے آپ کو میرا منہ نہیں دیکھنا پڑے گا ۔ ''

  فاطمہ کے تلملانے پر برکت علی اور ہاجرہ ہنسنے لگے ۔ '' میری دھی رانی وہ تو تجھ سے مذاق کرتا ہے تیرا ویر جو کوئی نہیں ہے نا اس لئے تجھے چھیڑتا ہے ۔ '' ہاجرہ نے بات کو سنبھالا تو فاطمہ پائوں پٹختی ہوئی چاند کے سامنے سے تیزی سے گزر گئی۔

''بندے دا پتر بنا کر ہر ویلے تینوںایہوں جیاں گلاں ای سُجھدیاںنئیں ، ''  (انسان کا بچہ بن تجھے ہر وقت ایسی ہی باتں سوجھتی ہیں) برکت علی نے ہاجرہ کی موجودگی میں چاند کو ڈانٹنے کی جرأت کر ہی لی تھی لیکن ہاجرہ بھی مسکرا کر باہر کی جانب بڑھ گئی ،

 ابھی تین دن ہی گزرے تھے کہ جھورا ایک بار پھر آن دھمکا اس بار ہاجرہ اور برکت علی گھر پر ہی موجود تھے جھورے کو دیکھ کر تو ہاجرہ کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا تھا۔ لیکن برکت علی اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہوا گیا تو جھورا بڑی تمیز سے بولا۔

''سلام چاچا ... سلام چاچی ..''  ہاجرہ نے نفرت سے منہ دوسری طرف پھیر لیا تو جھورا قہقہہ لگاتا ہوا پھر بولا، '' انسانوں سے اتنی نفرت اچھی نہیں ہے چاچی۔'' اس سے پہلے کہ جھورا کچھ اور بولتا برکت علی بول پڑا ، '' نفرت تم سے نہیں ہے تمہارے بُرے کردار سے ہے۔ ''

ہاجرہ سے بھی رہا نہ گیا وہ بھی اپنا غصہ اور نفرت دباتی ہوئی بولی ، '' تمہیں کتنی بار کہاہے کہ یہاں نہ آیا کر ۔'' لیکن جُھورے نے ہاجرہ کی بات کا بُرا منانے کے بجائے آہستگی اور رازداری سے کہا ، '' برکت علی میرا سگا چاچا ہے اور تم میری سگی چاچی ہو .... اور پھر .... '' وہ خباثت سے گھر کے اندر والے دروازے کی طرف جھانکتا ہوا شیطانی مسکراہٹ سے بولا ، '' اس گھر میں میری بچپن کی منگ بھی تو رہتی ہے نا ..؟ ''

اس بارتو ہاجرہ کا صبر جواب ہی دے گیا اس نے آگے بڑھ کر جھورے کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ رسید کر دیا یہ حرکت خود برکت علی اور جھورے کے لئے بھی غیر متوقع تھی وہ ہونق بنا ہاجرہ کی طر ف دیکھے جا رہا تھا جس کے منہ سے جھاگ اڑاتی چنگاریاں جھورے کے وجود کو  جھلسانے کے لئے بے چین تھیں ۔ ''  خبردار جو اپنی گندی زبان سے میری پاک باز بیٹی کانام بھی لیا تو، تمہاری زبان کھینچ کر کتوں کو ڈال دوں گی ۔ '' ہاجرہ کی اُونچی آواز سن کر فاطمہ بھی بھاگتے ہوئے اپنے کمرے سے نکل کر صحن میں پہنچی تو جُھورے کو سامنے دیکھتے ہی تمام معاملہ اس کی سمجھ میں آگیا۔ اس نے ہاجرہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور اس کو پر سکون ہونے کی تلقین بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں کر دی تھی ۔ لیکن جھورا اپنے گال کو سہلاتا ہوا فاطمہ کی جانب بڑھا تو وہ خوف اور دہشت سے ہاجرہ کے پیچھے چھپ جانے والے انداز میں کھڑی ہوگئی ۔ '' یہ تھپڑ مار کر تم نے اچھا نہیں کیا چاچی ... اب جھورے کا انتقام بھی دیکھنا۔'' وہ جانے لگا لیکن ایڑیوں کے بل گھومتا ہوا برکت علی سے مخاطب ہوا ، '' جو چیز جھورے کو نہ ملے وہ کسِے جوگّی بھی نہیں رہنے دیتا .... یا د رکھنا تم سب .. ۔ '' اس نے ہاتھ کی انگلی کھڑی کر کے تینوں کی طرف غصے سے دیکھا اور پھنکارتا ہوا باہر نکل گیا ۔ کچھ دیر تک تو گھر بھر میں سناٹا رہا۔ لیکن پھر ہاجرہ ہمت کر کے برکت علی سے مخاطب ہوئی ۔ '' چوہدری صاحب آپ تھانے دار سے بات کیوں نہیں کرتے اس بدبخت نے ہمارا جینا حرام کر رکھا ہے ۔ '' برکت علی نے فاطمہ کی طرف دیکھا اور اس کی آنکھ کا اشارہ سمجھتے ہوئے وہ اندر چلی گئی تو برکت علی ہاجرہ سے مخاطب ہوا۔ '' اس علاقے کا تھا نے دار اور جھورا مل کر شراب اور شباب کی محفلیں سجاتے ہیں وہ اس کے خلاف کیسے کارروائی کرے گا ؟''  برکت علی کا لہجہ بے بسی کی تصویر بنا ہوا تھا لیکن ہاجرہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولی، '' آپ اپنے صوبے دار دوست سے کیوں نہیں کہتے ؟ '' برکت علی نے ہاجرہ کی طرف چونک کر دیکھا جو کہہ رہی تھی، '' اب تو اس کا بیٹا فوج میں میجر لگ گیا ہے ۔ وہ ضرور ہمیں اس مصیبت سے چھٹکارا دلا سکتا ہے ۔ '' ہاجرہ کا لہجہ اتنا ٹھوس تھا کہ وہ اپنے تئیں اس مسئلے کو حل بھی کر بیٹھی تھی۔ لیکن برکت علی لاچارگی سے بولا، '' تم تو جھلی ہوگئی ہو، کیا فوج اب ذاتی اور گھروں کے جھگڑے نپٹانے کے لئے رہ گئی ہے ؟وہ تو اعلٰی ترین ادارہ ہے جو ملک دشمنوں کو سبق سکھانے کے لئے ہر دم تیار ہے ۔....  نا بھئی نا! میں اپنے ذاتی جھگڑے کو صوبے دار کے کانوں تک نہیں پہنچنے دوں گا ۔ ''   برکت علی اٹھ کر جانے لگا تو ہاجرہ جیسے پھٹ پڑنے والے انداز میں چیخ اٹھی ۔

'' تو پھر ٹھیک ہے انتظار کرو اس وقت کا جب جھورا اپنی پستول سے ہم تینوں کے سینے چھلنی کر دے گا ۔یاد رکھو ہماری لاشوں پر کوئی ماتم کرنے وا لا بھی نہیں ہوگا ۔'' ہاجرہ یہ کہہ کر اندر چلی گئی لیکن برکت علی کے دماغ کی چولیں ہلا گئی تھی۔ رات دن کی پریشانی اور جھورے کے خوف نے فاطمہ کو بھی سہما کر رکھ دیاتھا ہروقت ایک انجانا سا خوف اس کے دل و دماغ میں بس گیا تھا وہ کالج بھی جاتی تو سہمی سہمی اور ڈری ہوئی رہتی تھی ۔ ہاجرہ اور برکت علی بھی اس خاموشی کو محسوس کر رہے تھے جو طوفان سے پہلے کی ہوتی ہے ۔ا ن کو معلوم ہی نہ تھا کہ کون سا طوفان ان کے آشیانے کو راکھ کرنے کے لئے آ رہا ہے ۔؛

 صوبے دار نے بڑی حیرت سے اپنے جگری دوست برکت علی کی طرف دیکھا اور مسکرا کر اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ، '' شیر بن برکت علی شیر ... تو میرا یا رہے صوبے دار شیر افگن کایا ر .... ایک چھورے (لڑکے) سے ڈر گیا ہے  ..'' برکت علی نے خوف سے مسکرانے کی کوشش کی اور بولا ،'' مجھے اپنی زندگی کی کوئی پروا نہیں ہے بس میں چاہتا ہوں کہ میری فاطمہ کسی اچھے گھر میں چلی جائے اور یہ کام میں اپنی زندگی میں ہی چاہتا ہوں۔ '' شیر افگن نے مسکراتے ہوئے کہا، '' تم فکر نہ کرو میں جھورے کا کوئی بندوبست کرتا ہوں اور ہاں کل منصور بھی چھٹی پر آنے والا ہے اگر تمہیں میری بات سے کوئی تسلی نہ ہوئی ہو تو اس سے بے فکر ہو کر بات کر لینا آخر وہ تمہارے ہی ہاتھوں میں تو جوان ہوا ہے، تمہارابھی تو بیٹا ہی ہے ۔''   اس بات کو سن کر برکت علی کے چہرے پر پہلی بار اطمینان چھلکا تھا۔ اس نے مسکر کرشیر افگن کی طرف دیکھا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر گرم جوشی سے دبایا اور آنکھوں کو چھلکنے سے روکتے ہوئے اپنے گھر کی راہ لی ۔

دس دن کے بعد طلوع ہونے والا سورج برکت علی کے آنگن میں اپنی کرنیں بکھیرنے کے بجائے اس کی دنیا ہی اندھیر کر گیا تھا جھورے نے اپنا بھرپور وار کیا تھا اس نے کالج جاتی ہوئی فاطمہ کے چہرے پر تیزاب انڈیل کر اس کا چہر ہ ہی جھُلسا دیا تھا ۔ وہ چیختی، تڑپتی، چلاتی رہی لیکن کسی نے بھی اس کی فریاد پر کان نہ دھرے۔ ادھر پاس ہی سے گزرنے والے منصور نے فاطمہ کو اپنی بانہوں کے جھولے میں اٹھایا اور گائوں کے ہسپتال کی طرف دوڑ لگا دی تھی ۔ لیکن فاطمہ کا خوبصورت چہرہ جل چکا تھا ڈاکٹروں نے ابتدائی مرہم پٹی کے بعد شہر کے بڑے ہسپتال لے جانے کا کہہ دیا تھا ۔ ہاجرہ اور برکت علی تو جیتے جی مر چکے تھے لیکن بیٹی کو اس حالت میں سنبھالا دینے کے لئے ان دونوں کو دل بڑے رکھنے کا مشورہ اور حوصلہ دینے والا شیر افگن تھا جو اس پریشانی اور مصیبت میں برکت علی کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا تھا ۔ ہسپتال کی دیوار کے ساتھ لگا برکت علی اپنی فاطمہ کی چہچہاتی باتیں یا دکر کے زارو زار رو رہا تھا اور ہاجرہ اپنی بیٹی کی تکلیف کو، برداشت نہ کرتی ہوئی فاطمہ کے پائوں کی طرف بیٹھی ہوئی ہچکیاں لے رہی تھی ۔ ڈاکٹروں نے میجر منصور کے کہنے پر اپنا علاج شروع کر دیا تھا ۔

 سات ماہ ہو گئے تھے فاطمہ گھرکے ایک کونے میں دبک کر رہ گئی تھی اس کی ساری شوخی اور شرارتیں ختم ہو گئی تھیں ۔ چاند بھی اس کو ہنسانے کی کوشش کرتا تھا لیکن وہ اپنے چہرے پر ہاتھ لگاتی تو کرب اور تکلیف سے زارو زار رونے لگتی تھی۔

 برکت علی اورہاجرہ سُتے ہوئے چہروں کے ساتھ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے۔ ہاجرہ کے دل کی بات سمجھتے ہوئے برکت علی نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا ، '' اس نے بھی فاطمہ سے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے بلکہ وہ یہ گھر ہی چھوڑ کر چلا گیا ہے ۔ '' ہاجرہ کی آہ نکل گئی وہ روتی ہوئی بولی ۔ '' سات سال کا تھا جب اس کو اپنے ساتھ اس گھر میں لے کر آئی تھی، اپنے بیٹے کی طرح پالا پوسا۔ہر وہ سہولت دی جو ایک ماں اپنے بیٹے کو دیتی ہے کبھی بھی اسے گھر کا ملازم نہ سمجھا تھا لیکن..... آج اس مشکل میں وہ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ۔ '' فاطمہ یہ باتیں سن رہی تھی وہ کئی ماہ بعد اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی وہ تڑپنے والے انداز میں چلّانے لگی ،'' آپ کیوں میری خاطر کم ظرف لوگوں کی منتیں کرتے ہیں یہ سب لوگ چاندنی اور روشنی کے خریدار ہیں۔ ْ''  وہ رو رہی تھی، ہاجرہ نے اس کو اپنی گود میں چھپا لیا تھا،لیکن وہ پھر بھی خاموش نہ رہی ، ''میں ایک اندھیرا ہوں بابا جان ۔۔۔ امی جان میں ایک اندھیرا ہوں اندھیروں کا کوئی بھی خریدار نہیں ہوتا کوئی خریدار نہیں ہوتا ۔اللہ مجھے اٹھا لے اللہ مجھے اپنے پاس بلالے۔ '' وہ فرش پر گر کر تڑپنے لگی تھی برکت علی سے اپنی لاڈلی کا یہ دکھ برداشت نہ ہو رہا تھا، ہاجرہ بھی اس کو دلاسہ دیتے ہوئے اپنے آنسوئوں پر قابو نہ رکھ سکی ۔ '' اللہ کریم کے گھر میں کوئی کمی نہیں ہے اور میری بیٹی تو کوئی چیز نہیں ہے جو تیرا کوئی خریدار آئے گا ۔۔۔ تو تو میری جان ہے میری جان ہے ۔'' 

 صوبے دار شیر افگن پورے لوازمات کے ساتھ برکت علی کے گھر پہنچاتھا ۔ میجر منصوردلہا بن کر آیا تھا اور برکت علی اور ہاجرہ کے لئے حیرت کی انتہا تھی کہ منصور نے فاطمہ سے شادی کرنے کے نہ صرف حامی بھری تھی بلکہ بیرون ملک اس کا علاج کروانے کا بھی وعدہ کیا تھا ۔ برکت علی تو صوبے دار کے قدموں میں ہی گر گیا تھا ۔ ''  میں کس منہ سے تمہارا شکریہ ادا کروں یار.... تم نے میرا سب کچھ ہی میرے عیبوں سمیت اپنی دوستی سے خرید لیا ہے ۔ '' وہاں پر کھڑے سبھی افراد کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔ لیکن صوبے دار مسکراتا ہوا بولا ، '' یار بھی کہتے ہوا ور غیریت بھی برت رہے ہو۔ میں نے کہا نہیں تھا کہ منصور تمہار ا ہی بیٹا ہے اور میں نے تم سے پوچھے بغیر ہی فاطمہ کو اپنی بیٹی بنا لیا ہے تم ناراض ہو یا غصہ کرو اب یہ فیصلہ بدلنے والا نہیں ہے ۔ ''

'' اللہ کی ذات ہی وہ واحد ہے جو بے عیب ہے انسان تو خطائوں کا پُتلا ہے چاچا برکت، '' منصور بولا تھا ۔ میں نے اللہ کی خوشنودی خریدنے کے لئے فاطمہ سے شادی کی ہے۔ خدانخواستہ آپ یہ مت سمجھیں کہ میں نے آپ پر کوئی احسان کیا ہے یا پھر ہمدردی کی ہے۔ میں بھی اللہ کی رحمت کا خریدار ہوں اور مجھے پورا یقین ہے کہ اللہ کی کرم نوازی اور اس کا فضل میری اس خریداری کو رائیگاں نہیں جانے دے گا ۔ ''

 برکت علی اور ہاجرہ کے روتے ہوئے چہرے اور فاطمہ کی نم آنکھیں اللہ کے حضور شکرانہ ادا کرنے لئے عاجزی اور انکساری سے جھکی جا رہی تھیں ۔


[email protected]

یہ تحریر 134مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP