متفرقات

حسد۔ ایک قومی مرض

چند روز قبل ایک محفل میں گپ شپ ہورہی تھی تو دوستوں کی نامہربانیوں کا ذکر چھڑ گیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے محفل میں بیٹھا ہوا ہر شخص مجروح ہے اور دوستوں کے حسد و کینے کے سبب چھوٹی موٹی سازشوں کا شکار ہے، جنہیں ہم عرفِ عام میں ٹانگ کھینچنا کہتے ہیں۔ جب اس موضوع پر گفتگو طول کھینچ گئی اور ہر شخص اپنے ''صدمات و نقصانات'' کا نوحہ سنانے لگا تو ایک بزرگ جو شروع ہی سے خاموش بیٹھے ''داستانِ ہزار غم'' سن رہے تھے، بڑے کرب سے بولے کہ حضرات! میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ ہماری ساری قوم حاسد ہے۔ ہم سب مسلمان ہونے کے باوجود حسد، غیبت اور کینہ کا روگ سینے میں پالتے رہتے ہیں۔ کوئی کسی کو ذرا بھی آگے بڑھتے ہوئے برداشت نہیں کرسکتا۔



ایک منٹ کے لئے محفل پر خاموشی چھا گئی اور سب لوگ اپنے اپنے اندر جھانکنے لگے۔ وہ بزرگ دوبارہ بولے۔ ''ساری قوم سے میری مراد بہت بڑی اکثریت ہے۔'' یہ فقرہ شاید انہوں نے محفل کا موڈ دیکھ کر ہمارا دل رکھنے کے لئے کہا تھا۔
مجھے ذاتی طور پراس بزرگ کی رائے سے کلی طور پر اتفاق ہے۔ گفتگو ضرورت سے زیادہ سنجیدہ اور گھمبیر ہوگئی ہے۔ اس لئے اس ضمن میں آپ کو ایک لطیفہ سناتا چلوں جو ہمارے قومی کردار کی سچی عکاسی کرتا ہے۔ لطیفے ایک طرح سے قومی مزاج، عادات اور نفسیات پر طنز کی حیثیت بھی رکھتے ہیں لیکن ہم انہیں محض ''مزاح'' سمجھ کر سنتے اور ہنس دیتے ہیں اور یوں طنز کے نشتر کی چبھن محسوس نہیں کرتے۔ وہ چبھن جو ہمیں سوچنے اور اپنے رویے کا محاسبہ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ بہرحال لطیفہ یوں ہے کہ ایک نیک اور پرہیز گار شخص کا انتقال ہوگیا۔ اپنے اعمال کے صلے میں وہ شخص جنت میں بھیج دیا گیا۔ اس شخص نے فرمائش کی کہ اسے جہنم دکھایا جائے۔ وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ دوزخی کس حال میں ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے اس کی آرزو پور کرتے ہوئے فرشتوں کو حکم دیا کہ اس شخص کو جہنم کی سیر کرائی جائے۔ جہنم میں داخل ہونے کے بعد اس شخص نے دیکھا کہ وہاں بہت بڑے بڑے آگ کے تنور ہیں، جن میں آگ بھڑک رہی ہے، شعلے لپک رہے ہیں اور گناہ گار اس آگ میں جل رہے ہیں۔ہر تنور کے باہر فرشتے حفاظت پر مامور تھے۔ جو شخص بھی تنور سے نکلنے کی کوشش کرتا، فرشتے اسے اوپر سے مارتے اور نیچے دھکیل دیتے ہیں۔ اس شخص کو بتایا گیا کہ ہر تنور ایک مخصوص قوم کے لئے مختص ہے۔ چلتے چلتے وہ شخص ایک ایسے تنور پر پہنچا جہاں حفاظت کے لئے فرشتے تعینات نہیں تھے۔ چنانچہ اس نے حیرت زدہ ہو کر فرشتوں سے پوچھا کہ یہ کس ملک کے دوزخیوں کا تنور ہے اور یہاں فرشتے کیوں موجود نہیں ہیں۔ فرشتوں نے اسے بتایا کہ یہ تنور پاکستان کے لئے ''ریزرو'' ہے اور یہاں فرشتے تعینات کرنے کی ضرورت اس لئے نہیں کہ جو شخص بھی تنور سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے، دوسرا اس کی ٹانگ کھینچ کر اسے نیچے گرا دیتا ہے۔ یہاں حفیظ جالندھری کا یہ شعر کس قدر برمحل ہے:
میں جس مقام پر ہوںوہاں، سب مزے میں ہیں
سب کررہے ہیں آہ و فغاں، سب مزے میں ہیں
میں ان عالم و فاضل لوگوں میں سے ہر گز نہیں ہوں جنہیں دنیا بھر کی خامیاں اور برائیاں صرف اپنی ہی قوم میں نظر آتی ہیں۔ میں اپنی قوم کی ''عظمتوں'' کا بھی قائل ہوں۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ جہاں تک حسد و کینہ کا تعلق ہے شاید اس میدان میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ مجھے دوسری اقوام کو دیکھنے اور پڑھنے کا موقع ملا ہے اور اس مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ خصوصیت ہم میں بدرجۂ اَتم موجود ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مجھے دیگر اقوامِ عالم کو صحیح طور پر سمجھنے کا موقع نہ ملا ہو اور محض ایک خوش فہمی کا شکار ہوں۔ لیکن یوں لگتا ہے جیسے دوسری اقوام خاص طور پر یورپی اقوام اس بیماری سے کس حد تک محفوظ ہیں۔ ہمارے معاشرے کی بنیاد خاندان پر ہے۔ ہمارے ہاں اﷲ کے فضل و کرم سے فیملی انسٹی ٹیوشن قائم ہے اور یہ بہرحال بہت بڑی نعمت ہے۔ جبکہ یورپی اقوام میں خاندانی ادارے بکھر چکے ہیں۔ انفرادیت کا دور دورہ ہے۔ معاشرتی سوچ ذات کے سانچے میں ڈھل چکی ہے۔ چنانچہ لوگ اپنے اپنے حال میں مست ہیں۔ زندگی کا تصور دو اصولوں پر قائم ہے۔ ڈالر کمانا اور  زندگی آرام و عیش سے گزارنا۔ علاوہ ازیں ان اقوام کے افراد کو سماجی اور معاشی تحفظ دستیاب ہے، جس نے انہیں بہت سے غموں سے آزاد کردیا ہے۔ چنانچہ وہاں لوگوں کو فرصت ہی نہیں اور ضرورت بھی نہیں کہ وہ دوسروں کے احوال میں دخل دیں، ان کے صحن میں جھانک کر دیکھیں۔ اس انفرادیت پسندی نے انہیں خاصی حد تک حسد و کینہ سے بے نیاز کردیا ہے۔ جب معاشرے میں ترقی کرنے کے لئے ہر فرد کو یکساں مواقع میسر ہوں تو شاید حسد و کینہ کا مرض بھی کم ہوجاتا ہے۔ 
اوپر جو لطیفہ آپ کو سنا چکا ہوں، ظاہر ہے وہ ہمارے قومی مزاج کی مجموعی طور پر عکاسی کرتا ہے۔ آپ نے بھی محسوس کیا ہوگا کہ ہماری قوم کی غالب اکثریت اپنی صلاحیتوں کا بیشتر حصہ منفی کاموں پر صرف کرتی ہے۔ اس کے بجائے ہمیں چاہئے کہ ہم ہمت کریں، محنت کریں اور خودبھی آگے بڑھنے کے لئے جدوجہد کریں۔ ہم اپنے وقت کا زیادہ حصہ دوسروں کی ٹانگ کھینچنے پر ضائع کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے حلقے میں زندگی کے کسی شعبے میں بھی قدرے آگے بڑھنے والا شخص چبھتا ہے، ناگوار لگتا ہے۔ چنانچہ ہم اس کی تنقیص کرکے، غیبت کرکے اور اس کی شخصیت میںکیڑے نکال کر خوش ہوتے اور تسکین پاتے ہیں۔ لیکن یہ کبھی کھوج لگانے کی کوشش نہیں کرتے کہ اس نے کس قدر محنت کرکے ترقی کی۔ اسی سوچ کا ایک دوسرا رُخ بھی ہے جو ہمارے معاشرے میں تقریباً وبا کی صورت اختیار کرچکا ہے کہ ہمارے ہم عصروں میں سے جو بھی ترقی کرتا ہے، نام پیدا کرتا ہے یا ہم سے آگے بڑھتا ہے، ہم یہ فرض کرلیتے ہیں کہ اس نے ترقی کا یہ زینہ سفارش یا سازش کے ذریعے طے کیا ہے۔ چنانچہ ہم کوشش کرکے اس کے ایسے رشتہ داروں کا پتہ لگاتے ہیں جو اعلیٰ سرکاری ملازمتوں پر فائز ہیں یا کسی حیثیت سے اثرو رسوخ کے مالک ہیں۔ ہماری حتی الوسع کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس شخص کی کامیابی کو اس کے کسی بااثر عزیز کے پلڑے میں ڈال دیں اور یوں  یہ کہہ کر اپنی تسلی کرلیں کہ کاش ہمارا بھی کوئی عزیز ایسا ہوتا۔
اگر کوشش کے باوجود اس کے عزیزوں میں سے کوئی''بڑا آدمی'' دریافت نہ ہو سکے تو پھر دوسرا شاک آبزرور یہ ہوتا ہے کہ اس نے یقینا یہ مقام بے ایمانی، چاپلوسی یا رشوت کے ذریعے حاصل کیا ہوگا۔ اگر ہم سے آگے بڑھنے والا شخص سرکاری ملازمت میںہے تو اس پر خوشامد کا الزام لگے گا۔اگر دکاندار ہے تو اس پر بلیک مارکیٹنگ یا سمگلنگ کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ اور اگر شاعر و ادیب ہے تو ہم اسے یہ کہہ کر ''معاف'' کر دیتے ہیں کہ صاحب ''انجمن ستائشِ باہمی'' کا رُکن ہے یا اخبارات و رسائل کے مدیران سے تعلقات اچھے ہیں۔ ورنہ بھائی اسے تو شعر''سیدھا کرنا'' نہیں آتا۔ مجھے ایسے لوگوں کی ہمیشہ تلاش رہی ہے جو کسی ساتھی کی ترقی سے خوش ہوں۔ اس کی ترقی کو اس کی محنت یا ذہانت کا نتیجہ قرار دیں۔ آپ غور کریںتو محسوس کریں گے کہ ہمارے اکثر نوجوانوں کی ذہانت کو حسد و کینے نے زنگ آلود کردیا ہے اور انہیں مستقل طور پر ذہنی مریض بنادیا ہے۔ چنانچہ ان کی تخلیقی صلاحیتیں برباد ہو چکی ہیں اور وہ ہر وقت گیلی لکڑی کی مانند سلگتے رہتے ہیں۔انہیں یہ سمجھانامشکل ہے کہ زندگی کی دوڑ میں ہر شخص کو آگے بڑھنے کا حق ہے۔آپ بھی کوشش کیجئے، اﷲ آپ کا حامی و ناصر ہوگا۔ مجھے ذاتی طور پر صدمہ ہوتا ہے جب میں ایسے ذہین نوجوانوں کو اپنے ساتھیوں کے خلاف سازشیں کرکے اپنی صلاحیتیں برباد کرتے دیکھتا ہوں۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ حسد بہرحال ایک منفی رجحان ہے۔ یہ رجحان کس طرح لوگوں میںپیدا ہوتا ہے؟ کیا اس کا تعلق انسان کی تربیت سے ہے؟ کیا اس کا تعلق اس کے مزاج سے ہے اور اس لحاظ سے یہ قدرت کا عطیہ ہے جس پر اسے کنٹرول نہیں یا کوئی انسان نفسیاتی پیچیدگی کا پرتَو ہے؟ میں اپنے طو رپر محسوس کرتا ہوں کہ اگر بچپن ہی سے بچے کی ذہنی تربیت مثبت خطوط پر کی جائے تو وہ عام طور پر زندگی کے میدان میں بھی مثبت سوچ کا مظاہرہ کرتا ہے اور مثبت سوچ یہی ہے کہ محبت اور خلوص سے آگے بڑھا جائے نہ کہ دوسرے ہم عصروں کی ٹانگ کھینچ کر۔
بازاروں، گلیوں اور عمارتوں کی دیواروں پر مختلف احادیث لکھی نظر آتی ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق حسد، کینہ اورغیبت سے ہے۔ ہم مسلمان ہیں، اسلام کے پیروکار ہیں اور جانتے ہیں کہ اسلام میں حسد اور غیبت کو سگے بھائی کے گوشت کھانے سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ حسد اسلام میںکبیرہ گناہ ہے اور حاسد کبھی بخشش سے ہمکنار نہیں ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ ہونے کا دعویدار ہے، حسد کے کینسر میںمبتلا ہے۔ آپ کہیں گے کہ کیا حرام ہونے کے باوجود ہم رشوت نہیں لیتے، شراب نہیں پیتے؟ آپ کا استدلال درست ہے۔ لیکن بھائی رشوت لینے سے روپیہ ملتا ہے۔ شراب لذت دیتی ہے اور ''نام نہاد بے خودی'' کا ذریعہ ہے۔ لیکن حسد میں تو کچھ بھی نہیں ملتا البتہ ذہنی بے چینی، غیر ضروری پریشانیاں، کشمکش اور بے خوابی ضرور ملتی ہے۔ جو عام طور پر انسان کی ذہنی و جسمانی طاقت کو چوس لیتی ہے۔ نفسیاتی طور پر حسد انسان کی بہترین صلاحیتوں کا دشمن ہے احساسِ کمتری میں مبتلا کرکے انسان کو جرأت و کردار کی صلاحیت سے محروم کردیتا ہے اور بعض حالات میں انسان کو ذہنی مریض بنادیتا ہے۔ پھر ایسے گناہ کا کیا فائدہ جس میں لذت بھی نہ ہو، حاصل بھی کچھ نہ ہو اوربندہ اپنا دشمن آپ بن جائے۔ دوسروں کا تو کچھ بگاڑ نہ سکے لیکن اپنی کائنات کا سکون برباد کرڈالے۔ مختصر یہ کہ دنیا بھی برباد اور آخرت بھی۔
معاشرے پر نگاہ ڈالیئے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ حسد ہمارے معاشرے کو اندر اندر سے کینسر کی مانند چاٹ رہا ہے۔ ہمارے ہاں کتنی وارداتوں، سازشوں اور دنگے فساد کا سبب حسد ہوتا ہے۔ اس سے ہم اپنی اور اپنے عزیزوں کی زندگی اجیرن بنا دیتے ہیں اور بالآخر اس سے ہمیں کچھ حاصل نہیںہوتا۔ کیونکہ ہم نہ دوسروں کا راستہ روک سکتے ہیں اور نہ ہی خود آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس منفی رجحان اور جذبے کو مثبت سوچ میں بدلا جائے اور اپنے ذہن و قلب کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کرنے کے لئے محنت، جدوجہد اور خلوص کی ضرورت ہے اور یہی ہمارا رختِ سفر ہے نہ کہ حسد جو انسان کو اس کی صلاحیتوں سے محروم کردیتا ہے۔ بقول حفیظ جالندھری:
دیکھا جوکھا کے تِیر کمین گاہ کی طرف 
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی


مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔ 
[email protected]
 

یہ تحریر 183مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP