قومی و بین الاقوامی ایشوز

حادثات کی آڑمیں اداروں پر تنقید

 دس سالہ معصوم بچی فرشتہ کی بے حرمتی اورقتل پرہردل رنجیدہ اورہرآنکھ اشک بار ہے۔افسوس درندوں نے اس معصوم پھول کومسل دیا۔بعض لوگوں  نے اسے نسلی رنگ دینے کی کوشش کی۔یہ سوچنابھی غلط ہے کہ ا س سانحہ پرکسی پختون کادل زیادہ اور غیرپختون کادل کم آنسوبہارہاہے۔ظلم کی کوئی انسان حمایت نہیں کرسکتا۔خیبرسے کراچی تک سب کاایک ہی مطالبہ ہے کہ معصوم فرشتہ کے قاتلوں کوسخت ترین سزادی جائے ۔قصورکی زینب ہویااسلام آبادکی فرشتہ، سب کی حرمت اورخون ایک جیسااوربرابرہے۔جب یہ واقعہ میڈیا پر آیا اور وزیراعظم عمران خان نے بھی اس پرسخت برہمی کااظہارکیاتواسلام آباد پولیس اورانتظامیہ کواپنی غلطی کااحساس ہوا۔غیرذمہ داری کامظاہرہ کرنے پرکئی پولیس افسران اوراہلکاروں کومعطل کردیاگیا ۔اس واقعے کی ابتدائی اطلاع پر اسلام آباد پولیس کارویہ ویساہی تھاجیسا پولیس کا ہوتاہے ۔درخواست لے کر آنے والے کی فوری دادرسی نہیں کی گئی اورکوشش کی گئی کہ مقدمہ درج ہی نہ کرنا پڑے۔میڈیا پرخبرآنے کے بعد پولیس حکام کواپنی غلطی کااحساس ہوا ۔ ٹی وی چینلز میں کام کرنیوالے ہم لوگ توایسی خبروں کی تلاش میں رہتے ہیں ،اس خبر کی اطلا ع ملتے ہی اسے ہیڈلائنز میں لیا گیا،بریکنگ پربریکنگ چلیں ۔ یہ خبروں کی جنگ میں نمبرون آنے کی دوڑہے اوراس جنگ میں سب جائز سمجھا جانے لگاہے ۔جہاں ذمہ دارانہ رپورٹنگ ہوتی ہے وہاں بعض اوقات غیرذمہ دارنہ باتیں بھی ہوجاتی ہیں ۔اس واقعے کولسانی بنیادوں پردیکھناکسی طوربھی درست نہیں۔ اس قسم کے واقعات معاشرے میں موجود بعض بیمارذہنوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ معاشرے کو ان مجرموں سے پاک کرنے کے لئے ہم سب کو اپنا کردار اداکرنے کی ضرورت ہے۔ اگرجنسی تشدداورقتل کے واقعات کے اعداد وشمارکودیکھاجائے توایسے واقعات پنجاب اورسندھ میں زیادہ پیش آرہے ہیں۔ 



 دس سالہ معصوم فرشتہ کواس کے گھرکے باہرسے اغواکیاگیاتھا۔ اب تک چھ ملزموں کوگرفتارکیاجا چکاہے۔ شک کی بنیاد پرگرفتارہونے والوں میں فرشتہ کے قریبی عزیزبھی شامل ہیں۔پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ملزموں کی گرفتاری کے لئے تعاون کریں۔فرشتہ پرڈھائے جانے والے ظلم کولسانیت کارنگ دینااوراپنی قوم پرست سیاست چمکانا کسی طرح بھی درست نہیں۔اسے انسانیت کے ساتھ ظلم کے پیرائے میں دیکھنا چاہئے۔ لیکن کیاکریں جب کسی تنظیم اوراس کے رہنماؤں کی دال روٹی ہی ایسے نعروں سے چلتی ہواورباہرسے بھی دباو ٔہوکہ یہ کرناہے اوریہ نہیں کرنا۔ ٹوئٹراورفیس بک پرموجود درجنوں اکاونٹس لوگوں کواشتعال دلانے کے لئے استعمال کئے جارہے ہیں۔ اب پختون دوست بھی اس بات کوسمجھناشروع ہوگئے ہیں کہ یہ لوگ ان کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔دیگرقوم پرست جماعتوں کی طرح اس کے بھی سیاسی عزائم اورمقاصد ہیں،جس کی ڈوریں باہرسے ہل رہی ہیں،یہ ان کی کٹھ پتلیاں ہیں۔پوری پاکستانی قوم کامطالبہ ہے کہ جس طرح زینب کے قاتل کوپھانسی دی گئی اسی طرح فرشتہ کے قاتلوں کوبھی پھانسی دی جائے۔ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کوروکنے کے لئے نظام کوبھی بہتربنانے کی ضرورت ہے۔ان جرائم کونسلی تعصب کی عینک لگا کر دیکھنا درست نہیں۔کسی جرم کوکسی کی قومیت سے منسوب نہیں کیا جا سکتا نہ تو ظالم کاکوئی مذہب اورقوم ہوتی ہے اورنہ ہی مظلوم کی ۔ظالم یامظلوم کاتعلق کسی بھی زبان یامسلک سے ہوسکتاہے۔اسے لسانی یافرقہ وارانہ رنگ دیناخود انصاف کاقتل ہے۔ 
 جہاں تک پولیس کے رویّے کامعاملہ ہے ہرشریف آدمی اس سے پریشان ہے، اسے بہتربنانے کی ضرورت ہے ۔دنیا بدل گئی ہے لیکن افسوس پولیس کارویہ نہیں بدلا۔اسلام آبادپولیس وفاقی حکوت کے ماتحت ہے ،جبکہ صوبوں میں امن وامان کاقیام اورپولیس کامحکمہ صوبائی حکومتوں کے ماتحت ہے۔ اب وفاقی حکومت سے زیادہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کویقینی بنائیں کہ پولیس کارویہ عوام دوست ہو ۔اس کے لئے صوبائی حکومتوں کوابھی بہت سے کام کرنے پڑیں گے یہ اتناآسان نہیں ہے۔میرے خیال میں پاکستان کے آئین میں ترمیم کرناآسان ہے لیکن پولیس کے رویے کوتبدیل کرنابہت مشکل ہے۔
 دنیاکے بہت سے ممالک ہیں جہاں ایسے جرائم ہوتے ہیں کہ انسانیت شرما جائے۔ بھارت میںبسوںمیںاورسرِعام خواتین کی بے حرمتی، مسلمانوں اورمسیحی نوجوانوں پرتشدداوران کابہیمانہ قتل،انسانی جانوں سے زیادہ گائے کے احترام کے واقعات نے پوری دنیا کوحیران کردیاہے۔یورپ میں بعض پادریوں کی جانب سے جنسی زیادتی کے واقعات،امریکہ میںجنسی تشددکے بعد بچوں کے قتل کے واقعات۔ایک نہیں ان جرائم سے اخبارات کے صفحات اور نیوز ویب سائٹس بھری ہوئی ہیں۔ لیکن کسی ملک میں ایسا نہیں ہواکہ ان واقعات کولے کراپنے ہی اداروں کے خلاف پروپیگنڈاشروع کردیاگیاہو۔
ایسا لگتا ہے کہ پاکستان غیرملکی سازشوں کاگڑھ بن چکاہے۔افراتفری پھیلا نے  اور انتشار پیداکرنے کے لئے قوم پرست اورفرقہ پرست تنظیموں اوران کے لیڈروں کواستعمال کیاجارہاہے۔ملک بھرمیں اورخصوصاً خیبرپختونخوامیں خدا خدا کر کے امن قائم ہواہے،جس کے لئے سکیورٹی فورسزاورمقامی لوگوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جنھیں یہ امن پسند نہیں آرہااوروہ خیبرپختونخوا میں پھرسے شورش پیداکرناچاہتے ہیں۔ اس کے لئے پختون قوم پرستی کاسہارالیاجارہاہے۔یہ قوم پرست اس وقت کہاں تھے جب ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے لوگوں کاجینادوبھرکردیاتھا۔یہ دہشت گرد لوگوں کے سرکاٹ رہے تھے اورعام پختون کو سرعام ذلیل ورسوا کررہے تھے۔جب بڑی قربانیوں کے بعد ان علاقوں میں امن قائم ہوگیاہے توقوم پرست اپنی سیاسی دوکانیں چمکانے آگئے ہیں،لیکن ہم جانتے ہیں ان کے پیچھے بھی وہی ہیں جوٹی ٹی پی کے پیچھے تھے۔قوم پرستی کے نام پرپختونوں کوریاستی اداروں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی جارہی ہے۔سب جانتے ہیں جتنے پختون ،خیبرپختونخوامیں رہتے ہیں اس سے زیادہ خیبرپختونخواسے باہرہیں۔سماجیات کے ماہرین بھی اس بات کوتسلیم کرتے ہیں کہ کئی دہائیاں گزرنے کے بعد یہ پختون پنجاب، بلوچستان اورسندھ کے شہری علاقوں کاایک جزوبن چکے ہیں اورمقامی آبادی میں گھل مل گئے ہیں۔ان کے وہ مسائل ہیں ہی نہیں جن کاذکران کے تحفظ کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ان کامرناجیناپاکستان اورمقامی لوگوںکے ساتھ ہے۔ ہزاروں پختون مقامی آبادیوں میںشادیاں کرکے وہیں کے ہوکررہ گئے ہیں۔ ایسے لوگ سمجھ سے بالاترہیں، وہ کیاچاہتے ہیں۔ہم سب کے مشترکہ مسائل غربت، بے روزگاری صحت اورانصاف کی فوری فراہمی ہے۔لیکن بعض قوم پرستوں نے اپنے بیرونی آقاؤں کوخوش کرنے کے لئے علیحدگی کانعرہ بھی لگادیاہے۔اب جب آپ ریاست کی اتھارٹی کوچیلنج کریں گے توریاست بھی آپ کے ساتھ ماں جیساسلوک کیسے کرے گی۔
کچھ خواتین بھی قومی اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کاکوئی موقع ضائع نہیں کرتیں۔ فرشتہ کے قتل کے واقعے کوانہوںنے بھی عوام میں اشتعال پھیلانے کے لئے استعمال کیااوراپنی تقریرمیں پختونوں کوبھڑکانے کی کوشش کی۔ ان کابس چلے تو پختونوںکو غیرپختونوں سے لڑوادیں۔اسلام آبادپولیس نے فرشتہ کے قتل کے بعد اس واقعے پرلوگوں کواشتعال دلانے اورریاست کے خلاف اکسانے پرتھانہ شہزاد ٹاؤن میں مقدمہ درج کرلیاہے۔پاکستان بارکونسل کا مطالبہ بھی سامنے آیاہے جس میںان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کامطالبہ کیا گیا ہے۔ میرے ایک پختون دوست کی رائے میں یہ تنظیمیں جتنی تیزی سے مقبول ہوئیںاس سے زیادہ تیزی سے غیرمقبول ہو رہی ہیں، عام قبائلی انہیںاپنے دکھوں کامداوا سمجھنے لگاتھا۔اس کاخیال تھاکہ یہ قبائلیوں کے مسائل حل کریں گی لیکن اب ان کاایجنڈہ کھل کرسامنے آ گیا ہے، انہیں قبائلیوںکیا بلکہ پختونوں سے بھی ہمدردی نہیں بلکہ ان کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا اوربدنام کرناہے۔میرے پختون دوست نے خود اس بات کی تصدیق کی کہ اسے خود فرشتہ کیس میں لسانی بنیادوں پر ایس ایم ایس موصول ہوئے اوراسے ریاست کے خلاف احتجاج پر اکسایا گیا۔ فرشتہ کی بے حرمتی اورقتل پرہرشخص دکھی اورکرب میں ہے۔یہ کوئی لسانی یاصوبائی مسئلہ نہیں۔نہ اس واقعے میں کوئی ادارہ ملوث ہے۔بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں،بیٹیوں کاتعلق کسی صوبے یافرقے سے نہیں ہوتا۔
  ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرح کے واقعات روکنے کے لئے عوام میں شعورپیداکیاجائے،آگاہی مہم چلائی جائے اورمناسب قانون سازی کی جائے۔بچوں خصوصاً بچیوں کے ساتھ جنسی تشدداوران کاقتل پوری دنیا کے لئے ایک مسئلہ بنتاجارہاہے۔پاکستان میں بھی ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔اکثردیکھاگیاہے کہ قانونی پیچیدگیوں،ثبوتوں اورگواہوں کی عدم موجودگی کافائدہ ملزموں کوہوتاہے۔ملزم چند سال جیل میں گزارکربری ہو جاتے ہیں۔متعلقہ پولیس اہلکاربھی اپناکام ذمہ داری سے نہیں کرتے، اگر مظلوم خاندان غریب ہو تواس کی مجبوری کاپوراپورا فائدہ اٹھایاجاتاہے۔تمام سیاسی جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لئے قانون سازی جلد ازجلد مکمل کریں۔پولیس کے تفتیشی نظام اورایف آئی آر درج کرنے کے طریقہ کارکوآسان اورایسابنایاجائے کہ کسی سفارش اوراحتجاج کی ضرورت پیش نہ آئے۔اس بات سے بھی ہوشیار رہنا چاہئے کہ مفادپرست اوردوسروں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے عناصراس طرح کے واقعات کواپنی سیاست چمکانے اورنوٹ چھاپنے کے لئے استعمال نہ کریں۔ بعض مفادپرست لیڈر آگ کوبجھانے کے بجائے اس پرتیل ڈالتے ہیں تاکہ ان کی سیاست کوایندھن ملتارہے،سادہ لوح لوگ ان کی ضرورت محسوس کرتے رہیں۔الزام تراشی سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ان میں پیچیدگیاں  پیداہوتی ہیں،لیکن ظاہرہے پی ٹی ایم سے کسی نیکی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ان کاکام فرشتہ کے قاتلوں کوکیفرکردار تک پہنچانانہیں بلکہ اپنی سیاست چمکاناہے،سو وہ چمکارہے ہیں۔
بچوں کے اغوا،انہیں جنسی ہوس کانشانہ بنانااوران کاقتل سنگین جرم ہے، عوام میں آگہی اوربیداری کے لئے قومی سطح پرمہم چلانے کی ضرورت ہے۔یہ بھی دیکھاگیاہے کہ بعض والدین بھی بچوں کے حوالے سے غیرذمہ داری اورلاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔فرشتہ والے واقعے کے اگلے روز ہی لاہور میں بھی ایک بچی کے اغوا کاواقعہ پیش آیا،جس میں والدین کی لاپروائی واضح تھی۔ بچوںکو جنسی تشددسے بچانے کے لئے سکولوں میں کچھ بنیادی تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ بچوں اوربچیوںکااغوا سنگین جرم توہے تاہم اس حوالے سے قوانین میں موجود بعض سقم دورکئے جائیں تاکہ آئندہ شخص کوئی ایساجرم کرنے کاسوچ بھی نہ سکے ۔ان سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کوکیفرکردارتک پہنچانے کے لئے جدیدٹیکنالوجی کااستعمال بھی کیاجاناچاہئے۔جرائم پرریسرچ کرنے والے غیرملکی ماہرین کے مطابق جس معاشرے میں لوگوں کویہ علم ہوکہ وہ جرم کرکے بچ نہیں سکتے وہاں جرائم کی شرح بھی نہ ہونے کے برابرہوتی ہے،لیکن جہاں یہ پتہ ہوکہ وہ قانون کودھوکہ دینے میں کامیاب ہوجائیں گے وہاں جرائم بھی زیادہ ہوتے ہیں۔


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلزکے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر اُن کی آٹھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 258مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP