متفرقات

جگلوٹ سکردو روڈ کی تعمیر نو

 پاک فوج کا گلگت  بلتستان کی ترقی اور خوشحالی میں مثالی کردار

یوں تو ہرحکومت، ہر حکمران اور ہرادارے نے اپنے مخصوص انداز میں گلگت  بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے قابل تحسین کردار ادا کیا ہے لیکن اگر ان دشوار گزار ، پہاڑی اور دفاعی نوعیت کے حساس ترین علاقوں میں پاک فوج اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ علاقے کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا حصہ نہ ڈالتی تو آج حالات مختلف ہوتے۔ 1980 کے عشرے میں ہی پاک فوج کے انجینئرز اور ایف ڈبلیو او نے گلگت سے سکردو تک شاہراہ قراقرم تعمیر کی اور اس سٹرک کی تعمیر کے دوران افسروں اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیالیکن  بلتستان کے عوام کے لئے ایک عظیم تحفہ دیااور پہلی مرتبہ ستمبر1980 میں سکردو میں بسوں کی آمددرفت شروع ہوئی اور ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ جگلوٹ سکردو روڈ ،قراقرم ہائی وے اور سکردو کے درمیان ایک اسٹریٹجک لنک ہے۔ یہ راستہ نہ صرف پاکستان میں سیاحت کی صنعت کی ترقی کے لیے اہم ہے بلکہ اسے مسلح افواج کارگل، بٹالک، چوربت اور سیاچن کی سرحدوں تک پہنچنے کے لیے بھی استعمال کرتی ہیں۔ یہ سڑک اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ  بلتستان کے چاروں اضلاع کے لاکھوں لوگوں کی زندگی کا محور ہے۔ تاہم بار بار تودے گرنے اور شدید برف باری نے سڑک کو کافی نقصان پہنچایا۔ سڑک کی خراب حالت کی وجہ سے سیاحوں نے یا تو ہوائی جہاز سے سکردو جانے کو ترجیح دی یا سڑک کے ذریعے گلگت  بلتستان کے دیگر علاقوں کا دورہ کیا۔ مزید برآں، سڑک کی محدود چوڑائی پرگاڑی چلانے کے لئے ہنر مند ڈرائیوروں کی اشد ضرورت تھی ۔ روڈ پر ٹریفک اور ہر سال ہونے والے حادثات کے تناسب، مسافروں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے اورسکردو آنے میں لوگوں کی دلچسپی کے پیش نظر سڑک کی اپ گریڈیشن اور اسے چوڑا کرنا انتہائی ضروری تھا۔جس کے پیش نظر دفاعی نقطہ نگاہ سے اہمیت کی حامل جگلوٹ سکردو روڈ کی اپ گریڈیشن اور توسیع کا منصوبہ2015میں بنایا گیا۔



2017 میں اس منصوبے کا کنٹریکٹ ایف ڈبلیو او کو ملا۔ایف ڈبلیو او نے 2017 میں ہی منصوبے پر کام شروع کیا اوراس کی بحالی کے لیے سڑک کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پروجیکٹ کی رفتار میں رکاوٹ بنے والے عوامل میں رائٹ آف وے کلیئرنس کے مسائل، سخت موسم، دشوار گزار علاقوں اور غیر متوقع لینڈ سلائیڈنگ نے اسے ایک مشکل منصوبہ بنا دیا۔اس تعمیراتی کام کے دوران ایف ڈبلیو او کے پندرہ اہلکار شہید ہوئے۔ بھاری مشینری کی فراہمی بنیادی ضرورت تھی جس کے لیے کمزور پلوں کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کیا گیا۔ دو لین ہائی وے کو 3.6 میٹر سے 7.3 میٹر تک چوڑا کر دیا گیا۔ اس سڑک کے ساتھ ساتھ 20 پل اور 289 کلورٹ بھی بنائے گئے۔ ایف ڈبلیو او نے دن رات محنت اور لگن کے ساتھ اس منصوبے کو دسمبر2021 میں مکمل کرلیا اور 16 دسمبر 2021 کو وزیراعظم پاکستان عمران خان نے تعمیراتی کام کے تکمیل پر جگلوٹ سکردو روڈ کا افتتاح کیا۔ اس شاہراہ کی تکمیل کے بعد سکردو سے گلگت تک مسافت کا دورانیہ 9 گھنٹے سے کم ہو کر تین گھنٹے کا رہ گیا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد بلتستان ریجن تک آسان رسائی یقینی ہوئی ہے جس سے علاقے میں سیاحت کے فروغ کی راہ ہموار ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی معاشی صورتحال میں بہتری کے امکانات بھی روشن ہوئے۔ پوری قوم ایف ڈبلیو او کی کاوشوں کو سراہتی ہے جنہوں نے سکردو اور جگلوٹ کے بیچ سنگلاخ پہاڑوں کو کاٹ کر بین الاقومی معیار کا روڈ بنایا۔ ||


(رپورٹ: میجر طارق وہاب )
 

یہ تحریر 100مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP