متفرقات

جنگ آزادی اور اہلِ  بلتستان کا کردار

مملکتِ خداداد پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے فوراً بعد گلگت  بلتستان کے عوام یہ خواب دیکھ رہے تھے کہ اسلامی رشتے کی بنیاد پر ہمارا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو۔ لیکن سابق مطلق العنان مہاراجہ کشمیر نے اس علاقے کو بھارت میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان پر اس علاقے کی مسلمان آبادی برہم ہوگئی۔ گلگت سکائوٹس اور سکستھ جموں کشمیر انفنٹری کے مسلمان فوجیوں نے عوامی حمایت کے ساتھ گلگت اور بونجی میں ڈوگروں کے خلاف شورش برپا کی۔ یکم نومبر1947ء کو گلگت کا سارا علاقہ آزاد ہوا۔ یوں جموں و کشمیر کی ریاست کا شیرازہ بکھر گیا۔



گلگت آزاد ہونے کی خبر سن کر  بلتستان کے لوگوں نے بھی ڈوگرہ حکومت کے خلاف تحریک آزادی شروع کی۔ لیکن گلگت میں انقلاب رونما ہونے  کے ساتھ ہی مہاراجہ انتظامیہ نے  بلتستان میں دفاعی انتظامات کو مزید مستحکم کرنا شروع کیا۔ یہاں فوج کی نفری میں اضافہ کیا گیا۔ بالخصوص اس ایکشن کے بعد سکردو شہر اور مضافاتی علاقوں میں گھروں کی تلاشی لینے کے بعد سرکردہ لوگوں پر کڑی نگرانی رکھی گئی۔ ہر قسم کے اسلحے مثلاً کلہاڑی، چھری، تیر، نیزہ، تلوار اور ڈھال تک کو لوگوں سے اٹھا لیا گیا۔ اس کے باوجود عوام نے پس پردہ ڈوگرہ حکومت کے خلاف اپنی مہم کو جاری رکھا۔ سکستھ جموں کشمیر انفنٹری کے میجر محمد دین کی سرکردگی میں سکردو میں عوامی سطح پر ایک انقلابی منصوبہ بھی تیار ہوا۔ لیکن شو مئی قسمت سے یہ راز فاش ہوگیا اور منصوبہ ناکام رہا۔ اب سکردو کی حالت یکسر بدل گئی۔ اس کے ساتھ ہی میجر محمد دین کا تبادلہ ہوگیا اور یہاں کے باشندوں کو اور بھی مشکوک نگاہوں سے دیکھا جانے لگا۔ اس لئے اہل  بلتستان کے سامنے گلگت سکائوٹس سے رابطہ قائم کرنے اور ان سے امداد طلب کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔
اگرچہ جنگ ِآزادیِٔ  بلتستان میں چار بڑے کردار یعنی گلگت سکائوٹس، چترال سکائوٹس، ریاستی فوج کے سکستھ جموں کشمیر کے مسلمان جوان اور  بلتستان کے عوام برابر کے شریک تھے۔ لیکن اس مقالے کا موضوع جنگ آزادی میں اہل  بلتستان کے کردار کا احاطہ کرنا مقصود ہے۔ کیونکہ باقی تین کرداروں کے تذکرے متعدد کتابوں اور مضامین میں ہوتے رہے ہیں۔
نومبر1947ء کے پہلے ہفتے میں سقوط بونجی کے فوراً بعد وہاں سے ایک سکھ پلاٹون روندو کی طرف بھاگی تھی۔ راجہ محمد علی خان روندو (تمغۂ قائداعظم) کو جب آزادی گلگت اور سکھ پلاٹون کے فرار کا علم ہوا تو انہوں نے قدیم ماشہ دار اور ٹوپی دار بندوقوں سے لیس رضا کاروں کے دستے منظم کرکے ان کو مختلف کمین گاہوں میں بٹھا دیا۔ اس مہم میں حراموش کا بختاور شاہ بھی شامل تھا۔ روایات کے مطابق اس حادثے میں چھبیس ڈوگرہ فوجی گرفتار اور متعدد ہلاک ہوگئے۔ اس واقعے میں راجہ محمد علی خان روندو (تمغۂ قائد اعظم) اور وہاں کے عوام کی خدمات ناقابل فراموش ہیں کیونکہ ان کے والہانہ جذبے اور دیوانہ دار شرکت کے بغیر آزاد فورس کے لئے سکردو کی طرف پیش قدمی تقریباً ناممکن تھی۔ راجہ محمد علی خان نے پس پردہ تین سو رضا کاروں پر مشتمل دستہ منظم کیا جن کے پاس سکھوں سے حاصل شدہ رائفلوں کے علاوہ چالیس پرانی ماشہ دار اور ٹوپی دار بندوقیں بھی موجود تھیں۔ جب آزاد فورس کی نفری میجر احسان علی اور لیفٹیننٹ بابر خان کی سربراہی میں روندو پہنچی تو یہاں کے عوام نے راشن، بار برداری اور مخبری کے تمام انتظامات  بطریقِ احسن انجام دیئے۔
اگرچہ سکردو پر حملے کے پروگرام کی تاریخ خفیہ طور پر 10-9فروری 1948ء کی درمیانی رات طے ہو چکی تھی، اس رات ریاستی فوج کے تمام مسلمان سکردو کے عوام کے ساتھ رات بھر سندوس گائوں میں انتظار کرتے رہے لیکن آزاد فورس نہ پہنچ سکی۔ اگلی تاریخ کو رات کے تین بجے ایک دستہ میجر احسان علی کے ساتھ سندوس پہنچا لیکن لیفٹیننٹ بابر خان کی وِنگ بروقت نہ پہنچ سکی۔ میجر احسان علی نے ان کا انتظار کئے بغیر سکردو چھائونی پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس معرکہ میں آزاد فورس کے ساتھ موضع سندوس اور کواردو کے متعدد افراد بھی شامل تھے۔ اس موقع پر سب سے پہلے سندوس کے اُن کشتی بانوں (حاجی فاچو، علی، قمبر اور احمد وغیرہ) کی خدمات بھی قابل ذکر ہیں۔ جنہوں نے ڈوگرہ سرکار کی طرف سے سخت ہدایات کے باوجود آزاد فورس کو رات کی تاریکی میں بذریعہ کشتی دریا عبور کر ایا۔ آزاد فورس نے حملہ تو کر دیا لیکن پسپائی ہوئی اور واپس جاکر قمراہ میں کیمپ لگایا۔ اس کے بعد ڈوگرہ افواج کو چھائونی سے باہر نکل کر پورے قصبے میں قتل و غارت گری کا موقع فراہم ہوا۔ سکردو شہر میں راجہ کے محل سمیت چھومک، سیزگرکھور، چھونپہ کھور اور سکمیدان میں درجنوں مکانات اور دکانوں کو نذر آتش کیا گیا اور بہت سی املاک لوٹ لی گئیں۔ ڈوگروں نے انتقامی کارروائی کے طور پر بہت سے مقامی شہریوں کو قتل کرکے مزید نفرت پھیلائی اور بہت سوں کو گرفتار کرکے چھائونی میں قید کر دیا۔ ڈوگرہ فوج نے کھرپوچو کے بلند قلعے پر بھی مورچہ قائم کر لیا جو اب تک خالی پڑا تھا۔ پہلے راجہ حاتم خان کی سرکردگی میں سکردو کے مغربی دیہاتوں سے ایک عوامی وفد آزاد فورس کے تعاقب میں قمراہ گیا اور ان کو واپس آنے کی ترغیب دی گئی۔ آزاد فورس کے سربراہوں نے ایک ہفتے کی مہلت مانگی جب کہ سکردو میں حالات بے قابو ہورہے تھے۔ دشمن مسلمان گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ وفد نے آزاد فورس سے ان کے واپس نہ جانے کی صورت میں اسلحہ اور ایمونیشن کا مطالبہ کیا۔ چنانچہ ایک رائفل اور ایک صندوق ایمونیشن دیا گیا جنہیں لے کر کواردو کے حامی محمد علی اور نمبردار غلام حسن کے ساتھ سندوس کے پچیس جوان کھرپوچو کی ٹیکری پر چڑھ گئے۔ چند دنوں بعد سکمیدان کے نجف علی غازی اور وزیر شمشیر بھی اس مہم میں شامل ہوگئے۔ ان کی فائرنگ سے ڈوگرہ فوجی اور سکھ جو بازار اور محلوں میں لوٹ مار کے لئے گھسے تھے چھائونی کی طرف بھاگنے لگے۔ اب وہاں سے وقفہ وقفہ کے بعد فائرنگ کرکے دشمن کو چھائونی میں محبوس ہونے پر مجبور کیا۔ بعد ازاں سکردو کے مشرقی مواضعات سے تعلق رکھنے والے معززین کے کئی وفود نے گول کے آغا ہادی کی سرکردگی میں قمراہ جاکر آزاد فورس کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور پسپائی کے ایک ہفتہ بعد آزاد فورس واپس سکردو آگئی۔ اس دوران 19فروری 1948ء کو راجہ محمد علی شاہ بیدل کی صدارت میں گمبہ سکردو میں ایک جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں آزاد فورس کے دوش بدوش جہاد کے انتظامات پر پھر سے توجہ دی گئی اور تجدید عہد کرکے ایک بار پھر کمربستہ ہوگئے۔ وادی سکردو اور شگر کے عوام نے بالخصوص مفت راشن، کپڑے، لکڑی وغیرہ کی فراہمی، سراغ رسانی اور باربرداری کے انتظامات کے لئے نمبرداروں کی نگرانی میں کمیٹیاں تشکیل دیں۔ دو سو رضا کار سپاہیوں کا دستہ فوری طور پر مرتب کیا گیا۔ علماء نے قریہ قریہ جاکر لوگوں کو جہاد کی تبلیغ شروع کی جس سے نہ صرف  بلتستان کے عوام بلکہ آزاد فورس کے جذبہ جہاد میں بھی پھر سے تازگی آگئی۔ سکردو چھائونی کے دوسرے محاصرے کے وقت سکردو سے کرگل اور دراس تک عوامی سطح پر خبر رسانی کا ایک مربوط سلسلہ قائم کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری  بلتستان کے مقامی رضا کاروں نے سنبھالی۔ اسی لئے انہی سراغ رسانوں کے ذریعے برگیڈیئر فقیر سنگھ کے ساتھ ڈوگرہ فوج کی سکردو کی طرف روانگی کی اطلاع بروقت مل گئی اور اس بھاری لشکر کو تھورگو پڑی میں روک کر پسپا کر دیا گیا۔
سکردو میں آزاد فورس کی آمد کی خبریں جب شگر پہنچ گئیں تو آزاد فورس کی مدد کے لئے رضا کاروں کا دستہ مرتب کیا گیا اور راجہ محمد علی شاہ صبا آٹھ خاندانی وزیروں کے ہمراہ آزاد فورس کی حوصلہ افزائی اور تعاون کی یقین دہانی کے لئے قمراہ پہنچ گئے۔ اس کے علاوہ گھوڑے، بھیڑ، بکریاں، آٹا، گھی، نمک، خشک میوے، مقامی لوئی اور پپو (پاپوش) وغیرہ کی فراہمی کا بھی بندوبست کر لیا گیا۔
جنگ آزادی کا دائرہ جوں جوں وسیع ہوتا گیا توں توں  بلتستان کی دیگر وادیوں یعنی کھرمنگ، کریس، خپلو اور چھوربٹ کے عوام نے بھی موقع محل کی مناسبت سے حصہ لے کر نمایاں کردار ادا کیا۔ مجموعی طور پر معرکہ ہائے تھورگو پڑی، پرکوتہ (مہدی آباد) اور کھرمنگ کے علاوہ پوریگ، دراس، زوجی لہ، لداخ، نوبراہ اور زانسکر کی طرف پیش قدمی اور سکردو چھائونی کی فتح میں آزاد فورس کے ساتھ  بلتستان کے عوام دوش بدوش شامل رہے اور کسی بھی موقع پر کوئی کوتاہی نہیں دکھائی۔ مثال کے طور پر تھورگو پڑی کے معرکہ میں آزاد فورس کے کارناموں کے علاوہ رضا کاروں نے بھی پہاڑ کی چوٹیوں سے دشمن پر بڑے بڑے پتھر لڑھکا کر ڈوگرہ افواج کا قلع قمع کر دیا۔ تھورگو پڑی کی شاندار فتح نے ایک طرف مجاہدین کے حوصلے بڑھا دیئے اور دوسری طرف ہتھیاروں اور دیگر ضروریات کا بڑا ذخیرہ ہاتھ لگا جس نے مجاہدین کی مشکلات کو کافی حد تک حل کر دیا۔
اسی طرح مہدی آباد، کھرمنگ، دراس، زوجی لہ، لداخ اور نوبراہ کی جنگوں میں  بلتستان سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں سرفروشوں میں حاجی محمد علی کواردو، صوبیدار نجف علی سکمیدان، صوبیدار احمد علی سکمیدان، وزیر شمشیر سکمیدان، صوبیدار حاجی مہدی کورو، حوالدار محمد علی شاہ حسین آباد، وزیر شکور علی کرسمہ تھنگ، وزیر غلام کھرگرونگ، حوالدار محمد باقر سندوس، صوبیدار جواد کتپناہ، احمد چو کتپناہ، حمید خپلو، محمد حسین پیون اور عبدالرحیم سکسہ کی خدمات نمایاں ہیں۔ اسی دوران  بلتستان مسلم نیشنل گارڈز تشکیل دی گئی جس میں ابتدائی مرحلے میں پانچ سو رضا کار شامل ہوئے۔ اگرچہ رضا کاروں کی تعداد میں کوئی کمی نہ تھی۔ اس کے علاوہ توپ لانے کے لئے وادی سکردو کے تین سونیشنل گارڈز استور پہنچ گئے۔ جن میں سے پانچ رضا کار راستے کی مشکلات سے جاں بحق ہوگئے۔ اس کے علاوہ راشن کا بندوبست، باربرداری، مخبری اور مورچے تعمیر کرنے کے جملہ فرائض بھی رضا کاروں کے ذمے تھے۔
زوجی لہ، دراس، کرگل، لیہ اور نوبراہ سیکٹر ز سے مجاہدین کی پسپائی کے وقت کواردو کے نائب صوبیدار حاجی محمد علی کے ساتھ 35بلتی جوان کرگل سے دو سو چالیس کلو میٹر دور زانسکر کے صدر مقام ''پدم'' میں دشمن سے نمبرد آزما تھے۔ ان کو آزاد فورس کی پسپائی کا کوئی علم نہ تھا۔ چنانچہ بھارتی فوجوں نے سورو اور لیہ کی طرف سے پیش قدمی کرکے پدم کو اپنے محاصرے میں لے لیا اور یہ پلاٹون دوسرے مجاہدین ساتھیوں سے چہار اطراف میں سیکڑوں کلومیٹر دور بھارتی افواج کے مکمل نرغے میں تھی۔ دشمن نے ہتھیار ڈلوانے کی بڑی کوشش کی لیکن ان حریت پسندوں نے دشمن کے محاصرے میں ہوتے ہوئے جنگ بندی کے چھ ماہ بعد تک ڈٹ کر مقابلہ جاری رکھا۔ آئے دن دشمن کو کسی نہ کسی طرح سے نقصان دے کر ان کی نیندیں حرام کر دی جاتیں گویا ان بلتی مجاہدین نے پدم میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ایک بار پھر جرأت و بہادری کا مظاہرہ کیا۔
اسی دوران ایک دن پٹرولنگ کے موقع پر حسین آباد سکردو کے ایک مجاہد حاجی حسین شہید جبکہ روندو کے وزیر سکندر دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے زخمی حالت میں گرفتار ہوئے۔ وزیر سکندر کچھ عرصے بعد دشمن کے فوجیوں کو دھوکہ دے کر واپس مجاہدین سے آملے اور جہاد میں شامل ہوئے۔
ہر قسم کی مشکلات کے باوجود آزاد فورس کے ان جیالوں نے ہمت نہ ہاری اور چھ ماہ تک ہندوستانی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ پدم پارٹی کے پاس صرف ایک اسلحہ تھااور وہ تھا ''جذبۂ ایمانی''۔ مجاہدوں کو اپنے اللہ اور قوت ایمانی پر بھروسہ تھا۔ پدم گائوں کے ہر مورچے سے اللہ اکبر کی صدا گونجتی تھی۔ ایک دوسرے کے حوصلے بڑھانے اور دشمن پر کاری ضرب لگانے کے لئے یہ نعرہ ہتھیار بھی تھا اور جوش و جذبے کا وسیلہ بھی۔
معرکۂ پدم میں صوبیدار حاجی محمد علی کے علاوہ ڈورو کے حوالدار علی نصیب، سکمیدان کے حوالدار غلام محمد، سندوس کے محمد امین، اسد اور وزیر عسکری، حسین آباد کے حاجی حسین (شہید)، روندو کے وزیر سکندر اور خپلو کے غلام علی کی خدمات سب سے نمایاں ہیں۔
جنگ آزادی میں  بلتستان کے جن مجاہدین نے نمایاں اور ممتاز کردار ادا کیا ان کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے:
راجہ محمد علی خان
روندو کے راجہ محمد علی خان  بلتستان کے معروف مقپون حکمران خاندان کے چشم و چراغ تھے۔وہ  بلتستان کے راجائوں میں ایک ایسے مجاہد تھے جنہوں نے آزادی کے لئے اپنی بساط سے زیادہ کام کیا۔ بونجی گیریژن سے فرار ہونے والی سکھ پلاٹون کا قلع قمع کرنے میں راجہ محمد علی خان کا بڑا ہاتھ تھا۔ انہوں نے جب انقلاب گلگت اور سکھ پلاٹون کے فرار کی خبر سنی تو فوراً وادی روندو کے شکاریوں کو منظم کرکے چالیس رضا کاروں کی ایک فورس تیار کر لی۔مشہ دار اور ٹوپی دار بندوقوں سے لیس اس دستے نے 26مفرور ڈوگرہ فوجیوں کو گرفتار کر لیا۔ متعدد سکھ فوجی مارے گئے چونکہ اس مہم میں حراموش کا بختاور شاہ بھی شامل تھا اس لئے ان گرفتار شدہ گان کو بختاور شاہ کے ساتھ گلگت کی طرف روانہ کر دیا گیا۔
راجہ محمد علی خان کی درخواست پر گلگت سکائوٹس نے جب  بلتستان کی طرف رُخ کیا تو راشن، باربرداری، مخبری اور دیگر سامان رسد پہنچانے میں راجہ صاحب روندو کی سرپرستی میں یہاں کی عوام نے بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کیا۔ گویا مجاہدین آزادی کی سکردو کی طرف پیش قدمی تو درکنار وادیٔ روندو کی فتح بھی اُن کی دیوانہ وار شرکت کے بغیر ناممکن تھی۔ بعد میں ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں تمغۂ قائد اعظم سے نوازا گیا۔ آپ 27سال کی عمر میں 1952میں وفات پا گئے۔
صوبیدار حاجی محمد علی
ان کا تعلق سکردو کے موضع کواردو سے تھا۔ سابق فوجی ہونے کے ناتے جنگ آزادی کے دوران صوبیدار کے عہدے پر فائز ہوئے اور اہم رول ادا کیا۔ جب 10فروری 1948ء کو گلگت سکائوٹس کے مجاہدین نے سکردو چھائونی پر حملہ کرنے کے بعد پسپائی اختیار کی تو حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے حاجی محمد علی اور موضع سندوس کے جوانوں نے سب سے پہلے کھرپوچو کی ٹیکری پر چڑھ کر مورچہ قائم کر لیا۔ اس کے بعد چھائونی سے ڈوگرہ فوجی اور سکھ دکاندار جو بازار اور محلوں میں لوٹ مار کے لئے گھسے ہوئے تھے چھائونی کی طرف بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ حاجی محمد علی سمیت دیگر مقامی سابق فوجیوں اور سندوس کے جوانوں نے اس مورچے میں باقاعدہ ڈیوٹی دی اور حالات کو سنبھالا۔ بصورت دیگر سکردو کے حالات پر قابو پانا بہت مشکل تھا۔ کھرپوچو ٹیکری کا یہ مورچہ آج تک حاجی محمد علی سے منسوب ہے۔
بعد ازاں حاجی محمد علی ایک بلتی پلاٹون کے ساتھ پدم کے محاذ پر متعین ہوئے۔ معرکۂ پدم جنگ آزادی  بلتستان کا ایک اہم باب ہے۔ یکم جنوری 1949 ء کو جب سیز فائر کا اعلان ہوا تو اس دوران حاجی محمد علی اور ان کے ساتھی پدم میں دشمن کے خلاف برسر پیکار تھے۔ اسی دوران لیہ اور نوبراہ وغیرہ سے مجاہدین پسپا ہو رہے تھے۔ مگر اس کا علم حاجی محمد علی اور ان کے ساتھیوں کو بروقت نہ ہو سکا۔ اس طرح حاجی محمد علی اور ان کے 35ساتھی دشمن کے گھیرے میں آگئے۔ سیز فائر کے بعد بھی چھ مہینوں تک دشمن کے خلاف انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں لڑتے رہے۔ چھ ماہ بعد آزاد فورس کا ایک دستہ ان کو نکالنے گیا اور ان سے کہا کہ سکردو پاکستان بن گیا ہے اور آپ لوگ جہاں بیٹھے ہوئے ہیں وہ علاقہ ہندوستان میں ہے۔ ہم اُن کو نکالنے آئے ہیں۔ اس پر پدم پارٹی کے کمانڈر حاجی محمد علی کا جواب قابل قدر تھا۔ انہوں نے کہا چاہے پوری دنیا ہندوستان بن جائے لیکن جہاں ہم بیٹھے ہیں وہاں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتا رہے گا۔
صوبیدار حاجی محمد علی ہیرو آف پدم کہلائے۔ حاجی محمد علی اور ان کے بہادر ساتھیوں سے ملنے اس وقت کے وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان گلگت آئے۔ پدم پارٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے حاجی محمد علی اور ان کے ساتھیوں کو نقد انعامات سے نوازا گیا۔
وزیر شیر احمد
وزیر شیر احمد المعروف وزیر شمشیر کا تعلق سکردو کے ڈغونی پا وزیر خاندان سے تھا۔ سکمیدان میں سکونت رکھتے تھے۔ ریاست جموں و کشمیر کی فوج میں بھرتی ہوکر نائب صوبیدار کے عہدے پر فائز تھے اور فروری 1948ء میں چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے، اتنے میں  بلتستان میں آزادی کی جنگ چھڑ گئی۔ انہوں نے ناردرن سکائوٹس میں شمولیت اختیار کرکے اس جنگ میں ایک ہر اول دستے کے طور پر اہم رول ادا کیا۔ جنگ کے شروع ایام سے لے کر آخر تک شریک تھے۔ تھورگو پڑی اور پرکوتہ کی مہموں میں حصہ لیا۔ نوبراہ سیکٹر میں فوج کی قیادت کر رہے تھے اور ان کو فاتح نوبراہ کا خطاب دیا گیا۔ ان کی عسکری خدمات کے صلے میں آزاد جموں و کشمیر حکومت کی طرف سے انہیں ''مجاہد حیدری'' جبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے ''تمغۂ خدمت'' سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ اکیڈمی آف بلتی کلچر نامی مقامی تنظیم نے ایک قرار داد کے ذریعے انہیں ''شمشیر  بلتستان'' کا خطاب دیا۔ متعدد فوجی و سول آفیسروں کی طرف سے تعریفی اسناد بھی ملیں۔ 1954ء میں صوبیدار کے عہدے سے ریٹائر ہوگئے لیکن ریاستی دور کی ملازمت سے متعلق کاغذات مقبوضہ کشمیر میں رہنے کی وجہ سے پنشن کی تمام مراعات سے محروم رہے۔ وزیر شیر احمد1988ء میں وفات پا گئے۔
صوبیدار نجف علی غازی
 نسبی طور پر کشمیری ہیں۔ ان کے والدین کشمیر سے آکر سکردو سکمیدان میں  آباد ہوئے تھے۔ صوبیدار نجف علی غازی 14ربیع الاول1340ہجری کو یہیں پیدا ہوئے۔ وہ1941ء میں رائل انڈین انجینئر بٹالین میں بھرتی ہوگئے۔ ان کے دونوں بڑے بھائی صوبیدار احمد علی اور علی بھی انڈین آرمی میں تھے۔ علی کشمیر میں رہ گئے لیکن احمد علی اور نجف علی دونوں سکردو آکر کاروبار سے منسلک ہوگئے۔ جب 1948ء میں سکردو میں آزادی کی جنگ چھڑ گئی تو دونوں بھائی میدان میں کود پڑے۔ مال سے بھری ہوئی ان کی دکان اسی شورش میں لٹ گئی اور پھر نذر آتش کر دی گئی۔
صوبیدار نجف علی غازی سکردو میں اس وقت کے سب سے طاقتور اور قوی شخصیت کے مالک تھے۔ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں کھرپوچو ٹیکری کے مورچے میں ڈیوٹی دی اور تھورگو پڑی کے معرکے میں بھی حصہ لیا۔ اُن کے بڑے بھائی صوبیدار احمد علی بھی اُن کے شانہ بہ شانہ دشمن سے نمبرد آزما رہے۔ کیپٹن بابر خان کے ساتھ لداخ کی طرف پیش قدمی کرکے نیمو تک پہنچنے والوں میں صوبیدار احمد علی بھی تھے۔
صوبیدار نجف علی کی قیادت میں ایک پلاٹون کچھ عرصہ تلیل میں بھی برسرپیکار رہی۔ جب دراس سے آزاد فورس کو پسپائی ہوئی تووہ براہ راست زوجیلہ عبور کرکے کھہ رول پُل پر پہنچ گئے۔ اسی دوران کھہ رول سے دریا پار میدان میں دشمن کی ایک بٹالین فوج پہنچ گئی۔ صوبیدار نجف علی اور ان کے ساتھیوں نے ایسی شدید فائرنگ کی کہ دشمن فوج چالیس لاشیں اور بے شمار زخمیوں کو چھوڑ کر تتر بتر ہوگئی۔ اس مہم میں صوبیدار نجف علی کے ساتھ کورو کے حاجی مہدی، خپلو کے حمید اور کپتناہ کے جواد وغیرہ بھی شامل تھے۔
صوبیدار نجف علی غازی یکم جنوری 1965ء کو ملازمت سے سبکدوش ہوئے لیکن ستمبر1965ء میں جب پاک بھارت جنگ چھڑ گئی تو اُن کے جذبۂ جہاد نے ایک بار پھر جوش مارا اور مجاہدین کی قیادت کرتے ہوئے قابل قدر خدمات انجام دیں۔ 
ماسٹر غلام رضا
اُن کا تعلق بنیادی طور پر سکردو کواردو سے تھا۔ لیکن غلام رضا کے والد عاشور علی شملہ میں بجلی کا کام کرتے تھے۔ غلام رضا شملہ میں پیدا ہوئے او ر جوان ہو کر  بلتستان آئے۔ اُس زمانے کے بی اے، بی ٹی تھے اور وزیر غلام مہدی (ایم اے ایل ایل بی علی گڑھ) کے بعد سب سے اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھے۔ سکردو آنے کے بعد محکمہ تعلیم سے منسلک ہوئے اور جنگ آزادی کے دوران وہ لویئر ہائی سکول سکردو میں بحیثیت استاد کام کر رہے تھے۔ اُس دوران وہ سکردو کھرپتو میں قیام کرتے تھے۔ آزادی کی جنگ شروع ہونے کے بعدوہ مجاہدین میں شامل ہوگئے اور گلگت سکائوٹس کے آفیسروں سے گفت و شنید کرنے کے علاوہ عوام کو منظم کرنے میں بھی وہ پیش پیش رہے۔ ایک فوجی مہم کے دوران جب آپ چھائونی اور کھرپوچو کے درمیانی راستہ کاٹنے کے لئے جا رہے تھے کھرپوچو کے دامن میں گنگوپی کوہل کے آخری سرے کے پاس دشمن کی گولی کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کیا۔  بلتستان کے اس اعلیٰ تعلیم یافتہ کی شہادت بہت بڑے نقصان کا باعث بنی۔
محمد امین
اُن کا تعلق سندوس کے نمبردار اور سفید پوش گھرانے سے ہے۔ اُن کے والدین نقل مکانی کرکے شملہ چلے گئے اور محمد امین 1935ء میں شملہ میں پیدا ہوئے۔ 1940ء میں وہ لوگ واپس  بلتستان آئے لیکن چند سال کے بعد ہی اُن کے والد آپ کو ساتھ لے کر دوبارہ کشمیر چلے گئے۔1947ء کے اوائل میں آپ کے بڑے بھائی نمبردار غلام حسن سرینگر گئے اور محمد امین کو وطن واپس لائے۔
1948ء میں جنگ آزادی چھڑ گئی اور جنگ آزادی  بلتستان میں پدم پارٹی کی جرأت و بہادری کی داستان تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ محمد امین نے پدم پارٹی کے ایک نو عمر ہیرو کی حیثیت سے نمایاں کردار ادا کیا۔ پدم میںاُن کے علاوہ 35مجاہدین میں سے دیگر دس مجاہدین کا تعلق بھی اِنہی کے گائوں ''سندوس'' سے تھا۔ جنگ آزادی کے حوالے سے اِن کے بڑے بھائی نمبردار غلام حسن کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔ اسی طرح ان کے دوسرے بڑے بھائی غلام مہدی نے بھی جنگ آزادی میں حصہ لیا جو جنگ عظیم دوم کے دوران فوج میں تھے۔


ہمارا دشمن مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ اب گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر بھی نظریں جمائے بیٹھا ہے۔ بلکہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان اور پاکستان آرمی کے خلاف پروپیگنڈے اور دوسری سازشوں میں ملوث ہے۔ اِن حالات کے پیش نظر ہمیں ہر طرح کی بے چینی اور احساسِ محرومی کا خاتمہ کرنا ہوگا تاکہ ہندوستان اور اس کے حواری صورت حال کو  Exploit نہ کرسکیں۔


متذکرہ چیدہ چیدہ مجاہدین کے علاوہ جنگ آزادی  بلتستان کے مختلف مراحل اور مختلف مواقع پر اہم کردار ادا کرنے والوں میں روندو ہرپوہ کے وزیر غلام حسن، قمراہ کے آغا سید علی، سندوس کے نمبردار غلام حسن اور حاجی فاچو، سکردو کے راجہ محمد علی شاہ بیدل، راجہ حاتم خان، آغا احمد علی شاہ، ذیلدار شکور اور سید تقی شاہ رضوی، کشمراہ کے غلام مہدی مرغوب، گول کے آغا ہادی، حسین آباد کے کاچو امیر بیگ اور وزیر غلام مہدی، شگر کے راجہ محمد علی شاہ صبا، خپلو کے راجہ ناصر علی خان، راجہ فتح علی خان، غلام محمد مندوق پا، فدا حسین شمیم اور فاچو فدا حسین، کورو کے حاجی مہدی، طولتی کے راجہ مہدی علی خان، غاسنگ کے آغا سید محمد، مہدی آباد (پرکوتہ) کے منشی غلام محمد اور حاجی غلام حسین، باغیچہ کے غلام علی، سکردو چنداہ کے آغا مہدی شاہ اور کھرمنگ اولڈینگ کے اخوند فدا کے نام قابل ذکر ہیں۔
1948ء میں  بلتستان کے غیور فرزندوں نے آزادی کی خاطر مالی قربانیوں اور باربرداری کے فرائض کی انجام دہی میں دامے، درمے، سخنے اور قدمے ہر شعبے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے علاوہ جانی قربانی دینے میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ جنگ کے دوران 67 حریت پسندوں نے مختلف محاذ پر جرأت و بہادری سے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اپنے خون سے گلشن آزادی کی آبیاری کی۔ اس کے علاوہ  بلتستان کے دو درجن سے زائد افراد زخمی ہوکر معذور ہوئے۔ بعض خاندان بے خانماں ہوگئے اور بعض کی جائیدادیں اسی افراتفری میں لٹ گئیں۔
ان تمام تر قربانیوں کے باوجود گلگت  بلتستان کو تاحال پاکستان کے آئین میں خاطر خواہ اور عوامی امنگوں کے مطابق حیثیت نہ دینا نہ صرف اس علاقے کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ پاکستان کے قومی مفادات کے بھی خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کی نوجوان نسل کی آنکھوں میں بے چینی اور  زبان میں تلخی آنے لگی ہے۔ ارباب اختیار کو چاہئے کہ گلگت بلتستان اور مسئلہ کشمیر سے ملحقہ نزاکتوں کے باوجود کوئی ایسا قانونی حل نکالیں کہ GB کے انتہائی محب وطن عوام کے احساس محرومی کو دور کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں اکثر عوامی حلقے گلگت بلتستان کو عبوری طور پر پاکستان کا پانچواں صوبہ ڈیکلیئر کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس عبوری انتظام میں یہ شق رکھی جاسکتی ہے کہ گلگت بلتستان، کشمیر میں استصوابِ رائے کا موقع پر ازخود استصواب کے لئے Plebiscite Adminstrationکی Jurisdiction کو تسلیم کرے گا۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے عوامی  نمائندوں کے لئے سینیٹ آف پاکستان اور قومی اسمبلی میں نشستیں بھی مختص کی جاسکتی ہیں۔ ہمارا دشمن مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ اب گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر بھی نظریں جمائے بیٹھا ہے۔ بلکہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان اور پاکستان آرمی کے خلاف پروپیگنڈے اور دوسری سازشوں میں ملوث ہے۔ اِن حالات کے پیش نظر ہمیں ہر طرح کی بے چینی اور احساسِ محرومی کا خاتمہ کرنا ہوگا تاکہ ہندوستان اور اس کے حواری صورت حال کو  Exploit نہ کرسکیں۔ اس معاملے میں تاخیر سے دشمن کے مقاصد کو تو تقویت مل سکتی ہے لیکن ہمارے قومی کاز کو نقصان ہی پہنچنے کا خدشہ رہے گا۔
کتابیات
١۔ محمد یوسف حسین آبادی،  بلتستان پر ایک نظر1982ء ، شبیر پرنٹنگ پریس رکدو
٢۔  محمد یوسف حسین آبادی،  تاریخ  بلتستان، 2003ء ،  بلتستان بکڈپو سکردو
٣۔ منظوم علی، قراقرم ہندوکش، 1985ء ، (بار اوّل)  ڈگری کالج گلگت
٤۔ شاکر حسین شمیم،  بلتستان کی جنگ آزادی، 1994ء (بار اوّل)  بلتستان اکیڈمی شمیم آباد سکردو
٥۔ حاجی غلام رسول، آزادی گلگت  بلتستان، 2004ء ، شان بکس مدینہ سپر مارکیٹ گلگت
٦۔ محمد حسن حسرت، شملہ سے  بلتستان تک، 1997ء، مطبع گلگت  بلتستان پرنٹنگ سروسز راولپنڈی


[email protected]
 

یہ تحریر 65مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP