خصوصی ملاقات

جنگِ آزادی گلگت بلتستان کے نو عمر مجاہدمحمدامین سے ملاقات

جنگی تاریخ کی ایک نا قابلِ یقین مہم

جنگ آزادی گلگت  بلتستان کا ایک ناقابلِ فراموش باب

معرکۂ پدم کی لازوال کہانی اس وقت کے نو عمر مجاہد محمد امین  صاحب کی زبانی

گلگت  بلتستان کی جنگ آزادی تاریخِ عالم کا ایک اہم اور اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔ ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ تسلط رکھنے والی مسلح ڈوگرہ فوج کو گلگت  بلتستان کے نہتے عوام نے جس جوانمردی اور جرأت و بہادری سے بھگا دیا تھا، اس کی مثال دنیا کی عسکری تاریخ میں ملنا محال ہے۔ اس جنگ میں ڈوگروں کی حمایت میں بھارت کی بھاری مسلح افواج بھی برسر پیکار تھی۔ کم و بیش ایک سال تک جاری رہنے والی اس جنگ کے ایک ایک معرکہ کی رُو داد سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ بالخصوص معرکۂ پدم جنگ آزادی گلگت  بلتستان کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔

یکم نومبر1947ء کو انقلاب گلگت کے ساتھ ہی شروع ہونے والی جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان یکم جنوری1949ء کوہونے والی جنگ بندی تک جاری رہی۔۔ لیکن زانسکار کے علاقے پدم میں دشمن کے ساتھ برسر پیکار مجاہدین ''پدم پارٹی'' کو مواصلاتی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے جنگ بندی کی اطلاع نہ مل سکی تھی۔ دوسری طرف دراس اور لیہ سیکٹر سے مجاہدین کی پسپائی کے باعث مجاہدین کی یہ پلاٹون چاروں طرف سے دشمن کے محاصرے میں پھنس گئی  تھی۔



سکردو سے کرگل آٹھ پڑائو اور کرگل سے پدم آٹھ پڑائو کی مسافت پر واقع ہیں( ایک پڑائو سولہ میل کا ہوتا ہے) اس سنگلاخ اوریخ بستہ علاقے میں ان دنوں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ پدم پارٹی میں کل پینتیس مجاہدین تھے۔ جس کے کمانڈر کو اردو کے صوبیدار حاجی محمد علی تھے۔ ان کے علاوہ پدم کے بعض مقامی جوان بھی اس فورس سے وابستہ ہوگئے۔ اس وقت ان مجاہدین پدم میں سے صرف ایک مجاہد محمد امین، اللہ کے فضل سے بقید حیات ہیں جو سکردو کے نواحی گائوں ''سندوس'' میں چیری، سیب، خوبانی اور مختلف قسم کے پھولوں سے لدے ہوئے باغ میں اپنا دل بہلاتے ہوئے زندگی کے شب و روز گزار رہے ہیں۔ آئے روز تاریخ اور جنگ آزادی کی داستان سے دلچسپی رکھنے والے لوگ آکر ان سے جب جنگ آزادی کے بارے میں پوچھتے ہیں تو جنگ آزادی کی کہانی سناتے سناتے محمد امین کی آنکھوں میں اکثر و بیشتر آنسو بھر آتے ہیں اور ان کی سانسیں رک جاتی ہیں۔ ان کے ان آنسوئوں اور ہچکیوں کے پیچھے جنگ کے دوران بیتی ہوئی مشکلات، محصوری کی تلخیاں، خوراک اور لباس کی تنگ دستیاں، دشمن کے ہاتھوں رونما ہونے والی تباہ کاریاں اور ناقدریٔ زمانہ کا احساس دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہم آپ کو یہاں معرکۂ پدم کی کہانی اس معرکہ کے زندہ کردار محمد امین کی زبانی سنواتے ہیں:


روز بروز ہمارے گرد گھیرا تنگ ہوتا گیا۔ہمارا رابطہ ہر طرف سے کٹ گیا۔ اب موسم بھی بدل چکا تھا۔ وہاں سخت برفباری ہورہی تھی اور ککر جمتا تھا۔ سردی اتنی ہوتی کہ ہم تھوک پھینکتے تو وہ جم کر بنٹے کی طرح زمین پر گرتا تھا۔ ہم زمین پر پائوں مار مار کر ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے کے لئے راستے نکالتے تھے۔ اس وقت ہمارے پہنے ہوئے کپڑے پھٹ چکے تھے اور ہم بے پردہ ہو چکے تھے۔ کہیں سے کوئی دری مل جائے تو بوری سینے والے سوئے سے اسے شلوار بنا کر پہن لیتے تھے اور بھیڑ کی کھال سے واسکٹ بنا لیتے تھے۔ کھانے کے لئے ہمارے پاس صرف آٹا موجود تھا اور کچھ بھی نہ تھا۔ ہم برف پگھلا کر کٹورے میں ڈالتے اور اس میں آٹا ڈال کر اسے پی لیتے تھے۔


سوال:1948ء میں آپ نے آزادی کی جنگ لڑی۔ اُس وقت آپ کی عمر کیا تھی اور جنگ لڑنے کا جذبہ کیسے پیدا ہوا؟

محمد امین:میں اس وقت بارہ سال کا نوجوان تھا۔ چونکہ میں گھر میں سب سے چھوٹا اور لاڈلا تھا اور  بلتستان سے باہر اپنے والدین کے ساتھ شملہ اور کشمیر کی ہوا کھا چکا تھا، اس لئے گائوں کے دوسرے ہم عمر لڑکوں کے مقابلے میں میرا قد بڑا تھا اور شعوری لحاظ سے بھی میں سوجھ بوجھ رکھتا تھا۔ مجھے اردو بھی آتی تھی حالانکہ اُس وقت  بلتستان میں اردو بولنے اور سمجھنے والے شاذو نادر ہی ہوتے تھے۔ میں والدین کے ساتھ سری نگر میں تھا اور میرے بڑے بھائی نمبردار غلام حسن 1947ء کے اوائل میں سری نگر آئے۔ وہ ہمیں واپس  بلتستان لانے کے لئے آئے تھے لیکن والدین نے آنے سے انکار کیا۔ والدین سے اجازت لے کر بھائی غلام حسن مجھے لے کر سکردو آئے۔ میں ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم اور کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں سنتا رہتا تھا۔ سکردو پہنچا تو معلوم ہوا کہ گلگت میں انقلاب آیا ہے جس کی خبریں  بلتستان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئیں۔ میرا گائوں سندوس چونکہ سکردو شہر سے قریب ترین گائوں ہے اور گلگت سے آمدورفت میرے گائوں ہی سے کشتی کے ذریعے، ہوتی تھی۔( اس کے علاوہ دریائے سندھ کو عبور کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہ تھا۔) چنانچہ مختلف لوگ بالخصوص سکردو چھائونی میں موجود مہاراجہ کی فوج میں سے مسلمان جوان اکثر و بیشتر ہمارے گھر آتے تھے، انقلاب کی باتیں کرتے تھے اور میرے بڑے بھائی سے مل کر انقلاب کی حکمت عملیاں تیار کرتے تھے۔ یوں میں بھی آزادی کی جنگ لڑنے کے جذبے سے سرشار ہوگیا۔


میں بڑا ضدی قسم کا لڑکا تھا۔ میں نے بابر خان سے کہا کہ میں اپنی رائفل خود اٹھا کر لے جائوں گا، آپ لوگوں کو زحمت ہرگز نہیں دوں گا اور میں فائر بھی کر سکتا ہوں۔ آپ مجھے ابھی نشانہ بتا دیں، میں فائر کرکے دکھائوں گا۔ بابر خان نے نہ چاہتے ہوئے ایک نشانہ رکھا اور مجھے فائر کرنے کو کہا۔ میں نے جب فائر کیا تو گولی ٹھیک نشانے پر لگی۔ اب بابر خان مجبور ہوگیا اور بڑی مشکل سے مجھے رضا کار مجاہد بھرتی کر لیا


سوال: آپ نے جنگ آزادی میں کیسے شمولیت اختیار کی؟ 

محمد امین: شروع میں گلگت سکائوٹس کے مجاہدین آئے اور سکردو چھائونی پر حملہ آور ہوئے۔ یوں سکردو میں جنگ چھڑ گئی۔ چونکہ میرا گائوں آزاد فورس کے مجاہدین کا ہیڈ کوارٹر تھا اور آزاد فورس کی تمام تر نقل و حمل یہیں سے ہوتی تھی۔  بلتستان میں جنگ آزادی کے کمانڈر میجر احسان علی اور کیپٹن محمد بابر خان  میرے گائوں میں ہی رہتے تھے اور ہمارے گائوں کے لوگ جنگ آزادی میں بہت سرگرم رہے ہیں۔ اس وقت  بلتستان سے مجاہد بھرتی ہونا شروع ہوگئے۔ میں نے بھی اپنے آپ کو کیپٹن محمد بابر خان کے سامنے بھرتی کے لئے پیش کیا۔ چونکہ میں ابھی بارہ سال کا نوجوان تھا، اس لئے بابر خان نے مجھے یہ کہہ کر بھرتی کرنے سے انکار کر دیا کہ تم ابھی چھوٹے ہو۔ تمہارا قد رائفل سے بھی چھوٹا ہے۔ اس بات پر میرا خون کھول اٹھا اور  مجھے میرے جذبے نے ایسا اکسایا کہ میں وہاں کھڑے ایک مجاہد سے رائفل چھین کر بابر خان کے سامنے کھڑا ہوگیا اور اس کو دکھاتے ہوئے کہا کہ دیکھو رائفل سے میرا قد بڑا ہے۔ بابر خان نے کہا کہ صرف قد کی بات نہیں ہے، اسے اٹھا کر بلند و بالا چوٹیوں پر بھی جانا ہے اور فائر بھی کرنا ہے۔ میں بڑا ضدی قسم کا لڑکا تھا۔ میں نے بابر خان سے کہا کہ میں اپنی رائفل خود اٹھا کر لے جائوں گا، آپ لوگوں کو زحمت ہرگز نہیں دوں گا اور میں فائر بھی کر سکتا ہوں۔ آپ مجھے ابھی نشانہ بتا دیں، میں فائر کرکے دکھائوں گا۔ بابر خان نے نہ چاہتے ہوئے ایک نشانہ رکھا اور مجھے فائر کرنے کو کہا۔ میں نے جب فائر کیا تو گولی ٹھیک نشانے پر لگی۔ اب بابر خان مجبور ہوگیا اور بڑی مشکل سے مجھے رضا کار مجاہد بھرتی کر لیا۔ ہمیں باقاعدہ کوئی فوجی تربیت نہیں دی گئی۔ بس صرف یہ بتایا گیا کہ فائر اس طرح کرنا ہے اور دشمن کا جہاز آئے تو اس طرح چھپنا ہے۔ ہمارے چھوٹے سے گائوں سے ہم تیرہ جوان بھرتی ہوگئے تھے۔ جن میں سے دو جوانوں کو نوبراہ سیکٹر کی طرف بھیج دیا گیا۔ میں نے بابر خان صاحب کو بتایا کہ ہمارے گائوں کے باقی گیارہ جوان کو جہاں بھیجنا ہے بھیج دو لیکن ہمیں الگ مت کرنا، ہم ساتھ رہیں گے۔ ہم مریں گے بھی ساتھ اور جئیں گے بھی تو ساتھ!! بابر خان مان گئے۔

سوال: اچھا امین صاحب! آپ لوگ پدم تک کیسے پہنچ گئے، راستے کی مشکلات کیسی تھیں؟

محمد امین:  بس بھرتی ہونے کے کچھ دنوں بعد ہمیں مشرقی محاذ کی طرف جانے کا حکم ملا۔ ہمیں معلوم نہ تھا کہ ہم نے کہاں جانا ہے۔ پیدل چل کر گول سے آگے چرکتی پڑی عبور کرنے کے بعد دائیں طرف مڑنے کا حکم دیا گیا تو معلوم ہوا کہ ہم کرگل کی طرف جا رہے ہیں۔ سکردو سے کرگل آٹھ پڑائو کا دشوار گزار راستہ تھا۔ کرگل پہنچ کر ہماری ملاقات  بلتستان کے اُس وقت کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور علی گڑھ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل وزیر غلام مہدی سے ہوئی۔ جو اِن دنوں وہاں تحصیلدار تھے۔ میں ان کو سری نگر سے جانتا تھا۔ انہوں نے ہماری آئوبھگت کی اور بڑی مدد کی۔ اس کے بعد ہمیں تین حصوں میں تقسیم کیا گیا جس میں سے ایک پلاٹون کو لیہ لداخ کی طرف جانے کا حکم ملا جبکہ دوسری پلاٹون کو دراس سیکٹر کی طرف بھیج دیا گیا۔ ہماری پلاٹون کو پدم جانے کا حکم ملا۔ انہی دنوں مجھے نائک بنا کر دو فیتے لگا دیئے گئے۔ کرگل سے آٹھ دن چلنے کے بعد ہم پدم کے مقام پر پہنچے جہاں ہمارے مجاہدین پہلے سے پہنچے ہوئے تھے۔ زانسکار کا پورا علاقہ بدھ مت کا علاقہ ہے البتہ پدم میں قلیل تعداد میں مسلمان بھی آباد تھے۔ ایک پہاڑ کی چوٹی پر ایک بدھ عبادت خانہ ''گومپہ'' تھا، ہم نے اسی گومپے میں مورچہ سنبھالا۔اسی طرح باقی مجاہدین نے بھی مختلف جگہوں پر مورچے سنبھالے۔

 سوال: آپ نے پدم میں مورچے سنبھالے تو وہاں کیا صورت حال تھی؟ کیسے واقعات پیش آئے؟

محمد امین:  وہاں کی صورت حال میں آپ کو لفظوں میں کیسے بتائوں؟ ایک قیامت کا سماں تھا۔ ہم مورچے سنبھال کر مقابلہ کرتے رہے۔ اس دوران لداخ اور گردونواح کے علاقوں میں جنگ جاری تھی۔ ہمیں مختلف ذرائع سے خبریں ملتی تھیں کہ لداخ فتح ہونے کے قریب ہے لیکن وقت گزرتا گیا اور زانسکار میں ہندوستانی فوج نے پدم کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ ہم ان کے گھیرے میں آگئے اور روز بروز ہمارے گرد گھیرا تنگ ہوتا گیا۔ہمارا رابطہ ہر طرف سے کٹ گیا۔ اب موسم بھی بدل چکا تھا۔ وہاں سخت برفباری ہورہی تھی اور ککر جمتا تھا۔ سردی اتنی ہوتی کہ ہم تھوک پھینکتے تو وہ جم کر بنٹے کی طرح زمین پر گرتا تھا۔ ہم زمین پر پائوں مار مار کر ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے کے لئے راستے نکالتے تھے۔ اس وقت ہمارے پہنے ہوئے کپڑے پھٹ چکے تھے اور ہم بے پردہ ہو چکے تھے۔ کہیں سے کوئی دری مل جائے تو بوری سینے والے سوئے سے اسے شلوار بنا کر پہن لیتے تھے اور بھیڑ کی کھال سے واسکٹ بنا لیتے تھے۔ کھانے کے لئے ہمارے پاس صرف آٹا موجود تھا اور کچھ بھی نہ تھا۔ ہم برف پگھلا کر کٹورے میں ڈالتے اور اس میں آٹا ڈال کر اسے پی لیتے تھے۔ کبھی کبھار روٹی بنا لیتے تھے۔ سالن اور چائے وغیرہ دیکھنے کو بھی نہیں ملتی تھی اور نمک کے نام پر ہمارے پاس صرف سمندری نمک تھا۔

ہندوستانی فوج کے آنے کے بعد پدم میں معرکہ اور بھی زور پکڑتا گیا۔ آئے روز فائرنگ ہوتی تھی، دن کو بھی اور رات کو بھی۔ ایک دفعہ آدھی رات کو انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ ہر طرف آگ کے شعلے نظر آنے لگے۔ ہمیں اپنے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آرہی تھی۔ تعداد میں ہم ان کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھے۔ ہم اپنے مورچوں کی دیواروں میں سوراخ کرکے دیکھتے اور جوابی فائرنگ کرتے رہے۔ صبح پتہ چلا کہ حالات بہت خراب ہیں لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری اور ہم ان کا مقابلہ کرتے رہے۔ دشمن ہمارے قریب سے قریب آتے گئے۔برانڈی پہنے ہوئے لمبے تڑنگے لوگ نظر آرہے تھے۔ مورچے آمنے سامنے تھے۔ ہندوستانی فوجی بار بار آوازیں دیتے ہوئے کہتے تھے۔ ارے بلتی! تم ابھی بچّے ہو، تم لوگ ہتھیار ڈالو تو تمہاری جان بچ جائے گی لیکن ہم بھی ان کو دو ٹوک جواب دیتے رہے کہ ہم یہاں مر جائیں گے، ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ بس اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمت دی۔ ہمارے بعض ساتھی شکور علی، شیر محمد، اسد اور محمد جو وغیرہ بہت عبادت گزار تھے اور وہ لوگ دن رات اللہ سے دعائیں مانگتے رہتے تھے۔ انہی دعائوں کا اثر تھا کہ میں جب بھی سوتا تھا آنکھ لگتے ہی کوئی بزرگ آکر مجھے دھکا دے کر جگاتے تھے۔ چھ ماہ سے ہمیں پتہ نہ تھا کہ نیند کس چیز کا نام ہے؟ آرام کیا چیز ہے؟ اس یخ بستہ سردی میں بچھانے کو کچھ بھی نہ تھا اور کھانے پینے کی صورت حال بھی ناقابل ذکر تھی۔ البتہ ہمارے پاس کارتوس تھے، تھری ناٹ تھری اورمارک فور بندوقوں کے علاوہ ایک ٹو انچ مارٹر بھی تھی اور ایک امریکی برین گن بھی تھی جس کا منہ چوڑا ہوتا ہے۔ لیکن دشمن کے پاس موجود اسلحے کے مقابلے میں یہ کچھ بھی نہ تھا۔ گیارہ مہینے تک ہم اسی طرح مشکل ترین وقت گزارتے رہے۔ زندہ رہنے کی کوئی امید نہ تھی۔ بس اللہ نے ہم پر رحم کیا اور ہم بچ گئے۔ ایک مورچے میں ہم دو یا تین افراد ہوتے تھے۔ دشمن ہمارے اوپر گرینیڈ بھی پھینکتے تھے، فائر بھی کرتے تھے اور وہ ہمیں طنزیہ طور پر آوازیں دے دے کر کہتے تھے، او بلتی! آج تم لوگوں نے کیا کھایا ہے اور ہم کہتے تھے کہ ہم نے گائے کا گوشت کھایا ہے۔دشمن شدید حملوں کے ساتھ ساتھ ہمیں ہتھیار ڈالنے کی وارننگ بار بار دیتا رہتا تھا۔

دشمن کے پاس اسلحہ خوب تھا، کھانے پینے کی چیزیں بھی خاصی تھی۔ ان کے پاس پہننے کے لئے گرم وردیاں تھیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مرنے والوں کی لاشیں بھی گھسیٹ کر لے جاتے تھے کہ کہیں ان مرنے والوں کی جیکٹیں، برانڈی اور بوٹ وغیرہ ہمارے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ پدم میں ہمارے صرف پانچ مجاہد شہید ہوئے ۔پدم میں جنگ کے دوران روندو کا وزیر سکندر قیدی بنا لیا گیاتھا لیکن وہ بہت جلد معجزانہ طور پر رہا ہوکر آگیا۔وزیر سکندر کمال کا آدمی تھا۔ وہ بڑی ہوشیاری سے ان کا وائرلیس سیٹ خراب کرکے بھاگ آیا تھا اور ہمارے پاس آپہنچا۔

ایک دن ہمارے کمانڈر نے اجلاس بلا کر مشورہ کیا کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ ہمارے بعض ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں محاصرہ توڑ کر بھاگ جانا چاہئے۔ ہم نے کہا کہ نہیں۔ ہم اس طرح جائیں گے تو ہمیں نہ دنیا ملے گی اور نہ آخرت۔ ہم برف میں دھنس جائیں گے۔ دشمن ہم سب کو مار دیں گے۔ ہم اگر ادھر ہی لڑتے لڑتے مر جائیں گے تو ہمیں شہادت کا مقام ملے گا۔ آخر مشورہ کرکے تین آدمیوں کو کرگل کی طرف یہ کہہ کر بھیج دیا گیا کہ جائو پتہ کرو، اُس طرف کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟ ان میں سے ایک خپلو کا غلام علی تھا اور دوسرے دونوں زانسکار کے تھے۔

سوال:اچھا امین صاحب! پھر آپ لوگ اس محاصرے سے کیسے بچ نکلے؟

محمد امین: ایک طرف ہندوستان نے یہ شکایت کی تھی کہ پاکستان نے پدم زانسکار میں تا حال جنگ بندی نہیں کی ہے اور وہاں پاکستان کی فوج مسلسل لڑ رہی ہے۔ دوسری طرف جن تین آدمیوں کو ہم نے سکردو کی طرف بھیج دیا تھا، وہ چھپتے چھپاتے کسی طرح سکردو پہنچ گئے تھے۔ سکردو میں انہوں نے عوامی سرکردوں اور فوج کے آفیسروں کو بتایا تھا کہ پدم پارٹی والے ابھی زندہ ہیں اور دشمن سے لڑ رہے ہیں، ہم پدم سے آئے ہیں۔ لوگوں کو ان کی اس بات پر پہلے تو یقین نہیں آرہا تھا کیونکہ سکردو میں یہ مشہور ہوا تھا کہ پدم میں جانے والے سارے مجاہدین شہید ہوگئے ہیں۔ یوں ہمارے گھروں میں سارے لوگ رو رو کر ہمارے نام پر فاتحہ پڑھ چکے تھے۔ اب اس اطلاع کے ساتھ ہی پاکستان جی ایچ کیو نے ہندوستان جی ایچ کیو سے رابطہ کرنے کے بعد میجر غلام مرتضیٰ کی سرکردگی میں ایک ٹیم بھیجی تھی۔وہ چلتے چلتے فے کے مقام پر پہنچی تھی جو انڈین فوج کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ اس دن فائرنگ بہت کم ہوگئی۔ ہمیں اس رازکا اس وقت پتہ نہ چل سکا ۔مگر بعد میں معلوم ہوا کہ میجر مرتضیٰ رات کو اسی فے کے ہیڈ کوارٹر میں رہے تھے اسی لئے فائرنگ کم ہوگئی تھی۔ وہ راتوں رات ہمارے پاس آنا چاہتے تھے لیکن بھارتی فوجیوں نے نہیں چھوڑا تھا۔ غلام مرتضیٰ اگلے دن صبح ہمارے پاس آئے اور  ہمیں سینے سے لگا کر خوب روئے۔ اس طرح گیارہ ماہ بعدہم پدم کے محاذ پر سرخرو ہوئے۔


تعداد میں ہم ان کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھے۔ ہم اپنے مورچوں کی دیواروں میں سوراخ کرکے دیکھتے اور جوابی فائرنگ کرتے رہے۔ صبح پتہ چلا کہ حالات بہت خراب ہیں لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری اور ہم ان کا مقابلہ کرتے رہے۔


دعائوں کا اثر تھا کہ میں جب بھی سوتا تھا آنکھ لگتے ہی کوئی بزرگ آکر مجھے دھکا دے کر جگاتے تھے۔ چھ ماہ سے ہمیں پتہ نہ تھا کہ نیند کس چیز کا نام ہے؟ آرام کیا چیز ہے؟


سرحد سے سکردو تک لوگوں نے ہمارے پائوں زمین پر لگنے نہیں دیئے، اپنے کاندھوں پر اٹھا کر لائے۔ ہمیں لینے  سکردو سے ہزاروں لوگ آٹھ دن کی پیدل مسافت طے کرکے کرگل کے بارڈر تک آئے ہوئے تھے۔ لوگ ہمیں دیکھ کر بہت جذباتی ہو رہے تھے۔ اسلام زندہ باد، پاکستان زندہ باد، پدم پارٹی زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ اس خوشی میں لوگوں کو بھوک اور پیاس کی کوئی پروا  نہ تھی۔ سکردو پہنچنے کے بعد ہمیں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی


 سوال: محمد امین صاحب! آپ لوگوں کو پدم سے سکردو تک کیسے پہنچایا گیا۔ لوگوں کا کیا رد عمل تھا؟ کیسے جذبات دیکھنے کو ملے؟

محمد امین:اب پدم میں امن قائم ہو چکا تھا۔ ہمارے اور بھارتی فوجیوں کے درمیان میلے کا اہتمام کیا گیا۔  نشانہ بازی کا مقابلہ بھی ہوا۔ تمام کھیلوں اور نشانہ بازی کے مقابلے میں ہم جیت گئے۔ ان کے ایک میجر نے بار بار میرے کندھوں پر تھپکی دیتے ہوئے مجھے شاباش دی۔کرگل پہنچ کر بھارتی فوج نے ہمارے اعزاز میں پارٹی دی اور ان کے ایک بریگیڈیئر نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ پوری دنیا لڑتی ہے لیکن اس طرح کی بے سرو سامانی میں شاید دنیا میں کہیں جنگ نہیں لڑی گئی ہے۔اس برگیڈیئر نے ہماری ہمت اور شجاعت کی داد دی۔ہمیں واپسی پر باقاعدہ گھوڑے فراہم کئے گئے بلکہ ایک ایک گھوڑے کے ساتھ ایک ایک ہندوستانی فوجی بھی ہماری حفاظت کے لئے مقرر کیا گیا۔ مجھے اتنا کم سن دیکھ کر سب پاگل ہو رہے تھے کہ اس چھوٹے بچے نے کس طرح جنگ لڑی۔ بس اللہ تعالیٰ نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو ایسی ہمت اور طاقت دی کہ ہم ہر بار دشمن پر غالب آتے رہے۔ ان پر ہیبت طاری رہی۔ بڑے احترام کے ساتھ ہمیں سکردو لایا گیا ۔ یکم جولائی 1949ء کو جب کرگل کے کھہ رول پل عبور کرکے آزاد  بلتستان کے حدود میں داخل ہوئے تو ہم نے سکون کا سانس لیا۔اب زندہ گھر پہنچنے کا یقین ہوگیا۔ سرحد سے سکردو تک لوگوں نے ہمارے پائوں زمین پر لگنے نہیں دیئے، اپنے کاندھوں پر اٹھا کر لائے۔ ہمیں لینے  سکردو سے ہزاروں لوگ آٹھ دن کی پیدل مسافت طے کرکے کرگل کے بارڈر تک آئے ہوئے تھے۔ لوگ ہمیں دیکھ کر بہت جذباتی ہو رہے تھے۔ اسلام زندہ باد، پاکستان زندہ باد، پدم پارٹی زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ اس خوشی میں لوگوں کو بھوک اور پیاس کی کوئی پروا  نہ تھی۔ سکردو پہنچنے کے بعد ہمیں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔ چند روز بعد ہمیں کہا گیا کہ وزیرِاعظم پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خان کراچی میں آپ سے ملاقات کریں گے۔ایک دن پدم پارٹی کے ہم سات مجاہدین کو منتخب کرکے ڈکوٹا جہاز میں بٹھایا گیا جن میں صوبیدار حاجی محمد علی کواردو (کمانڈر)، علی نصیب ڈورو ، وزیر سکندر روندو، وزیر عبداللہ کواردو، میں (محمد امین سندوس)، غلام مہدی سندوس اور شکور زانسکار شامل تھے۔ راستے میں بتایا گیا کہ جہاز کراچی نہیں جا رہا ہے بلکہ گلگت ہوائی اڈے پر اتر رہا ہے۔ لیاقت علی خان صاحب گلگت تشریف لا رہے ہیں۔ دوسرے دن لیاقت علی خان صاحب گلگت آئے۔ ہمیں گورنر ہائوس میں ٹھہرایا گیا تھا۔ لیاقت علی خان صاحب سے ہماری ملاقات ہوئی۔وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے مجھے چھوٹا بچہ دیکھ کر پرچ سے  بسکٹ اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دیااور مجھے بار بار شاباش دی۔ انہوں نے ہمارے کمانڈر کو اپنی جیب سے دس ہزار روپے ہمارے لئے انعام کے طور پر دیئے۔ لیاقت علی خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ''یہ دس ہزار روپے سرکاری پیسہ نہیں ہے بلکہ یہ رقم میں اپنی جیب سے دے رہا ہوں۔ انہوں نے ہماری جرأت و بہادری کی داد دی۔ ہمارا حوصلہ بڑھایا اور کہا کہ آپ لوگوں کو پورے پاکستان کی سیر کرائیں گے۔ پاک فوج کے جوانوں کو دکھائیں گے کہ پدم پارٹی کے ہیروز یہ ہیں''۔

 اس کے بعد ایسا ہوا جیسے غبارہ پھٹ گیا ہو اور اس سے ہوا نکل گئی ہو۔ بالکل خاموشی چھا گئی اور ہمارے ساتھ کئے گئے سارے وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ کچھ بھی نہیں ہوا۔ ہمیں فوج میں شامل تو کیا گیا لیکن تتر بتر کیا گیا۔ کسی کو کہیں اور کسی کو کہیں بھیج دیا گیا، معلوم نہیں اس کا کیا مقصد تھا؟ ہم جب پدم سے واپس آرہے تھے تو انڈیا کے فوجیوں نے ہمیں کہا تھا کہ آپ کو وکٹوریہ کراس کا تمغہ ملے گا لیکن کچھ بھی نہیں ملا۔ آخر میں تنگ آکرمیں نے فوجی نوکری چھوڑ دی۔ میں ڈسچارج ہوکر گھر آیا۔ اگرچہ ہمیں کچھ بھی نہیں ملا لیکن میرا ضمیر آج بھی مطمئن ہے کہ ہم نے جو کچھ کیا اپنے ملک اور وطن کی خاطر کیا، بس!مگر میں آج بھی اپنے پیاروں کے لئے مرمٹنے کا جذبہ رکھتا ہوں۔ یہ جان کل بھی وطن کی امانت تھی اور آج ملک کی حُرمت برقرار رکھنے کے لئے ایک چھوٹا سا نذرانہ ہوگی۔ یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے اُس بوڑھے مجاہد کی آواز بلند ہو گئی اور آنکھوں میں ایک ناقابلِ یقین چمک دَر آئی۔ شاید وہ دوبارہ پدم کے محاذ پر پہنچ چکا تھا۔ میں بھی خاموشی سے اِس بوڑھے مگر پُرعزم مجاہد کے جذبوں کا ہمسفر اور ہمراز بن چکا تھا۔

محترم قارئین یہ ہے جنگِ آزادٔ گلگت  بلتستان میں معرکۂ پدم کے ایک سربکف اور سب سے کم عمر مجاہد محمد امین کی باتیں جنہیں سن کر ہمارے اندر بھی حب الوطنی کا جذبہ موجزن ہو جاتا ہے۔ ہر قسم کی مشکلات کے باوجود آزاد فورس کے ان جیالوں نے پورے گیارہ ماہ تک ہندوستانی فوج کے گھیرے میں رہ کر جس ہمت و جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے دشمن کی فوج کو ناکوں چنے چبوائے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

مقولہ مشہور ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ پدم کے جوانمرد مجاہدین نے اپنی تاریخ کو دہراتے ہوئے قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ کر دی۔ اس خطرناک اور جان لیوا مرحلے کو سر کرنے  پدم پارٹی کے جوانوں کے پاس جو اسلحہ تھا، وہ حب الوطنی، جذبۂ ایمانی اور عزم و استقلال کا اسلحہ تھا، مجاہدین کو اپنے اللہ رب العزت اور قوت ایمانی پر پوری طرح بھروسہ تھا۔ ان کے دلوں میں جوش و جذبے کی عجیب سی کیفیت موجزن تھی۔ پدم گائوں کے ہر مورچے سے اللہ اکبر کی صدائیں گونجتی تھیں جس سے دشمن کے دلوں میں خوف و ہراس پیدا ہوتا۔ ہندوستانی فوج نے مجاہدین کو زیر کرنے کے لئے  طرح طرح کے حربے آزمائے لیکن ان پُرعزم مجاہدین کے سامنے سارے حربے بے کار ہوگئے اور ان سربکف مجاہدین نے گیارہ ماہ تک دشمن کے نرغے میں رہ کر میدان کارزار گرم رکھا۔ دشمن کی فوج اپنی تعداد اور اسلحے کی برتری کے باوجود بے سرو سامان مجاہدین کے ہاتھوں مار کھاتی رہی۔ آخر کار بھارتی نمائندے امن عالم کے اجارہ داروں سے اپیل کرنے پر مجبور ہوگئے کہ تم پاکستان کو حکم دو کہ وہ پدم زانسکار میں برسرپیکار فوج کو یہاں سے نکال دے۔ پس مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ پدم کی جنگ دنیا کی جنگی تاریخ میں ایک انوکھی جنگ ہے اور رزم و پیکار کی ایک عجیب داستان ہے۔ اس پر فلمیں بننی چاہئیں اور دنیا کو بتانا چاہئے کہ جنگ کس طرح لڑی جاتی ہے۔ اس جنگی کہانی پر فلم بندی سے پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہوگا۔


[email protected]

یہ تحریر 253مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP