قومی و بین الاقوامی ایشوز

جنوبی وزیرستان۔۔ماضی اور مستقبل کے آئینے میں

  جنوبی وزیرستان ، جو گزشتہ قبائلی علاقہ جات کی سب سے بڑی ایجنسی تھی مگر 2018کی آئینی اصلاحات کی تیسویں ترمیم کے تحت اب صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ ہے ۔ قدرتی حُسن سے مالا مال اِس علاقے میں تین بڑی قومیں آبادہیں ۔ وزیر، محسود اوربَرکی ۔سب اپنی ذات میں بادشاہ اور اپنی روایتوں کے غلام ان روایتوں پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔جو کسی حد تک منفی اثرات بھی رکھتے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا میںضم ہونے سے قبل اس علاقے کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ قانون نہ ہونے کے با وجود بھی یہاں کوئی وڈیرہ یا سرداری نظام رائج نہیں تھا۔  علاقے کے لوگ اپنے ہر اچھے، بُرے عمل کے لئے آزادتھے۔ کسی کے آگے سر جھکانے پر مجبور نہ تھے۔ ملک اور جرگے کے سردار صرف زمینی جھگڑوںکے فیصلے کرتے ،یا پھر قبیلے کے مشترکہ مفاد کے لئے مشاورت کرتے۔ باقی اُن کا عام لوگوںکی ذاتی زندگی میں کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ یہاںکے لوگ غیرت مند،جفاکش اور محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت خودار بھی تھے۔کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا اُنھیںاپنی توہین لگتاتھا۔اپنی غربت کو بھی اپنی خامی سمجھ کر لوگوںسے چھپایا جاتا۔اور یہ بھی سچ ہے کہ قابلِ استطاعت لوگ اُن کی مدد رات کے اندھیرے میںکرتے تھے۔تاکہ اُن کی عزت نفس اور خوداری مجروح نہ ہو۔الغرض اپنی ذات میں غیرت مند پختونوں کا یہ علاقہ اُن کے لئے بہت آئیڈیل تھا۔لیکن خامی ہر علاقے ،ہرآدمی میںپائی جاتی ہے اِس علاقے کے لوگوںمیں بھی کئی خامیاں تھیں، جن میں جذباتی پن اور تعلیم کی کمی سب سے نمایاں تھی،بہت کم نوجوان پڑھ لکھ پاتے تھے۔ اور بچیوں کے سکول کا تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔اس لئے اچھائی اور برائی میںفرق نہ کرتے ہوئے اِن جسمانی بہادر لیکن روحانی معصوم لوگوں نے کئی غیر ملکی کالی بھیڑوںکو اپنے اندر بسنے دیا۔ جنہوں نے ان کی کمزوری(مذہب ۔۔اسلام کی خدمت) کو نشانہ بنا کر ان کے بیچ اپنی جگہ بنا لی۔اور کچھ جرگے کے سردار جو شاید سب جانتے تھے لیکن اپنے مفادات کی وجہ سے خاموش تھے۔ کچھ وہ نوجوان جو پڑھ لکھ کر اچھے بُرے میںتمیز جانتے تھے۔اُنھوں نے بہت واویلا کیا مگر اُن پر دشمن عناصرکے حامیوں نے کفر کے فتوے لگا دئیے اور ان کے ایمان کو کمزور قرار دیا۔جب تک اِن معصوم لوگوںکو اِس سازش کا علم ہوتا تب تک پانی سر سے گزر چکا تھا۔اوراس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے پوری قوم کو قربانیاں دینی پڑیں۔ 



کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک مثبت اور ایک منفی۔ اگر اس کے مثبت پہلو کا جائزہ لیا جائے تو وہ شے بہت ہی دلفریب محسوس ہوتی ہے اور اگر اس کے منفی پہلو پر نظر ڈالی جائے تو وہی چیز ہمیں بہت بد نما اور ڈرائونی لگتی ہے۔ ایسی ہی صورت حال جنوبی وزیرستان کے خطے کی بھی ہے جو اپنے اندر بے شمار خوبیوں سمیت بہت سی خامیاں بھی رکھتا ہے۔ اگر اس کے منفی پہلو کابغور جائزہ لیا جائے تو بہت سی خوبیوں کا حامل یہ خطہ ایک ایسے ا ندھے جنگل کا منظر پیش کرے گاجہاں کالے قانون کے تحت ملزم اور مجرم میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا تھابلکہ ایک فرد کے گناہ کی سزا پورے خاندان کو بھگتنی پڑتی تھی ۔جہاں محنت اور خودداری ہونے کے ساتھ ساتھ تالاب کی گندی مچھلیوںکے باعث چوری ،ڈاکے اور لوٹ مار جیسے جرائم عام تھے اور خودمختاری اور آزادی ہونے کے باوجود،جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والی صورت حال تھی۔ایک ایسا خطہ جہاں اسلحہ بارود ہر گھر کی زینت ہوا کرتا تھا اور انسانی خون اتنا ارزاں تھاکہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے یہاں کے جنگجو لوگ خاندانی جھگڑوںکے باعث ایک دوسرے کا قتل کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے اور کلاشنکوف کلچر کی بنا پر ،ذرا ذرا سی بات پر لڑائی جھگڑے کی نوبت قتل و غارت تک پہنچ جاتی اور یوں بدلے در بدلے کی آگ میںخاندان کے خاندان اُجڑ جاتے اور بنت حوا کا اپنی گود سونی ہونے پر کلیجہ پھٹ جاتا۔ نسل در نسل پلتی دشمنی بہت ہی خون ریز اور تباہ کن ثابت ہوتی اور بظاہر اس تباہی سے بچنے کے لئے ننھے ننھے معصوم بچوں کو بچپن سے ہی کھلونوں کے بجائے ہتھیاروں سے متعارف کروا دیا جاتا اور یوں ہر آنے والی نسل اس نفرت اور عداوت کی آگ کی لپیٹ میں آجاتی۔ علامہ اقبال کے بقول '' وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ'' کے عملی مخالف اس خطے کے باشندے جو بنتِ حوا کے پورے وجود کو نظر انداز کرکے ان کو صرف اور صرف ا پنی غیرت اور انا کا سامان تصور کرتے اورغیرت مندی کے مثبت پہلو کے برعکس اس کے منفی پہلو کے شکنجے میںپھنسی ہوئی عورت کی ذات دن رات ذلت کی چکی میں پستی اپنی تقدیرکی سیاہی سے سمجھوتا کرکے جانوروں سے بد تر زندگی گزارتی یا نام نہاد غیرت کے نام پر باپ بھائی کے ہاتھوں بے دردی سے قتل ہو کر موت کے گھاٹ اُتار دی جاتی تھی۔ ایک ایسا خطہ جہاں بچوں کے لئے کھیل کود کے میدان اور پارکس اور تعلیم حاصل کرنے لئے سکول نا پید تھے اور کھیل کود اور تعلیم حاصل کرنے کے بجائے معصوم بچے غریب باپ کا ہاتھ بٹانے کے لئے منہ اندھیرے کھیت کھلیانوں کا رُخ کرتے ۔ تعلیم سے دوری ، لا علمی اور غربت نے ان کی مثبت چیزوں میں بھی زہر گھول کر اُن کو منفی اثرات کا حامل بنا دیا اور اپنی انہی کمزوریوں اور محرومیوں کے باعث یہاں کے جنگجو، محنتی ، بہادر ، خود دار او ر غیرت مند لوگ ذہنی پسماندگی، اضطراب کے تحت نہ صرف آپس میں جہالت پر اُتر آئے بلکہ کچھ ملکی اور غیر ملکی سازشوں کا شکار بھی بنے۔کئی ملکی اور غیر ملکی عناصر نے انہیں وطن عزیز کے خلاف ورغلانے کی کوششیں کیں اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے کیونکہ تعلیم اور دیگر بنیادی ضرورتوںسے محروم یہاں کے لوگوں کی جذباتی اور احساسات کی کمزوریوں کا سراغ دشمن کے ہاتھ لگ چکا تھا جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُنھوں نے پہلی فرصت میں کئی ضربیں لگائیں جس کی تکلیف بعد میں قبائل سمیت پوری قوم نے محسوس کی۔ الغرض ماضی میںقدرتی حسن سے مالامال یہ خطہ قانون، انصاف، بنیادی ضروریات مثلاً صحت و تعلیم،پانی اور بجلی اور دیگر وسائل سے محروم غربت اور جہالت کے اندھیروں میں اس قدر ڈوبا ہوا تھا کہ اس کے قدرتی حسن کے رنگ بھی ماند پڑے ہوئے تھے۔مگر الحمدللہ،اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم اور پاکستان ا رمی کی قربانیوں اور اَن تھک کوششوں سے یہ علاقہ نہ صرف دوبارہ آباد ہو ا،بلکہ یہاں ترقیاتی اور تعمیراتی کا موں کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ پاکستان آرمی نے اپنی انتھک کوششوں سے ہر ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ چاہے وہ جنڈولہ سے لے کر لدھا، مکین،کانیگرم، وانااور جنوبی وزیرستان کے دور درازعلاقوں تک،پہاڑیوں کو کاٹ کر بنائے جانے والا خوبصورت سڑکوں کا جال ہو یا جگہ جگہ سڑکوں کے اطراف میں بنائے جانے والے پارکس ہوں جو بچوں کو کھیل کود کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ علاقے کے قدرتی حُسن کو دوبالا کر تے ہیں۔ اس کے علاوہ جگہ جگہ طبی امداد کے دفاتر ،سکولز ،ہسپتال اور سول انتظامیہ کے دفاتر ،الغرض بڑے بڑے آبی نالوں کے بیچوں بیچ بند باندھ کر بڑی بڑی سیمنٹ کی تعمیر کی گئیں ٹینکیاں ،جن کا پانی گھر گھر پہنچتا ہے جس سے علاقے کی خواتین اور بچوں کو کافی سہولت ہو گئی ہے۔ اب وہ پانی بھرنے دور دراز ندی نالوں کا رُخ نہیں کرتے بلکہ سہولت سے گھر آئے پانی کو استعمال کر کے پاک آرمی کے شکر گزار ہیںاور اُن کو دعائیں دیتے نہیں تھکتے۔ اس کے علاوہ علاقے میں امن وامان کی صورت حال کو یقینی بنانے کے لئے جگہ جگہ چیک پوسٹس ، سڑکوں کے بیچوں بیچ ہرڈلز اور چیکنگ کا نظا م بہت سخت کیاگیا ہے اور آپریشن کے دوران علاقے سے اسلحہ برآمد اور ضبط کرنے اور کلاشنکوف کلچر کا خاتمہ کرنے سے علاقے میں خاندانی جھگڑوں کے باعث قتل و غارت کی شرح کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ پاک آرمی کے زیر انتظام آرمی پبلک سکول چگملائی ، شیکئی اور کانیگرم کے رجسٹر ڈ ہونے سے غریب قبائلی بچوں کومفت تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی جسمانی اور روحانی نشوونما کو بھی یقینی بنائے جانے والا وعدہ وفا کیا جا رہا ہے۔



 صرف یہی نہیں بلکہ افواجِ پاکستان نے علاقے میں خواتین کی ترقی کے لئے ایک ووکیشنل ٹریننگ سنٹر اور علاقے کی ثقافتی چیزوں کے لئے ڈسپلے روم کا اجراء بھی کیا تاکہ علاقے کی غریب اورہنرمند خواتین اپنے ہنر کو بروئے کار لا کر نہ صرف اپنی مدد آپ کے تحت زندگی گزاریں بلکہ اپنے ہنر کو علاقے کے باقی لوگوں میں بھی پھیلائیں۔ علاقے میں امن و خوشحالی کے لئے پاک آرمی کی ریگولر یونٹس علاقے میں موجود سارے مسائل دیکھ رہی ہیں۔خواہ وہ قبائل کو دی جانے والی مالی امداد ہو یا پھر قبائل کاآپس کا کوئی جھگڑا،پاک آرمی بیک وقت فوج،انتظامیہ اور عدالت کا کام سر انجام دے رہی ہے۔جس کی نظر میں تمام لوگ خواہ وہ غریب ہو یا امیرسب برابر ہیں ۔ سول انتظامیہ کے مسائل اور ان کی دیکھ بھال کے علاوہ سرکاری سکولز کے اساتذہ کی حاضریاں چیک کئے جانے کا سہرا بھی افواجِ پاکستان کے سر جاتا ہے جس سے نہ صرف آرمی سکولز بلکہ سرکاری سکولوں کامعیارِتعلیم بھی بہتر ہورہا ہے ۔ علاقے کے وہ لوگ جو آپریشن سے قبل اپنی کم فہمی کے باعث پاک فوج کی آمد پر مختلف قسم کی خدشات کا شکار تھے،اب علاقے میں پھیلے امن اور خوشحالی کی فضا دیکھ کر مطمئن ہیں۔
اُمید کی جاتی ہے کہ پاک آرمی کے زیر نگرانی یہ علاقہ ہمیشہ شاد و آباد رہے گا۔ لیکن کہتے ہیں نا کہ سانپ کا ڈسا ،رسی سے بھی ڈر جاتا ہے ۔اس محاورے کے تحت ہزاروں خدشے وقتاً فوقتاً محب وطن قبائلیوں کے دلوں میں سر اُٹھاتے رہتے ہیں کیونکہ اس علاقے میں تا حال وطن عزیز اور اس کی افواج کے خلاف کچھ ایسے عناصر پائے جاتے ہیں جن کی موجودگی کئی لوگوں کے لئے تشویش کا باعث ہے کہ یہ عنا صر اس علاقے کے معصوم بچوں کو گمراہی کے راستے پر لگا کر ،بظاہر جنگجو اور بہادر مگر سادہ لوح اور معصوم لوگوں کی کسی جذباتی کمزوری کا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرکے اس سر زمین کی جڑیں پھر سے کھوکھلی کرنے کی کوشش نہ کریں۔مگر آرمی پبلک سکول کانیگرم کے بچوں سے کیا جانے والا  مختصر سروے خدشات کے شکار لوگوں کے اطمینانِ قلب کے لئے کافی ہے کیونکہ افواج پاکستان نے دشمن کے ہر حربے (یہاں کے معصوم لوگوں کو اپنے وطن کے خلاف ورغلانے ) کو ناکام بنانے کے لئے یہاں کے معصوم بچوںکو علم کی شمع تھما کر اندھیرنگری سے نکال کر روشن اور ہموار راہوںپر لے آنے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے کیونکہ علم ہی وہ طاقت ہے جو انسان کے اندر کے حیوان کو مار کر انسانیت کی معراج پر لے جاتی ہے ۔ ان معیاری سکولز میں زیر تعلیم بچے ، جو نہ صرف اس علاقے کا سرمایہ بلکہ پاکستان کا اثاثہ بھی ہیں، ان کے مستقبل سے اس علاقے اورپاکستان کا مستقبل جڑا ہے ۔ کیونکہ آنے والے وقتوں میں علاقے میں متوقع بہار یا خزاں کے موسم کا انحصار ان معصوم بچوں کے ذہن کے آنگن میں اُگنے والے گُل یا خار پر ہے۔سوایک آس، ایک اُمید اور کئی خدشات لے کر علاقے کے معصوم بچوں کا ذہن پڑھنے کی ایک ادنیٰ سی کو شش کے تحت اُن سے پوچھے جانے والے سوالات ذیل ہیں۔
 1۔:        آپ کا نام ، قبیلہ اور رہائش کیا ہے؟
2۔ :        آپ کس کلاس میں پڑھتے ہیں اور اے۔ پی ۔ایس کانیگرم میں کب سے 
        ہیں؟
 3۔ :        اے۔ پی۔ ایس کانیگرم میں پڑھ کر کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ کیا آپ اس کے اخراجات کو پورا کر پا رہے ہیں؟
 4:     اس سے پہلے آپ کس ادارے میں زیر تعلیم تھے۔ اوراے۔پی۔ایس کانیگرم میں آپ کو کیا چیز اچھی اور منفرد لگی؟
 5:    علاقے میں امن و امان کے قیام کے لئے آپ کے نزدیک افواجِ پاکستان کا کردار کیسا ہے؟ کیا آپ علاقے میں پاک آرمی کی موجودگی سے مطمئن ہیں؟
 6:     آپ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں اور کیوں؟ اور علاقے سمیت پاکستان کی خدمت کے لئے آپ کی کیا سوچ ہے؟
 آئیے آرمی پبلک سکول کانیگرم کے ان معصوم اور کمسن بچوںکے خیالات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
 ٭میرا نام گُل رحمان ہے۔ میں جنوبی وزیرستان کے علاقے کانیگرم میں رہائش پذیر ہوں۔میںچھٹی کلاس میں پڑھتا ہوں اور تقریباََ تین سال سے آرمی پبلک سکول کانیگرم میں زیر تعلیم ہوں۔ مجھے یہاں پڑھ کر بہت مزہ آرہا ہے ۔ چھوٹی چھوٹی سر سبز پہاڑیوں کے دامن میں واقع سکول کی بلڈنگ اپنے اطراف میں بھی بہت خوبصورتی لئے ہوئے ہے  اس کے علاوہ اس سکول کے باعث عمدہ اور معیاری تعلیم تک رسائی اب ہر امیر و غریب بچے کے لئے ممکن ہے۔ اے۔پی۔ ایس سکولنگ کے اخراجات پورا کرنا یہاں کے قبائل کے لئے ممکن نہیں تھا مگر پاک آرمی کے توسط سے نہ صرف مفت معیاری تعلیم، بلکہ مفت یونیفارم، کتابیں اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کے باعث اب علاقے کا ہر بچہ اور بچی سکول جاتے ہیں۔ اس سے پہلے میں ضلع ٹانک کے ایک سرکاری سکول میں زیر تعلیم تھا ۔ مگر جو معیار تعلیم اے ۔پی۔ایس کانیگرم میں ہے وہ وہاں نہیں تھا۔ اے ۔پی۔ایس آکر شروع شروع میں مجھے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس کا کورس، سلیبس سب منفرد اور قدرے مشکل تھا مگر آہستہ آہستہ میں اساتذہ کی انتھک محنت سے اپنی کمزوریوں پر قابو پاتا گیا اور الحمدللہ آج میں بہت خوش ہوں۔ علاقے میں امن و امان کے قیام کے لئے اور بالخصوص معیاری سکولز کے قیام کے لئے میں پاک آرمی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہمارے علاقے میں پاک آرمی کی کوششوں کے باوجود بھی مقامی لوگوں کو صحت کے مسائل در پیش ہیں ۔ سو ان مسائل سے نمٹے اور اپنے والدین کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے میں بڑا ہو کر ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں۔  
 ٭میرا نام عبداللہ ہے اور میں کانیگرم سے تعلق رکھتا ہوں۔ میںپانچویں کلاس کاسٹوڈنٹ ہوں اور پچھلے تین سال سے اے۔پی۔ ایس کانیگرم میں پڑھتا ہوں۔ اے ۔ پی۔ایس کانیگرم مجھے بے حد پسند ہے اور یہاں کے اساتذہ کی محنت اور کوششوں کی وجہ سے میری دلچسپی پڑھائی میں بڑھتی جا رہی ہے اور پاک افواج کی مالی مدد کے باعث سکول کے اخراجات کا مجھے علم بھی نہیں ۔ چونکہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہوںاس لئے، اس سے پہلے ایک سرکاری سکول میںپڑھتا تھاجہاں پڑھائی کے نام پر کھیل کود ہوا کرتا تھا۔ اس لئے اے۔پی۔ایس کانیگرم آکر مجھے شروع میں بہت مشکل محسوس ہوئی کیونکہ یہاں  سلیبس بہت مشکل لگتا تھا مگر چونکہ اس میں عملی کام زیادہ ہے اس لئے جلد چیزوں سے واقفیت ہونے لگی اور یوں مجھے بہترین سکول میں معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ مجھے پاکستان آرمی بہت اچھی لگتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ان کا قیام یہاں مستقل طور پر ہو جائے کیونکہ ہم علاقے میں اب بہت سکون سے رہتے ہیں۔ہمیں کسی چیز کا ڈر،خوف نہیں ۔ شکریہ پاکستان آرمی۔ مجھے چونکہ آرمی بہت پسند ہے اس لئے بہادر فوجی بننا چاہتا ہوں۔
٭ میر ا نام لائبہ ہے۔ میں کانیگرم کے برکی قبیلے سے تعلق رکھتی ہوں۔ میںساتویں کلاس میں پڑھتی ہوں اور پچھلے تین سالوں سے اے۔پی۔ایس کانیگُرم میں زیر تعلیم ہوں۔  مجھے یہ سکول، اس کی بلڈنگ اور اساتذہ بے حد پسند ہیں۔میں اس سے پہلے ایک پرائیوٹ سکول میں پڑھتی تھی مگر اُسکا معیار تعلیم اے۔پی۔ایس کانیگُرم سے حد درجہ کم تھا۔ اس کے علاوہ اس سکول کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مفت کتابیں ، یونیفارم ،سکول بیگز کی فراہمی کے لئے میں پاک آرمی کے زیر نگرانی انتظامیہ کی بہت شکرگزار ہوں۔ یہاں نصابی اور غیرنصابی سر گرمیوں کی بدولت سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے اور یہی اس کی اچھی اور منفرد بات ہے۔  علاقے میں پاک آرمی کی وجہ سے کافی سکون ہے اور یہ سکون ہم مستقل طور پر چاہتے ہیں۔ میں بڑی ہو کر ٹیچر بننا چاہتی ہوں اور اے۔پی۔ایس کانیگُرم کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔
٭ میرا نام حفصہ ہے اور میںکانیگرم میں رہتی ہوں۔ میںپانچویں کلاس میں پڑھتی ہوں اور پچھلے دو سال سے اے۔پی۔ایس کانیگُرم میں ہوں۔ مجھے یہاں پڑھ کر بہت مزہ آتا ہے ۔ یہاں پڑھائی بہت اچھی ہے اور کافی کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اور سکول اور پڑھائی کے اخراجات کے لئے میں پاک آرمی کی بہت شکر گزار ہوں جن کی کوشش سے آج ہمارے علاقے میں لڑکیاں بھی پڑھ سکتی ہیں۔ مجھے جہاز اُڑانے کا بہت شوق ہے اورمیں بڑی ہو کر پائلٹ بننا چاہتی ہوں۔ 
 مندر جہ بالا جوابات سُن کر میرے خدشات ختم ہوگئے ہیں اور علاقے کے خوش آئند مستقبل کا انتظار کرتے دل سے علاقے اورپاکستان کی سلامتی کے لئے دعا گو ہوں۔پاک آرمی کی موجودگی میں بننے والے آرمی پبلک سکولزسے  بہت سی اُمیدیں وابستہ ہیںجو یقینا ایک ٹمٹماتے دیے کی مانند جہالت کے اندھیروں کو مٹا کر شعور کی روشنی بکھیرنے والی ہیں۔ تاہم کچھ چیزیں، کچھ مسائل آج بھی غور طلب ہیں مگر بدلتے حالات و واقعات کی رو سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ علاقے میں ثقافتی تبدیلیاں رونما ہو نے کے باعث علاقے کا مستقبل اس کے ماضی سے یکسر مختلف اور روشن ہوگا۔میری دعا ہے کہ پاکستان کے ہر خطے ،ہر ذّرے سمیت جنوبی وزیرستان کا یہ علاقہ بھی شاد و آباد رہے اور اس کے دشمن کے ناپاک عزائم نیست و نابود ہوں آمین۔ 

یہ تحریر 184مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP