قومی و بین الاقوامی ایشوز

جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال اور منفی رجحانات

 ہر نئی ایجاد کے ساتھ جہا ں سہولیات پیدا ہوئیں وہیں لوگوں کے لئے مسائل بڑھے۔ ایک دور تھا جب لوگ ٹی وی اور ٹیلی فون کی قباحتیں بیان کرتے نہ تھکتے۔ پھر ایک مذہبی گروپ پیدا ہوا جس نے تہمتوں کا رخ ٹی وی پر باندھے رکھا ۔ اسی طرح ایک وقت تھا جب لاؤڈ سپیکر کے خلاف اسلام کو متحرک کیا گیا ۔ تصویر کھنچوانے پر بھی بہت لے دے ہوئی ۔ مگرنئی ایجادات کی طرف انسانی طبیعت کا میلان رک نہ سکا۔ پھرسوشل میڈیا کا  دو ر آیا ۔ اس دور تک پہنچتے پہنچتے معاشرے میں سائنس سے بدگمانی میں قدرے کمی آ چکی تھی ۔ اگر دیکھا جائے تو آج کا مادر پدرآزاد دور اس بات کا زیادہ متقاضی ہے کہ لوگ ہوشیار رہیں ۔ سوشل میڈیا سامنے آیا تو جہاں لوگوں کے درمیان رابطوں میں حائل دوری میں کمی پیدا ہوئی، وہیں خود نمائی جیسے منفی جذبات بھی پرورش پانے لگے ۔  پہلے پہل تو اس کا اظہار تصویرلگانے، اپنے کارناموں کو بیان کرنے اور لباس و خوراک کی تشہیر سے ہوا۔ پھر اس میں پیوند لگا جھوٹ کا ، اور یہ تب ہوا جب دوسرے کے پروفائل سے بہتر پروفائل رکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ سوشل میڈیا سے چونکہ نئے روابط پیدا کرنے میں آسانی ہے،  اس لئے اسے ہر طرح کے باہمی تعلقات استوار کرنے کے لئے استعمال کیا جانے لگا اور یوں جھوٹ کے بعد حسد اور نفرت کے جذبات سر اٹھانے لگے ۔ جب تک ان جذبات کا اظہار آپسی معاملات تک محدود رہا تو خیر تھی، مگر جلد ہی لوگوں نے مذہبی ، لسانی اور قومیت پر مبنی جذبات    شیئر کرنا شروع کر دیئے جس سے نوبت خون خرابے تک پہنچ گئی اور ریاست کوAct  Cyber Crime  لانا پڑا۔ لیکن سوشل میڈیا کا مزاج اور اس تک رسائی کا عمل اس نوعیت کا ہے کہ لاکھ قوانین بنالئے جائیں  اس پر ایک حد تک ہی پابندی لگائی جاسکتی ہے۔ چونکہ پاکستانی ریاست کا تعلق اپنے شہریوں کے ساتھ بہت مضبوط نہیں رہا اس لئے قوانین پر عمل کرنے کے لئے مطلوبہ شعور عوام میں پیدا نہ ہو سکا۔ 



 سوشل میڈیا کا استعمال سیاست میں سب سے کار آمد ثابت ہوا ہے۔  اس کا آغاز عرب سپرنگ سے ہوا ۔ کشمیر کی جدوجہد میں بھی برہان وانی کی صورت میں ایک ایسی نسل سامنے آئی جس نے سوشل میڈیا کو باہمی روابط مضبوط کرنے اور دنیا تک اپنی بات پہنچانے کے لئے استعمال کیا اور اب پاکستان میں بھی اس کا بھرپور استعمال ہو رہا ہے۔ مگر افسوس کہ عرب سپرنگ اور کشمیری جدوجہد کے برعکس یہاں سوشل میڈیا کو جھوٹ پر مبنی ایک ایسے بیانیے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے جس کا نتیجہ سوائے خرابی کے کچھ اور نہیں نکل سکتا ۔    
پاکستان میں جرائم کی شرح میں کمی تو آئی ہے، لیکن کچھ جرائم ایسے ہیں جن میں تواتر کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ جیسے کہ چھوٹی بچیوں کے ساتھ بدکاری اور پھر ان کا بہیمانہ قتل۔ حال ہی میں فرشتہ نامی ایک دس سالہ بچی جس کا تعلق پشتون قبیلے کے مہمند خاندان سے تھاکے ساتھ جنسی زیادتی کر کے قتل کر دیا گیا ۔  
اس سانحہ کے دو رخ ہیں ۔اور دونوں ہی افسوسناک ہیں۔   
پہلے رخ سے دیکھا جائے تو ریاست پاکستان سماجی محاذ پر اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں کسی حد تک ناکام رہی ہے۔  پولیس کی منفی کارکردگی اس کا ثبو ت ہے جو ایک بار پھر فرشتہ کے کیس میں کھل کر سامنے آیا ۔ نہ صرف یہ کہ پولیس نے چار دن تک بچی کے گم ہونے کی ایف آئی آر نہیں کاٹی بلکہ جب قبائلی اکابرین کے دباؤ میں آکر رپورٹ درج کرنی پڑ ی تو قاعدے کے مطابق تحقیق نہیں کی گئی۔ جب تک وزیراعظم عمران خان نے خود مداخلت نہیں کی، معاملہ پولیس کی حد تک سرد مہری کا شکاررہا اور شاید یہی وجہ ہے کہ ملزم اب تک فرار ہے۔  
گو پولیس کا یہ رویہ عمومی ہے ، مگر چونکہ فرشتہ کا تعلق پختون قبیلے سے تھا اس لئے بہت آسانی سے ا س سانحہ پر قومیت کا رنگ چڑھا کر نقیب اللہ محسود کے قتل کی طویل کڑی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ۔ جس کے بیانیے کے مطابق ریاست پاکستان پختونوں کے تحفظ میں ناکام رہی ہے اوریہ کہ جس بھی معاملے میں پختون شامل ہوں اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اور ہمیشہ کی طرح افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی جاتی ہے۔ 
فرشتہ کی موت کاذمہ دار پاکستانی فوج کو ٹھہرانا انتہائی احمقانہ اور غیر ذمہ دارانہ بات ہے اور یہیں سے اس واقعے سے جڑے دوسرے افسوس ناک رخ کاذکر شروع ہوتا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نہ صرف فاٹا کا علاقہ ہماری ریاستی دلچسپی کے امور میں کبھی شامل نہ ہو سکا ، بلکہ ہماری نظروں کے سامنے ملک میں دہشت گردوں کی آماجگاہ بھی اسی علاقے کو بنایا گیا ۔ 
افغانستان سے ملحق ہونے کی وجہ سے فاٹا ہمیشہ ہی کسی نہ کسی مصیبت کا شکار رہا ۔ کبھی سوویت افغان جنگ تو کبھی طالبان امریکہ جنگ نے اس خطے کو بدامنی کی آماجگاہ بنائے رکھا۔ اسی وجہ سے امریکہ کی ڈرون کمپین میں فاٹا کا علاقہ بری طرح متاثر بھی ہوا۔ پاکستانی فوج تو علاقے میں امن بحال کرا چکی، مگر ریاست کے دوسرے ستون جن میں سیاسی پارٹیاں اورادارے شامل ہیں اپنی  غفلت پر اب بھی خاموش ہیں اورملکی مفاد میں اپنا مثبت اور مؤثرکردار ادا نہیںکر رہے۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ سب  سوشل میڈیا پر ہوااور اسی کے ذریعے اسے تقویت بھی ملی ۔ چونکہ معلومات کی افزائش میں سوشل میڈیا کا کوئی ثانی نہیں اس لئے اس میڈیم کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دوہرے نظام کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ، جہاں ریاستی اداروں بالخصوص فوج کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اگر اس بیانیے کو وقت پر نہ روکا گیا تو ہم جانتے ہیں کہ کیسے ماضی میں پاکستان دشمن گروہوںنے پاکستان کو کھوکھلا کیا،  جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ ہمیں اس صورت حال کا نہایت سمجھداری سے جائزہ  لینا ہوگا اور من حیث القوم جواب دینا ہوگا۔ یہ ہماری بقاکا مسئلہ ہے اور تمام سیاسی، سماجی اور فرقہ ورارنہ گروہ بندیوں سے بالا تر ہو کر اس طرح ہمیں دیکھنا ہوگا کہ آزادیٔ اظہارِ رائے کے نام پر ہمیں پاکستان دشمن عناصر استعمال کرنے میں کامیاب نہ ہوجائیں۔ چند مخصوص افراد اور گروہ اعلیٰ انسانی اقدار کو اپنے گھنائونے مقاصد کے لئے استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم ایسے لوگوں کو پہچانیں اور اپنی قومی سلامتی کا تحفظ یقینی بنائیں۔ 


[email protected]
 

یہ تحریر 156مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP