اداریہ

جدوجہدِ کشمیر

خطے کے امن کوتہہ و بالا کرنے میں پڑوسی ملک بھارت ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ خطے کے ممالک کے ساتھ بھی اُس نے دھمکی اور دھونس پر مبنی پالیسی رکھی  ہے۔ صرف پاکستان ہی خطے کا ایک ایسا ملک ہے جس نے کبھی بھی بھارتی بالا دستی کو تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کی جانب سے کی گئی ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ اب جس طرح سے بھارت نے آرٹیکل 370اور آرٹیکل 35-Aکو ختم کرکے اپنے زیرِ تسلط مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اُسے یونین کا حصہ بنانے کی قبیح حرکت کی ہے، وہ بھارت کے سیکولر چہرے پر ایک بہت بڑا طمانچہ ہے۔ 5 اگست کو عمل میں آنے والا بھارت کا یہ اقدام نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی اور بھارت کے ظلم و ستم کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے جو وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ کشمیر کا مسئلہ اُس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم جو اہر لال نہرو خود جنوری1948 میں اقوامِ متحدہ میں لے کر گئے تھے اور بھارتی حکومت نے کشمیری عوام، اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی برادری کو مطمئن کرنے کے لئے 26 نومبر1949کو آرٹیکل370 اور14مئی1954 کو آرٹیکل35-A لاگوکیا۔ آرٹیکل370مقبوضہ کشمیر کی خود مختاری جبکہ آرٹیکل35-A مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے ڈیموگرافک سٹیٹس کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ جن کو بھارت نے ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کے کروڑوں عوام کی اُس آرزو کا گلا ہمیشہ سے گھوٹنے کی سعی کی ہے جو وہ آزادی کے لئے بلند کرتے چلے آئے ہیں۔ گزشتہ برسوں سے بھارت کی لگ بھگ 9 لاکھ فوج کشمیر میں ظلم و ستم ڈھارہی ہے۔ ابھی حال ہی میں30 ہزار تازہ کمک پہنچائی گئی ہے جس کے بارے میںقیاس ہے کہ وہ آر ایس ایس اور دیگر ہندو شدت پسند تنظیموں کے کارکن ہیں جو بھارتی صوبہ گجرات کی طرز پر کشمیری مسلمانوں کی نسل کُشی اور جلائو گھیرائو کی پالیسی کو عملی جامہ پہنائیں گے۔
 مقبوضہ کشمیر کے کشمیری باشندوں اور سیاسی رہنمائوں نے بھارت کے اس اقدام کو نہ صرف ظالمانہ اور بہیمانہ قرار دیا ہے بلکہ اس کے خلاف شدید مزاحمت کا راستہ بھی اختیارکیا ہے۔اب مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت جیلوں میں ہے اور مقبوضہ کشمیر کے بچے، جوان، بوڑھے اور خواتیں کرفیو اور لاک ڈائون کے باوجود سڑکوں پر صدائے احتجاج بلند کرتے دکھائی دیتے ہیںجبکہ قابض بھارتی حکومت نے گرفتار کشمیریوں پرپبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرکے ایک اور کالے قانون کا اضافہ کردیاہے ۔ بھارت کے اس اقدام کی بین الاقوامی سطح اور خود بھارت کے صحافیوں اور ہیومن رائیٹس سے وابستہ کئی اداروںنے بھی مذمت کی ہے۔
وزیرِاعظم پاکستان عمران خان نے بھی واضح انداز میں بھارت کے اس اقدام کی مذمت کی اور کہا کہ اب اگر دنیا نے کردارادا نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔ انہوںنے کہا کشمیریوں کو کچلنے کا پلوامہ جیسا ردِ عمل آئے گا۔
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کور کمانڈر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے آرٹیکل370 اور35-Aکو پہلے بھی کبھی تسلیم نہیں کیا، اب بھارت نے خود ہی یہ جعلی پردہ بھی ختم کردیا ہے۔ انہوںنے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاک فوج کشمیری عوام کی جدوجہد میں شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ہم اپنی ذمہ داری نبھانے کے لئے مکمل تیار ہیں۔
 بھارت نے بلاشبہ ایک غیر ذمہ دار ریاست کا ثبوت دیتے ہوئے کشمیریوں کے حقوق سلب کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ اقدام اُس کے بعد اٹھایا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران کے ساتھ ملاقات کے دوران کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی۔علاوہ ازیں کشمیر کامعاملہ اقوامِ متحدہ میں ہے جس کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہونا باقی ہے۔ بہرطور بھارت اپنی ہٹ دھرمی کی بناپر خود ہی کشمیر کے مسئلے کو ''لائم لائیٹ'' میں لے آیا ہے اور اب جس انداز سے مسئلہ کشمیر اُجاگر ہوا ہے اور پوری دنیا میں اس کے حوالے سے جو آگہی پیدا ہوئی ہے وہ شائد پہلے نہیں تھی۔
بھارت کو بہرطور یہ سمجھ لینا چاہئے کہ گزشتہ کئی برسوں سے اُس کی افواج مقبوضہ کشمیر میں خون کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔ ہزاروں کشمیری شہری شہید ہو چکے ہیں۔ عورتوں کی عصمت دری کی گئی، نوجوانوں ، بچوں ، بچیوں کو پیلٹ گنز کے ذریعے اندھا اور اپاہج کیا جارہا ہے۔ لیکن آفرین ہے کشمیری نوجوانوں اورکشمیری عوام پر جو بھارت کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ کشمیری ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ ضرور کامیاب ہوں گے اُنہیںاُن کا حق ملے گا اوریقینا وہ اپنا حق لے کر رہیں گے۔ پاکستان پورے اعتماد اور وقار کے ساتھ اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور اُس وقت تک کھڑا رہے گا جب تک کشمیری آزادی کے عظیم مقصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہو جاتے،  ان شاء اﷲ!!


 

یہ تحریر 81مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP