سفر در سفر

جاپان۔خطئہ ارض پر ترقی کا استعارہ

چڑھتے سورج کی سرزمین جاپان کی ہرمیدان کی طرح میڈیا میں حیرت انگیز ترقی کوئی معمولی بات نہیں۔ شاید میں وہاں کے حالات کو اس طرح تحریر نہ کرسکوں جن کا میں نے مشاہدہ کیا ہے۔ لیکن اپنے کورس کے دوران ایک بات مجھے بار بار اکساتی رہی کہ یہ تمام تر ٹیکنالوجی فوراً سے پہلے اپنے ملک میں لے جاؤں اور اپنے پاکستانی ہم وطنوں کو جلد از جلد اس ٹیکنالوجی کے بارے میں آگاہ کروں اور اپنا علم ان میں منتقل کردوں۔ اس مقصد کے لئے کورس کے دوران میں تصاویربنانے اور جاپان کی ترقی کے ہرمنظر کو اپنے موبائل کیمرے کے ذریعے ریکارڈ کرکے محفوظ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا۔ میں اپنی نوٹ بک پر جلدی سے چیزوں کو نوٹ کرتا تاکہ پاکستان جاکر اسے اپنے ساتھیوں سے شیئر کروں۔ ہرقدم پر ایک نئی چیز سیکھنے کو ملتی۔ جدید ٹیکنالوجی کے حصول کا جنون میرے اندر موجود تھا چند خصوصی چیزیں جو میں لازمی طورپر اپنے قارئین اور میڈیا کے دوستوں کے ساتھ شیئر کروں گا وہ پاکستانی بھائیوں اور پاکستان کی ترقی کے لئے میں نہایت اہم سمجھتا ہوں۔ جاپانی جھوٹ نہیں بولتے ، جھوٹ کا تصور نہیں ہے اورنہ ہی بددیانتی کا کوئی تصور ہے۔ 



NHK کا مطلب ہے جاپان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (Nippon Hoso Kyouai)
NHK  کے پاس 54 براڈ کاسٹنگ اسٹیشن ہیں جو47 شہروں میں موجود ہیں۔ NHK Communication Training Institue, NHK CTI) میں کورس کے دوران ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کے لئے NHK کے مشہور پروڈیوسر Tanaka نے اپنی پریذنٹیشن سے حیران کردیا، انہوں نے بتایا کہ جاپان ٹی وی کے پاس ڈیزاسٹر رپورٹنگ کے لئے 15 ڈی ایس این جی ہیلی کاپٹرز ہیں جو ایمرجنسی رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی مدد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ سر Tanaka نے بتایا کہ 
Natural Disaster Just About The Time, We Have Forgotton The Last Oneاس بات میں بہت بڑا سبق ہے کہ ہمیں ماضی میں گزرے ہوئے ڈیزاسٹر کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے اور آنے والے کے لئے ہروقت منصوبہ بندی اور تیاری کرنی چاہئے Tanaka سر نے اپنے لیکچر میں مزیدبتایا ۔
Lessons from disaster must be passed down to the next generation.
یعنی کہ جو ماضی میں اور حال میں تباہی آئی ہے اس کی لازماً اگلی نسل کو خبر ہونی چاہئے لیکن افسوس کے ساتھ ہمارے یہاں ایسا بہت کم ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب سرپر آفت پڑتی ہے تو اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور مدد کے لئے دوسری قوموں کی طرف دیکھتے ہیں۔ جاپان ٹی وی کے پاس ڈیزاسٹر رپورٹنگ کے لئے جو ہیلی کاپٹرز ہیں ان میں سے ایک چیئرمین این ایچ کے، کے لئے مختص ہے لیکن پھر بھی وہ بس پر سفر کرکے آفس آتے ہیں۔ ریموٹ کنٹرول کیمرے جو واقعات کی بروقت ، مؤثر رپورٹنگ کرتے اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ این ایچ کے ،کے پاس ہروقت براڈکاسٹنگ اسٹیشن پر انتہائی پیشہ ورانہ ڈائریکٹرز، پروگرام پروڈیوسر، کیمرہ سٹاف اور انجینئر موجود ہیں جنہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا کہ سوشل ایونٹس کی معاشرے میں کیا اہمیت ہے۔ وہ واقعات کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے آنے والی ہرخبر اور واقعے کو عوام تک پہنچانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔
سرTanakaجب ڈی ایس این جی ہیلی کاپٹرز کے سونامی سے ہونے والی تباہی کے بعد ٹوکیو سے دور ایک بچے اور اس کی ماں کو ایک ایمرجینسی ٹویٹ پر زندہ بچانے کا واقعہ بتا رہے تھے کہ این ایچ کے، کے ہیلی کاپٹرٹویٹ پر اس بچے اور اس کی ماں کو سونامی کے کئی دن بعد زندہ بچا کر لے آئے تو میں نے سوال کیا کہ اگر وہ ایمرجنسی ٹویٹ فیک ہوتا تو آپ کی ساری محنت ضائع ہوجاتی تو اس پر لیکچر کے دوران سرTanakaکے ایک مسکراہٹ بھرے جواب نے مجھے اور ساری کلاس کو حیران کردیا وہ الفاظ آج بھی میرے دماغ کو باربار جھنجھوڑتے ہیں اور میرا دل کرتا ہے کہ میں ہر پاکستانی کو وہ الفاظ اسی طرح سنا سکوں۔Tanaka سر نے کہا:
There is no concept of fake tweet
There is no concept of dishonesty in Japan
There is no concept of telling a lie.
ان الفاظ نے ہمیں لاجواب کردیا۔ قدم قدم پر جاپانیوں میں دیانتداری نظر آرہی تھی وہ اپنے ملک کے ساتھ بے پناہ مخلص نظر آئے۔ ان کی دیانتداری کی ایک اور مثال یہ ہے کہ جس صبح ہم نے فلائٹ سے واپس پاکستان آنا تھا  انہوں نے صبح کا ناشتہ ہمیں رات کو ہی پارسل دے دیا تاکہ صبح کوئی پریشانی نہ ہو۔ 
ٹوکیو شہر میں ہرایک کلومیٹر کے اندرVending Machines دیکھیں جن میں جوسز، پانی اور کھانے کی اشیاء آپ کو کوائن کے ذریعے دستیاب ہوتی ہیں اور ایمانداری کے ساتھ مسافر اس سہولت سے مستفید ہوتے ہیں۔ اپنی یادوں کو بار بار میڈیا کے ذریعے اپنے لوگوں کے تک پہنچاتے تاکہ لوگوں میں اپنے ملک میں جذبہ اور حب الوطنی برقرار رہے۔ ریاستی کنٹرولڈ میڈیا ہے میڈیا کو بے لگام آزادی نہیں ہے کہ میڈیا پر ہربندہ آکر دوسرے کی عزت کو اچھالتا پھرے۔ میڈیا پرCreative کام نظر آئے گا جو کہ قوموں کو عظیم قوم بننے میں مدد دیتاہے۔ میڈیا پر غیر ضروری سنسنی خیزی نہیں ہوتی۔ جاپانی ہر وقت اپنی اور ملک کی ترقی کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ جاپانی نظم وضبط کے انتہائی پابند ہیں، سگنل توڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، روڈ پر پیدل چلنے والوں کے اشارے ہیں۔ میرے پاس بہت ساری تصویریں ہیں تاکہ اپنے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ شیئر کروں۔ پیدل چلنے والے کی اتنی قدر ہے کہ جب تک پیدل چلنے والا روڈ کراس نہیں کرتا گاڑی میں موجود سوار اس کا انتظار کرتا ہے۔ بیٹری سے چلنے والے موٹرسائیکل جوکہ بالکل بے آواز ہیں، سگنل پر رکتے ہیںچاہے سڑک پر رش ہویانہ ہو۔ ہرسڑک کی اطراف پر فٹ پاتھ ہیں۔ 
ریلوے اسٹیشن پر لوگ ترتیب کے ساتھ لائن میں کھڑے نظر آئیں گے کوئی بھی شخص لائن توڑتا یا بدنظمی کرتا نظر نہیں آئے گا۔ Pasmo Train اور Pasmo Bus میں سفر کے دوران میں نے یہ تمام حالات اپنے موبائل سے محفوظ کئے۔ 
Pasmo Bus  میں جب ہم قطار کے ذریعے داخل ہوکر سفر کرتے تو بس کا ڈرائیور Ohaigusamas کہہ کر سلام کرتا جس سے مسافر کو اپنی عزت محسوس ہوتی۔ ہرقدم پر محسوس ہوتا کہ جاپانی جانتے ہیں کہ دوسرے انسان کو عزت کیسے دینی ہے۔ جاپانی لین دین میں انتہائی ایماندار ہیں۔ میں اکثر خریداری کرتا تو مجھے نوٹوں کی پہچان تو تھی لیکن سکوں سے زیادہ واقف نہ تھا تو دکاندار خود ایماندرای سے سکے گن کر واپس کرتے اور مسکرا کر جاپانی میں کہتے کہ آپ فارنر لگتے ہیں، وہ لوگ رقم خوبصورت ٹوکری میں ڈال کردیتے اور اسی میں وصول کرتے۔ اس قدر عزت افزائی اور مہذب طریقے سے لین دین شاید ہی دنیا میں کہیں اور ہو۔ سب سے بڑھ کر ان کا حسن اخلاق یہ تھا کہ ہلکا سا دھکا لگ جاتا تو وہ دس دفعہ سوری کرتے بجائے اس کے کہ میں انہیں یہ کہتا کہ یہ میری غلطی ہے۔ ہم پورا پورا دن کورس کی وجہ سے ہوسٹل سے باہر ہوتے، ہمارے رومز کی چابیاں کاؤنٹر پر ہوتیں، ہماری غیر موجودگی میں صفائی وغیرہ ہوتی لیکن ہماری کوئی بھی چیز کبھی بھی بے ترتیب نظر نہ آئی اورچوری کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وقت کی پابندی کے حوالے سے جاپانی قوم کسی طرح بھی غافل نظر نہ آئی۔ صبح آٹھ بجے کے بعد کھانے کا کوئی آرڈر نہ لیا جاتا اور رات آٹھ بجے کے بعد جائکا سنٹر میں کوئی آرڈر نہ لیا جاتا۔ کلاسز اپنے وقت پر شروع ہوتیں اور اگر کوئی لیٹ ہوتا تو اس کے لئے ایک بیلّ بجائی جاتی جس کو بہت بُرا سمجھا جاتا ہے۔ ریلوے اسٹیشن پر ٹرینز سیکنڈز کے حساب سے چلتی ہیں، اگر ایک ٹرین مس ہوجاتی تو دوسری ٹرین آجاتی۔ جاپانی صبح کے وقت بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اپنی ٹرین کو ٹائم پر پکڑ نے کی کوشش کرتے ہیں۔ جاپانی ورکنگ وومن ایک ہاتھ میں میک اپ کی کٹ لئے جلدی جلدی میک اپ کرتی ہوئی ریلوے اسٹیشنزپر نظر آتیں، کسی کو کسی دوسرے کی طرف دیکھنے کا وقت نہیں ہوتا تھا۔
ہم لوگ ٹوکیو کے مصروف ترین تجارتی مرکز Akiha Baraگئے۔ ہمارے پاس صرف ہفتہ اور اتوار کا دن تھا۔ ہم اپنے فلپائنی ساتھی JOE کے ساتھ تھے، میں نے انسٹنٹ فوٹو کے لئے ایک کیمرہ خریدا جو ساڑھے سات ہزار' ین' کا تھا۔ ایک ٹرائی پوڈ اور کچھ کیمرہ فوٹوکے لئے ریلز لیں جو ٹوٹل ساڑھے بارہ ہزار' ین' میں پڑیں۔ جب یہ سامان میرے سری لنکن ساتھیوں نے دیکھا تو کہنے لگے یہ چیزیں آپ کے لئے بیکار ہیں کیونکہ یہ کیمرہ ریل ختم ہونے کے بعد پاکستان میں نہیں ملیں گی اور ٹرائی پوڈ پر آپ زیادہ لوڈ کا کیمرہ نہیں رکھ سکتے، سری لنکن ساتھی Kapila ایک ماہر کیمرہ مین بھی رہ چکا تھا۔ میں بہت پریشان ہوگیا کہ اب کیا ہوگا۔ ساڑھے بارہ ہزار ین میرے لئے بڑی رقم تھی اور جہاں سے یہ میںنے لیا تھا وہ ہماری رہائش گاہ سے تقریباً دو گھنٹے کا سفر تھا اور تجارتی مرکز رات دس بجے بند ہوجاتے اور کورس سے ہم شام 7 بجے فری ہوتے تھے۔ ہفتہ اتوار کے علاہ وہاں جانا ہمارے لئے بہت مشکل ہورہا تھا۔ میں نے اپنی انسٹرکٹر Shiba سے بات کی کہ میں نے غلطی سے یہ خرید لیا ہے اگر واپس ہوجائے یا تبدیل ہوجائے تو میری مشکل آسان ہوجائے گی۔ مس شیبا نے مجھ سے ایڈریس لیا اور فون کیا، ان سے جاپانی میں کہا کہ یہ فارنر ہیں اور ہمارے لئے قابل احترام ہیں، ایک ہفتہ کے بعد آئیں گے تو آپ ان کی ہیلپ کردیں۔ اگلے ہفتہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ صبح ہی اس شاپ پر پہنچ گئے اورا نہیں شیبا کی طرف سے لکھا ہوا پیغام دیا انہوں نے کہا کہ آپ کوئی چیز انہیں پیسوں میں خرید لیں۔ ہماری مرضی یہ تھی کہ یہ واپس کرکے اپنے پیسے لے لیں کیونکہ ان کے پاس سب سے سستی چیزیں وہی تھیں جو ہم نے لیں تھیں۔ جاپان میں ہر جگہ ہرچیز پر جاپانی لکھی ہوتی انگلش تو خال خال ہی ملتی جس سے خریداری میں بہت مشکل ہوتی۔ آخر جاپانی دکاندار نے بہت عزت کے ساتھ رقم واپس کردی اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ جاسکتے ہیں۔ یہ واقعہ جاپانیوں کی ایمانداری کی یاد دلاتا رہے گا۔ 
جاپانی ہر میدان میں منصوبہ بندی کے حساب سے دنیا کی عظیم اقوام میں شامل ہیں خصوصاً تعلیمی نظام کی منصوبہ بندی حیران کن ہے۔ این ایچ کے نے بچوں کو تعلیمی اور تربیتی نظام کے لئے اپنے سٹیٹ ٹی وی کے ذریعے کورسز ڈیزائن کئے ہیں۔ این ایچ کے فورسکولز کے نام سے ان کا تعلیمی نظام سٹیٹ ٹی وی کی ذمہ داری ہے۔ پروڈیوسر ، ایجوکیٹر اور ریسرچر مل کر نصاب تیار کرتے ہیں تعلیمی نظام میں پروڈیوسر کا واضح اور اہم کردار ہوتا ہے  جو ڈیجیٹل میڈیا کی ترقی کے لئے اہم ہے۔ جاپانی اپنی تاریخ پر بہت توجہ دیتے ہیں اور اس کی بار بار ترغیب دیتے ہیں۔ 
Learning Through Entertainment ، بچوں کو کارٹون فلمز اور تفریح کے ذریعے سکھاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بچوں کی نفسیات کیا ہیں اور بچے کن چیزوں کو جلدی پک کرتے ہیں۔ 3 اگست 2017 کو شام 5 سے 7 بجے تک این ایچ کے سائنس اور ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا وزٹ کیا جہاں ہمیں 2020 میں چاپان میں ہونے والی اولمپک گیمز کے بارے میں تفصیلی بریفنگز دی گئیں۔ جاپان ٹی وی نے 2020 کے اولمپکس کی تمام تیاریاں مکمل کرلی تھیں۔ منصوبہ بندی کا یہ عالم حیران کن تھا۔ 
پروگرام پروڈکشن کے لئے High Altar Definition Video System, 8k Super High Vision کی تیاری دیکھی جس کی لانچنگ 2018 دسمبر میں ہونی تھی۔ 4K  اور 8K HD TV,  کو بہت پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ 
NHK  CTI  میں  8K Super High Visionپر بریفنگ کے دوران میں نے انسٹرکٹر سے یہ سوال کیا کہ آپ یہ ٹیکنالوجی پاکستان یا دوسرے ممالک کو ٹرانسفر کرنے کا کب ارادہ رکھتے ہیں جس پر انہوں نے یہ جواب دیا کہ ابھی تو اس پر کام کررہے ہیں اور یہ انتہائی مہنگی ہے حتیٰ کہ 4K ٹیکنالوجی پر 500 ہزار ین جاپان میں کاسٹ آتی ہے۔ 
مجھے اس حیرت انگیز ترقی نے ورطۂ حیرت میں مبتلا کردیا اور ہروقت یہ سوچنے لگا کہ پاکستان کب یہ ترقی حاصل کرسکے گا۔ 5 اگست 2017 کو این ایچ کے میوزیم کا دورہ کیا جہاں پر این ایچ کے، کے پرانے اور جدید براڈکاسٹنگ سسٹم اور کیمروں کو دیکھنے کا موقع ملا ۔ دوسری جنگ عظیم میں استعمال ہونے والے کیمرے بھی دکھائے گئے اور موشن کیپچر جیسی جدید ٹیکنالوجی پر خود تجربہ کرنے کا موقع ملا۔ ایک مخصوص جگہ پر کھڑے ہوکر اپنی باڈی لینگویج کے حساب سے تصویر کو محفوظ کیا جاتا ، مجھے ایک جاپانی شہنشاہ کے روپ میں موشن کیپچر کے ذریعے دکھایا گیا۔ انسٹینٹ براڈ کاسٹنگ کی ٹیکنیکس بھی دکھائی گئیں اس کے بعد ٹوکیو ٹاور کا دورہ کرایا گیا۔ یہ ایک معلوماتی اور تفریحی دورہ تھا۔ 333 میٹر اونچا ٹاور براڈکاسٹنگ کے مقاصد کے لئے 1961 میں آپریشنل کیا گیا جو ڈیجیٹل ٹی وی اور ریڈیو براڈکاسٹنگ میں مدد کرتا ہے۔ 8 اگست کو ٹوکیو سکائی ٹری کا وزٹ کیا جس کی لمبائی 634 میٹر اوراونچائی 2084 فیٹ ہے۔ یہ دنیا کا چوتھا اور جاپان کا بلند ترین ٹاور ہے۔ یہ بھی ریڈیو، ٹیلی ویژن براڈکاسٹنگ اور کمیونیکشن ٹاور ہے۔8اگست کو ہی این ایچ کے، Archives Yokohamaکا دورہ کیا جو ٹوکیو سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ اس میں چالیس سال پرانے Visuals  کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعےPreserve ہوتے دیکھا۔ تعلیمی پروگراموں میں استعمال ہونے والے کارٹون کریکٹر اس لائبریری میں دیکھے۔ کورس کے آخری دنوں میں صبح اور رات کو شدید زلزلے آئے جس کی وجہ سے ہم بہت خوفزدہ ہوئے لیکن ان عمارات کے اندر ایمرجنسی الارم لگے ہوئے تھے۔ جنہوں نے ہمیں آگاہ کیا کہ کن راستوں سے باہر نکلنا ہے۔ 4 اگست 2017 کو منسٹری آف انٹرنل افیئر اینڈ کمیونیکیشن کا دورہ کیا جس میں جوائنٹ ڈاکومنٹری پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ لیکچر کے بعد ٹی بی ایس ، ٹوکیو براڈکاسٹنگ سسٹم کی ایم ڈی  Noriko Wada سے باضابطہ ملاقات میں انہیں پاکستان سے جوائنٹ ڈاکومنٹری کی آفر کی جس پر انہوں نے دلچسپی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کے ساتھ مل کر کام کیا جاسکتا ہے۔ ٹوکیو میں جاپانی شہنشاہ Akihito کا محل یہاں سے چند ہی قدم کے فاصلے پر تھا۔ ہمیں محل لے جایا گیا۔ بین الاقوامی سیاح کثیر تعداد میں یہاں آتے ہیں۔ شہنشاہ کے بارے میں یہ بات سننے میں ملی کہ لوگ اپنے شہنشاہ سے اس قدر پیار کرتے ہیں کہ لوگ اپنی جان دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ 
جاپانیوں کی تعلیمی میدان میں منصوبہ بندی ، میڈیا کی ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز ترقی ، ان کے پیار ، دوستی ، اپنے ملک سے مخلصی ، مہمان نوازی ، دیانتداری ، نظم وضبط ، اخلاقیات ، Disaster Managementکے لئے جاپان ٹی وی کے کردار ، اپنی قوم کی غیرجانبدارانہ، سچی رپورٹنگ اور دنیا کے ساتھ مل کر ترقی کے عمل کو میں کسی صورت بھلا نہیں سکتا۔ اخلاقی تربیت  کے لئے میڈیا میں بننے والے ٹی وی پروگرامز ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ یہ کورس پاکستانی میڈیا میں جدید ترین اور ایڈوانس کورس ہے، میرے پاس جاپانی حکومت اور حکومت پاکستان کے لئے شکریہ کے الفاظ نہیں ہیں۔ 


[email protected]

یہ تحریر 1283مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP