ہمارے غازی وشہداء

تم ایسے بیٹوں پر ہم واریں اپنی جان,

مشرقی پاکستان میں جامِ شہادت نوش کرنے والیسپاہی محمد زبیر (شہید) کے لئے سیدہ شاہدہ شاہ کی تحریر

 

ارضِ وطن کی آزادی کے لئے تو اَن گنت بچوں، جوانوں، بوڑھوں اور عورتوں نے اپنے لہو کی قربانی دی ہی تھی۔ مگر آزادی کے بعد پاکستان پر مسلط کی گئی جنگوں اور دہشت گردی کی جنگ میںبھی مادرِ وطن کے اَن گنت بیٹوں  نے، خواہ وہ وردی پوش تھے، یا غیر وردی پوش، بہادری اور جانبازی کی وہ وہ لازوال داستانیں رقم کیں جو تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہوگئیں۔ ان میں بے شمار ایسے بھی تھے، جنہوں نے دیارِ غیر یعنی دشمن کے قید خانوں میں ہی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے، کہ اُن کے جسدِ خاکی بھی دشمن ملک کی مٹی میں ہی پیوندِ خاک ہوگئے۔ وطن کے اُن بے شمار وردی پوشوں میں ایک ایسے ہی وطن کے بیٹے سیپر (سپاہی) محمد زبیر کی کہانی بھی ہے۔ جو دسمبر 1971ء کی جنگ میں ڈھاکہ میں آرمی انجنیئرنگ کور میںمتعین تھا اور اپنے فرائض منصبی انتہائی جانفشانی اور بہادری سے سرانجام دیتے ہوئے دشمن کی قید میں چلا گیا۔ بھارتی فوج نے اُسے اُس کی رجمنٹ اور دیگر جنگی قیدیوں کے ساتھ ''بریلی'' بھیج دیا۔

محمد زبیر جہلم شہر کے محلہ ڈھوک جمعہ کی گلی کا رہائشی تھا۔یہ 1970ء کا سال تھا۔ جب وہ آرمی کی انجنیئر کور کے لئے بھرتی ہوا تھا۔ جس روز وہ آرمی میں بھرتی ہو کر گھر آیا، وہ انتہائی خوش تھا اور پھر وہ بتائی ہوئی تاریخ کے مطابق اپنا سامان، اپنا بستر وغیرہ لے کر رسالپور ٹریننگ کے لئے چلا گیا۔ ٹریننگ کے دوران اُس کے خطوط باقاعدگی سے آتے رہے۔ اُن دنوں پیغام رسانی کا یہی ایک ذریعہ تھا۔ یا خال خال ٹیلی فون تھے۔ اُس کے ہر خط کی ایک ایک سطر ایک ایک لفظ سے وطن کی محبت کی عکاسی ہوتی تھی۔ چھ ماہ کی ٹریننگ کے بعد وہ گھر چھٹی آیا، تو  پہچانا ہی نہیں گیا۔ اونچا لمبا قد تو اُس کا پہلے ہی تھا، اب اُس کے بدن میں چیتے کی سی پھرتی، سنگلاخ پہاڑوں کی سی مضبوطی اور چٹانوں جیسی سختی آگئی تھی۔ آرمی کی ٹریننگ سے اُس کے چہرے پر متانت، سنجیدگی اور وقار سا آگیا تھا۔ وہ جتنا عرصہ چھٹی پر رہا، ماں باپ بہن بھائیوں کی آنکھوں کا تارا بنا رہا۔ آرمی کی ٹریننگ کے مطابق وہ اپنا ہر کام خود کرنے کا عادی ہوگیا تھا۔ انہی دنوں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کے حالات خراب ہوگئے اور خراب بھی اس حد تک کہ آگ اور خون کی ہولی کھیلی جانے لگی۔ مشرقی پاکستان کی نم آلود ہوائیں اور فضا بارود کی بُو سے بوجھل ہونے لگیں۔ چنانچہ محمد زبیر کی یونٹ کو مشرقی پاکستان جانے کا حکم مل گیا۔ سمندر پار جانے  سے پہلے وہ چند دنوں کے لئے گھر آیا۔ جس روز اُس نے واپس اپنی یونٹ رپورٹ کرنا تھی اُس نے رخصت ہونے سے پہلے ماںکی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے بڑے سنجیدہ لہجے میں بولا: ''ماں میرے وطن کے مشرقی حصے میں بغاوت کی آگ بھڑک اُٹھی ہے۔ دشمن بغاوت کی اس آگ پر پروپیگنڈے کا پٹرول چھڑک کر اسے اس حد تک بھڑکا چکا ہے کہ بغاوت کے یہ شعلے آسمان کو چُھونے لگے ہیں۔ ہمیں ان شعلوں کو اپنے لہو سے بجھانا ہوگا۔ ماں میری زندگی کی دعا نہ مانگنا۔ میرے وطن کی خیر مانگنا۔ دعا کرنا اﷲ پاک میرے وطن کی حفاظت فرمائے۔

بغاوت کی اس زمین پر حالات توقع سے بھی زیادہ خراب تھے۔ سیاسی مہرے دشمن کی بچھائی ہوئی بساط پر دشمنانِ وطن کے ہاتھوں اپنی اپنی چالیں چل رہے تھے۔ پاکستان کی قلیل سی فوج بے سرد سامانی کی حالت میں چاروں اطراف سے غداروں، مکتی باہنی کے خون آشام درندوں اور دشمن کی مسلح افواج سے نبرد آزما تھی۔ آفرین ہے پاکستان کی مختصر اور بے سروسامان فوج پر جس کے حوصلے بلند تھے وہ کئی دنوں تک چاروں اطراف سے دشمن کے گھیرے میں لڑتی رہی اور حساس مقامات کی حفاظت کرتی رہی۔ مگرآخرکب تک اَن گنت آرمی و سویلین شہادتوں کے بعد باقی ماندہ افواج کو ہتھیار ڈالنے کا حکم مل گیا اور یوں مہینوں سے بھوکے پیاسے، محدود اسلحے کے ساتھ لڑتے ہوئے باقی ماندہ فوجی گرفتار کر لئے گئے۔ جن میں سپاہی محمد زبیر بھی شامل تھا۔ بغاوت کا خون آشام عفریت اَن گنت محبِ وطن سویلین اور عسکریوں کا لہو پی کر اب شانت ہوگیا تھا۔

پاکستانی فوج کے قیدیوں کو مختلف کیمپوں میں رکھا گیا تھا۔ محمد زبیر اپنے ساتھیوں کے ساتھ ''بریلی کیمپ'' میں تھا۔ یہاں اور بھی جنگی قیدیوں کے کیمپ تھے۔ اس کیمپ میں محمد زبیر نے قرآن پاک حفظ کیا۔ محمد زبیر کو دشمن کی قید میں دو سال کا عرصہ بیت چکا تھا۔ ایک روز وہ کیمپ میں بنی ہوئی مسجد سے نماز پڑھ کر نکل رہا تھا کہ ساتھ والے  کیمپ سے کچھ قیدیوں نے فرار ہونے کی کوشش کی، جس پر پہرہ پر متعین بھارتی فوج نے گولی چلا دی۔ ان گولیوں کی زد میں محمد زبیر بھی آگیا اور وہیں پر جامِ شہادت نوش کرلیا۔

محمد زبیر کی شہادت کو ایک عرصہ بیت چکا ہے۔ اس کا جسد خاکی ''بریلی'' کی سرزمین کی مٹی میں پیوندِ خاک ہے۔ مگر اُس کی ماں امِ سلمیٰ کے دل کا زخم ابھی تک تازہ ہے۔ وہ آج بھی اُسے یاد کرکے روتی رہتی ہیں۔ بیٹے نے اپنی شہادت کے بعد اپنے تمام واجبات کا وارث اپنی ماں امِ سلمیٰ کو ہی ٹھہرایا تھا۔ آج بھی جب وہ اپنے بیٹے کی پینشن لینے جاتی ہے تو پینشن وصول کرتے ہوئے بے اختیار رونے لگتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اگر میرا بیٹا محمد زبیر زندہ ہوتا اور وہ اپنی کمائی میرے ہاتھ پر رکھتا تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔ پھر خود ہی آنسو پونچھ کر مسکرا دیتی ہے کہ نہیں میرا بیٹا زبیر تو شہید ہوا ہے اور بھلا شہید بھی کبھی مرا کرتے ہیں۔ یہ تو قرآنی فیصلہ ہے اور میرے اﷲ کا حکم کہ شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

یہ تحریر 166مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP