بیاد اقبال

تشکیل جدید اور اقبال

علامہ  اس بات پر بہت قلق کااظہار کرتے ہیں کہ گزشتہ پانچ چھ سو برس سے مسلمانوں کی علمی ترقی رُکی ہوئی ہے۔ مسلمان آج بھی پرانے زمانے کو یاد کرتے ہیں اور اسی میں زندگی بسر کرتے ہیں۔اس کے برعکس اہلِ مغرب علوم و فنون کو مسلسل ترقی دے رہے ہیں۔ نتیجے کے طور پر ہمارا علمی ذوق رکھنے والا طبقہ مغربی دنیا سے رہنمائی طلب کرتا ہے اور اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے انہی کی طرف رجوع کرتا ہے حالانکہ علمی ترقی اسلام کا منشا ہے اور مسلمانوں کا گم شدہ مال۔


علامہ اقبال کے افکار میں بڑی بصیرت اور گہرائی تھی۔ شاعری میں ان کے تخیل کی بہار سے لاکھوں باشعور لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان کا کلام افواجِ پاکستان کے لیے آبِ حیات ہے۔ ایئر فورس نے ان کے مصرع''صحرا است کہ دریا است'' کو اپنا ماٹو بنایا ہوا ہے۔ ایک سچے اور اچھے سپاہی کی جو خصوصیات علامہ اقبال نے بیان کی ہیں، ان سے زیادہ بہتر طریقے سے کوئی نہیں بیان کرسکتا۔ وہ کہتے ہیں:
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت ِ فولاد
شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پُردم ہے اگر تو، تو نہیں خطرہ افتاد 
علامہ کا اُردو کلام تو عام لوگوں کی پہنچ میں ہے مگر فارسی کلام جو زیادہ پُرتاثیر اور پُرجوش ہے، عام آدمیوں کی رسائی سے باہر ہے لیکن علامہ کی علمیت کا اظہار ان کے خطبات (لیکچرز) سے ہوتا ہے، جو انہوں نے ایک پڑھے لکھے درد مند مسلمان سیٹھ محمدجمال کی درخواست پر 1952ء میں مدراس میں دیئے تھے۔ چونکہ ان خطبات کا موضوع بڑا رقیق ہے اس لیے بھی بہت مشکل ہے۔۔۔ علامہ کے ایک معتقد ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم نے اِن خطبات کو انگریزی سے اُردو میں منتقل کیا ہے۔ 
خلیفہ عبدالحکیم خود ایک بہت بڑے عالم تھے لیکن علامہ اقبال کے بڑے شیدائی تھے۔ علامہ کے متعلق وہ کیا کہتے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
اقبال شاعربھی ہے، مفکربھی، حکیم بھی ہے کلیم بھی ، وہ خودی کا پیامبر ہے اور بے خودی کا رمز شناس ۔ وہ توقیرِ آدم کا مبلغ بھی ہے اور تحقیرِ آدم سے دردمند بھی۔ دورِ حاضر میں کوئی مفکّرایسا نظر نہیں آتا جو ماضی و حال اور شرق و غرب کے افکار کا ایسا جامع ہو۔
 تفکر اور تعقل کی جو گہرائی علامہ اقبال کے کلام میں نظر آتی ہے وہ کہیں اور نہیں ملتی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملتِ اسلامیہ کے ساتھ اقبال بھی ابد قرار ہوگیا ہے۔ اس کے افکار محدود ہوتے تو کچھ عرصے کے بعد زمانہ انہیں پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گیا ہوتا۔ لیکن اقبال کے افکار اور وجدانات میں لامتناہی پائی جاتی ہے۔ اقبال کی فکری اور نظریاتی کاوشوں کا نچوڑ، فلسفہ تشکیل، جدید الٰہیات اسلامیہ کی صورت میں سامنے آیا۔یہ انگریزی زبان میں علامہ کے سات خطبات کا مجموعہ ہے جس میں انہوں نے اسلامی فکر کی تشکیلِ نو کرکے عصرِ حاضر کے تقاضوںکے مطابق اپنے قابل عمل بنانے کی سعی کی ہے۔ خطبات کی زبان علمی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے بہت مشکل ہے۔ خلیفہ عبدالحکیم نے اس کا ترجمہ اور تلخیص کی ہے۔ علامہ کے فکر اور فلسفہ کو عام کرنے کے لیے اس ناچیز نے مزید آسان بنانے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ یہ کام میرے علم اور بساط سے باہر ہے لیکن حضرت علامہ کی محبت میں یہ گستاخی سرزد ہوگئی ہے ۔ اگر کسی قاری کو اس سے کچھ فیض پہنچ جائے تو یہ اس ناچیز کے لیے بہت فخرو مباہات کا باعث ہوگا۔
دنیا کا ہر باشعور آدمی یہ ضرور سوچتا ہے کہ یہ کائنات کیسے بنی اور انسان کا وجود کیسے ہوا ؟اس کائنات کی صنعت و ساخت کیا ہے؟ اس تغیر پذیر عالم میں کوئی ثابت عنصر ہے؟ اور انسان کا اس میں کیا مقام ہے؟ بہت لوگوں نے اس کا جواب دینے کی کوشش کی ہے ۔ غالب بھی پوچھتے رہ گئے۔ ابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے؟ لیکن ہمارا موضوع شاعری، فلسفہ اور مذہب ہے۔ اعلیٰ شاعری الہام کی محتاج ہوتی ہے۔ غالب نے کہا تھا:  صریرِ خامہ نوائے سروش ہے۔ شاعری اپنے اظہار میں تشبیہہ کا سہارا لیتی ہے اور اس میں ابہام پایا جاتا ہے۔ جبکہ فلسفہ تجسس اور تحقیق کا نام ہے۔ وہ کسی مفروضے کو مِن و عَن تسلیم کرلینا عقل اور تجسس کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ بعض فلسفی اس نتیجے پر پہنچے کہ عقل میں یہ استعداد ہی نہیں کہ وہ ماہیت وجود کا ادراک کرسکے۔ اس کے برعکس دین کی اساس ایمان پر ہے اور ایمان عقل کا محتاج نہیں ہوتا۔ ایمان کی طاقت سے پرندے اور مچھلیاں ہزاروں میل کا سفر طے کرکے اپنی منزل پر پہنچ جاتی ہیں۔ دین لوگوں کو انفرادیت سے اجتماعیت کی طرف لے جاتا ہے۔ روحانی تجربہ حقیقت کلی کی تلاش میںانسانی حدود سے تجاوز کرجاتا ہے لیکن ایمان کی بنیاد عقل سے خالی نہیں ہوتی۔ عقل ایمان کے اندر ایک زندہ عنصر کی طرح موجود رہتی ہے۔ مذہبی عقائد میں ایک غیرمبہم صداقت ہوتی ہے۔ سائنسی عقائد کے مقابلے میں مذہبی کے لیے ثبوت مہیا کرنا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔
مذہب کے لیے زندگی کے مظاہر اور ماہیت سے کنارہ کشی کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ حیات کے مختلف مظاہر کے تضادات میں ہم آہنگی تلاش کرنا مذہب کاکام ہے۔ کثرت میں وحدت ڈھونڈنا ، عقلیت کا بھی کام ہے۔ مذہب فلسفے کی فوقیت کو تسلیم نہیںکرتا۔ مذہب کا تعلق زندگی کے ایک پہلو سے نہیں بلکہ وہ انسان کی پوری شخصیت پر حاوی ہے۔ علامہ کے مقالے میں عقل اور وجدان کا لفظ بار بار آیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عقل صرف زمانی پہلو دیکھتی ہے جبکہ وجدان لا زمانی پہلو بھی دیکھتا ہے۔عقل اپنا سفر قدم بہ قدم آہستہ آہستہ طے کرتی ہے جبکہ وجدان ایک ہی جست میں قصہ تمام کر دیتا ہے۔علامہ کے خیال میں عقل اور وجدان ایک ہی چیز ہیں، وجدان عقل کی انتہائی صورت ہے۔
قرآنِ کریم میں عقل کو استعمال کرنے کی بڑی تاکید ہے اور مشاہدہ ٔ کائنات کی بھی قرآنِ مسلمانوں کو اَنفس و آفاق کے مطالعے کی تلقین کرتا ہے۔ (اَنفس=انسان)
(آفاق=کائنات) اور تاکید کرتا ہے کہ شمس و قمر، جمادات اور نباتات سب پر غور کرو۔قرآن بتاتا ہے کہ ہم شہد کی مکھی کو بھی وحی کرتے ہیں جس سے وہ بھی اپنی زندگی گزارتی ہے۔ قرآن انسانی حواس خمسہ کو بڑی نعمت قرار دیتا ہے۔
امام غزالی رحمة اﷲ نے بھی ان معاملات پر بہت پُرمغز بحث کی ہے اور حضرت علامہ نے اس سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ امام غزالی نے منطقی عقلیت پر بہت تنقید کی ہے۔ وہ تنگ نظر عقلیت کے بہت خلاف تھے۔ امام غزالی نے صوفیانہ وجدان کے سائے میں مذہب کے لیے ایک مضبوط اساس ڈھونڈ لی۔ اس طرح مذہب پر ہونے والے سائنسی اعتراضات کا شافی جواب دیا۔ روحانی تجربوں کے دوران امام غزالی پر ایک لامحدود ہستی کا انکشاف ہوا۔ انہی تجربات میں انہیں عقل کی محدودیت کا بھی احساس ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ فکر کے اندر بھی فکر درفکر ہوتی ہے۔ جس طرح بیج کے اندر پودا ، درخت پنہاں ہوتا ہے، عقل میں بھی مظاہرِ حیات اسی طرح پوشیدہ ہوتے ہیں، جیسے بیج میں پورا درخت ۔ قرآن نے اسے لوحِ محفوظ کہا ہے۔ تعقل میں فکر، محدودیت کی دیوار پھاند جاتا ہے کیونکہ فکر ساری کائنات پر حاوی ہے۔
علامہ  اس بات پر بہت قلق کااظہار کرتے ہیں کہ گزشتہ پانچ چھ سو برس سے مسلمانوں کی علمی ترقی رُکی ہوئی ہے۔ مسلمان آج بھی پرانے زمانے کو یاد کرتے ہیں اور اسی میں زندگی بسر کرتے ہیں۔اس کے برعکس اہلِ مغرب علوم و فنون کو مسلسل ترقی دے رہے ہیں۔ نتیجے کے طور پر ہمارا علمی ذوق رکھنے والا طبقہ مغربی دنیا سے رہنمائی طلب کرتا ہے اور اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے انہی کی طرف رجوع کرتا ہے حالانکہ علمی ترقی اسلام کا منشا ہے اور مسلمانوں کا گم شدہ مال۔
بجھ کے شمع ملت بیضا پریشاں کر گئی
اور دِیا تہذیب حاضر کا  فروزاں کر گئی
علوم و فنون اور فلسفہ و سائنس میں مسلمان بہت پیچھے رہ گئے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ مغرب کی ترقی روحانی ہوتی ہے۔ قرآن مادی اور غیر مادی ترقی میں امتیاز نہیں کرتا۔ تسخیرِ فطرت مقصودِ زندگی ہے، جو مادی ترقی کے بغیر ممکن نہیں۔ جن قوموں نے تسخیرِ فطرت میں دلچسپی لی، انہوں نے غیر معمولی ترقی کی، جنہوں نے اغماض برتا وہ کمزور اور محکوم ہوگئیں۔اب چونکہ مسائلِ حیات کی صورت بدل گئی ہے۔ لہٰذا قدیم تصورات کو نئے ڈھانچے میں ڈھالنا ضروری ہوگیا ہے۔ ثروت افکار کی روشنی میں ہر عقیدے کے لیے نئے استدلالی نظام کی ضرورت پیش آگئی ہے۔نئے افکار کے بعض پہلو دین سے متصادم ہیں۔ اشتراکیت نے مادی ترقی کو الحاد سے وابستہ کرلیا ہے۔ آئن سٹائن  کے نظریہ اصنا فیت نے زمان و مکان کے تصورات بدل کے رکھ دیے ہیں۔ اس لیے ماہیت علم کا از سرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ قرآن کا مقصد خدا اور کائنات سے انسان کے رابطے کو گہرا شعور پیدا کرنا ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ عالم روحانی ، عالمِ مادی سے بے تعلق نہیں۔انفس و آفاق ایک ہی حقیقت کے دو رُخ ہیں۔ خدا ظاہر بھی ہے باطن بھی ۔ ظاہر و باطن میں امتیاز کرنے سے انسانی ارتقاء رُک جاتا ہے۔ اس روئے قرآن یہ کائنات کوئی بے مقصد کھیل نہیں ہے۔ ارض و افلاک کی آفرینش اور شب و روز کا یکے بعد دیگرے آنا سمجھ رکھنے والوں کے لیے آیاتِ اِلٰہی ہیں۔ کائنات میں خدا کی خلاقی جاری و ساری ہے۔ 
کہ آرہی ہے دما دم صدائے کن فیکون، 
خداکے منکر کہتے ہیں کہ خدا نہیں بلکہ دہر خالقِ کائنات ہے۔ ایک حدیث پاک کے مطابق حضور ۖ نے فرمایا دہر کو بُرا نہ کہو کیونکہ دہر خدا ہے۔ خدا نے انسان کو غیر معمولی صلاحیتیں بخشی ہیں جو اور کسی مخلوق کو نہیں دیں۔ لیکن یہ امانت ایک غیرمعمولی ذمہ داری کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ انسان اس امانت میں خیانت نہیں کرسکتا۔ اگر انسان کو اپنی حقیقت کا عرفان حاصل ہو جائے تو روحِ انسانی سے زیادہ طاقتور اور کوئی شے نہیں ہوسکتی۔
خود کائنات کے قلب میںجذبہ ظہور اور ارتقا موجود ہے اور انسان کا فرض یہ ہے کہ وہ اس نعمت سے بہرہ اندوز ہو۔ قرآن کی تعلیم ہے کہ اﷲ ان انسانوں کی حالت نہیں بدلتا جو اپنی حالت بدلنے کو خود تیار نہ ہوں۔اﷲنے انسان کو علمِ اشیاء عطا فرمایا۔ یہ علم کائنات کی قوتوں کو مطیع کرتا ہے۔ قرآن مشاہدۂ فطرت کی تلقین کرتا ہے اور مطالعہ فطرت کی بھی۔ مادی اشیاء کو کم اہم سمجھ کے انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔مشاہدہ فطرت نے انسان کو بجلی جیسی طاقت پر دسترس بخشی جو ایک جن کی طرح شب وروز انسان کی خدمت میں مصروف ہے۔ قرآن قوانینِ فطرت کو سنت اﷲ کہتا ہے۔ جمادات ، نباتات اور انسان،  سب کے لیے قوانینِ فطرت اٹل ہوتے ہیں۔ بعض فلاسفر کا خیال تھا کہ چونکہ عالم متغیّر ہے اس لیے غیر حقیقی ہے۔ قرآن نے کہا ہر گز نہیں۔ تغیرات بھی ایک حقیقت ہے۔ قدیم مذاہب اور تہذیبیں اس لیے فنا ہوگئیں کہ انہوں نے باطن اور ظاہر کو الگ الگ سمجھا اور ساری توجہ باطن پر مرکوز کردی۔
حقائق کا علم حِسّی ادراک سے بھی ہوتا ہے اور تعقل سے بھی۔ اس کے علاوہ نفس انسانی پر حقیقت حیات براہِ راست بھی منکشف ہوتی ہے۔ اسی لیے قرآن میں فطرت کے مطالعے کی تاکید ہے۔ اس کے ساتھ روحانی زندگی کے مقصدِ اشرف کے حصول میں ترقی کرنے کی تاکید بھی موجود ہے۔ علامہ کہتے ہیں کہ انسان کی ایک باطنی آنکھ بھی ہوتی ہے۔
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدہ دل وا کرے کوئی
مذہبی وجدان کے ذریعے سے کشف حقیقت نوعِ انسانی کا ایک اہم تجربہ ہے۔ امریکی ما ہرِ نفسیات ولیم جیمز نے مذہبی وجدان کے تزکیے کی قابلِ قدر کوشش کی ہے۔ خدا کا براہِ راست تجربہ نہ محسوسات سے ہوتا ہے نہ معقولات سے۔ خدا کی ہستی کے علم کے لیے مذہبی وجدان ہی کاشفِ حقیقت ہے ۔جس طرح ظاہر کی آنکھ اشیاء کو دیکھ لیتی ہے۔ باطن کی آنکھ خدا کو دیکھ لیتی ہے۔ لیکن خدا کی ہستی کا تجربہ تعقل اور تفکر میں نہیں ڈھل سکتا۔ اسے بیان کرنا بھی بہت مشکل ہے۔ ناقابلِ بیان ہونے کے باوجود مذہبی وجدان  اپنے آپ کو تصورات میں ڈھالنے کی کوشش کرتارہتا ہے۔بعض علماء مذہبی وجدان کے تجربات کو جسمانی کیفیات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ لیکن ان کا طرزِ استدلال درست نہیں ہے۔ غیر معمولی روحانی احوال میں بہت گونا گوئی پائی جاتی ہے۔ جس طرح درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح دیکھنا چاہیے کہ جس شخص کو کوئی روحانی تجربہ ہوا ہے اس تجربے کا اس شخص کی زندگی پر کیا اثر پڑا اور دوسروں کی زندگی پر اس شخص نے کیا اثر ڈالا۔
زمانہ حال میں ما ہرِ نفسیات فرائڈ کی تحقیقات  سے روحانی الہام اور شیطانی الہام میں امتیاز کرنا آسان ہوگیا ہے۔ مذہب اور سائنس دونوں کے موضوع الگ الگ ہیں۔ مذہب روحانی تجربے کی حقیقت اور ماہیت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
پاکستانی فوج پرحضرت علامہ اقبال کا بہت احسان ہے۔پاکستانی سپاہ کو فکری سرمایہ فراہم کیا ہے۔ علامہ کے افکارآفاقی ہیں۔ ہر شخص اورہر زمانے کے لیے ہیں۔ اقبال کا مطالعہ ذہنی ثروت  میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اقبال ایک ابرِ بہارہے جو پاکستان کے لیے آسمان پر مسلسل برس رہا ہے اور موتی لٹا رہا ہے۔ ہے کوئی جو فکر اقبال سے استفاد ہ کرے۔ ||


 

یہ تحریر 46مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP