انٹرویو

تحریکِ پاکستان کے کارکن مرزا صالح محمدکی زبانی قیامِ پاکستان اور ہجرت کا احوال

مرزا محمدصالح10 ستمبر1938 کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔مڈل سکول گھر سے دور ھونے کی وجہ سے صرف پرائمری تک تعلیم حاصل کرسکے۔ مڈل کے دوران تعلیم کا سلسلہ منقطع ھوگیا۔البتہ پاکستان بننے کے بعد18 سال کی عمر میں کندیاں ضلع میانوالی کے سرکاری سکول  سے مڈل کاامتحان پاس کیا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے پاکستان بنتے دیکھا۔ ہجرت کے وقت مسلمانوں کو کن صعوبتوں اور مشکلات کا سامناکرنا پڑا، وہ اس کے عینی شاہد ہیں۔ ان واقعات پر مشتمل ان کا انٹرویو پیشِ خدمت ھے۔

س :    اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیں؟
ج  :        میں 10 ستمبر1938 کو امرتسر میں پیدا ہوا۔ پرائمری تک مقامی سکول سے تعلیم حاصل کی۔ مڈل سکول کافی دور تھا، وہاں داخلہ لیا لیکن دور ہونے کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکا۔ ہم قصبہ نوشہر تحصیل ترن تارن میں رہائش پذیر تھے۔ میرے والد صاحب الحاج غلام قادر چشتی قادری برما میں برٹش آئل کمپنی میں فورمین تھے۔ وہ اپنے کام کے ماہر تھے۔ اُس دور کے معزز اور امیر لوگوں میں اُن کا شمارہوتا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم شروع ہوئی تو وہ واپس امرتسر آگئے۔
س :    قیامِ پاکستان سے پہلے مسلمانوں ، ہندوئوں اور سکھوں کے آپس میں تعلقات کیسے تھے؟
ج  :        سارے مِل جُل کر رہتے تھے۔ بظاہر کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن ہندو شروع سے ہی بزدل، مکار اور متعصب تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندوئوں کی فطرت عیاں ہو رہی تھی۔ خود قائداعظم محمدعلی جناح پہلے ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ برِ صغیر کی تمام جماعتیں متحدہو کر انگریزوں سے نجات حاصل کریں۔ لیکن بعد میں ہندوئوں کی منصوبہ بندی اور سازشیں عیاں ہوتی گئیں تو قائداعظم نے اپنی بصیرت سے اندازہ کر لیا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد ہندو برِ صغیر پر اپنا غلبہ چاہتے ہیں۔ قائداعظم اپنی فہم و فراست اور دور اندیشی سے کام نہ لیتے تو آج برصغیر کے تمام مسلمان ہندوئوں کے غلام ہوتے اور ان سب کا وہی حال ہو رہا ہوتا جو آج بھارت میں مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان میں ہندو مسلمانوں پرجو ظلم وستم کررہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔ آج سکھ بھی پچھتا تے ہیں کہ انہوں نے قائدِاعظم کی بات کیوں نہ مانی۔ اب ہندو ذہنیت سب پر عیاں ہوتی جارہی ہے۔
س :    آپ نے تحریکِ پاکستان میں کس طرح حصہ لیا اور آپ کے علاقے میں مسلمانوں کا جوش و خروش کیسا تھا؟
ج  :        تحریکِ پاکستان کا جوش و خروش بڑے شہروں میں تھا۔ ہمارا چھوٹا ساقصبہ تھا۔ یہاں مسلمان کم جبکہ ہندو اور سکھ زیادہ رہتے تھے۔ اس لئے وہاں جلسے جلوس وغیرہ کا رجحان نہیں تھا۔ نوائے وقت اخبار بھی کبھی کبھار آتا تھا۔ اس کی خبریں اوردیگر ذرائع سے ملنے والی خبریں مسلمانوں کو پہنچ جاتی تھیں کہ مسلمانوں کے لئے الگ وطن پاکستان بن رہا ہے۔ پاکستان بن گیا تو مسلمان وہاں جا کر آباد ہوجائیں گے اور اپنی مرضی سے وہاں زندگی گزاریں گے۔ بس ایک ولولہ تھا کہ اپنا وطن بننے والا ہے۔ مسلمان چونکہ وہاں کم تھے اس لئے ہم لوگ خاموشی سے پیغام رسانی اورا طلاعات کی فراہمی کا فریضہ انجام دیتے تھے۔
س :    جب قیامِ پاکستان کا وقت قریب آگیا تو کیا ہندوئوں اور سکھوں کے رویوںمیں تبدیلی آئی؟
ج  :        اُس عرصے میں قرب وجوار سے خبریں آنا شروع ہوگئی تھیں کہ مسلمانوں پر حملے کئے جارہے ہیں۔ ان کا اسباب لوٹ لیا جاتا ہے، نوجوان لڑکیوں کی آبروریزی کی جاتی ہے اور مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کردیاجاتا ہے۔ پاکستان بننے کی خوشی اپنی جگہ تھی لیکن خوف وہراس کی فضا پیدا ہوگئی تھی۔ جیسا کہ آپ کو بتایاہے کہ ہندو بزدل اور مکار تھے۔ وہ لڑائی جھگڑے میں نہیں پڑتے تھے۔ لیکن سکھوں میں کچھ خداترس بھی موجود تھے۔ بہت سے سکھوں نے مسلمانوں کی حفاظت بھی کی۔
س :    آپ کو ہجرت کے دوران کیا مشکلات پیش آئیں؟
ج  :         جب پاکستان بننے کا اعلان ہوا توہندو اور سکھ مسلمانوں کو اعتماد میں لیتے کہ آئیں ہم آپ کو سرحد تک چھوڑ آتے ہیں۔ مسلمان گزشتہ مراسم کی وجہ سے ان پر اعتماد کرتے ہوئے اُن کے ساتھ چل پڑتے۔ سکھ کچھ دور کسی ویرانے میں لے جا کر اُن کو شہید کردیتے اور اُن کا مال و اسباب لوٹ لیتے اور واپس آکر کہتے ہم اُنہیں فوجی کیمپوں تک چھوڑ آئے ہیں۔ یوں مزید مسلمان خاندان ان کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہوجاتے۔ اس طرح انہوں نے کئی مسلمان خاندان شہید کردیئے۔ لیکن پھر یہ بات عیاں ہونے لگی کہ سکھ مسلمانوں کو قتل کررہے ہیں۔ہندو اور سکھ جتھوں کی شکل میں مسلم علاقوں پر حملہ کرتے اور قتل و غارت کرتے۔ ہمارے کئی عزیز رشتہ دار بھی ان کے ہاتھوں شہید اور زخمی ہوئے۔ہماری ایک رشتے کی خالہ ٹرین میں پاکستان جارہی تھیں۔راستے میں بلوائیوں نے حملہ کردیا۔ ان کے ماتھے پر کلہاڑی ماری اور مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے۔ ٹرین میں بہت سے مسلمانوں کو انہوں نے شہیدکیا۔ ہماری عزیزہ کی جان تو بچ گئی لیکن ماتھے پر گہرے زخم کا نشان عمر بھر رہا۔والد صاحب طویل القامت اور مضبوط جسم کے مالک تھے۔ ان کی شخصیت بہت پُروقار تھی۔ برما میں بہت ٹھاٹ سے زندگی گزاری تھی۔ بہترین گاڑی،  گھوڑی، دونالی بندوق رکھی ہوتی تھی۔ امرتسر میں بھی لوگ اُن کی بہت عزت کرتے تھے۔ کامل ولی کی نگاہ پڑی تو درویشی اختیار کرلی۔ ان کا مزار قبرستان میانی صاحب لاہور میں ہے۔
وہاں ہمارے علاقے کا ایک سکھ ذیلدار والد صاحب کی بہت عزت کرتا تھا۔ اس نے کہا کہ آپ ہماری حویلی میں آجائیں کیونکہ باہر سے سکھ آکر مسلمانوں پر حملے کررہے ہیں۔ لہٰذاباقی سکھ کرپانیں لے کر آئے اور ہمیں حویلی منتقل کردیا۔ خوف تھا کہ پتہ نہیں یہ سکھ بھی کیا سلوک کریں لیکن اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ذیلدار نے بانس رکھ کر ترپالیں ڈال دیں اور مشہور کر دیا کہ یہاں فوج آگئی ہے، اگر کوئی ادھر آیا تو خود ذمہ دار ہوگا۔ذیلدار اور اس کی بیوی آٹا اور دالیں وغیرہ دے گئے تاکہ خود پکائیں اور کھائیں۔ وہاں ایک کنواں بھی تھا۔ والد ہ تو کنویں کے قریب ہی رہتیں اور کہتیں کہ اگر سکھ حملہ آور ہوئے تو وہ اس میں چھلانگ لگا دیں گی۔ حویلی میں آنے سے پہلے وہاں کے سکھ کہتے تھے کہ پیسے دیں ہم آپ کو بحفاظت پہنچا دیں گے۔ ہم ارادہ بھی کرلیتے لیکن کبھی بارش ہوجاتی اور کبھی کوئی اور مسئلہ ہو جاتا۔ اس طرح قدرت ہمیں محفوظ رکھتی۔سکھ ذیلدارکی ایک بہن اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ راولپنڈی میں رہتی تھی۔ ایک روز سکھ کا بہنوئی وہاں پہنچا اور روتے ہوئے بتایا کہ تمہاری بہن اور بچوں کو مسلمانوں نے قتل کردیا ہے اور ہم ان مسلمانوں کی حفاظت کررہے ہیں تو سکھ ذیلدارطیش میںآگیا۔ اس نے اپنے بہنوئی سے کہا کہ اب ان کو نہیں چھوڑوں گا۔ ہم ان سب باتوں سے لاعلم تھے۔نہ جانے سکھ ذیلدار ہمارے ساتھ کیا سلوک کرتا لیکن اﷲ تعالیٰ نے کرم فرمایا اور اگلے ہی دن ذیلدار کی بہن اور بچے وہاں پہنچ گئے۔ اس کی بہن نے بتایا کہ اس کا شوہر انہیں مصیبت میں چھوڑ کر اکیلایہاں چلا آیا۔ کچھ مسلمان اپنی حفاظت میں ہمیں سرحد تک چھوڑ گئے ہیں۔ ذیلدار اپنے بہنوئی پربہت برہم ہوا کہ ایک تو میری بہن اور بچوں کو چھوڑ کر آگیا، دوسرا ان معصوم مسلمانوں کو مروا کر مجھ سے گناہ کروانے لگے تھے۔ ذیلدار کی بہن کو جب ہمارے بارے میں پتہ چلا تو اس نے اپنے بھائی سے کہا کہ جیسے بھی ہو ان مسلمانوں کو حفاظت کے ساتھ پاکستان بھجوائو۔ انہوں نے پہلے سے زیادہ ہمارا خیال رکھنا شروع کردیا۔
ذیلدارامرتسر گیا اور وہاں سے آرمی کے دو ٹرک لے کر آیا۔ ہمیں اُس نے گھر سے ریسٹ ہائوس منتقل کردیا تاکہ ہم زیادہ محفوظ رہیں۔ ذیلدارنی گھر سے ہمارے لئے کھانا لے کر آئی۔ آرمی کے ٹرک آئے تو نوجوان جلدی سے ان پر بیٹھ گئے۔ راستوں کا پتہ نہیں تھا۔ بارشیں بھی ہو رہی تھیں۔ بڑی مشکل سے پٹی کے علاقے میں پہنچے جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ علاقہ پاکستان میں شامل ہوگا لیکن بعد میں بھارت میں شامل کردیاگیا۔ دونوں ٹرک ان نوجوانوں کو لے کر رات کو واپس قصبہ نوشہرپنوواں آگئے۔


 یہ بات درست ہے کہ ہم برما اور پھر امرتسر میں بہت خوشحال تھے۔ ہجرت کے وقت راستے میں بہت مشکلات کا سامنا رہا لیکن پاکستان آکر ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے ہم جنت میں آگئے ہیں۔ جیسے کسی کے گھر سے ہم اپنے گھر آگئے ہیں۔ عزیز رشتہ داروں کی شہادتوں کا بھی دکھ تھا لیکن پاکستان مسلمانوں کی اُمیدوں کا مرکز تھا۔ یہاں آکر ہمیں لگا کہ ہم نے اپنی منزل پالی ہے۔ جہاں تک پچھتاوے کی بات ہے تو پچھتا وہ رہے ہیں جو ہندوستان میں رہ گئے تھے۔ آج ہندو کس طرح اُن پر ظلم وستم کررہے ہیں۔ مسلمانوں کے لئے اپنے مذہبی فرائض ادا کرنا بھی مشکل بنادیا گیا ہے۔


 آرمی کیپٹن جو کہ مسلمان تھا اُس نے کہا کہ خبردار اب اگر کوئی نوجوان ٹرک میں بیٹھا۔ پہلے عورتیں، بزرگ اور بچے جائیں گے۔ اس طرح ہمیں ٹرکوں میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ قصبہ نوشہر سے ترن تارن بارہ کلو میٹر کے فاصلے پر تھا جبکہ ترن تارن سے امرتسر بھی بارہ کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ آرمی ٹرکوں پر ہم امرتسر پہنچے۔ وہاں سے ڈوگرہ فوجی ہمیں واہگہ بارڈر تک چھوڑ گئے۔ یوں ہم پاکستان پہنچے۔
س :    پاکستان پہنچنے پر آپ اور دیگر مہاجروں کے کیاتاثرات تھے اور پاکستان آمد پر کیا صورتِ حال تھی؟
ج  :        آپ خود اندازہ کرلیں کہ موت کے منہ سے بچ جانے والوں کے کیا تاثرات ہوںگے۔ اپنی اُمیدوں کی سرزمین آزاد وطن میں پہنچ کر سب سے پہلے اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ترن تارن سے امرتسر تک ہم نے جگہ جگہ مسلمانوں کی لاشیں دیکھی تھیں۔ کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ کون زندہ سلامت پاکستان پہنچے گا۔ واہگہ بارڈر پر مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد پہنچی تھی۔ وہاں رضاکار مہاجرین کا اندراج کررہے تھے۔ کئی تندور لگے ہوئے تھے۔ جہاں روٹیاں لگائی جارہی تھیں۔ آنے والوں کو کھانا کھلایا جارہا تھا۔ بہت سے لوگ اپنے گھر والوں سے بچھڑ گئے تھے۔ کوئی پتہ نہیں تھا کہ کون زندہ ہے اور کون شہید ہوچکا ہے۔ پاکستان پہنچنے کے بعد عزیزوں کی تلاش شروع ہوئی۔ ہمارے کچھ رشتہ دار نہیں مل رہے تھے۔ کافی عرصے کے بعد وہ ملے۔
س :    ہندوستان سے جو مسلمان ہجرت کرکے پاکستان آئے تو سامان اور دیگر مال اسباب اپنے ساتھ نہیں لاسکے تھے تو پھر یہاں ملازمت یا کاروبار کا سلسلہ کیسے چلا؟
ج  :        ہمارے خاندان نے تو دو مرتبہ ہجرت کی پہلے برما میں تھے تو عالمی جنگ چھڑ گئی وہاں بہت بڑا مکان، گاڑی اور بہت مال و اسباب تھا۔ سب کچھ چھوڑ کر آنا پڑا۔ پھر پاکستان بنا توہم نے یہاں ہجرت کی ۔ یہ واقعی بہت مشکل تھا۔ اچھی خاصی زندگی گزار رہے تھے۔ جب خالی ہاتھ ہجرت کرناپڑی تو یہ تکلیف دہ تو تھا لیکن ایک جذبہ تھا کہ اپنا وطن ہے ۔ ہم لاہور، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور دیگر شہروں میں منتقل ہوتے رہے۔ کاروبار کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ پھر میانوالی میں ایک چکی الاٹ ہوئی تو وہاں کام شروع کردیا۔ بہت مشکل وقت گزارا لیکن محنت کی اور اﷲ تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمائی۔
    والد صاحب فورمین تھے، انہوں نے محنت سے اپنا مقام بنایا۔ ہم بھائیوں کو کاروبار کروایا۔ آج پاکستان کی بدولت اور اﷲ تعالیٰ کے کرم سے خوشحال ہیں۔


   الحمدﷲ ! پاکستان نے اپنے قیام سے اب تک بہت ترقی کی ہے ۔دنیا کی پہلی مسلم ایٹمی قوت ہے۔ مسلمان ہی نہیں تمام اقلیتیں بھی یہاں محفوظ ہیں۔ سب کو اپنی مذہبی تعلیمات  پر عمل کرنے کی آزادی ہے۔ مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر نفرت یا تعصب نہیں ہے۔ سب اپنی مرضی سے زندگی گزار رہے ہیں۔یہ وطن ہمارے لئے نعمت ہے۔ اگر کوئی چھوٹے موٹے مسائل ہیں تو وہ ہر جگہ ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ان مسائل پر بھی قابو پالیا جائے گا۔


س :    جیساکہ آپ نے بتایا اپنے آبائی قصبہ نوشہر میں آپ خوشحال تھے، علاقے میں عزت بھی تھی تو پاکستان آنے پر کبھی پچھتاوا تو محسوس نہیں کیا؟
ج  :        یہ بات درست ہے کہ ہم برما اور پھر امرتسر میں بہت خوشحال تھے۔ ہجرت کے وقت راستے میں بہت مشکلات کا سامنا رہا لیکن پاکستان آکر ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے ہم جنت میں آگئے ہیں۔ جیسے کسی کے گھر سے ہم اپنے گھر آگئے ہیں۔ عزیز رشتہ داروں کی شہادتوں کا بھی دکھ تھا لیکن پاکستان مسلمانوں کی اُمیدوں کا مرکز تھا۔ یہاں آکر ہمیں لگا کہ ہم نے اپنی منزل پالی ہے۔ جہاں تک پچھتاوے کی بات ہے تو پچھتا وہ رہے ہیں جو ہندوستان میں رہ گئے تھے۔ آج ہندو کس طرح اُن پر ظلم وستم کررہے ہیں۔ مسلمانوں کے لئے اپنے مذہبی فرائض ادا کرنا بھی مشکل بنادیا گیا ہے۔ جان و مال، عزت کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔ پاکستان نہ بنتا تو آج برصغیر کے تمام مسلمانوں کی یہی حالت ہوتی۔
س :    تو کیا آج کا پاکستان ویسا ہی ہے جیسا آپ نے سوچا تھا؟
ج  :        الحمدﷲ ! پاکستان نے اپنے قیام سے اب تک بہت ترقی کی ہے ۔دنیا کی پہلی مسلم ایٹمی قوت ہے۔ مسلمان ہی نہیں تمام اقلیتیں بھی یہاں محفوظ ہیں۔ سب کو اپنی مذہبی تعلیمات  پر عمل کرنے کی آزادی ہے۔ مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر نفرت یا تعصب نہیں ہے۔ سب اپنی مرضی سے زندگی گزار رہے ہیں۔یہ وطن ہمارے لئے نعمت ہے۔ اگر کوئی چھوٹے موٹے مسائل ہیں تو وہ ہر جگہ ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ان مسائل پر بھی قابو پالیا جائے گا۔
س :    قارئین کے لئے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ج  :        پاکستان ہمارا وطن ہے۔ اس کی ترقی کے لئے سب کومل جل کر کام کرنا چاہئے۔ ہر فرد اپنی ذمہ داری پورے کرے دیانتداری اختیار کرے۔ حقوق کے حصول کے علاوہ اپنے فرائض بھی نیک نیتی سے ادا کرے تو پاکستان دنیا کا مضبوط ، طاقت ور اور خوشحال ملک بن سکتا ہے۔


        [email protected]
 

یہ تحریر 87مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP