انٹرویو

تحریکِ پاکستان کے کارکن آزاد بن حیدر سے ملاقات

س  :    آپ کا خاندانی پس منظر، آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟ بچپن کیسا گزرا؟
ج  :    میں2 جنوری1932 کو علامہ اقبال کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوا۔ہمارا سلسلہ ٔ  نسب حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی۔مجھے تیسری جماعت میں نانی کے پاس گکھڑ کے قریب ایک گائوں بھیج دیاگیا۔ کچھ عرصہ وہاں تعلیم حاصل کی اور پھر سیالکوٹ آگیا۔ بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ میرا نام ذوالفقار علی ہے جو مولانا محمدعلی جوہر اور مولانا شوکت علی سے متاثر ہو کر رکھا گیا تھا۔ شاعری کا آغاز کیا تو ''آزاد'' تخلص رکھا۔ والد کانام حیدرتھا۔ اس طرح 'آزاد بن حیدر' کہلانے لگا۔ اب خاندان والے بھی آزاد ہی کہتے ہیں۔ اسلامیہ ہائی سکول سیالکوٹ میں آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ زمانہ طالب علمی میں تقریری مقابلوں میں اور مباحثوں میں حصہ لیتا رہا۔ بعد میں مذہبی تقریبات میں تقاریر کی وجہ سے مولانا اور بہت سے علماء کی طرف سے علامہ کے خطاب سے نوازا گیا۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ علامہ کا خطاب صرف علامہ اقبال  کو ہی زیب دیتا ہے۔



س  :    آپ کے زمانہ طالب علمی میں تحریکِ پاکستان کی سیالکوٹ میں کیا صورتِ حال تھی اور اُس میں کس طرح حصہ لیتے تھے؟
ج  :        اُن دنوں تحریکِ پاکستان زوروں پر تھی۔ حصولِ پاکستان کا نعرہ اور مطالبہ زورپکڑچکا تھا۔ مسلمانوں میں جوش و خروش پایا جاتا تھا۔میری خوش قسمتی کہ آغا ذوالفقار علی نے میری اُنگلی پکڑ لی ۔1944 میں انہوں نے مجھ سمیت بہت سے بچوں کو ''بچہ مسلم لیگ'' میںشامل کیا۔ تب جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی۔ جمعے کو بچے آغا ذوالفقار علی خان کے گھر اکٹھے ہوتے تھے۔ وہ تمام بچوں کو قائداعظم کے بارے میں بتاتے، اُن کا پیغام ہم تک پہنچاتے۔ آزاد ملک کی اہمیت اجاگر کرتے۔ یوں قائداعظم کی عظمت پاکستان کی محبت اور خدمت کا جذبہ ہم میں پیدا ہوا جو آج بھی قائم ہے اور 88 سال کی عمر میں پاکستان ہی میری خدمت کا مرکز و محور ہے۔
        ہم بچہ مسلم لیگ کے اراکین گلیوں اور بازاروں میں نعرے لگاتے تھے۔ وہ نعرے جو ہر مسلمان کی زبان پر تھے۔۔۔''لے کے رہیں گے پاکستان۔''  
    ''بن کے رہے گا پاکستان۔''، قائداعظم زندہ باد۔'' آغا صاحب کی رہنمائی کا یہ فائدہ ہے کہ پاکستان کی اہمیت کا اندازہ ہوا اور ہم نے اس کے حصول کے لئے جدو جہد شروع کردی۔ آغا صاحب نشست کے بعد بچوں کو پتیسہ اور ریوڑیاں بھی تقسیم کرتے۔
        میںنے1946 میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی رُکنیت حاصل کی۔ مجید نظامی اور مولانا عبدالستار نیازی بھی ایم ایس ایف میں تھے۔ دونوں سے ان کی وفات تک میرا تعلق رہا۔ ایم ایس ایف رُکن بن کر میں تحریکِ پاکستان میں زیادہ فعال ہوگیا۔ ہم گھر گھر مسلم لیگ کا پیغام پہنچاتے۔ جلسے جلوسوں میں شریک ہوتے۔ پاکستان کی مخالفت کرنے والوں کو دلائل سے قائل کرتے اور قائل نہ ہونے والوں کے پروپیگنڈے کو ناکام بناتے۔ تحریکِ پاکستان اور حصولِ پاکستان کے لئے جدوجہد نے مسلمانوں میں نئی روح پھونک دی تھی۔ قائداعظم کے حکم پر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نوجوان طالب علم اُن کی اُمیدوں پر پورا اُترے اور مسلم لیگ مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت بن کر اُبھری۔
س  :    کیاآپ کو کبھی قائدِاعظم کو دیکھنے یا اُن سے ملاقات کرنے کا موقع ملا؟
ج  :        1944 میں قائداعظم سیالکوٹ تشریف لائے تو میںنے بچہ مسلم لیگ کے دستے میں شامل ہو کر قائداعظم کے استقبال کا شرف حاصل کیا۔ میںنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ جھنڈیا ں لہرا کر قائداعظم کا استقبال کیا۔لیکن قائدِاعظم کو میںنے زیادہ قریب سے کراچی میں دیکھا، جہاں میں مسلم لیگ کے رضاکار کی حیثیت سے خدمات انجادم دے رہا تھا۔18اگست 1948 کو قیامِ پاکستان کے بعد پہلی عیدالفطر تھی۔ قائداعظم نے عیدالفطر کی نماز مرکزی عیدگاہ بند روڈ پر ادا کی۔ جو مولوی مسافر خانے سے قریب تھی جہاں ہم ٹھہرے  ہوئے تھے۔ مہاجر کیمپ میں کام کرنے والے تمام رضا کار بھی عید کی نماز پڑھنے گئے۔ قائداعظم اگلی صف میں تھے جبکہ ہم رضاکار آخری صفوں میں تھے۔ وہاں مجھے قائداعظم کو نزدیک سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کی سحرانگیز شخصیت کا عکس آج بھی ذہن میں موجود ہے۔میںنے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میںنے قائداعظم کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔ نہ میں خود کو ان کا ساتھی کہتا ہوں۔ میں خود کو اُن کا ادنیٰ کارکن سمجھتا ہوں اور اسی پر فخر محسوس کرتا ہوں۔
س  :    قیامِ پاکستان کے وقت آپ نے بطورِ رضاکار کہاں کہاں خدمات انجام دیں۔؟
ج :        میں1944 میں بچہ مسلم لیگ میں شامل ہوا۔ 1946میںمسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا کارکن بنا۔ جس کی وجہ سے زیادہ فعال ہوگیا۔ جب پاکستان بنا تو مسلم لیگ کے رضا کار کی حیثیت سے میں واہگہ پر خدمات انجام دے رہا تھا۔لیکن کراچی سے کال آئی کہ وہاں رضاکاروں کی سخت ضرورت ہے لہٰذا اس پر لبیک کہتے ہوئے مجھ سمیت کچھ رضاکار15 اور 16 اگست 1947ء کی درمیانی رات کراچی پہنچے۔ جہاں چار آنے کرائے پر مولوی مسافر خانے میں ٹھہرے جہاں چارپائی اور بستر کے ساتھ کھٹمل مفت میسر تھے۔ وہاں جانے کا فائدہ یہ ہوا کہ عید کی نماز پر قائداعظم کو دیکھنے کا موقع مل گیا جس کو میں اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔ یہاں جس قدر ممکن ہوا مہاجرین کی خدمت کی۔
س  :    آپ نے پاکستان بنتے دیکھا اُس  وقت لوگوں میں کیسا جذبہ تھا؟ جو مہاجر ہجرت کرکے آرہے تھے اُن کی حالت کیسی تھی اور اُن کی بحالی کے لئے کیا اقدامات کئے گئے تھے؟
ج  :        قائداعظم  کی قیادت نے برصغیر کے مسلمانوں میںنیا جذبہ اور ولولہ پیدا کردیا تھا۔1930 میں علامہ اقبال نے ایک تصور دیا تھا کہ مسلمانوں کے لئے الگ ریاست ہونی چاہئے۔ اس خاکے اور مطالبے کی بنیاد پر آل انڈیا مسلم لیگ عوامی تحریک کی صورت اختیار کرگئی۔ 1940 میں لاہور میں اجلاس ہوا جس میں قراردادِ لاہور منظور ہوئی۔ ہندوئوں کے اخبارات نے اِسے قراردادِپاکستان لکھا تو اِسی نام سے مشہور ہوگئی۔ حصولِ پاکستان کی جدوجہد میں تیزی آگئی۔ پاکستان بنا تو ہر شخص خدمت کے جذبے سے سرشار تھا۔ قائداعظم سمیت کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ یوں قتل و غارت شروع ہوجائے گی۔ ہندوئوں اور سکھوںنے مسلمانوں پر بہت ستم ڈھائے۔ جتھے بنا کر مسلمانوں پر حملے کئے گئے۔ مردوں کو بے دریغ قتل کیاگیا، عورتوں کی آبروریزی کی گئی، بچوں کو نیزوں پر اُچھالاگیااور ہجرت کرنے والوں کو مال و اسباب سے محروم کردیاگیا۔ جو لُٹے پٹے قافلے پاکستان پہنچتے وہ بہت خستہ حال ہوتے، ہم مہاجرین کی فہرستیں بناتے، تب مسلمانیت غالب تھی۔ ہر سندھی کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ مہاجرین اپنے گھر لے جائے۔ ڈرگ روڈ اور دیگر مہاجرکیمپوں میں مقیم مہاجرین کے لئے  یہاں کی سندھی اور بلوچی عورتیں پراٹھے، روٹیاں اور کھانے پکاکر بھجواتی تھیں۔ مقامی لوگوں میں قربانی کا بہت جذبہ تھا۔ لوگ کپڑے، برتن، بستر اوردیگر سامان آرام باغ لاکر رکھ دیتے تھے۔ کیمپوں میں سے مہاجر وہاں آتے اور اپنی ضرورت کا سامان لے جاتے تھے۔ہم رضا کار بھی مختلف کیمپوں میں سامان اور ضرورت کی اشیاء پہنچاتے تھے۔ تب کوئی علاقائی  یا لسانی تعصب نہیں تھا۔ سب اپنے مسلمان بہن بھائیوںکی خدمت کے لئے تیار تھے۔
س  :    قائداعظم نوجوانوں کو تعلیم کے حصول پر بہت زور دیتے تھے۔ آپ آٹھویں جماعت کے بعد مسلم سٹوڈنٹس فیڈریش کے پلیٹ فارم پر تحریکِ پاکستان اور پھر رضاکار خدمات میں مصروف ہوگئے تو تعلیم کا حرج ہوا ہوگا ، پھر آپ نے کیسے قائداعظم  کی ہدایت پر عمل کیا؟
ج  :        قائداعظم کا ادنیٰ کارکن ان کی حکم عدولی کیسے کرسکتا تھا۔ رضاکارانہ خدمات انجام دینے کے بعد میں1948 میں سیالکوٹ گیا اور میٹرک کا امتحان دیا۔ ابھی نتیجہ نہیں آیا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ لہٰذا نارووال سیکٹر اور شکر گڑھ جاکر کشمیر سے آنے والوں کی فہرستیں تیار کیںلیکن میرا دل قائدکے شہر کراچی میں ہی اٹک گیا تھا۔ میرے والدین تو سیالکوٹ میں ہی رہے لیکن میں مستقل طور پر کراچی آگیا، گویا ''کراچوی'' ہوگیا۔ میٹرک کے بعد ایک سال تک سیالکوٹ میں ایک کثیر القومی ادارے میں سیلز مین بھی رہا مگر پھر کراچی میں ایک دوست کے توسط سے وزارتِ خارجہ میں سٹور کیپر کے طور پر کام کیا۔ میٹرک سے اعلیٰ تعلیم تک میںنے اپنے والد سے کوئی پیسہ نہیں لیا اور اپنی مدد آپ کے تحت تمام تعلیم حاصل کی۔1952 میں منشی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ جس کے بعد انگریزی کے دو امتحان دے کر انٹر اور بی اے کے مساوی قرار پایا۔1961 میں ایم ایس لاء کالج سے وکالت کی تعلیم حاصل کی۔ ایم اے فارسی کیا۔ زمانہ طالب علمی میں بطورِ مقرر تقریری مقابلوں اور مباحثوں میں شرکت کرکے انعامات حاصل کرتا رہا۔ چونکہ لاء کیا ہوا تھا تووکالت شروع کردی۔ سپریم کورٹ میں وکالت کرتا رہا۔ اب چیمبر پریکٹس کرتا ہوں اورتصنیف و تالیف میں زیادہ وقت گزارتا ہوں۔ 1962 میں میری خاندان میںشادی ہوئی۔ دوبیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔
س :        آپ نے اب تک کتنی کتابیں لکھیں اور ان کے موضوعات کیا ہیں؟
ج :         میری تقریباً35 کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔30 کتابیں تو قائداعظم، مادرِ ملت، علامہ اقبال، مسلم لیگ اور تحریکِ پاکستان کے رہنمائوں کے بارے میں ہیں۔ ایک کتاب تقریباً1200 صفحات پر مشتمل ''تاریخ آل انڈیا مسلم لیگ۔ سرسیدسے قائداعظم تک'' ہے۔ بقول سید شریف الدین پیرزادہ ''کتاب مسلم لیگ کا انسائیکلوپیڈیا ۔ جناب آزاد بن حیدر کا یہ تاریخی کارنامہ ہے۔''  اخوان المسلمون کے بانی سربراہ حسن البناء نے اپنے خط میں قائداعظم کو لکھا تھا۔  ''محمدعلی جناح آپ میرے رہبر ہیں۔'' اسی تحریک کے رہنما مصر کے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی وفات پر کراچی میں بہت بڑا تعزیتی ریفرنس منعقد کروایاہے اور ان کے بارے میں ایک کتاب مرتب کی ۔جس میں ان کی وفات پر لکھے گئے تمام کالم بھی شامل کئے ہیں۔ ایک کتاب ''علامہ اقبال، یہودیت اور جمہوریت'' بقول ڈاکٹر عبدالقدیر خان 'مصنف نے اس کتاب میں علامہ اقبال کے افکار کی روشنی میں یہودی جمہوریت کو بے نقاب کیا۔' 
    اسی طرح مزید کتابوں پر بھی کام جاری ہے۔
س :        ہم تو یہی سنتے آئے ہیں کہ قائداعظم جمہوریت کے حامی تھے اور پاکستان کے لئے پارلیمانی نظام ہی موزوں ہے۔جبکہ آپ کا کہنا ہے کہ قائداعظم پاکستان میں صدارتی نظام قائم کرنا چاہتے تھے اور آپ نے ایک کتاب ''جناح کا پیغام ۔ صدارتی نظام'' بھی مرتب کرکے شائع کی ہے۔ حالیہ ماہ میں اس سلسلے میں میڈیامیںکافی بحث رہی۔ کیا یہ کتاب بھی اسی ایجنڈے کا حصہ تو نہیں ہے؟
ج  :        میںنے ساری زندگی قائداعظم کے افکار کے فروغ کے لئے کام کیا ہے۔ میں قائداعظم سے کوئی ایسی بات منسوب کرنا گناہ سمجھتا ہوں جو انہوں نے نہ کی ہو۔ صدارتی نظام کے حوالے سے یہ میری رائے نہیں بلکہ وہ قائداعظم کی مرضی اور ان کا منشور تھا کہ پاکستان میں فرانسیسی طرز کا صدارتی نظام ہوگا۔ قائداعظم کے ہاتھ کی لکھی ہوئی 10 جولائی1947 کی تحریر موجود ہے جو اس کتاب میں بھی شامل ہے۔ قائداعظم نے اسی لئے اپنے لئے گورنر کاعہدہ پسند کیا تھا اور لارڈ مائونٹ بیٹن  کے اصرارکے باوجود پاکستان کے وزیرِاعظم نہیں بنے۔ بعد میں وزیرِاعظم اور ان کی کابینہ کے اجلاس کی صدارت بھی قائداعظم نے بطورِ گورنر جنرل کی۔ قائداعظم نے اپریل میں بیگم جہاںآراء شاہنواز کو بتایا۔ ''میں پندرہ ماہ سے پاکستان کے لئے ایک آئین ڈرافٹ کررہا ہوں جونئے فرانسیسی آئین پر مبنی ہے۔ یہ کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔''
        صدارتی نظام کی خوبیاں امریکہ، فرانس اور اب ترکی میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ میںنے اس کتاب میں صدارتی نظام کے حق میںاورمخالفت میںلکھے جانے والے تمام کالم شامل کردیئے ہیں تاکہ تقابلی جائزے میں آسانی ہو۔
س  :    قیامِ پاکستان کے بعد اس نوزائیدہ مملکت کو کن مسائل و مشکلات کا سامنا رہا؟
ج :        مسائل تو تقسیمِ ہند کا اعلان ہوتے ہی شروع ہوگئے تھے۔ قتل وغارت  شرو ع ہوگئی تھی۔ لاکھوں مسلمان شہید کردیئے گئے۔ 14 اگست 1947 تک پورا کشمیر پاکستان میں شامل تھا۔ لیکن اگلی ہی رات لارڈ مائونٹ بیٹن اور نہر و کی سازش سے گرداس پور سے ملحقہ ایک گائوں کی سڑک بھارت کے نقشے میںشامل کرکے ہمیں کشمیر سے محروم کردیاگیا۔بعد میں بھارت نے کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کردیں۔11ستمبر1948کو قائداعظم انتقال کرگئے۔ یہ بہت بڑا قومی سانحہ تھا۔ اس سے اگلے دن ہی بھارت نے دوسری سازش کرکے حیدرآباد پر قبضہ کرلیا۔ اس وقت امریکہ، دہلی اور کراچی میں ریاست حیدرآباددکن کے سفیرموجود تھے۔ کراچی والے سفیر کی وساطت سے نواب حیدر دکن سے ہمارا معاہدہ ہو چکا تھا کہ ریاست کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہوگا۔ لیکن بھارت نے اس پر قبضہ کرلیا۔ حالانکہ معاہدے کی دستاویزات آج بھی موجود ہیں۔ جونا گڑھ پاکستان کا پانچواں صوبہ تھا۔ لیکن اس پر ہندوستان نے قبضہ کرلیا۔1971میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ قیامِ پاکستان میری زندگی کا خوشگوار ترین جبکہ سقوطِ ڈھاکہ غمگین ترین واقعہ تھا۔ مشرقی پاکستان، جوناگڑھ، حیدرآباد دکن اور مقبوضہ کشمیر کے علاقوں کو ملاکر کہتا ہوں کہ ہمارا 75 فیصد حصہ بھارت کے قبضے میں ہے۔ صرف 25 فیصد ہمارے پاس ہے۔ میں ایک کتاب لکھ رہا ہوں کہ کس طرح قائداعظم کے افکار پر عمل کرکے پاکستان کے بقیہ 25فیصد حصے کو نہ صرف بچایاجاسکتا ہے بلکہ مزید تعمیر و ترقی کی منازل طے کی جاسکتی ہیں۔


        [email protected]
 

یہ تحریر 49مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP