قومی و بین الاقوامی ایشوز

تحریکِ پاکستان میں مولانا حسرت موہانی کا کردار

سید الاحرار مولانا فضل الحسن حسرت موہانی تحریکِ پاکستان کے ممتاز ترین زعماء میں سے ایک ہیں۔ اِن کی وفات کی خبر سن کر حمید نظامی مرحوم نے اپنی ذاتی ڈائری ’’نشانِ منزل‘‘ میں لکھا تھا :
’’آج مولانا حسرت موہانی انتقال کر گئے اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔ مولانا کی موت سے تاریخ کا ایک باب ختم ہو گیا۔ مرحوم وضعداری، خود داری اور استقلال کا پیکر تھے۔ دس بارہ برس مسلم لیگ کے صفِ اوّل کے لیڈروں میں شمار رہا مگر قائداعظم کی بھی کبھی خوشامد نہ کی۔ مسلم لیگ نے اپنے اجلاس لکھنو (1937ء) میں اپنا نصب العین آزادی کامل مولانا حسرت موہانی کی تجویز پر ہی منظور کیا تھا۔ ملک تقسیم ہوا تو بڑے بڑے مسلم لیگی لیڈر پاکستان بھاگ آئے مگر مولانا حسرت موہانی آخر وقت تک ہندوستانی پارلیمنٹ میں حق گوئی کا فرض ادا کرتے رہے۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔‘‘

( 13مئی 1951ء )
اس عجب آزاد مرد نے مسلم لیگ ہی کو آزادی کامل کا مسلک اپنانے پر مجبور نہیں کیا تھا بلکہ اس سے ربع صدی پیشتر کانگریس اور مسلم لیگ کے مشترکہ سیشن میں بھی آزادی کامل کے لیے ریزولیشن پیش کیا گیا تھا۔ جب مہاتما گاندھی کو بتایا گیا کہ کل کے اجلاس میں مولانا حسرت موہانی آزادی کامل کی آواز بلند کرنے والے ہیں تو مہاتماگاندھی فوراً مولانا کی رہائش گاہ پر آئے مگر ان کی ساری منطق اور سارے استدلال کے باوجود مولانا اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ دوسرے روز جب مولانا نے آزادی کامل کے حصول کا ریزولیشن پیش کیا تو خود مہاتما گاندھی نے اس مطالبہ کو غیرذمہ دارانہ اور غیر معقول قرار دیتے ہوئے اس کی پُرزور مذمت کی۔ یوں مولانا حسرت موہانی برٹش انڈیا کے پہلے سیاستدان اور دانشور ہیں جنھوں نے آزادی کامل کو ہندوستان کی تحریک آزادی کا جلی عنوان بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ انھوں نے یہ مطالبہ ایک ایسے زمانے میں کیا تھا جب کانگریس کے مہاتما گاندھی اور مسلم لیگ کے سر آغا خان برطانوی استعمار کے عتاب سے اس طرح کے مطالبہ گریزاں تھے۔
سید الاحرار مولانا حسرت موہانی سیاستدان اور صحافی بھی تھے اور شاعر اور عاشق بھی۔ ان ہر چار میدانوں میں انھوں نے حق گوئی اور بیباکی کا دامن کبھی نہ چھوڑا۔ اپنے رسالہ ’’اردو معلی‘‘ میں انھوں نے مصر میں برطانوی استعمار کی ہلاکت خیزیوں پر قلمی نام سے ایک طویل مضمون شائع کیا تو برطانوی ہند کی حکومت نے انھیں مجبور کیا کہ وہ مضمون نگار کا اصل نام اور پتہ بتا دیں۔ یہ مضمون مولانا کے رسالہ کے ایک قلمی معاون نے لکھا تھا۔ جبرواستبداد کی کڑی آزمائش میں بھی مولانا نے صحافتی اخلاق کو مدنظر رکھتے ہوئے مضمون نگار کا نام بتانا گوارا نہیں کیا مگر خود قید بامشقت قبول کر لی۔ اسی قید و بند کے زمانے کا یہ شعر ہے:
ہے مشق سخن جاری، چکّی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی
ان کی محبوب بیگم کی عزتِ نفس کا یہ حال تھا کہ حسرت کے قید و بند کے زمانے میں جب ایک سرمایہ دار نے بیگم حسرت موہانی کو مالی امداد کی پیشکش کی تو ان کی غیرت فقر نے اس امداد کوقبول کرنا گوارا نہ کیا۔ جب امداد کی پیشکش کرنے والے نے مولانا سے اپنی عقیدت کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ اگر حسرت سے ایسی ہی عقیدت ہے تو ان کی کتابیں خریدیں مگر میں امداد قبول کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔
بابائے قوم حضرت قائداعظمؒ نے قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی مولانا کو پاکستان آنے کی دعوت دی جبکہ یو پی ہی کے ایک اور لیڈر چوہدری خلیق الزمان کو بھارت میں رہ کر مسلمانوں کی خدمت کا مشورہ دیا۔ ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے کہ چوہدری خلیق الزماں تو پہلی فرصت میں نئے ملک کے نئے مواقع سے فیض یاب ہونے کے جذبہ سے پاکستان چلے آئے مگر مولانا حسرت موہانی بھارت میں رہ کر بھارتی مسلمانوں کے حقوق کی نگہبانی کا فریضہ انتہائی جرأت اور پامردی کے ساتھ ادا کرتے رہے۔ مجید نظامی مرحوم نے مولانا کی وفات پر اپنے مختصر تاثرات قلمبند کرتے وقت اسمبلی کے اندر مولانا کی جرأت گفتار اور صلابت کردار کا تذکرہ کیا ہے۔ مولانا اسمبلی کے باہر بھی مسلمانوں کے حقوق اور ان کی فکری آزادی اور تہذیبی انفرادیت کی حفاظت کا حق ادا کرتے رہے۔
طلوعِ آزادی کے ساتھ ہی بھارتی مسلمانوں کو براہِ راست یا بالواسطہ کانگریسی سیاست کا جزو لاینفک بنانے کی مساعی شروع ہو گئی تھیں۔ دسمبر 1937ء میں ایک کل جماعتی مسلم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام مسلم ادارے سیاسی حیثیت سے ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ مولانا حسرت موہانی کی سیاسی بصیرت اور دینی نظر نے اس کانفرنس کو ناکام بنا دیا تھا۔ اپنے 27دسمبر1948ء کے ’’روزنامچہ‘‘ میں مولانا رقم طراز ہیں:
’’مولانا ابوالکلام آزاد نے صاف صاف اقرار کیا کہ آج کی کانفرنس کا صرف ایک مقصد ہے وہ یہ کہ تمام مسلم ادارے سیاسی حیثیت سے ختم ہوں کل فرقہ وارانہ جماعتیں کانگریس میں مدغم ہو جائیں‘ اس پر ہم لوگ یہ کہہ کر چلے آئے کہ ’’ہم لوگوں کی شرکت بیکار ثابت ہو گی۔‘‘ دورانِ گفتگوچلتے چلتے میں نے ایک فقرہ ابوالکلام کے متعلق چْست کر دیا اور جس سے ان کی ساری کارستانیوں پر پانی پھر گیا اور جس سے وہ انتہا درجہ بھنائے۔ میں نے کہا 1857ء میں برٹش گورنمنٹ کی بدگمانیاں رفع کرنے کی غرض سے سرسید نے مسلمانوں کو صرف تعلیمی اور سماجی امور پر زور دینے کی تلقین کی تھی بالکل اسی طرح 1947ء میں آپ کانگریس کے ساتھ مسلمانوں کو وفاداری سکھاتے ہیں اور اسلامی اداروں کوسماجی امور کے لیے محدود کر دینے کے درپے ہیں۔ لاحول ولا قوہ اِلا باللّہ۔‘
شریعت اور طریقت ، درویشی اور انقلاب کا جیسا سچا اور جیتا جاگتا امتزاج مولانا حسرت موہانی کی ذات میں پایا جاتا تھا وہ عہد حاضر کی بہت کم شخصیات کو نصیب ہوا ہے۔ مولانا کی برسی قومی پیمانے پر منانے کی ضرورت ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ مولانا تحریکِ پاکستان کے انتہائی بے لوث اور بے حدا نتھک مجاہد تھے بلکہ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ مولانا کی شخصیت جن اسلامی اقدار کا مثالی نمونہ تھی‘ برسی کی تقریبات ان کے فروغ کاموثر ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اپنی شخصیت اور اپنی دینی و سیاسی جدوجہد کو خود مولانا نے اپنے اس شعر کے دو مصرعوں میں بڑی خوبی کے ساتھ منتقل کر دیا ہے:
درویشی و انقلاب مسلک ہے مرا
صوفی مومن ہوں، اشتراکی مسلم
[email protected]

عساکرِ پاکستان کا نغمہ

پاک سپاہ ہے اپنی جان
پاک وطن‘ اپنا ایمان
دونوں سے ہے اپنی شان
اِن پر اپنی جاں قربان
زندہ باد۔ پاکستان
جنگ میں ہوں گے سب سے پیش
ہم مجاہد‘ ہم درویش
حق کا ساتھ ہمارا کیش
مار بھگائیں گے شیطان
زندہ باد۔ پاکستان
اُٹھو شیرو! دیر نہ ہو
دشمنوں کو اِک دم جا لو
پھر جو ہونا ہے‘ سو ہو
رَن پڑے بیشک گھمسان
زندہ باد۔ پاکستان
ارضِ وطن کے رکھوالو 
فتحِ مبیں کے متوالو!
’’ضربِ عضب‘‘ کو اُجیالو
تکیہ رب پر ہو ہر آن
زندہ باد۔ پاکستان
(خواجہ محمداصغر پرےؔ )

یہ تحریر 64مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP