قومی و بین الاقوامی ایشوز

تحریکِ آزادی مقبوضہ کشمیر ، سوشل میڈیا صارفین اور نوجوان

مقبوضہ کشمیر کے عوام پر بھارتی مظالم ،آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35Aکی منسوخی، بھارت کی جانب سے ایک بار پھر مسلط کردہ جنگ کے اشارے اور سوشل میڈیا کا میدان کے موضوع کو لے کر ماہنامہ ہلال نے ملک بھر کے نوجوانوں سے ان کی رائے لی۔
 بانیٔ پاکستان کے شہر کی رہائشی اور پی سی ایچ ایس کالج کی میڈیکل سائنس کی طالبہ اصباح شعیب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر 1947سے ہی حقوق اوربقاکی جنگ سے نبردآزما ہے۔ بھارت نے انہیں پتھروں کے دور میں دھکیل دیا ہے کئی ہفتوں سے وہ لوگ گھروں میں محصور ہیں ۔یوں کسی کی آزادی سلب کرنے پر باقی ممالک کو ان کے حق کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔لائن آف کنٹرول کی کشیدگی دیکھ کر بھارت کے دماغ کے خناس کااندازہ ہوتا ہے۔گجرات کے قصائی مودی کو سمجھنا چاہئے کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں ہے کیونکہ جنگ تو قوموں کی بربادی کا سامان کرتی ہے جبکہ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار بھی ہیں۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کے شعبہ معاشیات کی طالبہ حیا زہرا کے مطابق بھارت کی جانب سے آمرانہ اقدام کسی طور قابل قبول نہیں ہے بھلا کشمیریوں سے کسی نے پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کے عوام بھا رتی قابض فوجیوں سے نجات چاہتے اور اپنے حق کے لئے 73 سال سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ جنگی جنون میں مبتلا بھارت ایک بار پھر ہم سے جنگ کرنا چاہ رہا ہے اس پر صرف اتنا کہوں گی، بھارت کیا 27فروری کا واقعہ بھول گیاہے ؟ بین الاقومی سروے کے مطابق پاکستان کی ستر فیصد آبادی نوجوانوںپر مشتمل ہے۔تو بھارت سن لو یہاں کا ہر جوان سکواڈرن لیڈر حسن جیسا ہے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے فرسٹ ائیر کامرس کے طالب علم علی حسنین نے گفتگو کا حصہ بنتے ہوئے کہا کہ مجھے حیرت ہے آج کی ماڈرن ورلڈ میں بھارت جنگ کی بات کرتا ہے۔کوئی بھارت کو سمجھائے اگر جنگ ہوئی تو یہ اٹیمی جنگ ہوگی۔ہمارے سامنے دوسری جنگ عظیم سے منسلک امریکہ اور جاپان کا واقعہ بھی سامنے ہے۔ جہاںکئی سالوں تک انسانی حیات متاثر رہی ہے جبکہ زمین اناج اُگانے سے قاصر رہی ہے۔آزادی مقبوضہ کشمیر کے عوام کا بنیادی حق ہے۔ آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کھلی جارحیت اور جنونیت ہے۔
کراچی یونیورسٹی میں زیر تعلیم، شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی طالبہ نمرہ حق نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ دور حاضر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ جنگ نیو کلئیر تصادم ہوگا لہٰذا یہ صورتحال نہ صرف پاکستان بلکہ خود بھارت کے لئے بھی مناسب نہیں ہے۔یہ جنگ تیسری جنگ عظیم میں بھی بدل سکتی ہے۔اس لئے بھارت کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے مظلوم کشمیریوں کا صبر مزید نہیں آزمانا چاہئے۔ آرٹیکل370 اور 35A کی منسوخی کے بعد کشمیر بین الاقومی مسئلہ بن گیا ہے۔جس ایشوکو دُنیا فراموش کر بیٹھی تھی ہندوستان نے اسے جلا بخشی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت اقوام عالم کی نگاہیں مقبوضہ کشمیر کے متاثرین پر ہیں۔اگرچہ بھارتی میڈیا جھوٹے پروپیگنڈے کر رہا ہے مگر بین الاقوامی میڈیا کے نشر واشاعت کے ذرائع جس طرح مقبوضہ کشمیر کی عکاسی کر رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وادی کا ایک ایک فرد ہندوستان سے بیزار ہے۔
سندھ یونیورسٹی حیدر آباد کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے محمد نبیل کا کہنا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں وہ تو خود ایک مسئلہ ہے۔جنگ اپنے ساتھ، تباہی، بربادی ،خون ریزی کا طوفان لاتی ہے۔ جنگ اگر بقا اور ظلم کے خلاف ہو تو لڑی جانی چاہئے تاہم یہ کوئی حل نہیں ہے بہرحال بات چیت ہی مؤثر طریقہ ہے۔
میرے خیال میں اس معاملے کو لے کر حکومت پاکستان کی پالیسی درست ہے۔حکومت کی پالیسی ہے کہ جنگ کے بغیر کشمیرکے مسئلے کو حل کیا جائے۔مگر بھارت کی حکومت اس مسئلے کو انا کا مسئلہ سمجھ کر کشمیر کے عوام، جو کشمیر کے سٹیک ہولڈرز ہیں، کے حقوق سلب کرتی نظر آ رہی ہے۔
  میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے طالب علم سرفراز حسین سبحانی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ آرٹیکل370اور 35A کی منسوخی سے بھارت کے جارحانہ عزائم کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ وادی کشمیر کو جیل خانے میں تبدیل کر رکھا ہے جہاں پر ظلم و ستم کی انسانیت سوز داستانیں رقم  ہیں۔ ایسے میں بھارت عالمی دنیا کی توجہ ان مظالم سے ہٹانے کے لئے لائن آف کنٹرول پر چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے جس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول سے ملحقہ علاقوں میں بسنے والے لوگ  بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی جنگ کا سماں ہے کچھ لوگ جنگ کے حامی ہیں اور کچھ امن کے لیکن اس سنگین معاملے میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا مسئلہ کشمیر بین الاقوامی مسئلہ ہے اگر یہ تنازعہ شدت اختیار کر گیا تو اس سے پوری دنیا کا امن تباہ ہو سکتا ہے اقوامِ عالم کو جلد از جلد اس کا مثبت حل نکالنا ہوگا کیونکہ کشمیری مکمل طور پر ہندوستان سے آزادی چاہتے ہیں پاکستانی افواج سمیت پوری کشمیری قوم جذبہ جہاد سے سرشار ہے۔ صرف جہاد کے باضابطہ اعلان کے انتظار میں ہے اور اگر یہ جنگ ہو گی تو یہ روایتی جنگی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ نیوکلیئر ہتھیاروں تک جائے گی جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے ۔


[email protected]
 

یہ تحریر 207مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP