معیشت

بیرونی  قرضے اور معیشت پر اثرات

 اندرونی اور بیرونی قرضے یوں تودنیابھرکی معیشتوں کا معمول ہیں لیکن جب ان قرضوں کی شرح ایک حد سے تجاوز کر جائے تو معیشت غیر معمولی دبائو کا شکار ہو جاتی ہے۔ پاکستان کیا، دنیا کی ہر معیشت میں اندرونی اور بیرونی قرضوں کا تھوڑا یا زیادہ عمل دخل ضرور ہوتا ہے۔ مالیاتی ماہرین نے  اس دبائو کے تعین کے لئے کئی پیمانے بھی طے کر رکھے ہیں کہ معیشت کے لئے کتنا قرض مالیاتی معمول اور اس کے بعد غیر معمولی حیثیت  اختیار کر لیتا ہے۔


 


 بدقسمتی سے پاکستان کی معیشت ان قرضوں کی دلدل میں مسلسل دھنستی جا رہی ہے ۔ کبھی کم اور کبھی زیادہ لیکن مجموعی طور پر ہمیں گزشتہ دو چار دہائیوں سے یہ دبائو بدستور بڑھتا ہی دکھائی دیا۔سٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جی ڈی پی اور اندرونی اور بیرونی قرضوں کا تناسب سال  ٢٠١٨  میں ٧.٨٦فیصدتھا جبکہ ایک سال قبل سال ٢٠١٧  میں یہی تناسب ٣.٧٥ فیصد  تھا۔ یوں ایک ہی سال میں یہ تناسب سات فی صد سے بھی  بڑھ گیا۔ 
قرضوں کے علاوہ حکومت کو اپنے حکومتی اداروں یا عالمی سرمایہ کاروں یا اداروں کو مختلف طرح کی مالیاتی گارنٹیز بھی دینا پڑتی ہیں جِسے سوورن گارنٹیز کہا جاتا ہے، یہ حکومتی گارنٹی بھی ایک طرح کی مالیاتی ذمہ داری ہوتی ہے۔ معیشت کے ذمہ واجب الادا قرضوں کے حساب میں یہ ریاستی گارنٹیز بھی اندرونی و بیرونی قرضوں میں شامل کرکے اسے مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے تناسب سے دیکھا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو سٹیٹ بینک کے مطابق سال ٢٠١٨ میں پاکستان کے اندرونی، بیرونی قرضے اور مالی ذمہ داریاں جی ڈی پی کا  ٧.٨٦ فیصدتھے جبکہ سال ٢٠١٧ میں یہ تناسب ٦.٧٨ فیصد تھا ۔ یوں یہ تناسب ایک سال میں تقریباً آٹھ فی صد بڑھ گیا۔  
گزشتہ چند سالوں سے معیشت کے اندرونی اور بیرونی قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔سی پیک کی سرمایہ کاری اور اس کے علاوہ براہ ِ راست بیرونی سرمایہ کاری کے سبب تجارتی خسارہ بڑھا اور معیشت پر بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھنا شروع ہوا تو ایک مؤقف یہ بھی دہرایا جاتا رہا کہ معیشت میں اس غیرمعمولی سرمایہ کاری کی وجہ سے وقتی دبائو ہے۔اس سرمایہ کاری کے ثمرات  معیشت میں اضافی پیداوار کی صورت میں جب ظاہر ہوں گے تو معیشت کی ان قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں بھی اسی تناسب سے یا شائد کچھ زائد تناسب سے ہی اضافہ ہو گا۔ اس لئے بیرونی قرضوں میں اضافے پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں لیکن گزشتہ ڈیڑھ سال سے پاکستان کی معیشت کو اچانک غیرمعمولی دبائو کا سامنا ہے۔ اس دبائو کا ایک اَن چاہا نتیجہ ہمارے سامنے خوفناک حد تک بڑھے ہوئے اندرونی اور بیرونی قرضوں میں مزید نئے قرضوں کا بوجھ ہے۔  
اس تیز رفتاری سے اندرونی اور بیرونی قرضوں میں کیوں اضافہ ہوا؟ اس کا جواب سٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ میں کچھ یوں ہے: برآمدات میں معمولی اضافے کے برعکس درآمدات میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا۔ تجارتی خسارہ سال ٢٠١٦ میں٧.١ فیصد سال ٢٠١٧ میں ١.٤ فیصد جبکہ سال ٢٠١٨ میں یہی خسارہ بڑھ کر جی ڈی پی کا٨.٥ فیصد ہو گیا۔  دوسری جانب بجٹ خسارہ بھی مسلسل بڑھتا گیا ۔ یوں دوہرے خسارے یعنی تجارتی اور بجٹ خسارے میں بیک وقت اضافہ معیشت میں قرضوں کے اس قدر بوجھ کا باعث بنا۔ 
ان قرضوں میں بیرونی قرضوں کی صورت کچھ یوں رہی:  بیرونی قرضوں کا حجم  سال ٢٠١٦ میں تقریباً  ٥٨ ارب ڈالرز،سال ٢٠١٧ میں ٦٢ ارب ڈالرز جبکہ سال ٢٠١٨ میں٧٠ ارب ڈالرز سے کچھ زائد رہا۔ بیرونی قرضوں کے حجم میں اگر حکومت کی کل دیگر مالیاتی پشت پناہی یعنی لائیبیلٹی کو بھی شامل کر لیا جائے تو  پاکستان کے کل بیرونی قرضوں اور مالیاتی ذمہ داریوں کا کل حجم بالترتیب سال٢٠١٦ میں ٩.٧٣، سال٢٠١٧ میں٤.٨٣ اور سال٢٠١٨  میں ١.٩٥ ارب ڈالرز رہا ۔ جی ڈی پی اور بیرونی قرضوں اور مالیاتی ذمہ داریوں کا تناسب  سال ٢٠١٨  میں٦.٣٣فیصد ہو گیا جو اس سے قبل پانچ سالوں کے دوران ٢٦فیصد کے لگ بھگ رہا۔ 
قرضوں کے حجم میں اضافے کے علاوہ ایک اور رجحان بھی گزشتہ دو سال سے نمایا ں رہا۔ حکومت نے قومی بینکوں کے قرضوں اور کچھ طویل مدت قرضوں کی ادائیگی تو ضرور کی لیکن سٹیٹ بینک سے نئے قرض لے کر بینکوں سے قرضوں کے موجودہ رجحان میں قلیل مدت قرضوں پر تکیہ کرنا پڑ رہا ہے۔ ان قرضوں پر مارک اپ کی شرح بھی زیادہ ہے اور ان کی ادائیگی کے لئے پھر سے نئے قلیل مدت قرضے لینے پڑتے ہیں، اس عمل کو مالیاتی اصطلاح میں رُول اوور کرناکہتے ہیں۔ یہ صورت کچھ بیرونی قرضوں میں بھی ہے جہاں قلیل مدت اور کمرشل بینکوں اور شرائط پر تکیہ ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر سال اور بالخصوص گزشتہ سال اور آنے والے سالوں میں واپس کئے جانے والے قرضوں کی مالیت اور ان پر ادا کئے جانے والے سود کی ادائیگیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ۔ 
تیزی سے بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگیوں کے بوجھ نے معیشت کی چُولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ بیرونی قرضوں کے اس بوجھ کے معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور آنے والے چند سال بھی اس اقتصادی دبائو میں گزرنے کا اندیشہ ہے۔ حکومت کے بجٹ  میں اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کی واپسی اور ادائیگیوں کے لئے مختص رقم ترقیاتی اور دفاعی اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔ مالی بوجھ آنے والے سالوں میں مزید بڑھے گا جس کی وجہ سے ترقیاتی اخراجات،  دفاعی اخراجات  اور دیگر جاری حکومتی اخراجات پر دبائو بدستور بڑھے گا۔ ان سیکٹرز کے لئے اخراجات میں اضافہ وقت کی ضرورت ہونے کے باوجود حکومت  خاطر خواہ  فنڈز کا بندوبست کرنے کے لئے مشکلات کا شکار رہے گی۔
تجارتی اور کرنٹ اکائونٹ خسارے میں اضافے کی وجہ سے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ اس وقت زرِ مبادلہ کے ذخائر بمشکل دو ماہ کی درآمدات کے لئے دستیاب ہیں جبکہ چار ماہ کی درآمدات  کے لئے موجود ذخائر کو معاشی استحکام کے لئے مناسب سمجھا جاتا ہے۔ حکومت کو اپنے زرِمبادلہ کو ایک حد تک برقرار رکھنے کے لئے مزید بیرونی سہارے کی ضرورت  ہے۔ نئی حکومت کو اسی مجبوری کی بناء پر آتے ہی  اس بحران کا سامنا کرنا پڑا۔
اس صورتحال میں دو ہی حل تھے کہ یا تو فوراً آئی ایم ایف کے پاس مزید قرضے کے لئے جایا جاتا یا پھر کچھ دوست ممالک سے قلیل اور طویل مدت کے لئے معاشی امداد کا بندوبست کیا جاتا تاکہ نئی حکومت اپنی اسٹریٹیجی بنا سکے۔اس آپشن کی غایت یہ ہے کہ نئی حکومت کو اگر آئی ایم ایف کے پاس جانے کی مجبوری ہی ٹھہری تو کم از کم حکومت کے پاس اتنے وسائل اور ذرائع  ضرور دستیاب ہوں کہ حکومت آئی یم ایف کے ساتھ قدرے بہتر شرائط پر معاہدہ کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ اس کوشش میں حکومت نے دوست ممالک سے قلیل مدت  امداد اور مؤ خر ادائیگیوں پر تیل کی درآمد کے معاہدے کرکے وقتی طور پر اس بحران کوٹالا ہے لیکن اس امداد کی واپسی اور سود کی ادائیگیوں کے لئے ایک بار پھر وہی جانا پہچانا سلسلہ معاشی استحکام کے لئے سدِ راہ ہو گا۔
زرِ مبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی کی وجہ سے شرح مبادلہ پر دبائو روپے کی قدر میں مزید کمی کا باعث بنتا ہے۔ جس معیشت میں درآمدات برآمدات سے دو گنا سے بھی زائد ہوں اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ بھی زیادہ ہو تو اس کا لامحالہ نتیجہ روپے کی قدر پر مسلسل دبائو ہے اور مزید کمی کی تلوا ر پھربھی لٹکتی رہتی ہے۔ روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی میں اضافہ اور کاروباری لاگت میں اضافہ ایک نئے مشکل اقتصادی سلسلے کا باعث بنتا ہے۔
بیرونی قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کے لئے روپے کی صورت میں درکار  وسائل میں بیٹھے بٹھائے مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ سٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ہونے والی روپے کی قدر میں کمی وجہ سے  بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے اضافی بوجھ کا تخمینہ چار سو ملین لگایا گیا ۔ 
روپے کی قدر میں کمی، تجارتی و کرنٹ اکائونٹ خسارے میں اضافے کا لامحالہ اثر مارک اپ کی شرح پر پڑتا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں مارک اپ کی شرح ٥.٤فیصد سے بھی زائد بڑھ گئی۔ سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کے اعلان شدہ مارک اپ اب دوہرے ہندسے میں جا پہنچے ہیں یعنی ٥.١٠ فیصد۔  معیشت پر مندرجہ بالا تمام دبائو بدستور موجود ہیں، اس لئے اندیشہ ہے کہ معیشت میں شرح نمو کم ہو گی۔ گزشتہ مالی سال میں اقتصادی شرح نمو ٨.٥فیصد  تھی جو اس سال ساڑھے چار فی صد کے لگ بھگ رہنے کا  امکان ہے۔ 
معاشی شرح نمو مجموعی اقتصادی صورتحال کا نچوڑ ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کو مستحکم اقتصادی ترقی اور بار بار کے بوم اینڈ برسٹ سائیکل سے چھٹکارہ پانے لئے تسلسل کے ساتھ چھ فی صد سے زائد سالانہ شرح نمو کی ضرورت ہے۔ تاکہ سرمایہ کاری میں تسلسل کے ساتھ اضافہ ہو سکے، انفراسٹرکچر میں جدت اور مزید بہتری لائی جا سکے، روزگار کے مزید مواقع پیدا کئے جا سکیں،  عوام کی فلاح کے لئے ترقیاتی اخراجات اور دیگر حکومتی ترجیحات کے لئے مناسب وسائل فراہم ہو سکیں، معیشت میں یہ گنجائش پیدا کی جاسکے تاکہ نئے بیرونی قرضے اضافی پیداوار کا باعث بنیں اور ادائیگیوں کے لئے خود کفالت کا سبب بنیں ۔ 
پاکستان میں گزشتہ کئی  بوم اینڈ برسٹ سائیکل گواہ ہیں کہ زیادہ تر معاشی نمو  consumption led  یعنی تصرف پر مبنی رہی۔ کچھ سالوں کی ترقی نے  درآمدات کو بڑھاوا دیا جبکہ دوسری طرف  برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کے سبب تجارتی خسارہ اور کرنٹ اکائونٹ بڑھا اور یوں بیرونی قرضوں میں اضافے کی نئی مجبوری اور مشکل  بار بار سامنے آن کھڑی ہوئی۔  
ملکی معیشت ایک بار پھر نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔نئی حکومت  کے لئے لازم ہے کہ ان مسائل کے طویل مدت حل کے لئے بنیادی اصلاحات    اور پیداواری ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں لا کر معیشت کو کم ویلیو پیداواری ڈھانچے سے نکال کر بہتر ویلیو اور ٹیکنالوجی کے پیداواری سانچے  میں ڈھالنے کا بیڑہ اٹھائے تو یقینا ایک نئے مستحکم معاشی مستقبل کا تصور کیا جا سکتا ہے ، ورنہ معیشت کے موجودہ پیداواری ڈھانچے کے ساتھ کسی غیر معمولی تبدیلی کی گنجائش کم ہے۔   


مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ' سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 115مرتبہ پڑھی گئی۔

Success/Error Message Goes Here
براہ مہربانی اکائونٹ میں لاگ ان ہو کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Contact Us
  • Hilal Road, Rawalpindi, PK

  • +(92) 51-927-2866

  • [email protected]

  • [email protected]
Subscribe to Our Newsletter

Sign up for our newsletter and get the latest articles and news delivered to your inbox.

TOP