قومی و بین الاقوامی ایشوز

بھارت کے بڑھتے ہوے فوجی اخراجات اور جدید اسلحے کی خریداری

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی عالمی دفاعی اخراجات رپورٹ20اپریل 2020 کے مطابق بھارت تاریخ میں پہلی مرتبہ دنیا بھر میں اپنے فوجی اخراجات کے حوالے سے تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے، جبکہ امریکہ اور چین بتدریج پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں، بھارت نے 2019 میں اپنی افواج پر کل 1.17 ارب امریکی ڈالر خرچ کئے جو کہ گزشتہ سال کی نسبت 8.6فیصد اضافی تھے۔2019 میں بھارت کا فوجی بجٹ اس کی معیشت کا 4.2 فیصد ہے۔
پچھلی کچھ دہائیوں سے بھارت کے فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا،1990 سے 2019 کی30 سالہ مدت کے دوران ، اس کے اخراجات میں259 فیصد اضافہ ہوا، اگر بھارت کے فوجی اخراجات کا گزشتہ دس سالہ رجحان دیکھا جائے تو وہ 2010 سے2019 ١ تک اپنے فوجی اخراجات سالانہ51.671١رب ڈالر سے71.125 ارب ڈالر سالانہ تک لے گیا،  مجموعی طور پر2010سے 2019 تک یہ اضافہ37 فیصد ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی اور بھارت کا فوجی بجٹ
2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کے فوجی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا، اس کی وجہ حکمران جماعت کی انتہا پسند سوچ، جنوبی ایشیا میں اپنی اجارہ داری کے عزائم، کشمیر پہ قابض پالیسی اور پاکستان دشمنی جیسے عوامل شامل ہیں، نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھارت میں مذہبی انتہا پسندی میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا، بھارت کی داخلہ، خارجہ اور سیکورٹی پالیسی پر ہندو انتہا پسند قابض ہو گئے، اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دوسرے ممالک کی سالمیت کو بھی خطرہ ہے۔
بھارت کا مسلسل بڑھتا ہوا فوجی بجٹ خطے کی سلامتی کے لئے خطرناک اثرات رکھتا ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے تحفظ کے لئے جس کے وجود کو بھارت شروع سے ہی تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور جس کے ساتھ بھارت محدود روایتی جنگ لڑنے کے پلان بنا رہا ہے۔ اس کو بھارت نے کولڈ اسٹارٹ نظرئیے (Cold Start Doctrine) کا نام دیا، اگرچہ یہ نظریہ 2004میں پہلی بار سامنے آیا لیکن2014 میں نریندر مودی کے حکومت میں آنے کے بعد اس پر پہلی بار سرکاری طور پر بات چیت سامنے آئی، اس منصوبے کو بھارتی فوج نے پاکستانی حدود میں چھوٹے پیمانے اور فیصلہ کن روایتی جارحانہ کارروائیوں کی سہولت کے لئے تیار کیا ہے، اس کے تحت بھارت نے بریگیڈ کے سائز کے مربوط جنگی گروپ بنائے ہیں جو ہر طرح کی جارحانہ کارروائیوں کے اہل ہو سکتے ہیں، ہر جنگی گروپ توپ خانہ ، بکتر بند کیریئرز ،  ٹینک  اور انفنٹری سے لیس ہو گا، ان جنگی گروپوں کو بھارت پاکستانی سرحد کے قریب منتقل کرے گا۔ کولڈ سٹارٹ کو آپریشنلائز کرنے کے لئے بھارت کو مزید جدید ٹینک، توپ خانہ، اور بکتر بند گاڑیوں کی پیش قدمی کی حفاظت کرنے کے لئے جدید موبائل ایئر ڈیفنس سسٹم درکار ہیں، ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بھارت اپنی فوج کے لئے وسائل اکٹھے کر رہا ہے۔
حکومت میں آنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے میک ان انڈیا (Make In India) جیسے اقدام اٹھائے۔ جن کا مقصد دنیا کی صف اول کی اسلحہ ساز کمپنیوں کو بھارت میں کارخانے لگانے اور ان سے بنے اسلحے کی بھارتی افواج کو فراہمی تھی۔
بھارتی فوج نے میک ان انڈیا پروگرام کے تحت بی اے ای سسٹمز کے ساتھ145 انتہائی وزن کی Howitzerگنوں کا آرڈر دیا ہوا ہے۔ ایم (M 777) ہوئٹزر گنیں انتہائی پورٹیبل ہیں یہ زمین، فضا اور سمندر میں آسانی سے لے جائی جاسکتی ہیں، ایم 777 کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اسے بوئنگ چنوک (Boeing CH-47 Chinook) ہیوی لفٹ ہیلی کاپٹر پر آسانی سے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بہت ہی مختصر وقت میں ، توپ خانے کو چنوک ہیلی کاپٹر کے ذریعہ جموں و کشمیر اور دوسرے سرحدی علاقوں میں منتقل کی جا سکتی ہیں۔
کیونکہ بھارت اپنی مسلح افواج کی جدید کاری کی ایک بڑی مہم میں مصروف ہے، اس لئے یہ چھوٹے اور بڑے، روایتی اور جوہری ہتھیاروں کا بھی انبار لگاتا جارہا ہے، جو کہ آپریشنل اثرات کے ساتھ سٹریٹیجک اثرات بھی رکھتے ہیں، کولڈ سٹارٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے روایتی ہتھیاروں کے ساتھ بھارت ایسے ہتھیار بھی حاصل کر رہا ہے جس سے خطے میں طاقت کا توازن بھارت کے حق میں جائے گا، ان میں میزائلوں کے ساتھ ساتھ جدید آبدوزیں بھی شامل ہیں۔
بھارت کروز اور بیلسٹک دونوں طرح کے مختلف رینج کے حامل مزائل بھی بنا رہا ہے، جو کائونٹر فورس اور کائونٹر ویلیو ٹارگٹس کو تباہ کرنے کے لئے استعمال ہوں گے، ان میں نربھے کروز (Nirbhay) ، براہموس کروز (Brahmos)، اگنی مزائل سیریز(Agni Missile Series)، پراہار(Prahaar)، پرتھوی مزائل سیریز(Prithvi Missile Series)، دانوش (Dhanush) اور ساگاریکا(Sagarika) میزائل شامل ہیں، یہ میزائل جوہری اور روایتی دونوں طرح کے وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے اور خطے میں کسی بھی جگہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
زمین کے علاوہ بھارت زیر سمندر سے میزائل لانچ کرنے کے لئے جوہری آبدوزیں بنانے میں بھی مشغول ہے، INS Arihantبھارت کی پہلی جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوز ہے، جو بیلسٹک میزائلوں کو لانچ کرنے کے لئے41سیلز رکھتی ہے۔ بھارتی ساگاریکا کے15 میزائل جس کی رینج750 کلو میٹر ہے اسی آبدوز پہ نصب کیا گیا ہے، توقع کی جاتی ہے کہ اگلے جہاز فائر پاور اور جوہری طاقت دونوں کے لحاظ سے بڑے اور زیادہ طاقتور ہوں گے، اسی میں شامل3500 کلو میٹر رینج والے کے۔4 میزائل بھی ہیں۔ توقع ہے کہ بھارت اس کلاس کی تین سے چھ جوہری توانائی سے چلنے والی بیلسٹک میزائل آبدوزیں تعمیر کرے گا، اس سے بھارت کی نیوکلئیر سیکنڈ اسٹرائک صلاحیت (Nuclear Second Strike Capability) مزید مضبوط ہو گی۔
بھارت کی دلچسپی کو دیکھ کر جنگی ہتھیار بنانے والے تمام بڑے ممالک اس کو اسلحہ بیچنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، کامیاب سفارت کاری اور بڑی معیشت کی وجہ سے بھارت روس کے ساتھ ساتھ اب مغربی ممالک کے لئے بھی اسلحہ کی فروخت کے لحاظ سے اہم ملک بن گیا ہے، اس طرح بھارت کے لئے امریکہ، اسرائیل اور فرانس بڑے اسلحہ سپلائر ممالک بن کر سامنے آئے ہیں۔
بھارت چین کی بڑھتی ہوئی عسکری قوت کو روکنے کے حوالے سے امریکہ کی پالیسی برائے جنوبی ایشیا میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، اس حوالے سے امریکہ بھارت کو جدید ہتھیار اور اسلحہ فراہم کرتا ہے، امریکہ بھارت کو اپنے لڑاکا طیارے فروخت کرنے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے، امریکہ نے بھارت کو ایف16 (F-16) اور ایف اے18 (FA-18) طیارے فروخت کرنے کی پیشکش کی ہے، تاہم ابھی ان پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
امریکہ پہلے ہی ہندوستان کوسٹریٹجک ٹریڈ اتھورائزیشن1 (STA-1) کا درجہ دے چکا ہے جو کہ امریکہ کے نیٹو اتحادیوں کے برابر ہے،  30جولائی 2018 کو اعلان کردہ بھارت کی ایس ٹی اے 1کی حیثیت ہائی ٹیک فروخت پر برآمدی کنٹرول کو نمایاں طور پر آسان کرے گی اور بھارت کو جدید ترین امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت مل جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری 2020میں اپنے دورہ بھارت کے دوران بھارتی بحریہ کے لئے24 سکورسکی ایم ایچ 60 سی ہاک(Sikorsky MH-60 Seahawk) ملٹی رول ہیلی کاپٹر اور چھ بوئنگ اے ایچ -64 ای اپاچی گارڈین (Boeing AH-64E Apache) حملہ کرنے والے ہیلی کاپٹروں کی فروخت کے لئے ساڑھے 3 ارب امریکی ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے، ایم ایچ 606 ہیلی کاپٹر اینٹی سب میرین جنگ میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔ اس ہیلی کاپٹر کو بھارت2022 میں وکرانت ایئرکرافٹ کیریر پر نصب کر دے گا۔ جبکہ دو نشستوں(Two Seaters) پر مشتمل اپاچی دنیا میں سب سے جدید اور کامیاب حملہ آور ہیلی کاپٹر ہے۔


اگرچہ ماضی میں پاکستان کے فل سپیکٹرم ڈیٹرنس (Full Spectrum Deterrence) نظریے نے بھارت کی طرف سے پاکستان پر فوجی حملے کو روکنے میں کامیابی حاصل کی، لیکن روایتی ہتھیاروں میں عدم توازن اور بھارت کے روایتی جنگی نظریات نے پاکستان کو اپنی روایتی صلاحیتوں کو جدید اور مربوط بنانے پر مجبورکر دیا ہے، روایتی ہتھیاروں میں ایک حد سے زیادہ عدم توازن بھارت کو پاکستان کے خلاف جارحیت کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ بھارت  کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں کرنے کے ساتھ ساتھ سرجیکل سٹرائیک کے منصوبوں کا اعلان بھی کرتا رہتا ہے جس کے تحت وہ آزاد کشمیر میں کارروائی کر نے کے مذموم خواب دیکھتا رہتا ہے۔


میزائل حملے سے بچائو کے لئے بھارت ملٹی لیئرڈ میزائل دفاعی نظام (Multi Layered Missile Defence System) کے حصول کی طرف گامزن ہے۔7فروری2020 کو امریکی محکمہ خارجہ نے انٹیگریٹڈ ایئر ڈیفنس ویپن سسٹم (Integrated Air Defence Weapon System) کو 1.867 ارب ڈالر کی لاگت سے فروخت کرنے کے لئے ایک علیحدہ معاہدے کی بھی اجازت دے دی، اس معاہدے سے بھارت کی جارحانہ صلاحیت کو تقویت ملے گی اور امکان ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک توازن کو بگاڑ دے۔
اس کے علاوہ بھارت امریکہ سے پہلے ہی بوئنگ پی ایٹ آئی نیپچون (Boeing P-8 I Neptune) جدید سمندری گشت /اینٹی سب میرین وارفیئر(Anti-Submarine Warfare) ہوائی جہاز خرید چکا ہے، پی ایٹ آئی دنیا بھر میں سمندری پٹرولنگ کے لئے جدید ترین طیاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
جبکہ بھارت اپنی فضائیہ کے لئے 11 سی 17 گلوب ماسٹرIII (Boeing C-17 Globemaster III) ٹرانسپورٹ ہوائی جہاز بھی وصول کر چکا ہے۔ سی17 گلوب ماسٹرIIIٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کا ایک پریمیئر ہوائی جہاز ہے، ہوائی جہاز کی خریداری بھارتی فوج کی مجموعی نقل و حمل اور لاجسٹکس کی صلاحیتوں کو بہتر بنائے گی جس سے بھارتی فوج کے لئے دور دراز علاقوں میں آپریشنز کرنا آسان ہو جائے گا۔
فرانس کے ساتھ بھی بھارت کے اسٹریٹجک تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اپنی فضائیہ کے لئے بھارت نے ستمبر2016 میں ۔7.8 ارب ڈالر کی خطیر رقم سے 36 رافیل لڑاکا طیاروں (Rafael Fighter Jets) کا آرڈر دیا تھا، یہ طیارہ فرانس میں واقع ڈسالٹ ایوی ایشن کے ذریعہ تیار کیا گیا ہے ، یہ جڑواں انجن کے ملٹی رول لڑاکا طیارے ایٹمی صلاحیت کے حامل بھی ہیں، یہ فضا سے فضا اور فضا سے زمینی دونوں طرح کے حملوں میں مؤثر ہوسکتے ہیں، اس کے علاوہ 2005میں، بھارت نے فرنچ نیول گروپ کے ساتھ ٹیکنالوجی کے معاہدے کی منتقلی کے تحت چھ اسکارپین کلاس (Scorpene-class) ڈیزل برقی (Diesel Electric) آبدوزوں کی تعمیر کے لئے 3 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا، 2019تک ان میں سے دو آبدوزیں بھارتی نیوی کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
روس کے بعد اسرائیل بھارت کے لئے دفاعی سازو سامان کی خریداری کے حوالے سے دوسرا بڑا ملک ہے۔ اسرائیل بھارتی بحریہ اور فضائیہ کے لئے باراک (Barak) میزائل سسٹم تیار کر رہا ہے جو بحری جہازوں، زمین یا فضا میں موجود طیاروں کو کروز میزائلوں سے بچانے کے قابل بنا دے گا، اس میزائل کی حد 70 کلومیٹر سے زیادہ ہے ،بھارت نے 2003میں اسرائیل سے ایک ارب ڈالر کی لاگت سے تین فیلکن اواکس (Phalcon AWACs) خریدے تھے، ان کے علاوہ بھارت نے اسرائیل سے ڈرون طیارے بھی خریدے ہیں۔ 
2009 میں ، بھارت نے راڈار Imaging سیٹلائٹ (RISAT) کو کامیابی کے ساتھ لانچ کیا جو اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز یا آئی اے آئی نے ISROکے ساتھ مل کر تیار کیا، اس مصنوعی سیارے کے اجرا کا مقصد بھارت کو زمین سے زیادہ سے زیادہ مشاہداتی طاقت فراہم کرنا ہے ، جس سے بھارت کی نگرانی اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا۔
2014 میں بھارت کے نئے وزیر اعظم نریندر مودی کے انتخاب کے ساتھ ہی بھارت اسرائیل کے تعاون میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا، مئی 2014 اور نومبر2014میں مودی کے انتخابات کے درمیان ، اسرائیل نے 662 ملین ڈالر مالیت کے اسرائیلی ہتھیار اور دفاعی سامان بھارت کو برآمد کئے، یہ گزشتہ برآمدی تعداد تین سالوں کے دوران بھارت کو دی جانے والی کل اسرائیلی برآمدات سے زیادہ ہے۔
بھارتی فوج نے اگست 2017 میں اپنی سرحد کے ساتھ اسرائیلی ترقی یافتہ جامع بارڈر منیجمنٹ سسٹم (سی آئی بی ایم ایس)کو نصب کیا ہے۔ پاکستانی سرحد کی باڑ کی نگرانی اس سسٹم کے سینسروں اور سیکیورٹی کیمروں کے ذریعہ کی جائے گی، اور جب کوئی خلاف ورزی ہوگی تو یہ متعلقہ افراد کو خودکار طریقے سے آگاہ کرے گا۔
روس کے ساتھ بھارت کے سب سے پرانے اور مضبوط تعلقات ہیں، بھارت کے پاس موجود جنگی ہتھیاروں اور اسلحے میں زیادہ حصہ روس سے ہی خریدا گیا ہے، اس میں فضائی اور بحری جنگی جہاز، آبدوزیں، ائیر ڈیفنس سسٹم، اور ٹینک شامل ہیں۔ بھارت نے روس کے اشتراک سے جدید براہموس میزائل بنایا ہے۔ براہموس ایک جدید سپر سانک میزائل ہے جو کہ ہوا، زمین اور سمندر سے لانچ کیا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ بھارت کے پاس230 سے زیادہ ایس یو30 (Su-30) جنگی طیارے ہیں، یہ طیارے روس کے ساتھ مل کر بھارت میں ہی بنائے گئے، بھارت نے روس سے ایس400 ائیر ڈیفنس سسٹم (S-400 Air Defense System) بھی خریدا ہے، بھارت نے 2018 میں ایس400 سسٹم کے لئے5 بلین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے، روس2021 کے آخر تک یہ سسٹم بھارت کو پہنچانا شروع کر دے گا۔ ایس400 دنیا میں جدید ترین دفاعی نظام میں سے ایک ہے، یہ طیارے یو اے وی ، کروز میزائلوں ، اور ٹرمینل بیلسٹک میزائل سے دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں، ایس 400 بنیادی طور پر 40این6ای (40N6E Missile) میزائل سیریز کا استعمال کرتا ہے، یہ میزائل250 کلومیٹر تک کی رینج میں ہوائی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 60 کلومیٹر کے رینج میں بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے قابل ہے۔
پاکستان اور خطے کے لئے چیلنج
اگرچہ ماضی میں پاکستان کے فل سپیکٹرم ڈیٹرنس (Full Spectrum Deterrence) نظریے نے بھارت کی طرف سے پاکستان پر فوجی حملے کو روکنے میں کامیابی حاصل کی، لیکن روایتی ہتھیاروں میں عدم توازن اور بھارت کے روایتی جنگی نظریات نے پاکستان کو اپنی روایتی صلاحیتوں کو جدید اور مربوط بنانے پر مجبورکر دیا ہے، روایتی ہتھیاروں میں ایک حد سے زیادہ عدم توازن بھارت کو پاکستان کے خلاف جارحیت کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ بھارت  کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں کرنے کے ساتھ ساتھ سرجیکل سٹرائیک کے منصوبوں کا اعلان بھی کرتا رہتا ہے جس کے تحت وہ آزاد کشمیر میں کارروائی کر نے کے مذموم خواب دیکھتا رہتا ہے۔
2019 کے بالاکوٹ کرائسز نے اس بات کی اہمیت کو اور بھی اجاگر کیا کہ بھارت نہ صرف لائن آف کنٹرول بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی سرحد کو پار کرکے بھی جارحیت کی مذموم کوشش کرسکتاہے۔
بھارت کے مقابلے میں پاکستان کا 2019 میں دفاعی بجٹ10.3 ارب امریکی ڈالر تھا، پاکستان کا دفاعی بجٹ بھارت کے مقابلے میں بہت کم ہے، بھارت کی جانب سے موجود خطرے کے پیش نظر پاکستان کو اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لئے مزید وسائل کی ضرورت ہے، گو کہ پاکستان کے موجودہ معاشی حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے تاہم معاشی حالات کو بہتر بنا کر مزید وسائل کو دفاعی ضروریات پورا کرنے کے لئے لگانا ہو گا تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رہے۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کسی قسم کے اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا، لیکن بھارت کی کسی بھی قسم کی جارحیت سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو میسر قلیل وسائل استعمال کرتے ہوئے ایک مضبوط دفاعی قوت برقرار رکھنا اشد ضرورت ہے جس میں خود انحصاری پاکستان کی اہم پالیسی ہونی چاہئے۔  
ایک خیال یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ بھارت چین سرحد پر موجودہ کرائسز میں ناکامی کے بعد دنیا کی بڑی قوتیں اس کو اور زیادہ جدید اسلحہ بیچیں گی، اسلحہ فراہم کرنے والے مغربی ممالک بھارت کے ساتھ جدید روایتی ہتھیاروں کے اضافی معاہدوں کے حصول کے لئے روس اور اسرائیل سے مقابلہ کریں گے، جس کا اثر خطے کے امن پر بھی ہو گا۔
خطے میں موجود دوسرے ممالک کے ساتھ بھارت کی پالیسی ہمیشہ زور زبردستی کی رہی ہے اور اس نے ان ممالک پر طاقت کا استعمال بھی کیا، مثلاً2015 میں برما میں بھارت عالمی سرحد پار کر کے فوجی کارروائی کر چکا ہے، اس کے علاوہ نیپال کے ساتھ بھی بھارت کا سرحدی تنازعہ چل رہا ہے۔ 
بھارت چین کا بہانہ کرکے امریکہ اور دوسرے ممالک سے جو اسلحہ اکٹھا کر رہا ہے وہ چین کے خلاف استعمال ہو یا نہ ہو اس کا دبائو خطے کے چھوٹے ممالک، خاص طور پر پاکستان پر ضرور پڑے گا۔ 
اس لئے امریکہ سمیت دوسرے ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطے میں بگڑتے ہوئے طاقت کے توازن پر نظر رکھیں اور اسے برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

یہ تحریر 117مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP